104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 104:1–2

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

بڑی خرابی (اور تباہی) ہے ہر ایسے شخص کے لیے جو خوگر (و عادی) ہو منہ در منہ طعن (وتشنیع) کا اور پیٹھ پیچھے عیب لگانے کا

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جو مال جوڑتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

(1) اشارہ بازوں کی ہلاکت و خرابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی و ہلاکت ہے اشارہ بازی کے خوگروں کے لیے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ یہ اخلاقی خرابیاں جن کا آگے ذکر فرمایا جارہا ہے، ایسی سخت اخلاقی اور خطرناک خرابیاں ہیں کہ یہ انسان کے لیئے اس دنیا میں بھی ذلت و خواری کا باعث بنتی ہیں اور آخرت میں بھی، والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب ھذہ الاخلاق السیئہ۔ سو انسان کی اصل قدرو قیمت اس کے ایمان و یقین اور اخلاق و کردار ہی سے ہے، اور اخلاق فاضلہ کی جو جامع موثر اور بلیغ تعلیم دین حنیف، اسلام مجید نے دی ہے اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے پوری تاریخ انسانیت میں کبھی پائی گئی ہے، اور نہ آج دوسرے کسی بھی دین و مذہب میں پائی جاتی ہے، اور نہ آئندہ قیامت قیامت تک کبھی اور کہیں پائی جانی ممکن ہے، یہاں پر اس سورة کریمہ میں جن رذائل کا ذکر فرمایا گیا ہے یہ ایسے برے اخلاق اور قبائح ہیں جن سے آگے کئی طرح کے دوسرے مختلف رذائل جنم لیتے ہیں، اس لیے ان کی اس طرح تقبیح ذکر فرمائی گئی، تاکہ اہل ایمان ان سے بچ سکیں، وباللہ التوفیق وھو المسیر لکل عسیر۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو خوگر اور عادی ہو ایسی بداخلاقی کا، والعیاذ باللہ۔ یعنی اس کی عادت ہی یہ ہو، اور یہ معنی ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اس لیے اختیار کیا کہ عربی لغت وبیان اور محاورہ و زبان کے اعتبار سے " فعلۃ " کے وزن کا استعمال ہی خوگری اور کسی مستقل اور دائمی نوعیت کی صفت کے لیے ہوتا ہے، جیسے " ضحکۃ لعنۃ " اور سخرۃ " وغیرہ ( محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، اور خازن وغیرہ) علامہ قاشانی کہتے ہیں کہ " ھمز " اور " لمز " دونوں ایسی بداخلاقیاں ہیں جو جہالت، غضب اور تکبر کا مجموعہ ہیں، کیونکہ ان بیماریوں میں مبتلا مریض دوسروں کی خوبیوں پر جلتا اور تکبر میں مبتلا ہوتا ہے، اور اپنی جہالت کی بنا پر وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس طرح وہ خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے، کہ جلتا الگ ہے اور اپنی نیکیوں کو برباد الگ کرتا ہے، اور اپنی حسد اور خوامخواہ کے تکبر کی بناس پر وہ یہ نہیں سجھتا کہ دوسروں کے اندر اگر کوئی کمزوری ہے بھی تو اس سے ایسا شخص خود بڑا نہیں بن جائے گا، اس کی بڑائی تو اسی صورت میں ہوسکتی ہے جبکہ یہ خود اپنے اندر اخلاق عالیہ پیدا کرے، مگر اس سے یہ عاری اور غافل و لاپرواہ ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا اکرم الاکرمین و یا ارحم الرحمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ وھو الموفق لکل خیر والمیسر لکل عسیر۔ (2) " ھمز " اور " لمز " بڑے اخلاقی عیب، والعیاذ باللہ : سو یہ دونوں بڑے اخلاقی عیب ہیں، یہاں پر مختصر طور پر " ھمز " اور " لمز " کی لفظی معنوی تحقیق اور ان کی مختلف صورتوں کا ذکرو بیان کیا جاتا ہے۔ سو " ھمز " اور " لمز " کی تعریف اور ان دونوں کے درمیان فرق وتمیز کے بارے میں حضرات اہل علم کے اقوال مختلف ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے بعض حضرات نے ایک لفظ کا جو معنی بیان کیا دوسروں نے وہی معنی دوسرے لفظ کا بیان کیا، وہ بالعکس، کیونکہ ان دونوں لفظوں کے درمیان فرق اتنا باریک ہے کہ اہل لغت کے لیے بھی اس کا سمجھنا مشکل ہے، اور ان میں سے ہر ایک کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ بہرکیف " ھمز " کے اصل اور لغوی معنی کسر اور توڑنے کے آتے ہیں، چناچہ عرب کہتے ہیں ہمزہ اور اس کا معنی ہوتا ہے " لسسرہ " یعنی اس نے اس کو توڑ دیا، اور " لمز " کے اصل معنی طعن اور نشتر زنی کے ہوتے ہیں، چناچہ عرب کہتے ہیں " لمزہ " اور اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اس نے اس کو نیزہ مارا ای طعنہ بالرمخ ( المراغی، الروح وغیرہ) اور دوسرے کو طعنہ دینے اور عیب لگانے سے چونکہ اس کی دل شکنی بھی ہوتی ہے اور ہتک عزت بھی، اس لئیے یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوسکتے ہیں، یہاں چونکہ یہ دونوں لفظ یکجا استعمال ہوئے ہیں، اس لیے ہم نے اس دونوں کے درمیان حضور و غیاب کی دونوں حالتوں کے اعتبار سے ان میں اس فرق وتمیز کو ظاہر و واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ وباللہ التوفیق وھو المسیر لکل عسیر۔ بہرکیف " ھمز " اور " لمز " کی یہ دونوں خصلتیں بڑی بری خصلتیں ہیں، جو ایک مومن صادق کے کسی بھی طرح شایان شان نہیں ہوسکتیں، اور یہ دونوں انسان کے لیے ہلاکت اور تباہی کا باعث ہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ پھر ان دونوں بری خصلتوں کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، ہاتھوں اور آنکھوں سے اشارے کر کے کسی کی تحقیر و تزلیل کرنا کسی کے حسب نسب پر طعن وتشنیع کرنا، اس کی ذات اور شخصیت کو مجروح اور بےوقعت کرنے کے لیے اس میں طرح طرح سے کیڑے نکالنا، اس کے افعال و اقوال کی نقلیں اتارنا، اور چوٹیں کرنا، اس کے لیے دور حاضر کی نئی نئی ایجادات سے کام لے کر اس کی تحقیر کا سامان کرنا، جیسے کارٹون بنانا اور فلموں اور ڈراموں وغیرہ کے ذریعے کسی کی تحقیر کرنا وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ اس میں داخل اور شامل ہے، والعیاذ باللہ۔ افسوس کہ یہ ملک مرض میں ہمارے اس دور میں نیک اور صالح لوگوں اور علماء و طلباء تک میں بھی پایا جاتا ہے، اور اس کثرت سے پایا جاتا ہے کہ کم ہی کہیں ایسی مجلسیں اور محفلیں مل سکیں گی جہاں ان میں سے کوئی روگ نہ پایا جاتا ہو، بلکہ ایسے اچھے لوگوں کی محفلوں اور مجلسوں میں بھی دوسروں کی غیبت، عیب جوئی، خوردہ گیری اور تحقیر و تذلیل کی گرم بازاری کا دور دورہ ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ تیسری روایات میں ولید بن مغیرہ اور اخنس بن شریق جیسے بعض مشرکین کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے، سو اس کا ایک اہم اور اولیں مصداق تو ان لوگوں کو قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اصل اور ضابطہ کے مطابق حق یہ ہے کہ یہ ارشاد عام ہے، اور ایسے شخص کو شامل ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں بھی ہو، کیونکہ اصل ضابطہ اور کلیہ یہی ہے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے، نہ کہ خصوص سبب کا ( العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص المورد) ( روح، قرطبی، ابن کثیر، مدارک، معارف، خازن، مراغی، صفوہ وغیرہ) بہرکیف " ھمز " اور " لمز " کی عادت و خوگری بڑے خسارے کی چیز ہے، والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 104:3

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ رکھے گا

(3) اس اخلاقی بگاڑ کے اصل سبب کی نشاندہی : سو اس سے اس امر کو واضح فرما دیا گیا کہ اخلاقی بگاڑ کا اصل سبب حب دنیا اور کبر و غرور ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جوڑ جوڑ کر رکھتا ہے اپنے مال کو کہ اس چیز کو اس نے مقصد حیات بنا رکھا ہے، اور مال و دولت کو جوڑنے و جمع کرنے ہی کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اپنی اسی مالداری اور دولتمندی کی بنا پر وہ تکبر میں مبتلا ہوتا ہے، اور دوسروں کی تحقیر کرتا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، اور کسی ناصح کی نصیحت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اور حقوق کی یاد دہانی اور نصیحت کرنے والوں کو وہ " ھمز " اور " لمز " کے حربوں سے چپ کرانے کی کوشش کرتا ہے، یعنی بجائے اس کے کہ اس کی نصیحت کی بات کو اپنا کر وہ اپنی اصلاح کرے وہ الٹا ایسے ناصحین مخلصین ہی کا مذاق اڑاتا ہے اور ان پر آوازے کستا ہے، اور اس طرح اپنی وہ محرومی اور سیاہ بختی میں اضافے کا سامان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص مال جوڑتا، جمع کرتا اور ان کو گن گن کر رکھتا ہے، یعنی اپنے بخل اور ہوس سیم و زر کی بنا پر، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حریص اور بخیل مالداروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ مال جمع کرنے اور سینت سینت کر رکھنے ہی میں مشغول رہتے ہیں، اور ان کے دل و دماغ ہمیشہ سرمایہ کے حساب و کتاب اور جمع و خرچ میں لگے رہتے ہیں، کس کا روبار میں کتنا منافع ہوا، گزشتہ سال کتنا ہوا تھا، اور اس سال کتنا اور آئندہ کے لیے کیا امکانات اور چانسز ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ فلاں ملک اور فلاں شہر میں کس چیز کی کھپت اور ضرورت زیادہ ہے، اور فلاں جگہ کون سا کاروبار زیادہ برگ و بار لاسکتا ہے۔ انہی گورکھ دھندوں میں الجھ کر ایسا شخص حق کی بات سننے اور ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا اور یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں وہ مکارم اخلاق کی دولت سے بھی محروم ہوجاتا ہے، سو زر پرستی کا روگ بیماریوں کی بیماری ہے، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے دنیا دار شخص کے باطن کی کیفیت کا اظہار وبیان فرما دیا گیا ہے کہ ایسا شخص مال و دنیا کو ہمیشگی کا ذریعہ سمجھتا ہے، جیسا کہ اس کے عمل اور اس کے رویہ سے ظاہر وعیاں ہوتا ہے کہ وہ اسی کے لیے جیتا اور اسی کے لیے مرتا ہے، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس سے دنیا دار کے باطن کی کیفیت کو آشکارا فرما دیا گیا، جس کا عکس ان کے اس انہماک سے ظاہر ہوتا ہے جس کا مظاہرہ ایسے لوگ دنیاوی مال و دولت کے حصول کے لیے کرتے ہیں، وہ اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور دن رات اسی کے جوڑنے جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور یہاں تک کہ اس کے لیے حلال و حرام کی تمیز بھی مٹا دیتے ہیں۔ سو انسان کے باطن کا سراغ دینے والی اصل چیز اس کی زبان نہیں بلکہ اس کا وہ رویہ ہے جس کا اظہار وہ اپنے عمل و کردار سے کرتا ہے۔ ایک دنیا دار شخص جو اس دنیا کو اپنی منزل سمجھتا ہے اس کا حال اس شخص سے یکسر مختلف ہوتا ہے جو دنیا کو اصل منزل نہیں بلکہ اس کا ایک پڑاؤ سمجھتا ہے، سو ہوس زر بیماریوں کی بیماری ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص یوں سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ رکھے گا، اور اس کی موت و فنا سے کبھی واسطہ و سابقہ نہیں پڑے گا، اور دوسرا ترجمہ و مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا، آیت کریمہ کے کلمات کریمہ میں ان دونوں ہی ترجموں اور مفہوموں کی گنجائش موجود ہے، اور یہ دونوں ہی صحیح ہیں، اور مآل و مدعا دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے کہ دنیا پرست انسان کی نظر میں یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، اور اس کے عمل اور رویے سے یوں ہی لگتا ہے، اور وہ یونہی سمجھتا ہے کہ اس کا مال و دولت سے اس کو ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی اور یہ کہ یہ مال و دولت اس کے پاس ہمیشہ رہے گا، سو یہ اس کی بڑی بھول اور غلط فہمی ہے، نہ یہ مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا، اور نہ اس نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے، بلکہ یہ سب کچھ فانی اور ایک ضل زائل ہے، پس جو لوگ دنیا کے مال و دولت ہی کو اصل مقصود سمجھ کر اسی کے لیے جیتے اور مرتے ہیں وہ بڑے ہی سخت اور انتہائی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن، فی الحیاۃ، جل وعلا۔
Ayah 104:4

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں اسے ضرور بالضرور پھینکا جائے گا چکنا چور کردینے والی (دوزخ کی) اس (نہایت ہی ہولناک) آگ میں

( 4) زر پرستوں کے زعم باطل کی تردید اور اس کے انجام کا ذکرو بیان : سو زرپرست دنیا داروں نے جو دنیاوی مال و دولت ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے ان کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے فرمایا گیا ہرگز نہیں، یعنی معاملہ ایسا نہیں اور ہرگز نہیں، جیسا کہ ایسے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، کہ نہ ایسا کوئی شخص ہمیشہ رہے گا اور نہ ہی اس کا یہ مال و دولت بلکہ ان میں سے ہر ایک اور یہاں کی ہر شے فانی ہے، اور کسی نے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا، اور اس کا صلہ وبدلہ پانا ہے، سو اصل دولت ایمان و یقین اور عمل و کردار کی دولت ہے، اس کے ساتھ اگر کسی کو دنیاوی مال و دولت بھی مل جائے اور اس کو اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی میں صرف کرنے کی توفیق بھی اس کو نصیب ہوجائے تو یہ اور " نور علی نور " ورنہ یہ عذاب و وبال ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اصل چیز دنیاوی مال و دولت نہیں بلکہ متاع ایمان و یقین ہے، جو سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ چناچہ زر پرستوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص کو ضرور بالضرور پھینکا جائے گا نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ چکنا چور کردینے والی ہولناک آگ میں، یعنی اس کو پھینکا جائے گا اس میں نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ، جس طرح کسی گندگی اور غلاظت کو آگ کے الاؤ میں پھینک دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس میں بھسم ہوجائے، کہ کفر و شرک کی گندگی اس ظاہری گندگی سے بھی کہیں بڑھ کر انسانی وجود کو غلیظ اور گندہ بنا دیتی ہے، اس لیے ایسوں کو دوزخ کی اس ہولناک آگ میں جھونک دیا جائے گا، جہاں ان کا حال اس ظاہری اور حسی گندگی کے انجام سے بھی کہیں برا ہوگا، کیونکہ یہ گندگی تو جل کر ختم ہوجاتی ہے، مگر کفر و شرک کی یہ غلاظت ان کو وہاں ختم بھی نہ ہونے دے گی، بلکہ وہ وہاں کی اس ہولناک آگ میں ہمیشہ کے لیے پڑے اور جلتے رہیں گے اور " لا یموت فیھا ولا یحی " والی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے، والعیاذ باللہ العظیم، سو ایمان و یقین سے محرومی سعادت دارین سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 104:5

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کردینے والی ہولناک آگ ؟

(5) " حطمہ " کا معنی و مفہوم : " حطمہ " دراصل مشتق و ماخوذ ہے " حطم " سے جس کے معنی توڑنے پھوڑنے اور چکنا چور کردینے کے آتے ہیں، اور یہ بھی " ھمزہ " اور " لمزہ " کی طرح مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی وہ آگ ایسی ہولناک اور اس قدر شدید ہوگی کہ جو چیز بھی اس کے اندر گرے گی وہ اس کو چکنا چور کرکے رکھ دے گی ( ابن کثیر، قرطبی، خازن اور صفوہ وغیرہ) والعیاذ باللہ العریز الرحیم۔ سو دوزخ کی وہ آگ ایسی ہولناک اور اس قدر چکنا چور کردینے والی ہوگی کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، اور جس زرپرست اور منکر انسان کا انجام یہ ہونے والا ہو اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی تو اس کو کیا ملا ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ " حطمہ " کی توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ نہایت ہی ہولناک آگ ہوگی، اور وہ اس قدر خوفناک اور اتنی ہولناک آگ ہوگی کہ از خود اور اپنے طور پر اس کا تصور بھی کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بخیل اور کنجوس سرمایہ داروں نے اپنی دولت کو جو سونے اور چاندی کی اینٹوں وغیرہ کی صورت میں اور مختلف زیورات و ظروف اور جواہرات کی شکل میں محفوظ کر رکھا تھا اس روز وہ اس ہولناک آگ میں پڑ کر چکنا چور ہوجائے گی، اور ان کے لیے اس کو مزید بھڑکانے اور تیز کرنے کا ذریعہ بنے گی، اور اس کے سامنے واضح ہوجائے گا جس چیز کو یہ لوگ حیات جاوداں کا ذریعہ سمجھتے تھے وہ اس روز ان کے سامنے خود اس طرح چکنا چور ہو کر ان کے عذاب میں اضافے کا باعث بنے گی، پس اس دولت کے برباد کرنے کے لیے چو چور کردینے کی یہ تعبیر بڑی واضح اور نہایت موزوں ہے کہ اپنی جس دولت کو ایسے لوگ بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتے تھے یہاں تک کہ اس کے عشق اور محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے اپنی عاقبت اور اپنے خالق ومالک کے حقوق کو فراموش کردیا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین۔
Ayahs 104:6–7

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

وہ اللہ کی آگ ہے جسے خوب بھڑکا کر رکھا گیا ہے

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو جھانکتی ہوگی (دوزخیوں کے) دلوں تک

(6) آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کا ذکرو بیان : سو اس سے آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کو واضح فرما دیا گیا کہ اس کو یہاں پر " نار اللہ " یعنی اللہ کی آگ فرمایا گیا ہے اور قرآن حکیم میں اس مقام کے سوا اور کسی بھی مقام پر آگ کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہیں فرمائی گئی ہے، سو اس سے ایک طرف تو اس آگ کی شدت اور ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے، اور دوسری طرف اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو لوگ دنیاوی مال و دولت کی بنا پر غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ پاک کا احکام اور اس کے دین سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہ اللہ پاک کے یہاں کس قدر مبغوض ہیں کہ ان کے لیے ایسی ہولناک آگ تیار کر کے رکھی گئی ہے جس کو " نار اللہ " یعنی اللہ کی آگ فرمایا گیا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخ کی وہ آگ نہایت ہی ہولناک آگ ہوگی اور اتنی ہولناک کہ اس جہان میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم، منھا ومن سائر انواع عذاب جہنم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین جل وعلا۔
Ayah 104:8

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

اسے ان (بدبختوں) پر ہر طرف سے موندھ دیا گیا ہوگا

(8) آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دوزخ کی اس ہولناک آگ کی ہولناکی کے ایک اور خاص پہلو کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ان لوگوں پر ہر طرف سے موندھ دیا گیا ہوگا، تاکہ نہ اس کے اندر کی سوزش و گرمی اور ہولناک تپش باہر نکل سکے اور نہ باہر سے کسی ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا اندر آسکے، والعیاذ باللہ العظیم، ( روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، خازن وغیرہ) سو جس کافر و منکر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ سو اصل دولت ایمان و یقین ہی کی دولت ہے اس کے ساتھ اگر دنیاوی مال و دولت بھی نصیب ہوجائے اور اس کو اپنے خالق ومالک کی رضا کے لیے اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق خرچ کرنے کی توفیق وسعادت بھی مل جائے تو وہ بھی خیر بن جائے گی اور " نور علی نور " کا مصداق ہوجائے گی، ورنہ وہ عذاب و وبال جان بن جائے گی، اور اگر دنیا نہ بھی ملے تو بھی خیر ہی ہوگی، سو مومن صادق کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے، فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان اللھم فزدنا منہ وثبتنا علیہ، ووفقنا لما تحب وترضی۔
Ayah 104:9

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

لمبے لمبے ستونوں میں

( 9) دوزخیوں کی ذلت اور بےبسی کی تصویر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جکڑے ہوں گے لمبے لمبے ستونوں میں، تاکہ اس کے لیے وہاں سے ہلنے جلنے کا بھی کوئی موقع باقی نہ رہے، اور ایسا منکر اور باغی شخص وہاں پر لگاتار جلتا بھنتا رہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ان دروازوں کا ایسے کافروں پر اس طرح بند کردیا جانا اس بات کا ایک اظہار و ثبوت ہوگا کہ اب انہوں نے ہمیشہ ہمیش کے لیے اس میں رہنا ہے اس سے نکلنے کی اب کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں ہوگی، باقی دوزخ کے ان دروازوں کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ سو یہ غیب کے ان حقائق میں سے ہے جن کو پوری طرح سمجھنا اور جاننا ہمارے بس میں نہیں، بس ان کو ویسے ہی مانا جائے، جیسا کہ نصوص سے ثابت ہے۔ ( المراغی، الصفوۃ وغیرہ) بہرکیف اس سے ان بدبختوں کی ذلت اور بےکسی کی تصویر پیش فرما دی گئی، کہ ان کو ان لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ بھاری زنجیروں کے ذریعے جکڑ دیا جائے گا، کہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکیں، یہاں ان کے ان ہولناک ستونوں کا ذکر ہے اور سورة الحاقہ میں ان کی ان ہولناک زنجیروں کا ( الحاقہ، آیت 30 تا 34 پ 29) چناچہ وہاں پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت) یعنی " پکڑو اس کو پھر طوق پہنا دو اس کو، پھر جکڑ دو اس کو ایک ایسے ہولناک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر گز ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔