Al-Humaza 104:8

Al-Humaza · from ayah 8

104:8

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ ۟ۙاِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ

(اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Hellfire will be closed down upon them

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Humaza

All translations of 104:8

وہ اُن پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا جانو وہ ان پر بند کردی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ ان پر بند کردی جائے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک وہ (آگ) ان لوگوں پر ہر طرف سے بند کر دی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ان پر ہر طرف سے بند کردی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں وہ موندے ہوئے ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسے ان (بدبختوں) پر ہر طرف سے موندھ دیا گیا ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ اس میں بند کر دئیے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily it will close in upon them,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be closed on them,

— Muhammad Taqi Usmani

It will be closed on them,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, it shall Mu'sadah upon them,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, Hellfire will be closed down upon them

— Saheeh International

It will engulf them.

— Muhammad Sarwar

Surely it shall be closed over upon them,

— Muhammad Habib Shakir

Verily it shall close upon them,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 104:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الھمزۃ 8 یعنی جہنم میں مجرموں کو ڈال کر اوپر سے اس کو بند کردیا جائے گا۔ کوئی دروازہ تو درکنار کوئی جھری تک کھلی ہوئی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

تطلع علی الافدة یعنی یہ جہنم کی آگ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ یوں تو ہر آگ کا خاصہ یہی ہے کہ جو چیز اس میں پڑے اس کے سبھی اجزاء کو جلا دیتی ہے انسان اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے سارے اعضاء کے ساتھ دل بھی جل جائے گا، یہاں جہنم کی آگ کی یہ خصوصیت اس لئے ذکر کی گئی کہ دنیا کی آگ جب انسان کے بدن کو لگتی ہے تو اس کے دل تک پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کے کہ اس میں موت تو آتی نہیں تو دل تک آگ کا پہنچنا بحالت حیات ہوتا ہے اور دل کے جلنے کی اذیت اپنی زندگی میں انسان محسوس کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ آگ ان پر اس طرح بھڑکے گی اور اوپر سے وہ ڈھانک بھی دی جائے گی کہ تپش کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو بلکہ سب کا سب ان کے جلانے ہی میں صرف ہو۔ ’اَوْ صَد الباب‘ کے معنی ہوں گے، دروازے کو بند کر دیا۔ یہ آگ بھی بھٹہ اور پزاوہ کی آگ کی طرح اوپر سے ڈھانک دی جائے گی تاکہ وہ پوری قوت کے ساتھ اپنا عمل کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–9

9۔ 1 مؤصدۃ جہنم کے دروازے اور راستے بند کر دئیے جائیں گے تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے اور انہیں لوہے کی میخوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جو لمبے لمبے ستونوں کی طرح ہوں گی، بعض کے نزدیک عمد سے مراد بیڑیاں یا طوق ہیں اور بعض کے نزدیک ستون ہیں جن میں انہیں عذاب دیا جائے گا۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–8

2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

التی ........................ الافئدة (7:104) ” جو دلوں تک پہنچے گی “۔ اس شخص کے دل تک ، جس سے ھمزة لمزة (1:104) کا فعل قبیع ابھرتا ہے اور جس کے اندر مزاح ، تکبر اور غرور کا مواد چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یہ تصویر اس طرح مکمل ہوتی ہے کہ اس پھینکے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے اور پاش پاش کردیئے گئے شخص کو جس آگ میں پھینکا گیا ہے وہ اس کے روبرو سربند کردی گئی ہے۔ کوئی اس سے نکل نہ سکے گا۔ کوئی وہاں اس کو پوچھنے کے لئے نہ آئے گا۔ اس آگ میں بھی یہ شخص ستونوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوگا ، جس طرح مویشیوں کو باڑوں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اس تصویر کشی کے لئے الفاظ کا جو رنگ استعمال کیا گیا ہے وہ بہت ہی شدید اور شوخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کردیے جائیں گے۔ کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہے گا۔ ہمیشہ اس میں پڑے جلتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8{ اِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔“ تاکہ اس کی تمام تر حرارت ان پر اثر انداز ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 یعنی ایسے لوگوں کو نہایت ذلت کے ساتھ بےکار چیز سمجھ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا پھر اوپر سے منہ بند کردیا جائے گا اور اس میں دروازے یا کھڑکی تو درکنار کوئی سوراخ تک نہ رہنے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

3۔ یعنی آگ کے ایسے بڑے بڑے شعلے ہوں گے جیسے لمبے لمبے ستون، اور وہ لوگ ان میں مقید ہوں گے، (آیت) ” انھا علیھم مؤصدۃ “۔ یعنی ہر طرف سے دروازے بند کردیئے جائیں گے، دوزخیوں کے لئے کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہے گا، ہمیشہ ہی وہیں پڑے جلتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–9

تطلع علی الافئدۃ یعنی جہنم کی یہ آگ دلوں تک پہنچ جائے گی، یوں تو ہر آگ کا یہ خاصہ ہے کہ جو بھی اس پر پڑے، اس کے سب ہی اجزاء کو جلا دتی ہے، مگر دنیوی آگ جیتے جی دل تک نہیں پہنچتی بلکہ دل تک پہنچنے سے پہلے ہی انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کی آگ کے کہ وہ جلاتی جلاتی دل تک پہنچ جائے گی، اس لئے کہ جہنم میں موت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انھا علیھم موصدۃ . علیھم کا تعلق مؤصدۃٌ سے ہے اور جمع غائب کی ضمیر اس لیے ذکر کی کہ لفظ کل معنوی حیثیت سے جمع ہے۔ یہ پورا جملہ مستانفہ ہے ‘ سوال ہوسکتا تھا کہ دوزخی ‘ دوزخ سے کیوں نہیں نکلیں گے اور کیوں نہ بھاگ سکیں گے۔ اِس سوال کے جواب میں فرمایا : دوزخ (اوپر سے) بند ہوگی۔ موصدۃٌ کا ترجمہ مطبقہ ہے۔ ابن مردویہ ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت اس طرح نقل کی ہے۔ اوصدت الباب : میں نے دروازہ بند کردیا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب دوزخ کے اندر صرف دوامی دوزخی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندقوں میں بند کردیا جائے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–9

(4۔ 9)۔ واللہ وہ ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلگا رکھی ہے وہ آگ سب کچھ کھا کر دل تک پہنچ جائے گی اور وہ آگ کافروں پر اس طرح بند کردی جائے گی کہ وہ لوگ اس کے ستونوں میں گھرے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(انھا علیھم موصدۃ…”اوصد یوصد ابصادا“ (افعال)”الباب“ دروازہ بند کردینا۔”موصدۃ“ اسم مفعول ہے، بند کی ہوئی۔ ”عمد“”عمود“ کی جمع ہے، یعنی انہیں جہنم میں لمبے لمبے ستونوں کیساتھ باندھ کر چ اورں طرف سے بند کردیا جائے گا، حتیٰ کہ کوئی کوئی دروازہ یا کھڑکی بلکہ کوئی شگاف یا درز بھی باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ (اعادنا اللہ منھا) دوسرا معنی یہ ہے کہ اس آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی شکل میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

بیشک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی (اس کے شعلے) لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں ہوں گی۔ موصدۃ کا معنی ہے مطبقہ، یعنی تہہ در تہہ ہوگی۔ یہ حضرت حسن بصری اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے سورة بلد میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قریش کی لغت کے مطابق اس کا معنی مغلقہ ہے یعنی بند کردی جائے گی وہ کہتے ہیں : آصدت الماب جب تو دروزے کو بند کردے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے ؛ اس معنی میں عبید اللہ بن قیس رقیات کا قول ہے : ان فی القصر لو دخلنا غزلا۔۔۔ مصفقا موصدا علیہ الحجاب کاش ! ہم داخل ہوتے بیشک محل میں ایک ہرن ہے جس پر حجاب ڈال دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–9

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انهَا عَلَيْهِمْ : بیشک وہ (آگ) ان پر ][ مُّؤْصَدَةٌ: اوپر سے بند کی ہوئی ہے ] (آیت۔ 8) اِنَّ کا اسم اس کے ساتھ ھَا کی ضمیر ہے جو نَارٌ کے لیے ہے۔ مُؤْصَدَۃٌ اس کی خبر ہے اس لیے اس پر تائے تانیث ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر اس آگ کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ008 ﴾ (بیشک وہ آگ ان پر بند کی ہوئی ہوگی یعنی وہ اندر دوزخ میں ہوں گے، باہر سے دروازے بندکر دیئے گئے ہوں گے) ۔ ﴿ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (رح) 009﴾ (وہ ایسے ستونوں میں بند ہوں گے جو دراز یعنی لمبے لمبے بنائے ہوئے ہوں گے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–9

طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–9

5:۔ ” نار اللہ “ آؤ میں تمہیں بتاؤ وہ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو جلاتے جلاتے ان کے دلوں تک پہنچ جائیگی۔ انھا علیہم مؤصدۃ۔ ای مطبقۃ۔ ان کو لمبے لمبے ستونوں کے اندر گھیر کر اوپر سے آگ کو بند کردیا جائیگا تاکہ اس کی حرارت تیز رہے اور ضائع نہ ہو یا عمد سے وہ میخیں مراد ہیں جو ان تختوں میں لگائی جائیں گی۔ جن سے جہنم کا منہ بند کیا جائے گا۔ قال القشیری والمعظم علی ان العمد اوتاد الاطباق التی تطبق علی اھل النار۔ و تشد تلک الاطباق بالاوتاد حتی یرجع علیہم غمہا وحرھا، فلا یدخل علیہم (روح، قرطبی ج 20 ص 186) ۔ اللہم اجرنا منہا یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔ اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہَا عَلَيْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۝ 8 ۙ وصد الوَصِيدَةُ : حُجْرَةٌ تجعل للمال في الجبل، يقال : أَوْصَدْتُ البابَ وآصَدْتُهُ. أي : أطبقته وأحكمته، وقال تعالی: عَلَيْهِمْ نارٌ مُؤْصَدَةٌ [ البلد/ 20] وقرئ بالهمز «3» : مطبقة، والوَصِيدُ المتقارب الأصول . ( و ص د ) الوصید ۔ اصل میں اس احاطہ کو کہتے ہیں جو مویشی کے لئے پہاڑ میں بنالیا جائے اور آیت میں اس کے معنی غار کا صحن یا دروازے کی چوکھٹ کے ہیں اسی سے او صدقت الباب واصدتہ کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں میں نے در واے کو بند کردیا چناچہ قرآن میں ہے عَلَيْهِمْ نارٌ مُؤْصَدَةٌ [ البلد/ 20] یہ لوگ آگ میں بند کردیئے جائیں گے ۔ ایک قرات موصد ۃ ہمزہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–9

ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

اِنَّھَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ فِیْ عَمَدٍمُّمَدَّدَۃٍ ۔ (الہمزۃ : 8، 9) (بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔ اس حالت میں کہ وہ اونچے اونچے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ ) مجرموں کی بےبسی گزشتہ آیات سے ایک تو آگ کی شدت اور اس کی ہولناکی سے دل سہم سہم جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجرموں کی بےبسی بھی دید کے قابل ہوگی کہ انھیں اس وادی میں پھینک کر اوپر سے اس وادی کو ڈھانک کر بند کردیا جائے گا تاکہ اس کی تپش اندر سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اور مزید ان کی بےبسی کا حال یہ ہوگا کہ وہ لمبے لمبے ستونوں اور بڑی بڑی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ آگ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–9

فہم القرآن ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : اِنَّھَا عَلَیْھِمْ مُّؤْصَدَۃٌ (وہ ان پر بند کردی جائے گی) ھا ؔ کی ضمیر نار کی طرف یا حطمہ کی طرف راجع ہے موصدہ : بلند کی ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–9

1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(الَّتِيْ تَـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ ) جو اپنی شدت کے باعث جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔ اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے اس لیے فرمایا (اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ) یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کردی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دوزخ کی اس ہولناک آگ کی ہولناکی کے ایک اور خاص پہلو کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ان لوگوں پر ہر طرف سے موندھ دیا گیا ہوگا، تاکہ نہ اس کے اندر کی سوزش و گرمی اور ہولناک تپش باہر نکل سکے اور نہ باہر سے کسی ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا اندر آسکے، والعیاذ باللہ العظیم، ( روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، خازن وغیرہ) سو جس کافر و منکر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ سو اصل دولت ایمان و یقین ہی کی دولت ہے اس کے ساتھ اگر دنیاوی مال و دولت بھی نصیب ہوجائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–9

بد کردار انسان اور دوزخ تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الھمزہ۔ آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی انہیں اس آگ میں ڈال کر تمام دروازے بند کردیئے جائیں گے تاکہ سنا نہیں کسی طرف سے ہوا لگنے پائے اور نہ وہ بھاگنے کی کوشش کرسکیں بلکہ ہمشہ اس میں پڑے جلتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(104:8) انھا علیہم مؤصدۃ۔ جملہ مستانفہ ہے۔ سوال تھا کہ دوزخی دوزخ سے کیوں نہیں نکلیں گے اور کیوں نہ بھاگ سکیں گے۔ اس سوال کے جواب میں فرمایا دوزخ (اوپر سے) بند ہوگی۔ انھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نار اللّٰہ کی طرف راجع ہے۔ علیہم کا تعلق مؤصدۃ سے ہے اور جمع غائب کی ضمیر اس لئے ذکر کی کہ لفظ کل (آیت نمبر 1) معنوی حیثیت سے جمع ہے۔ مؤصدۃ اسم مفعول واحد مؤنث ایصاد (افعال) مصدر۔ بمعنی بند کی ہوئی۔ وصد بننا۔ وصید اور وصیدۃ جانوروں کے لئے پتھروں کا بنایا ہو حظیرہ (باڑہ) لکڑیوں سے بنایا ہوا باڑہ۔ ایصاد (افعال) باڑہ بنانا۔ دروازہ بند کرنا۔ قفل لگانا۔ جب کسی دروازے کے کو اڑوں کو بھینچ کر بند…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن۔ ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔ تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–9

(ف 5) یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں اللہ کی سلگائی ہوئی ہے اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھ بڑی سمجھدار ہے دلوں کو جھانک لیتی ہیے جس دل میں ایمان نہ ہوجلائے جس میں کفر ہو جلاڈالے اس کی سوزش بدن کو لگتے ہیں فورا دلوں تک نفوذ کرجائے گی بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہوکر جسموں میں سرایت کرجائے گی اور باوجودیکہ قلوب وارواح جسموں کی طرح جلیں گے اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی، آگے فرمایا کہ کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کردیے جائیں گے کوئی راستہ نکلنے کانہ رہے گا، ہمیشہ اسی میں پڑے جلتے رہیں گے اور دوزخیوں کو لمبے لمبے ستونوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–9

[1] حُطمہ نکلا ہے حطم سے جس کے معنی توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے ہیں۔ یہاں حطمہ سے مراد دوزخ ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی اسے وہ اپنی گہرائی اور آگ کی وجہ سے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

سورة الھمزہ اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع ایں خیال است ومحال است…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) وہ آگ اہل جہنم پر ہر طرف سے بند کردی جائے گی یعنی جہنم میں ڈالنے کے بعد جہنم کو ہر طرف سے بند کردیاجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 5۔ یعنی آگ کے اتنے بڑے بڑے شعلے ہوں گے اور وہ لوگ اس آگ میں مقید ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ وہ آگ میں بند کردیئے جائیں گے 8 ؎ ( موصدۃ) جس کا اصل مادہ اص د ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے دوسرا کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا اور اس کا استعمال بھی صرف دوبارہ ہوا ہے ایک بار سورة البلد کی آیت 20 میں اور دوسری بار اس سورة الھمزہ میں۔ ( موصدۃ) اسم مفعول واحد مؤنث ہے۔ ایصاد باب افعال بند کی ہوئی ۔ وصد بنناد صید اور وصیدہ چوکھٹ ، صحن ، وہ خطیر جو جانوروں کے لیے پتھروں کا بنا لیا جاتا ہے۔ لکڑیوں سے بنایا ہوا باڑ ۔ اصحاب کہف کا غار بند کیا ہوا۔ دروازہ بند کرنا اور قفل لگانا ۔ اس حالت پر غور کرو کہ جب کسی دروازے کے کواڑ بند کردیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

Verse [ 104:7] تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (that will peep into the hearts). In other words, the fire of Hell will reach their hearts. The basic property of fire is to burn every particle of the things that fall into it. When people are put into the Hell-fire, it will devour every limb and organ of the body until it reaches their heart, but the person will not die. This characteristic of the Hell-fire is especially highlighted in the verse because the fire of this world kills the person even before reaching the heart. The fire of the Hell, on the other hand, will reach the heart in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 That is, after the culprits have been thrown into it, Hell will be closed in upon them without leaving any slit or opening anywhere, in order to choke and suffocate them.

Read the full tafseer →