Al-Humaza 104:7

Al-Humaza · from ayah 7

104:7

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَةِ ۟ؕالَّتِىۡ تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡــئِدَةِ

جو دلوں پر جا لپٹے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Which mounts directed at the hearts.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Humaza

All translations of 104:7

جو دلوں پر جا لپٹے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جو دلوں پر چڑھ جائے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو دلوں پر (اپنی اذیت کے ساتھ) چڑھ جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو دلوں پر جھانکتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو دلوں پر جا چڑھے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو جھانکتی ہوگی (دوزخیوں کے) دلوں تک

— مولانا اسحاق مدنی

جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو دلوں پر جالپٹے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

the Fire that shall rise to the hearts (of criminals).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that will peep into the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

that will peep into the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Which leaps up over the hearts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which leapeth up over the hearts (of men).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Which mounts directed at the hearts.

— Saheeh International

to penetrate into the hearts.

— Muhammad Sarwar

Which rises above the hearts.

— Muhammad Habib Shakir

Which mounteth up to the hearts.

— Abdul Majid Daryabadi

The which doth mount (Right) to the Hearts:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 104:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الھمزۃ 7 اصل الفاظ ہیں تـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ۔ تطلع اطلاع سے ہے جس کے ایک معنی چڑھنے اور اوپر پہنچ جانے کے ہیں، اور دوسرے معنی باخبر ہونے اور اطلاع پانے کے۔ افئدۃ فواد کی جمع ہے جس کے معنی دل کے ہیں، لیکن یہ لفظ اس عضو کے لیے استعمال نہیں ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے، بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک اور جذبات و خواہشات اور عقائد و افکار، اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے۔ دلوں تک اس آگ کے پہنچنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ آگ اس جگہ تک پہنچے گی جو انسان کے برے خیالات، فاسد عقائد، ناپاک خواہشات و جذبات، خبیث نیتوں اور ارادوں کا مرکز ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

تطلع علی الافدة یعنی یہ جہنم کی آگ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ یوں تو ہر آگ کا خاصہ یہی ہے کہ جو چیز اس میں پڑے اس کے سبھی اجزاء کو جلا دیتی ہے انسان اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے سارے اعضاء کے ساتھ دل بھی جل جائے گا، یہاں جہنم کی آگ کی یہ خصوصیت اس لئے ذکر کی گئی کہ دنیا کی آگ جب انسان کے بدن کو لگتی ہے تو اس کے دل تک پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کے کہ اس میں موت تو آتی نہیں تو دل تک آگ کا پہنچنا بحالت حیات ہوتا ہے اور دل کے جلنے کی اذیت اپنی زندگی میں انسان محسوس کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ کی ایک خاص صفت: یہ اس ’حُطمۃ‘ کی وضاحت ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ یعنی اس کا خاص مزاج یہ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے ان دلوں کو پکڑے گی جن میں مال کی محبت اس طرح رچی بسی رہی ہے کہ اس نے خدا اور آخرت کی یاد کے لیے کوئی جگہ ان کے اندر باقی نہیں چھوڑی۔ اس آگ کی مطلوب غذا چونکہ انہی دلوں کے اندر ہو گی اس وجہ سے اس کا سب سے پہلا حملہ انہی پر ہو گا۔ اس زمانے میں خاص خاص چیزوں کے تعاقب کے لیے ایسے آلات ایجاد ہو گئے ہیں جو دور ہی سے اپنے شکار کو بھانپ لیتے اور ازخود ان کا پیچھا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کو مار گراتے ہیں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یعنی اس کی حرارت دل تک پہنچ جائے گی۔ اگرچہ دنیا کی آگ کے اندر بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ دل تک پہنچ جائے لیکن وہ پہنچتی نہیں کیوں انسا کی موت اس سے پہلے ہی ہوجاتی ہے لیکن جہنم کی آگ دلوں تک پہنچے گی لیکن موت نہ آئے گی۔ باوجود آرزو کے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–8

2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

التی ........................ الافئدة (7:104) ” جو دلوں تک پہنچے گی “۔ اس شخص کے دل تک ، جس سے ھمزة لمزة (1:104) کا فعل قبیع ابھرتا ہے اور جس کے اندر مزاح ، تکبر اور غرور کا مواد چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یہ تصویر اس طرح مکمل ہوتی ہے کہ اس پھینکے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے اور پاش پاش کردیئے گئے شخص کو جس آگ میں پھینکا گیا ہے وہ اس کے روبرو سربند کردی گئی ہے۔ کوئی اس سے نکل نہ سکے گا۔ کوئی وہاں اس کو پوچھنے کے لئے نہ آئے گا۔ اس آگ میں بھی یہ شخص ستونوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوگا ، جس طرح مویشیوں کو باڑوں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اس تصویر کشی کے لئے الفاظ کا جو رنگ استعمال کیا گیا ہے وہ بہت ہی شدید اور شوخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–7

8 یعنی یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں، اللہ کی سلگائی ہوئی ہے۔ اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، بڑی سمجھدار ہے۔ دلوں کو جھانک لیتی ہے۔ جس دل میں ایمان ہو نہ جلائے، جس میں کفر ہو جلا ڈالے۔ اس کی سوزش بدن کو لگتے ہی فوراً دلوں تک نفوذ کر جائیگی۔ بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہو کر جسموں میں سرایت کرے گی۔ اور باوجودیکہ قلوب و ارواح جسموں کی طرح جلیں گے۔ اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے۔ لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر و جوہ العذاب۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 7{ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ۔ } ”جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔“ یعنی اس آگ کی حدت اور تپش انسان کی جلد سے زیادہ اس کے دل پر اثر انداز ہوگی۔ بہرحال آج جب انسان خود Infra red Rays اور Ultra violet Rays سمیت آگ اور حرارت کی رنگا رنگ اقسام ایجاد کرچکا ہے اس کے لیے ”حُطَمَہ“ کی مذکورہ خصوصیت کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ایک صاحب نے خیال پیش کیا ہے کہ حُطَمَۃ ایٹمی حرارت کی کوئی شکل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم سے جو حرارت پھیلتی ہے وہ براہ راست آگ نہیں ہوتی لیکن انسان کے وجود کو چیرتی چلی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 فوأد کا لغوی مفہوم :۔ أفْئِدَۃَ : فوأد کی جمع ہے جو فأد سے مشتق ہے اور فَأدَ اللَحْمَ بمعنی گوشت کو بھوننا اور لَحْمٌ فَئِیْدٌیعنی بھونا ہوا گوشت، ابن الفارس کے نزدیک یہ لفظ گرمی اور شدید حرارت پر دلالت کرتا ہے۔ اور فُوَادُ سے مراد دل کا وہ حصہ ہے جو انسان کے جذبات، جذبات کی شدت اور تاثیر سے تعلق رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ دل کے اس حصے پر پہنچے گی جو جذبات کا مرکز ہے۔ جس میں زر پرستی کا جذبہ ہے اور جو دوسرے لوگوں کو حقیر اور ذلیل سمجھنے اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے کے جذبات سے معمور ہے۔ یہ آگ اس کے جذبات کو اور دل کے اس حصے کو بھون کر رکھ دے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–7

2۔ (اور چونکہ اللہ کے حکم سے سلگائی ہوئی ہے کسی کے بجھائے بجھ بھی نہ سکے گی) یہ سب تفصیل بیان ہورہی ہے آغاز سورت کے لفظ (آیت) ” ویل “ یعنی شامت اور کمبختی کی۔ (آیت) ” تطلع علی الافئدۃ “۔ دلوں تک معا جاپہنچنا، یہ بیان ہے اس آگ کی سرعت نفوذ وسرایت کا، (آیت) ” نار اللہ “۔ اضافت اظہار عظمت واہمیت خصوصی کے لئے ہے، یعنی وہ آگ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے، دنیا کی کسی آگ پر اسے قیاس نہ کرو، فالاضافۃ للتفخیم اے ھی نار لاکسائر النیران (کبیر) (آیت) ” الحطمۃ “۔ ایسی آگ کہ جو کڑی سی کڑی چیز بھی اس میں پڑے، اس کو بھی وہ توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–9

تطلع علی الافئدۃ یعنی جہنم کی یہ آگ دلوں تک پہنچ جائے گی، یوں تو ہر آگ کا یہ خاصہ ہے کہ جو بھی اس پر پڑے، اس کے سب ہی اجزاء کو جلا دتی ہے، مگر دنیوی آگ جیتے جی دل تک نہیں پہنچتی بلکہ دل تک پہنچنے سے پہلے ہی انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے بخلاف جہنم کی آگ کے کہ وہ جلاتی جلاتی دل تک پہنچ جائے گی، اس لئے کہ جہنم میں موت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

التی تطلع علی الافئدۃ . یعنی وہ آگ دلوں تک پہنچے گی۔ اطلاع اور بلوغ (پہنچنا) ہم معنی ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے : اِطَّلَعْتَ اَرْضَنَا تو ہماری زمین تک پہنچ گیا۔ ابن مبارک نے اپنی سند سے خالد بن عمران کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ دوزخ والوں کو کھالے گی یہاں تک کہ جب دل تک پہنچ جائے گی تو رک جائے گی پھر وہ آدمی دوبارہ ویسا ہی ہوجائے گا جیسا پہلے تھا۔ پھر آگ اس کو لے گی اور دل تک پہنچے گی۔ یہی حالت اس کی ہوتی رہے گی۔ نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ کا یہی مطلب ہے۔ قرطبی اور کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں ‘ دل کا اس جگہ تذکرہ (چند وجوہ کے تحت کیا گیا ہے): 1) اس وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–9

(4۔ 9)۔ واللہ وہ ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلگا رکھی ہے وہ آگ سب کچھ کھا کر دل تک پہنچ جائے گی اور وہ آگ کافروں پر اس طرح بند کردی جائے گی کہ وہ لوگ اس کے ستونوں میں گھرے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

التی تطلع علی الافدۃ :”تطلع“ ”اطلع یطلع اطلاعاًٰ“ (افتعال) جھانکنا۔”الافدۃ“”فواد“ کی جمع ہے، دل۔ ”جو دلوں پر جھانت کی ہے“ یعنی وہ صاحب شعور ہے، دلوں میں جو کفر و نفاق اور بخل و کمینگی ہے یا ایمان اور سخاتو و کرم ہے سب دیکھ لیتی ہے اور جلاتی اسیک و ہے جو جلانے کے قابل ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آگ بھی اگرچہ ہر چیز کو جلا ڈالتی ہے، مگر یہ آگ دل تک پہنچنے سے پہلے ہی آدمی کی موت واقع ہوجاتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ جسم کو جلاتے ہوئے دل تک پہنچ جائے گی مگر آدمی مرے گا نہیں۔ دلوں تک آگ اس لئے پہنچے گی کہ دل ہی گندے عقائد، خبیث نیتوں اور کفر و نفاق کا مرکز ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

محمد بن کعب نے کہا : ان کے جسموں میں جو کچھ ہوگا آگ اسے کھا جائے گی یہاں تک کہ جب ان کے دلوں تک پہنچے گی تو انہیں پھر پیدا کردیا جائے گا وہ انہیں پھر کھانے لگے گی۔ خالد بن ابی عمران نے نبی کریم سے اسی طرح روایت کیا ہے : ان النار تاکل اھلھا حتی اذا طلعت علی افئدتھم انتھت ثم اذا صدروا تعود۔ آگ جہنمیوں کو کھائے گی یہاں تک کہ جب وہ آگ ان کے دلوں تک پہنچے گی تو وہ رک جائے گی پھر جب انہیں پیدا کیا جائے گا تو آگ لوٹ آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان کا یہی معنی ہے : نار اللہ الموقدۃ۔ التی تطلع علی الافئدۃ۔ یہاں دلوں کو خاص کر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ دکھ جب دل تک جا پہنچتا ہے تو وہ مریض مرجاتا ہے یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–9

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّتِيْ تَـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ : جو چڑھتی ہے دلوں پر ] آیت۔ 7 ۔ میں افگدۃ کا لفظ آیا ہے جو فواد کی جمع ہے اور جس کے معنی دل کے ہیں۔ لیکن یہ لفظ اس عضو کے لیے استعمال نہیں ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک، جذبات و خواہشات، عقائد و افکار اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے۔ دلوں تک اس آگ کے پہنچنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ آگ اس جگہ تک پہنچے گی جو انسان کے فاسد عقائد اور ناپاک خواہشات و جذبات کا مرکز ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وہ آگ دنیا کی آگ کی طرح اندھی نہیں ہوگی کہ مستحق اور غیر مستحق سب کو جلا دے بلکہ وہ ایک ایک مجرم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

فائدہ : ﴿نَار اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ006﴾ (اللہ کی آگ جو جلائی ہوئی ہوگی) اس سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ دوزخ کی آگ دوزخیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی سے جلائی ہوئی ہوگی ایسا نہیں ہوگا جیسا دنیا میں پہلے ایندھن تیار کرتے ہیں پھر اس ایندھن میں آگ لگاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ میں آگ کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی لہٰذا اب وہ سیاہ ہے اندھیری ہے۔ (رواہ الترمذی) اعاذنا اللہ تعالیٰ من سائر انواع العذاب وھو الغفور الوھاب الرحیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–9

طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–9

5:۔ ” نار اللہ “ آؤ میں تمہیں بتاؤ وہ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو جلاتے جلاتے ان کے دلوں تک پہنچ جائیگی۔ انھا علیہم مؤصدۃ۔ ای مطبقۃ۔ ان کو لمبے لمبے ستونوں کے اندر گھیر کر اوپر سے آگ کو بند کردیا جائیگا تاکہ اس کی حرارت تیز رہے اور ضائع نہ ہو یا عمد سے وہ میخیں مراد ہیں جو ان تختوں میں لگائی جائیں گی۔ جن سے جہنم کا منہ بند کیا جائے گا۔ قال القشیری والمعظم علی ان العمد اوتاد الاطباق التی تطبق علی اھل النار۔ و تشد تلک الاطباق بالاوتاد حتی یرجع علیہم غمہا وحرھا، فلا یدخل علیہم (روح، قرطبی ج 20 ص 186) ۔ اللہم اجرنا منہا یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔ اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَۃِ۝ 7 ۭ طَلَعَ طَلَعَ الشمسُ طُلُوعاً ومَطْلَعاً. قال تعالی: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] ، حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] ، والمَطْلِعُ : موضعُ الطُّلُوعِ ، حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] ، وعنه استعیر : طَلَعَ علینا فلانٌ ، واطَّلَعَ. قال تعالی: هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] ، فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] ، قال : فَأَطَّلِعَ إِلى إِلهِ مُوسی[ غافر/ 37] ، وقال : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] ، لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/ 38] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–9

ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–7

وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاالْحُطَمَۃُ ۔ نَارُاللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ ۔ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ ۔ (الہمزۃ : 5 تا 7) (اور تم کیا جانو کہ چور چور کردینے والی کیا ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ ) الْحُطَمَۃُ کی خصوصیت اس چور چور کردینے والی آگ کی ہولناکی کو نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ تم کیا جانو وہ چور چور کردینے والی کیا ہے اور کیسی ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق کے سوا اس کا جواب اور کون دے سکتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے خود ہی فرمایا کہ وہ ایسی آگ ہے جس میں دو صفتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ جہنم کی کسی وادی کی آگ کو اللہ تعالیٰ کی آگ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–9

فہم القرآن ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دلوں تک پہنچنے کا مطلب : 7 : الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ (جو دلوں تک جا پہنچے گی) یعنی وہ آگ ان کے پیٹوں میں گھس جائے گی اور یہاں تک کہ سینوں میں پہنچ جائے گی اور ان کے دلوں کو جھانک لے گی۔ افئدۃؔ : دل کا درمیان۔ انسان کے جسم میں دل سے بڑھ کر کوئی چیز لطیف نہیں۔ اور نہ ہی اس سے زیادہ کوئی چیز معمولی ایذاء کو محسوس کرنے والی ہے۔ اس وقت دل کی تکلیف کا کیا حال ہوگا جب جہنم کی آگ اس کو جھانکے گی اور اس پر مسلط ہوجائے گی۔ دل کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دل کفر کے مقامات اور عقائد فاسدہ کا مرکز ہے۔ اطلاع نار کا مطلب یہ ہے کہ وہ آگ ان پر چھا جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” التی تطلع علی الافئدۃ “ یعنی ایسی جس کی تکلیف و درد دلوں تک پہنچ جائے گا اور اطلاع اور بلوغ اور تطلع کا ایک معنی۔ عرب سے نقل کیا گیا ہے ” من طلعت ارضنا “ یعنی پہنچ گئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو کھاجائے گی حتیٰ کہ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ اس کو قرظی اور کلبی رحمہما اللہ نے کہا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–9

1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(الَّتِيْ تَـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ ) جو اپنی شدت کے باعث جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔ اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے اس لیے فرمایا (اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ) یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کردی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

(6) آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کا ذکرو بیان : سو اس سے آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کو واضح فرما دیا گیا کہ اس کو یہاں پر " نار اللہ " یعنی اللہ کی آگ فرمایا گیا ہے اور قرآن حکیم میں اس مقام کے سوا اور کسی بھی مقام پر آگ کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہیں فرمائی گئی ہے، سو اس سے ایک طرف تو اس آگ کی شدت اور ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے، اور دوسری طرف اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو لوگ دنیاوی مال و دولت کی بنا پر غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ پاک کا احکام اور اس کے دین سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہ اللہ پاک کے یہاں کس قدر مبغوض ہیں کہ ان کے لیے ایسی ہولناک آگ تیار کر کے رکھی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–9

بد کردار انسان اور دوزخ تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الھمزہ۔ آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–7

ف 6 شاہصاحب لکھتے ہیں :” یعنی جس دل میں ایمان ہے تو نہ جلاوے کفر ہے تو جلاوے (مرضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(104:7) التی تطلع علی الافئدۃ۔ یہ آگ کی صفت ہے۔ یعنی وہ آگ جو دلوں تک پہنچے گی۔ اطلاع اور بلوغ (پہنچنا) دونوں ہم معنی ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے اطلعت ارضنا۔ تو ہماری زمین تک پہنچ گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن۔ ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔ تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–9

(ف 5) یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں اللہ کی سلگائی ہوئی ہے اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھ بڑی سمجھدار ہے دلوں کو جھانک لیتی ہیے جس دل میں ایمان نہ ہوجلائے جس میں کفر ہو جلاڈالے اس کی سوزش بدن کو لگتے ہیں فورا دلوں تک نفوذ کرجائے گی بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہوکر جسموں میں سرایت کرجائے گی اور باوجودیکہ قلوب وارواح جسموں کی طرح جلیں گے اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی، آگے فرمایا کہ کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کردیے جائیں گے کوئی راستہ نکلنے کانہ رہے گا، ہمیشہ اسی میں پڑے جلتے رہیں گے اور دوزخیوں کو لمبے لمبے ستونوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–9

[1] حُطمہ نکلا ہے حطم سے جس کے معنی توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے ہیں۔ یہاں حطمہ سے مراد دوزخ ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی اسے وہ اپنی گہرائی اور آگ کی وجہ سے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

سورة الھمزہ اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع ایں خیال است ومحال است…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) وہ ایسی ہے جو بدن کو لگتے ہی دلوں تک جا پہنچے گی۔ یعنی یہاں کی آگ بدن میں لگتی ہے تو دل پر پہنچنے سے پہلے آدمی مرجاتا ہے مگر وہ آگ لگتے ہی دلوں کو جھانک لیتی ہے اور دلوں تک پہنچ جاتی ہے پھر جس دل میں ایمان ہوتا ہے اس کو نہیں جلاتی اور جس دل میں کفر ہوتا ہے اس کو جلا ڈالتی ہے اور چونکہ وہاں موت نہیں آئے گی اس لئے دکھ اور تکلیف برابر محسوس ہوتی رہے گی۔ دل چونکہ بہت لطیف چیز ہے اس لئے اس کا ذکر فرمایا کہبدن میں نفوذ کرتے ہی قلب تک پہنچ جاتی ہے مگر ان تمام چیزوں میں آگ کے نفوذ ہوجانے پر بھی موت نہیں آئے گی قلب پر آگ کا متولی ہوجانا اور قلب کو گھیر لینا شاید اس لئے فرمایا کہ یہ قلب ہی ان ناپاک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 4۔ یعنی اس میں سرعت نفوذ اور سرایت ہونے سے اور اس شخص کو موت نہ آنے سے یہ حالت ہوگی کہ بدن کے ساتھ ہی دل کو جلا دے گی اور اس سے قطع نظر بھی کی جائے تو بھی دل تک پہنچنے کا الم بوجہ عدم عروض موت کے اس کو محسوس ہوگا، بخلاف آتش دنیا کے کہ بدن سے دل تک پہنچتے پہنچتے بہت دیر لگتی ہے حتی کہ اس کے پہلے ہی روح نکل جاتی ہے اور دل تک پہنچنے کا الم مدرک ہونے کی نوبت نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو دلوں کی تہہ تک جا پہنچے گی 7 ؎ (تطلع) تو خبردار ہوتا ہے ۔ تو خبردار ہوگا ۔ اطلاع سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ وہ خبر دار ہوتی ہے۔ وہ جھانک لیتی ہے۔ (افتدۃ) دل ۔ فواد کی جمع جس کے معنی دل کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ دلوں کو جھانک لیتی ہے اور جن لوگوں کے دل دنیا کی طرف مائل ہوتے ہیں اور آخرت کو وہ نہیں چاہتے ان کے دلوں کو آگ جھانک لیتی ہے اور اس کی شوزش اور تپش (Heat) سے دل بھن کر کباب ہوجاتے ہیں اور آخرت میں بھی وہی آگ اس کے لیے دوزخ کی آگ ثابت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

Verse [ 104:7] تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (that will peep into the hearts). In other words, the fire of Hell will reach their hearts. The basic property of fire is to burn every particle of the things that fall into it. When people are put into the Hell-fire, it will devour every limb and organ of the body until it reaches their heart, but the person will not die. This characteristic of the Hell-fire is especially highlighted in the verse because the fire of this world kills the person even before reaching the heart. The fire of the Hell, on the other hand, will reach the heart in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 Tattali'u is from ittala a, which means to climb and mount to the top, and also to be aware and informed. Afidah is plural of fuwad, which means the heart. But this word is not used for the organ which throbs in the breast, but for the seat of man's understanding and consciousness, his'feelings and desires, beliefs and thoughts, motives and intentions, Thus, one meaning of the rising of the fire to the hearts is that this. fire will reach the place which is the centre of man's evil thoughts, false beliefs, impure desires and feelings, and wicked motives and intentions. The second meaning is…

Read the full tafseer →