نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ ۟ۙنَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ
وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
It is the fire of Allah, [eternally] fueled,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz
نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ ۟ۙنَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ
وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
It is the fire of Allah, [eternally] fueled,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Humaza
اللہ کی آگ، خوب بھڑکائی ہوئی
وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے
وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی
اللہ کی سلگائی ہوئی آگ
اللہ کی آگ کہ بھڑک رہی ہے
(یہ) اﷲ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے،
اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔
اللہ کی آگ سے خوب بھڑکائی ہوئی
اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ !
وہ اللہ کی آگ ہے جسے خوب بھڑکا کر رکھا گیا ہے
وہ اللہ کی آگ ہے (اللہ کے حکم سے) سلگائی ہوئی
وہ آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی۔
وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے
It is the Fire kindled by Allah,
It is Allah‘s kindled fire
It is Allah‘s kindled fire
The fire of Allah, Al-Muqadah,
(It is) the fire of Allah, kindled,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
It is the fire of Allah, [eternally] fueled,
It is a fierce fire created by God
It is the fire kindled by Allah,
Fire of Allah, Kindled,
(It is) the Fire of (the Wrath of) Allah kindled (to a blaze),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →سورة الھمزۃ 6 قرآن مجید میں اس مقام کے سوا اور کہیں جہنم کی آگ کو اللہ کی آگ نہیں کہا گیا ہے۔ اس مقام پر اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے نہ صرف اس کی ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی دولت پا کر غرور وتکبر میں مبتلا ہوجانے والوں کو اللہ کس قدر سخت نفرت اور غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کی وجہ سے اس نے اس آگ کو خاص اپنی آگ کہا ہے جس میں وہ پھینکے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ کی ایک خاص صفت: یہ اس ’حُطمۃ‘ کی وضاحت ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ یعنی اس کا خاص مزاج یہ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے ان دلوں کو پکڑے گی جن میں مال کی محبت اس طرح رچی بسی رہی ہے کہ اس نے خدا اور آخرت کی یاد کے لیے کوئی جگہ ان کے اندر باقی نہیں چھوڑی۔ اس آگ کی مطلوب غذا چونکہ انہی دلوں کے اندر ہو گی اس وجہ سے اس کا سب سے پہلا حملہ انہی پر ہو گا۔ اس زمانے میں خاص خاص چیزوں کے تعاقب کے لیے ایسے آلات ایجاد ہو گئے ہیں جو دور ہی سے اپنے شکار کو بھانپ لیتے اور ازخود ان کا پیچھا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کو مار گراتے ہیں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 1 یہ استفہام اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے، یعنی وہ ایسی آگ ہوگی کہ تمہاری عقلیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور تمہارا فہم و شعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
8 یعنی یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں، اللہ کی سلگائی ہوئی ہے۔ اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، بڑی سمجھدار ہے۔ دلوں کو جھانک لیتی ہے۔ جس دل میں ایمان ہو نہ جلائے، جس میں کفر ہو جلا ڈالے۔ اس کی سوزش بدن کو لگتے ہی فوراً دلوں تک نفوذ کر جائیگی۔ بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہو کر جسموں میں سرایت کرے گی۔ اور باوجودیکہ قلوب و ارواح جسموں کی طرح جلیں گے۔ اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے۔ لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر و جوہ العذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 7{ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ۔ } ”جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔“ یعنی اس آگ کی حدت اور تپش انسان کی جلد سے زیادہ اس کے دل پر اثر انداز ہوگی۔ بہرحال آج جب انسان خود Infra red Rays اور Ultra violet Rays سمیت آگ اور حرارت کی رنگا رنگ اقسام ایجاد کرچکا ہے اس کے لیے ”حُطَمَہ“ کی مذکورہ خصوصیت کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ایک صاحب نے خیال پیش کیا ہے کہ حُطَمَۃ ایٹمی حرارت کی کوئی شکل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم سے جو حرارت پھیلتی ہے وہ براہ راست آگ نہیں ہوتی لیکن انسان کے وجود کو چیرتی چلی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →5 سارے قرآن میں غالباً یہی ایک مقام ہے جہاں دوزخ کی آگ کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے کہ اللہ نے اس آگ کو بھڑکایا ہے۔ اسی سے اس آگ کی شدت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اللہ متکبرین کو سب سے زیادہ رسوا کن عذاب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
2۔ (اور چونکہ اللہ کے حکم سے سلگائی ہوئی ہے کسی کے بجھائے بجھ بھی نہ سکے گی) یہ سب تفصیل بیان ہورہی ہے آغاز سورت کے لفظ (آیت) ” ویل “ یعنی شامت اور کمبختی کی۔ (آیت) ” تطلع علی الافئدۃ “۔ دلوں تک معا جاپہنچنا، یہ بیان ہے اس آگ کی سرعت نفوذ وسرایت کا، (آیت) ” نار اللہ “۔ اضافت اظہار عظمت واہمیت خصوصی کے لئے ہے، یعنی وہ آگ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے، دنیا کی کسی آگ پر اسے قیاس نہ کرو، فالاضافۃ للتفخیم اے ھی نار لاکسائر النیران (کبیر) (آیت) ” الحطمۃ “۔ ایسی آگ کہ جو کڑی سی کڑی چیز بھی اس میں پڑے، اس کو بھی وہ توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، طعنہ زنی کرنے والا ہو، یعنی بکثرت بدگوئی کرنے والا اور طعنہ زن ہو، یہ سورت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی، جو آنحضرت ﷺ اور مومنین کی غیبت کرتا تھا، جیسا کہ امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغریہ ہما جس نے مال جمع کر کے رکھا ہے جمع تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اس کو گن گن کر رکھا اور اس کو حودث زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھا (اور) وہ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو دوام بخشے گا کہ کبھی نہ میر گا، ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →نار اللہ . وہ اللہ کی آگ ہے ‘ اللہ کی طرف نار کی نسبت نار کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے کیونکہ ا سے اللہ کے قہر کا ظہور ہوتا ہے۔ نعوذ باللہ منہا۔ اللہ کی تمام صفات خواہ جلالی ہوں یا جمالی۔ کمال کی اس چوٹ پر پہنچی ہوئی ہیں کہ نہ اس کا اندازہ دماغ کو ہوسکتا ہے ‘ نہ اس سے زیادہ کا تصور ممکن ہے۔ الموقدۃ . یہ آگ کی صفت ہے ‘ یعنی وہ آگ بھڑکائی گئی ہے (فاعل مذکور نہیں کیونکہ اگر فاعل متعین ہو اور فعل ایک ہی فاعل سے مخصوص ہو تو فاعل کو مبہم رکھنا اور ذکر نہ کرنا فعل کی عظمت پر دلالت کرتا ہے) مطلب یہ ہے کہ سوائے خدا کے اس کو بھڑکانے والا کوئی دوسرا نہیں اور خدا کی لگائی ہوئی آگ کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
(4۔ 9)۔ واللہ وہ ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلگا رکھی ہے وہ آگ سب کچھ کھا کر دل تک پہنچ جائے گی اور وہ آگ کافروں پر اس طرح بند کردی جائے گی کہ وہ لوگ اس کے ستونوں میں گھرے ہوں گے۔
Read the full tafseer →(نار اللہ الموقد 1:”نار اللہ“ (اللہ کی آگ) اور ”الموقدۃ“ (بھڑکائی ہوئی) کہنے میں اس آگ کی جو ہولناکی بیان ہوئی ہے وہ کسی اور لفظ میں بیان ہو ہی نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک جا پہنچے گی۔ وہ یہ گمان کرتا ہے اس کا مال اسے زندہ رکھے گا وہ مرے گا نہیں، یہ سدی نے کہا : عکرمہ نے کہا : معنی ہے مال اس کی عمر میں اضافہ کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وقت گزر چکا ہے اسے زندہ کردے گا۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو مستقبل کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھلک واللہ فلان و دخل النار۔ اللہ کی قسم ! فلاں ہلاک ہوگیا اور آگ میں داخل ہوگیا۔ کلا کا لفظ اس لیے ذکر کیا گیا کہ کافر نے جو وہم کیا اس کا رد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ : (وہ) اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ] (آیت۔ 6) نَارُ اللّٰہِ خبر ہے۔ اَلْمُوْقَدَۃْ ۔ نَارْ کی صفت ہے اس لیے اس پر تائے تانیث ہے۔ اس خبر کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فائدہ : ﴿نَار اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ006﴾ (اللہ کی آگ جو جلائی ہوئی ہوگی) اس سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ دوزخ کی آگ دوزخیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی سے جلائی ہوئی ہوگی ایسا نہیں ہوگا جیسا دنیا میں پہلے ایندھن تیار کرتے ہیں پھر اس ایندھن میں آگ لگاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ میں آگ کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی لہٰذا اب وہ سیاہ ہے اندھیری ہے۔ (رواہ الترمذی) اعاذنا اللہ تعالیٰ من سائر انواع العذاب وھو الغفور الوھاب الرحیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
5:۔ ” نار اللہ “ آؤ میں تمہیں بتاؤ وہ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو جلاتے جلاتے ان کے دلوں تک پہنچ جائیگی۔ انھا علیہم مؤصدۃ۔ ای مطبقۃ۔ ان کو لمبے لمبے ستونوں کے اندر گھیر کر اوپر سے آگ کو بند کردیا جائیگا تاکہ اس کی حرارت تیز رہے اور ضائع نہ ہو یا عمد سے وہ میخیں مراد ہیں جو ان تختوں میں لگائی جائیں گی۔ جن سے جہنم کا منہ بند کیا جائے گا۔ قال القشیری والمعظم علی ان العمد اوتاد الاطباق التی تطبق علی اھل النار۔ و تشد تلک الاطباق بالاوتاد حتی یرجع علیہم غمہا وحرھا، فلا یدخل علیہم (روح، قرطبی ج 20 ص 186) ۔ اللہم اجرنا منہا یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔ اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →نَارُ اللہِ الْمُوْقَدَۃُ 6 ۙ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاالْحُطَمَۃُ ۔ نَارُاللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ ۔ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ ۔ (الہمزۃ : 5 تا 7) (اور تم کیا جانو کہ چور چور کردینے والی کیا ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ ) الْحُطَمَۃُ کی خصوصیت اس چور چور کردینے والی آگ کی ہولناکی کو نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ تم کیا جانو وہ چور چور کردینے والی کیا ہے اور کیسی ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق کے سوا اس کا جواب اور کون دے سکتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے خود ہی فرمایا کہ وہ ایسی آگ ہے جس میں دو صفتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ جہنم کی کسی وادی کی آگ کو اللہ تعالیٰ کی آگ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →6 : نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ (وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ جو سلگائی گئی ہے ) نحو : نار اللہ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ ایھی نار اللہ۔ الموقدؔ ہ یہ اس کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔ نار اللہ الموقدۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ ) یعن اسے ضرور پھینکا جائے گا (فِي الْحُطَمَةِ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ) حطمہ اور آپ کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6) آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کا ذکرو بیان : سو اس سے آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک خاص پہلو کو واضح فرما دیا گیا کہ اس کو یہاں پر " نار اللہ " یعنی اللہ کی آگ فرمایا گیا ہے اور قرآن حکیم میں اس مقام کے سوا اور کسی بھی مقام پر آگ کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہیں فرمائی گئی ہے، سو اس سے ایک طرف تو اس آگ کی شدت اور ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے، اور دوسری طرف اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو لوگ دنیاوی مال و دولت کی بنا پر غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ پاک کا احکام اور اس کے دین سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہ اللہ پاک کے یہاں کس قدر مبغوض ہیں کہ ان کے لیے ایسی ہولناک آگ تیار کر کے رکھی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔ آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 6 شاہصاحب لکھتے ہیں :” یعنی جس دل میں ایمان ہے تو نہ جلاوے کفر ہے تو جلاوے (مرضح)
Read the full tafseer →(104:6) نار اللہ الموقدۃ : نار اللّٰہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای ہی نار اللّٰہ وہ اللہ کی آگ ہے۔ آگ کی نسبت اللہ کی طرف۔ نار کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے۔ الموقدۃ : اسم مفعول واحد مؤنث ایقاد (افعال) مصدر سے ۔ بھڑکائی ہوئی۔ یہ آگ کی صفت ہے یعنی وہ آگ بھڑکائی گئی ہے (فاعل مذکور نہیں ہے کیونکہ اگر فاعل متعین ہو اور فعل ایک ہی فاعل سے مخصوص ہو تو فاعل کو مبہم رکھنا اور ذکر کرنا فعل کی عظمت پر دلالت کرتا ہے) مطلب یہ کہ سوائے خدا کے اس کو بھڑکانے والا کوئی دوسرا نہیں اور خدا کی لگائی ہوئی آگ کو بجھا نہیں سکتا۔ (تفسیر مظہری) وقد وقود (باب ضرب) آگ بھڑکانا۔ وقود ایندھن، شعلہ، ایقاد (افعال) بھڑکانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔ ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔ تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 5) یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں اللہ کی سلگائی ہوئی ہے اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھ بڑی سمجھدار ہے دلوں کو جھانک لیتی ہیے جس دل میں ایمان نہ ہوجلائے جس میں کفر ہو جلاڈالے اس کی سوزش بدن کو لگتے ہیں فورا دلوں تک نفوذ کرجائے گی بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہوکر جسموں میں سرایت کرجائے گی اور باوجودیکہ قلوب وارواح جسموں کی طرح جلیں گے اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی، آگے فرمایا کہ کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کردیے جائیں گے کوئی راستہ نکلنے کانہ رہے گا، ہمیشہ اسی میں پڑے جلتے رہیں گے اور دوزخیوں کو لمبے لمبے ستونوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
[1] حُطمہ نکلا ہے حطم سے جس کے معنی توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے ہیں۔ یہاں حطمہ سے مراد دوزخ ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی اسے وہ اپنی گہرائی اور آگ کی وجہ سے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الھمزہ اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع ایں خیال است ومحال است…
Read the full tafseer →(6) وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے جو سلگائی گئی ہے - یعنی وہ آگ اور آگوں کی طرح نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے جو اس کے حکم سے سلگائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 4۔ یعنی اس میں سرعت نفوذ اور سرایت ہونے سے اور اس شخص کو موت نہ آنے سے یہ حالت ہوگی کہ بدن کے ساتھ ہی دل کو جلا دے گی اور اس سے قطع نظر بھی کی جائے تو بھی دل تک پہنچنے کا الم بوجہ عدم عروض موت کے اس کو محسوس ہوگا، بخلاف آتش دنیا کے کہ بدن سے دل تک پہنچتے پہنچتے بہت دیر لگتی ہے حتی کہ اس کے پہلے ہی روح نکل جاتی ہے اور دل تک پہنچنے کا الم مدرک ہونے کی نوبت نہیں آتی۔
Read the full tafseer →وہ حطمہ اللہ تعالیٰ کی خوب بھڑکائی ہوئی آگ ہے 6 ؎ ( الموقدۃ) اسم فاعل واحد مؤنث ایقاد مصدر ۔ بھڑکائی ہوئی ۔ اس کا اصل مادہ و ق د ہے اور وقود اس ایندھن کو بھی کہتے ہیں جو چولہے میں جلایا جاتا ہے ۔ بخیل اور حاسد انسان نہیں چاہتے کہ دوسروں کے حصے میں بھی کچھ آئے بلکہ وہ سب کچھ خود ہی سمیٹ لینا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ جمع کرسکتے ہوں اپنے لیے جمع کرلیں اور دوسروں کو اس سے محروم دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کی تمنائوں اور درخواستوں کی آگ بھی ان کے گرد آ کر سمٹ جاتی ہے پس وہ آگ جو ان کے دلوں سے شروع ہوئی تھی ان کی بڑھتی ہوئی تمنائوں اور خواہشات کی وجہ سے ان میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
The third evil quality denounced severely in this Surah is greed, that is, the selfish hoarding of wealth, against which is the stern warning of the dreadful end of those who have passion for worldly riches. This verse, however, refers to the love of, and passion for, wealth which is accumulated and counted over and over again. Other verses and Ahadith bear testimony to the fact that amassing of wealth in principle is not prohibited or sinful. Therefore, verse [ 2] must be interpreted in the light of those verses and traditions. This verse purports to say that anyone who accumulates wealth…
Read the full tafseer →6 Nowhere else in the Qur'an has the fire of Hell been called the fire of Allah. Here, its ascription to Allah not only expresses its dreadfulness but it also shows how the wrath and contempt of Allah envelops those who become proud and arrogant with the worldly wealth. That is why Allah has described that fire as His own Fire into which they will be hurled.
Read the full tafseer →