وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحُطَمَةُ
اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟
— Fateh Muhammad Jalandhari
And what can make you know what is the Crusher?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz
وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحُطَمَةُ
اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟
— Fateh Muhammad Jalandhari
And what can make you know what is the Crusher?
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Humaza
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ؟
اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟
اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟
اور تمہیں کیا معلوم وہ چورا چورا کرنے والی چیز کیا ہے ؟
اور تو نے کیا جانا کیا روندنے والی،
اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ حطمہ (چورا چورا کر دینے والی آگ) کیا ہے،
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ حطمہ کیا ہے ؟
اور آپ کیا جانیں کہ وہ چکنا چور کردینے والی کیا ہے ؟
اور تم کیا سمجھے کہ چور چور کردینے والی کیا ہے !
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کردینے والی ہولناک آگ ؟
اور آپ سمجھے کہ وہ توڑنے پھوڑنے والی آگ ہے کیا ؟
اور کیا تم جانتے ہو وہ حطمہ کیا ہے ؟
اور تمہیں کیا معلوم حطمہ کیا ہے
And what do you know what the Crusher is?
And what may let you know what the Crushing Fire is?
And what may let you know what the Crushing Fire is?
And what will make you know what Al-Hutamah is
Ah, what will convey unto thee what the Consuming One is!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And what can make you know what is the Crusher?
Would that you knew what hutamah is!
And what will make you realize what the crushing disaster is?
And what shall make thee know that which the Crushing Fire is?
And what will explain to thee That which Breaks to Pieces?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الھمزۃ 4 اصل میں لفظ حطمہ استعمال کیا گیا ہے جو حطم سے ہے۔ حطم کے معنی توڑنے، کچل دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کے ہیں۔ جہنم کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی سے وہ اپنی گہرائی اور اپنی آگ کی وجہ سے توڑ کر رکھ دے گی۔ سورة الھمزۃ 5 اصل میں لَيُنْۢبَذَنَّ فرمایا گیا ہے۔ نبذ عربی زبان میں کسی چیز کو بےوقعت اور حقیر سمجھ کر پھینک دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اپنی مال داری کی وجہ سے وہ دنیا میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہے، لیکن قیامت کے روز اسے حقارت کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔
Read the full tafseer →یہ سوال اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے کہ اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے! اس آگ کو ’حطمۃ‘ یعنی چُور چُور کر دینے والی کی صفت سے تعبیر کرنے کی حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ بخیل سرمایہ دار اپنی دولت اس زمانے میں سونے چاندی کی اینٹوں، زیورات، ظروف اور جواہرات وغیرہ کی شکل میں محفوظ کرتے تھے۔ اس طرح کی دولت کو برباد کرنے کے لیے چُور چُور کر دینے کی تعبیر زیادہ موزوں ہے یعنی یہ ساری دولت جلا کر اور چُور چُور کر کے پراگندہ کر دی جائے گی کہ جو لوگ اس کو حیات جاوداں کی ضامن سمجھے بیٹھے تھے وہ اس کا حشر دیکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 1 یہ استفہام اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے، یعنی وہ ایسی آگ ہوگی کہ تمہاری عقلیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور تمہارا فہم و شعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
8 یعنی یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں، اللہ کی سلگائی ہوئی ہے۔ اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، بڑی سمجھدار ہے۔ دلوں کو جھانک لیتی ہے۔ جس دل میں ایمان ہو نہ جلائے، جس میں کفر ہو جلا ڈالے۔ اس کی سوزش بدن کو لگتے ہی فوراً دلوں تک نفوذ کر جائیگی۔ بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہو کر جسموں میں سرایت کرے گی۔ اور باوجودیکہ قلوب و ارواح جسموں کی طرح جلیں گے۔ اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آکر اس عذاب کا خاتمہ کردے۔ لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوگی۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر و جوہ العذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4{ کَلَّا لَـیُنْبَذَنَّ فِی الْْحُطَمَۃِ۔ } ”ہرگز نہیں ‘ وہ تو یقینا جھونک دیا جائے گا حطمہ میں۔“ حُطَمَۃ : حَطَمَسے ہے ‘ یعنی توڑ ڈالنے والی ‘ پیس ڈالنے والی ‘ چور چور اور ریزہ ریزہ کردینے والی۔ یہ دوزخ کے ایک خاص طبقے کا نام ہے جس کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ اس میں جو شے بھی ڈالی جائے گی اس کو آنِ واحد میں پیس کر رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 لَیُنْبَذَنَّ : نَبَذَ بمعنی کسی چیز کو ردی اور بےکار سمجھتے ہوئے پھینک دینا یا کسی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال دینا اور حُطَمَۃَ سے مراد دوزخ ہے۔ حُطَمَ یعنی توڑنا مروڑنا اور حُطَام توڑی مڑوری ہوئی یا ریزہ ریزہ شدہ چیز کو کہتے ہیں اور یہ لفظ کسی کو روند کر ریزہ ریزہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دولت کے نشہ میں بدمست لوگوں کو نہایت حقیر اور ذلیل سمجھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
2۔ (اور چونکہ اللہ کے حکم سے سلگائی ہوئی ہے کسی کے بجھائے بجھ بھی نہ سکے گی) یہ سب تفصیل بیان ہورہی ہے آغاز سورت کے لفظ (آیت) ” ویل “ یعنی شامت اور کمبختی کی۔ (آیت) ” تطلع علی الافئدۃ “۔ دلوں تک معا جاپہنچنا، یہ بیان ہے اس آگ کی سرعت نفوذ وسرایت کا، (آیت) ” نار اللہ “۔ اضافت اظہار عظمت واہمیت خصوصی کے لئے ہے، یعنی وہ آگ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے، دنیا کی کسی آگ پر اسے قیاس نہ کرو، فالاضافۃ للتفخیم اے ھی نار لاکسائر النیران (کبیر) (آیت) ” الحطمۃ “۔ ایسی آگ کہ جو کڑی سی کڑی چیز بھی اس میں پڑے، اس کو بھی وہ توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، طعنہ زنی کرنے والا ہو، یعنی بکثرت بدگوئی کرنے والا اور طعنہ زن ہو، یہ سورت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی، جو آنحضرت ﷺ اور مومنین کی غیبت کرتا تھا، جیسا کہ امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغریہ ہما جس نے مال جمع کر کے رکھا ہے جمع تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اس کو گن گن کر رکھا اور اس کو حودث زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھا (اور) وہ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو دوام بخشے گا کہ کبھی نہ میر گا، ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →وما ادراک ما الحطمۃ . جہنم کی ہولناکی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ استفہام سوالیہ نہیں ہے۔ پورا جملہ معترضہ جہنم کی عظمت شان کو بتانے کے لیے ذکر کیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم جہنم کی شدت کو نہیں جانتے ‘ اس کی شدت ناقابل تصور ہے۔ اس ابہام کے بعد آئندہ خود ہی توضیح فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
(4۔ 9)۔ واللہ وہ ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلگا رکھی ہے وہ آگ سب کچھ کھا کر دل تک پہنچ جائے گی اور وہ آگ کافروں پر اس طرح بند کردی جائے گی کہ وہ لوگ اس کے ستونوں میں گھرے ہوں گے۔
Read the full tafseer →(وما ادرک ما الحطمۃ : یہ سوال اس کی ہولناکی بیان کرنے کے ہے، یعنی تم جان ہی نہیں سکتے کہ وہ کس قدر خوف ناک چیز ہے۔ ”الحطمتہ“ (حطم یحطم“ (ض) سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ہی زیادہ توڑ پھوڑ دینے والی۔ اس میں جو چیز ڈلای جائے گی اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لقد رایت جھنم یحطم بعضھا بعضا) (بخاری، العمل فی الصلاۃ ، باب اذا انفلتت الدابۃ فی الصلاۃ : 1212)”یقیناً میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے اپنے حصے ایک دوسرے کو توڑ رہے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک جا پہنچے گی۔ وہ یہ گمان کرتا ہے اس کا مال اسے زندہ رکھے گا وہ مرے گا نہیں، یہ سدی نے کہا : عکرمہ نے کہا : معنی ہے مال اس کی عمر میں اضافہ کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وقت گزر چکا ہے اسے زندہ کردے گا۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو مستقبل کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھلک واللہ فلان و دخل النار۔ اللہ کی قسم ! فلاں ہلاک ہوگیا اور آگ میں داخل ہوگیا۔ کلا کا لفظ اس لیے ذکر کیا گیا کہ کافر نے جو وہم کیا اس کا رد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور تو نے کیا سمجھا ][ مَا الْحُطَمَةُ : کیا ہے وہ بہت روندنے والی ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ005﴾ (اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ حطمہ کیا چیز ہے) ﴿نَار اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ006﴾ (وہ اللہ کی آگ ہے جو جلائی گئی ہے) ﴿ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِؕ007﴾ (جو دلوں پر چڑھ جائے گی) یعنی سارے جسموں کو جلا دے گی یہاں تک کہ دلوں پر چڑھ جائے گی) دنیا میں جب دل جلنے لگے لا محالہ انسان مرجاتا ہے دوزخی لوگ جلیں گے مگر مریں گے نہیں دلوں پر بھی آگ چڑھے گی مگر موت نہ آئے گی۔ سورة النساء میں فرمایا ﴿كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ﴾ (جب بھی ان کی کھال جل چکے گی تو ہم اس پہلی کھال کی جگہ دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” کلا، ہرگز نہیں، یہ دولت اسے ہمیشہ نہ رکھے گی۔ دلیل سورة عصر میں گذر چکی ہے، زمانہ گواہ ہے کہ دولت جمع کرنے والے نہ رہے۔ ” للینذن فی الحطمۃ “ یہ تخویف اخروی ہے اسے ضرور بالضرور حطمہ (بھرکس نکال دینے والی آگ) میں ڈالا جائے گا۔ تمہیں کیا معلوم حطمہ کیا چیز ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔ اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَۃُ 5 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاالْحُطَمَۃُ ۔ نَارُاللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ ۔ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ ۔ (الہمزۃ : 5 تا 7) (اور تم کیا جانو کہ چور چور کردینے والی کیا ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ ) الْحُطَمَۃُ کی خصوصیت اس چور چور کردینے والی آگ کی ہولناکی کو نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ تم کیا جانو وہ چور چور کردینے والی کیا ہے اور کیسی ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق کے سوا اس کا جواب اور کون دے سکتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے خود ہی فرمایا کہ وہ ایسی آگ ہے جس میں دو صفتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ جہنم کی کسی وادی کی آگ کو اللہ تعالیٰ کی آگ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →5 : وَ مَآ اَدْرٰکَ مَا الْحُطَمَۃُ ( اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ توڑنے پھوڑنے والی آگ کیسی ہے) اس میں تعجب ہے اور جہنم کی عظمت و بڑائی بتلائی (کہ جہنم کی شدت ناقابل تصور ہے)
Read the full tafseer →5 ۔ وما ادراک ماالحطمۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ ) یعن اسے ضرور پھینکا جائے گا (فِي الْحُطَمَةِ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ) حطمہ اور آپ کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔
Read the full tafseer →(5) " حطمہ " کا معنی و مفہوم : " حطمہ " دراصل مشتق و ماخوذ ہے " حطم " سے جس کے معنی توڑنے پھوڑنے اور چکنا چور کردینے کے آتے ہیں، اور یہ بھی " ھمزہ " اور " لمزہ " کی طرح مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی وہ آگ ایسی ہولناک اور اس قدر شدید ہوگی کہ جو چیز بھی اس کے اندر گرے گی وہ اس کو چکنا چور کرکے رکھ دے گی ( ابن کثیر، قرطبی، خازن اور صفوہ وغیرہ) والعیاذ باللہ العریز الرحیم۔ سو دوزخ کی وہ آگ ایسی ہولناک اور اس قدر چکنا چور کردینے والی ہوگی کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، اور جس زرپرست اور منکر انسان کا انجام یہ ہونے والا ہو اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی تو اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔ آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 6 شاہصاحب لکھتے ہیں :” یعنی جس دل میں ایمان ہے تو نہ جلاوے کفر ہے تو جلاوے (مرضح)
Read the full tafseer →(104:5) وما ادرک ما الحطمۃ۔ اور تمہیں کیا چیز بتائے کہ حطمہ کیا ہے تمہیں کیا معلوم کہ حطمہ کیا ہے یہ استفہام سوالیہ نہیں بلکہ جملہ معترضہ ہے اور جہنم کی عظمت شان کو بتانے کے لئے ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم جہنم کی شدت کو نہیں جانتے۔ اس کی شدت ناقابل تصور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔ ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔ تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →(ف 4) یعنی یہ خیال محض غلط ہے مال توقبر تک بھی ساتھ نہ جائے گا، آگے تو کیا کام آتا ہے، سب دولت یوں ہی پڑی رہ جائے گی اور اس بدبخت کو اٹھا کر دوزخ میں پھینک دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
[1] حُطمہ نکلا ہے حطم سے جس کے معنی توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے ہیں۔ یہاں حطمہ سے مراد دوزخ ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی اسے وہ اپنی گہرائی اور آگ کی وجہ سے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الھمزہ اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع ایں خیال است ومحال است…
Read the full tafseer →(5) اور اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم ہے کہ وہ توڑ پھوڑ کرنی اور روندنے والی آگ کیسی ہے - یعنی وہ حطمہ کیسی کچھ ہے۔ اے پیغمبر کیا آپ کو معلم ہے آگ اس کی تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 4۔ یعنی اس میں سرعت نفوذ اور سرایت ہونے سے اور اس شخص کو موت نہ آنے سے یہ حالت ہوگی کہ بدن کے ساتھ ہی دل کو جلا دے گی اور اس سے قطع نظر بھی کی جائے تو بھی دل تک پہنچنے کا الم بوجہ عدم عروض موت کے اس کو محسوس ہوگا، بخلاف آتش دنیا کے کہ بدن سے دل تک پہنچتے پہنچتے بہت دیر لگتی ہے حتی کہ اس کے پہلے ہی روح نکل جاتی ہے اور دل تک پہنچنے کا الم مدرک ہونے کی نوبت نہیں آتی۔
Read the full tafseer →اور تجھے کیا معلوم کہ وہ حطمہ کیا شے ہے ؟ 5 ؎ اس طرح کا سوال جس چیز کے متعلق کہا جاتا ہے محض اسکی اہمیت کو بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہاں بھی اسی عرض کے لیے یہ سوال اٹھایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جذبات کے غلام ہوں اور ان کے دلوں میں حسد ، غضب ، شہوت اور طمع و بخل وغیرہ کے جذبات موج زن ہوں وہ ایک ایسی آگ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز اسے سرد نہیں کرسکتی پس جو لوگ خود بھی اخلاق فاضلہ سے عاری ہیں اور دوسروں کی عیب جوئی ، عیب شماری اور طعن وتشنیع میں لگے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کے قلب کے اندر حسد کی آگ جل رہی ہے جس کے ماتحت وہ لوگوں کی عزت اور خوبی کو دیکھ ہی نہیں سکتے اور اپنی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
The third evil quality denounced severely in this Surah is greed, that is, the selfish hoarding of wealth, against which is the stern warning of the dreadful end of those who have passion for worldly riches. This verse, however, refers to the love of, and passion for, wealth which is accumulated and counted over and over again. Other verses and Ahadith bear testimony to the fact that amassing of wealth in principle is not prohibited or sinful. Therefore, verse [ 2] must be interpreted in the light of those verses and traditions. This verse purports to say that anyone who accumulates wealth…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 The word in the original is la yrtnbadhanna. Nabdh in Arabic is used for throwing away a thing regarding it as worthless and mean. This by itself indicates that because of his wealth he thinks that he is a great man but on the Day Of Resurrection he will be hurled into Hell as a mean and contemptible object. 5 The word hutamah in the original is from hatm, which means to smash, crush and break into pieces. Hell has been described by this epithet because it will crush and break to pieces whatever is thrown into it because of its depth and its fire.
Read the full tafseer →