Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الھمزۃ 4
اصل میں لفظ حطمہ استعمال کیا گیا ہے جو حطم سے ہے۔ حطم کے معنی توڑنے، کچل دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کے ہیں۔ جہنم کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی سے وہ اپنی گہرائی اور اپنی آگ کی وجہ سے توڑ کر رکھ دے گی۔
سورة الھمزۃ 5
اصل میں لَيُنْۢبَذَنَّ فرمایا گیا ہے۔ نبذ عربی زبان میں کسی چیز کو بےوقعت اور حقیر سمجھ کر پھینک دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اپنی مال داری کی وجہ سے وہ دنیا میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہے، لیکن قیامت کے روز اسے حقارت کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔
Read the full tafseer →بخیلوں کے سرمایہ کا حشر: ’کَلَّا‘ یہاں اس خیال باطل کی تردید کے لیے ہے جو ’یَحْسَبُ أَنَّ مَالَہٗٓ أَخْلَدَہ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا کہ ہرگز نہیں، وہ بھی اور اس کا یہ سارا اندوختہ بھی چُور چُور کر دینے والی میں پھینک دیا جائے گا۔ ’حُطَمَۃٌ‘ ’حطم‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی چُور چُور کر دینے کے ہیں۔ یہ بھی ’ہُمَزَۃٌ‘ اور ’لُمَزَۃٌ‘ کے وزن پر ہے اس وجہ سے اس کے اندر بھی مبالغہ کا مفہوم موجود ہے۔
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا اس کا وہم اور گمان ہے۔
4۔ 2 ایسا بخیل شخص حطمہ میں پھینک دیا جائے گا یہ بھی جہنم کا ایک نام ہے، توڑ پھوڑ دینے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →7 یعنی یہ خیال محض غلط ہے۔ مال تو قبر تک بھی ساتھ نہ جائے گا۔ آگے تو کیا کام آتا۔ سب دولت یونہی پڑی رہ جائے گی۔ اور اس بدبخت کو اٹھا کر دوزخ میں پھینک دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4{ کَلَّا لَـیُنْبَذَنَّ فِی الْْحُطَمَۃِ۔ } ”ہرگز نہیں ‘ وہ تو یقینا جھونک دیا جائے گا حطمہ میں۔“
حُطَمَۃ : حَطَمَسے ہے ‘ یعنی توڑ ڈالنے والی ‘ پیس ڈالنے والی ‘ چور چور اور ریزہ ریزہ کردینے والی۔ یہ دوزخ کے ایک خاص طبقے کا نام ہے جس کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ اس میں جو شے بھی ڈالی جائے گی اس کو آنِ واحد میں پیس کر رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 لَیُنْبَذَنَّ : نَبَذَ بمعنی کسی چیز کو ردی اور بےکار سمجھتے ہوئے پھینک دینا یا کسی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال دینا اور حُطَمَۃَ سے مراد دوزخ ہے۔ حُطَمَ یعنی توڑنا مروڑنا اور حُطَام توڑی مڑوری ہوئی یا ریزہ ریزہ شدہ چیز کو کہتے ہیں اور یہ لفظ کسی کو روند کر ریزہ ریزہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دولت کے نشہ میں بدمست لوگوں کو نہایت حقیر اور ذلیل سمجھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
2۔ (اور چونکہ اللہ کے حکم سے سلگائی ہوئی ہے کسی کے بجھائے بجھ بھی نہ سکے گی) یہ سب تفصیل بیان ہورہی ہے آغاز سورت کے لفظ (آیت) ” ویل “ یعنی شامت اور کمبختی کی۔ (آیت) ” تطلع علی الافئدۃ “۔ دلوں تک معا جاپہنچنا، یہ بیان ہے اس آگ کی سرعت نفوذ وسرایت کا، (آیت) ” نار اللہ “۔ اضافت اظہار عظمت واہمیت خصوصی کے لئے ہے، یعنی وہ آگ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے، دنیا کی کسی آگ پر اسے قیاس نہ کرو، فالاضافۃ للتفخیم اے ھی نار لاکسائر النیران (کبیر) (آیت) ” الحطمۃ “۔ ایسی آگ کہ جو کڑی سی کڑی چیز بھی اس میں پڑے، اس کو بھی وہ توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، طعنہ زنی کرنے والا ہو، یعنی بکثرت بدگوئی کرنے والا اور طعنہ زن ہو، یہ سورت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی، جو آنحضرت ﷺ اور مومنین کی غیبت کرتا تھا، جیسا کہ امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغریہ ہما جس نے مال جمع کر کے رکھا ہے جمع تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اس کو گن گن کر رکھا اور اس کو حودث زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھا (اور) وہ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو دوام بخشے گا کہ کبھی نہ میر گا، ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →کلا . امور شنیعہ مذکورہ یعنی خوردہ گیری ‘ غیبت ‘ مال کی محبت اور طول آرزو سے یہ بازداشت ہے (مطلب یہ ہے کہ اس کو
ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے) ۔
لینبذن فی الحطمۃ . یہ قسم محذوف کا جواب ہے اور یہ بھی درست ہے کہ کلا بمعنی حقًّا ہو (یعنی بازداشت
کے لیے نہ ہو) اور معنئ قسم کے لیے مفید ہو ‘ اس وقت جملہ مذکورہ کا جواب ہوگا : حطمۃ ‘ جھنم کا نام ہے۔ ( حطمٌ توڑ دینا ‘ شکستہ کردینا) جہنم کے اندر جو چیز ڈالی جائے گی ‘ جہنم کی آگ اً س کو توڑ مروڑ دے گی۔ اسی وجہ سے اس کا نام حطمہ ہوا ‘ یعنی اس کو حطمہ کے اندر ضرور پھینکا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
(4۔ 9)۔ واللہ وہ ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلگا رکھی ہے وہ آگ سب کچھ کھا کر دل تک پہنچ جائے گی اور وہ آگ کافروں پر اس طرح بند کردی جائے گی کہ وہ لوگ اس کے ستونوں میں گھرے ہوں گے۔
Read the full tafseer →(کلا لیبذن فی الحطمۃ :”لینبذن“”نبذ ینبذنبدا“ (ض) (کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھینک دینا) سے واحد مذکر غائب مضارع مجہول بانون تاکید ثقلیہ ہے جو قسم کا مفہوم ادا کرتا ہے، یعنی یہ خیال ہرگز درست نہیں، بلکہ قسمیہ بات یہ ہے کہ اسے ہر حال میں اس دنیا سے جانا ہے۔ پھر اسے اس کے برے اعمال کی پاداش میں ”خطمہ“ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھینکنے کے لفظ سے اس کی تذلیل و تحقیر نمایاں ہو رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک جا پہنچے گی۔
وہ یہ گمان کرتا ہے اس کا مال اسے زندہ رکھے گا وہ مرے گا نہیں، یہ سدی نے کہا : عکرمہ نے کہا : معنی ہے مال اس کی عمر میں اضافہ کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وقت گزر چکا ہے اسے زندہ کردے گا۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو مستقبل کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھلک واللہ فلان و دخل النار۔ اللہ کی قسم ! فلاں ہلاک ہوگیا اور آگ میں داخل ہوگیا۔
کلا کا لفظ اس لیے ذکر کیا گیا کہ کافر نے جو وہم کیا اس کا رد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ : ہرگز نہیں ! اس (شخص) کو لازماً پھینکا جائے گا ][ فِي الْحُطَمَةِ : اس بہت روندنے والی میں ]
Read the full tafseer →ان لوگوں کے اس مزاج کی تردید کرتے ہوئے فرمایا كَلَّا (ہرگز ایسا نہیں ہے) نہ یہ شخص ہمیشہ دنیا میں رہے گا نہ اس کا مال باقی رہے گا اور اسی پر بس نہیں کہ صرف دنیا میں جان و مال ہلاک ہوں گے بلکہ اس کے آگے بھی مصیبت ہے اور وہ یہ کہ ﴿لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِٞۖ004﴾ (اس شخص کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا) دوزخ کے لیے لفظ حطمة استعمال فرمایا ہے جو اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو کوٹ پیٹ کر بھوسہ بنا کر رکھ دے۔ كما فی آیۃ اخری : ﴿يَجْعَلُهٗ حُطَامًا﴾
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” کلا، ہرگز نہیں، یہ دولت اسے ہمیشہ نہ رکھے گی۔ دلیل سورة عصر میں گذر چکی ہے، زمانہ گواہ ہے کہ دولت جمع کرنے والے نہ رہے۔ ” للینذن فی الحطمۃ “ یہ تخویف اخروی ہے اسے ضرور بالضرور حطمہ (بھرکس نکال دینے والی آگ) میں ڈالا جائے گا۔ تمہیں کیا معلوم حطمہ کیا چیز ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ
اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔
اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَۃِ 4 ۡ ۖ
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →کَلاَّ لَـیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ ۔ (الہمزۃ : 4)
(ہرگز نہیں ! وہ چور چور کردینے والی میں پھینک دیا جائے گا۔ )
بخیلوں کو تنبیہ
لَـیُنْبَذَنّ … نبذ سے ہے۔ کسی چیز کو حقیر اور بےقیمت سمجھ کر پھینک دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کافر چونکہ یہ گمان کرتا ہے کہ مال و دولت نے اسے عمردوام عطا کردی اور اس کے اندر صفت خلود پیدا کردی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بیش قیمت سمجھتا ہے۔ اس کے اس تصور پر چوٹ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اسے اس طرح پھینک دیا جائے گا جس طرح بےقیمت چیز کو بوجھ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
حُطَمَۃِ ، حَطَمَکے مادہ سے ہے جس کے معنی چور چور کردینے کے ہیں۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن
ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔
ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →4 : کَلَّا لَیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ (ہرگز نہیں۔ واللہ وہ شخص ایسی آگ میں ڈالا جائے گا) جس میں جو کچھ پڑے۔ اس کو وہ توڑ پھوڑ دے۔ کَلَّا اس میں سابقہ گمان پر ردع ہے۔ لَیُنْبَذَنَّ اس کو ضرور ڈالا جائے گا جس نے جمع کیا۔ الْحُطَمَۃِ جو اس طرح کی آگ ہے کہ جو چیز اس میں ڈالی جائے اس کو مٹا ڈالتی ہے۔
Read the full tafseer →4 ۔” کلا “ اس کی تردید کی ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ نہیں رکھ سکتا۔ ” لینبذن “ وہ ضرور پھینکا جائے گا۔ ” فی الحطمۃ “ جہنم میں اور ” حطمہ “ جہنم کے اسماء میں سے ہے جیسے سقر اور لظی۔ اس کا نام ” حطمۃ “ اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ ہڈیوں کو کوٹ کر توڑ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ ) یعن اسے ضرور پھینکا جائے گا (فِي الْحُطَمَةِ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ ) حطمہ اور آپ کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔
Read the full tafseer →( 4) زر پرستوں کے زعم باطل کی تردید اور اس کے انجام کا ذکرو بیان : سو زرپرست دنیا داروں نے جو دنیاوی مال و دولت ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے ان کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے فرمایا گیا ہرگز نہیں، یعنی معاملہ ایسا نہیں اور ہرگز نہیں، جیسا کہ ایسے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، کہ نہ ایسا کوئی شخص ہمیشہ رہے گا اور نہ ہی اس کا یہ مال و دولت بلکہ ان میں سے ہر ایک اور یہاں کی ہر شے فانی ہے، اور کسی نے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا، اور اس کا صلہ وبدلہ پانا ہے، سو اصل دولت ایمان و یقین اور عمل و کردار کی دولت ہے، اس کے ساتھ اگر کسی کو دنیاوی مال و دولت بھی مل جائے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ
تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔
آیات 1 تا 9۔
اسرار ومعارف۔
بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 6 شاہصاحب لکھتے ہیں :” یعنی جس دل میں ایمان ہے تو نہ جلاوے کفر ہے تو جلاوے (مرضح)
Read the full tafseer →(104:4) کلا۔ حرف ردع و زجر ہے شخص مذکور کے حسبان باطل سے باز داشت کے لئے۔
علامہ آلوسی رقمطراز ہیں :۔ انا لا اریٰ بأسا فی کون ذلک ردعا لہ عن کل ما تضمنۃ الجمل السابقۃ من الصفات القبیحۃ۔ میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں کہ گذشتہ جملوں میں اس شخص کی جو صفات قبیحہ بیان ہوئی ہیں (مثلاً اس کے ہمزہ۔ لمزہ ہونے کی حیثیت سے کرتوتیں۔ اس کی ذخیرہ اندوزی، اس کی ماں کی محبت اور طول آرزو وغیرہ ان سب سے باز داشت کے لئے کلا آیا ہے۔
مطلب یہ کہ ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ وہ سوچ رہا ہے یا خیال کر رہا ہے اس کے اعمال کی حشر کے دن باز پرس ہوگی اور اپنے افعال شنیعہ کی سزا اس کو ضرور ملے گی یہ عذاب کسی صورت میں ہوگا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔
ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔
تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اس کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کبھی اس سے جدا نہ ہوگا، بلکہ ہمیشہ اس کو آفات ارضی وسماوی سے بچاتا رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
[1] حُطمہ نکلا ہے حطم سے جس کے معنی توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے ہیں۔ یہاں حطمہ سے مراد دوزخ ہے کہ جو چیز بھی اس میں پھینکی جائے گی اسے وہ اپنی گہرائی اور آگ کی وجہ سے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الھمزہ
اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع
ایں خیال است ومحال است…
Read the full tafseer →(4) ایسا ہرگز نہیں ہوگا بخدا وہ شخص ایک ایسی آگ میں پھینکا جائے گا جو ہرچیز کو توڑ کر رکھ دے گی۔ حطمہ دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے حطم کے معنی توڑ دینے پامال کرنے اور روندنے کے ہیں چونکہ دوزخ کی آگ بھی ہر اس چیز کو جو اس میں ڈالی جائے توڑ پھوڑ کر پامال اور روند کر بھسم کردے گی اس لئے دوزخ کا نام حطمہ رکھا ہے آگے تحویل اور تہدید کے لئے سوال فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 4۔ یعنی اس میں سرعت نفوذ اور سرایت ہونے سے اور اس شخص کو موت نہ آنے سے یہ حالت ہوگی کہ بدن کے ساتھ ہی دل کو جلا دے گی اور اس سے قطع نظر بھی کی جائے تو بھی دل تک پہنچنے کا الم بوجہ عدم عروض موت کے اس کو محسوس ہوگا، بخلاف آتش دنیا کے کہ بدن سے دل تک پہنچتے پہنچتے بہت دیر لگتی ہے حتی کہ اس کے پہلے ہی روح نکل جاتی ہے اور دل تک پہنچنے کا الم مدرک ہونے کی نوبت نہیں آتی۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا
4 ؎ (ینبدن) کا اصل ماد ہ ن ب ذ ہے ۔ واحد مذکر غائب مضارع مجہول یا نون تاکید ثقیلہ نبذ مصدر اس کو ضروری پھینکا جائے گا ( حطمۃ) روندنے والی ۔ حطم سے مشتق ہے اور دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہے یعنی ضرور اس کو ( حطمۃ) میں پھینکا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ حسد و بخل کا مجسمہ ایک دن اسی طرح حسد و بخل کی آگ میں جلتا ہوا دنیا کا سب مال و دولت اور جھوٹی عزت چھوڑ چھاڑ اگلے جہان میں اپنے اعمال کے نتائج بھگت رہا ہوگا اور وہاں اپنے آپ کو وہ اس دوزخ میں پائے گا جس کا نام ( حطمۃ) بھی ہے۔ گویا ایسے ننگ انسانیت کو دوزخ میں پھینکنے کا ذکر کرتے وقت ایسا لفظ استعمال ہوا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
The third evil quality denounced severely in this Surah is greed, that is, the selfish hoarding of wealth, against which is the stern warning of the dreadful end of those who have passion for worldly riches. This verse, however, refers to the love of, and passion for, wealth which is accumulated and counted over and over again. Other verses and Ahadith bear testimony to the fact that amassing of wealth in principle is not prohibited or sinful. Therefore, verse [ 2] must be interpreted in the light of those verses and traditions. This verse purports to say that anyone who accumulates wealth…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 The word in the original is la yrtnbadhanna. Nabdh in Arabic is used for throwing away a thing regarding it as worthless and mean. This by itself indicates that because of his wealth he thinks that he is a great man but on the Day Of Resurrection he will be hurled into Hell as a mean and contemptible object.
5 The word hutamah in the original is from hatm, which means to smash, crush and break into pieces. Hell has been described by this epithet because it will crush and break to pieces whatever is thrown into it because of its depth and its fire.
Read the full tafseer →