Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →سورة الھمزۃ 3
دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ سمجھتا ہے اس کا مال اسے حیات جاوداں بخش دے گا، یعنی دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں وہ ایسا منہمک ہے کہ اسے اپنی موت یاد نہیں رہی ہے اور اسے کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ایک وقت اس کو یہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوجانا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔
Read the full tafseer →بخیلوں کے باطن پر انہماک کا عکس: یہ ان کے اس انہماک کے باطن پر عکس ڈالا گیا ہے کہ یہ انہماک پتہ دیتا ہے کہ وہ گویا یہ خیال کیے بیٹھے ہیں کہ یہ مال ان کو زندۂ جاوید رکھے گا۔ اگر وہ جانتے کہ یہ مال بھی فانی اور ان کی زندگی بھی فانی ہے تو وہ مال کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے میں سبقت کرتے جو ان کی ابدی زندگی میں کام آنے والا ہوتا لیکن اس کی محبت میں ان کا یہ استغراق پتہ دیتا ہے کہ وہ اس مال ہی میں اپنی زندگی پا گئے ہیں۔ اسی ذہنیت کی تصویر سورۂ شعراء میں کھینچی گئی ہے:
أَتَبْنُوۡنَ بِکُلِّ رِیْعٍ آیَۃً تَعْبَثُوۡنَ ۵ وَتَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوۡنَ (الشعراء ۲۶: ۱۲۸-۱۲۹)
’’کیا…
Read the full tafseer →3۔ 1 اخلدہ کا زیادہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ " اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا " یعنی یہ مال، جسے وہ جمع کر کے رکھتا ہے، اس کی عمر میں اضافہ کر دے گا اور اسے مرنے نہیں دے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
2: جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے، اسے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہوجائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہوگی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →6 یعنی اس کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ مال کبھی اس سے جدا نہ ہوگا، بلکہ ہمیشہ اس کو آفات ارضی و سماوی سے بچاتا رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 3{ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗ۔ } ”وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ باقی رکھے گا۔“
گویا اس کے مال نے اسے زندئہ جاوید کردیا ہے۔ ایک دولت مند آدمی اپنی دولت کے ذریعے دنیا میں ایسے آثار و نقوش چھوڑ کر جانا چاہتا ہے جن کی وجہ سے اس کا نام دنیا میں ہمیشہ رہے۔ انسان کی اسی خواہش نے اسے اہرام مصر جیسے عجائبات کی تخلیق پر مجبور کیا۔ مشہور انگریزی نظم The Pyramids کے ان الفاظ میں انسان کی اسی نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے :
Calm and self possessed ,
Still and resolute ,r
ؔPyramids echo into eternity ,
They defined cry of mans will
To strive conquer the storms of time.
Read the full tafseer →3 اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مال کے جمع کرنے میں اس قدر منہمک ہے جیسے اسے کبھی موت آئے گی ہی نہیں۔ اور اس کا مال علاج وغیرہ کے ذریعہ اس کو موت کے منہ سے بچانے کا سبب بن جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اس کا یہ مال و دولت ہمیشہ اس کے پاس ہی رہے گا۔ حالانکہ دولت ایک ڈھلتی چھاؤں اور آنی جانی چیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی اس کے عمل سے تو ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ گویا وہ اپنے مال، دولت، خزانہ کے خلود کا معتقد ہے، جبھی تو اسکے ساتھ اس درجہ اشتعال وانہماک رکھتا ہے۔ انسان دولت کثیر کے ساتھ ہی کیسے کیسے دور دراز کے منصوبے باندھنے اور کیسی کیسی لمبی اسکیمیں بنانے لگتا ہے اور زبان سے کہے یا نہ کہے لیکن بہرحال دل سے تو یہی سمجھنے لگتا ہے کہ اب حلال مشکلات میرے ہاتھ آگیا ہر افتاد کا توڑ اپنی اسی دولت کے زور سے کرلیاکروں گا قرآن مجید نے اپنے جامع وبلیغ لفظوں میں اس ساری بشری ذہینت کیطرف اشارہ کردیا۔ (آیت) ” ویل ..... المزہ “۔ اس میں اجتماعی زندگی کے دو (2) بڑے امراض، پس پشت عیب رکھنے۔ اور رو در رو طعنہ دینے کا علاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، طعنہ زنی کرنے والا ہو، یعنی بکثرت بدگوئی کرنے والا اور طعنہ زن ہو، یہ سورت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی، جو آنحضرت ﷺ اور مومنین کی غیبت کرتا تھا، جیسا کہ امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغریہ ہما جس نے مال جمع کر کے رکھا ہے جمع تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اس کو گن گن کر رکھا اور اس کو حودث زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھا (اور) وہ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو دوام بخشے گا کہ کبھی نہ میر گا، ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →یحسب ان مالہ اخلدہ . وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال دنیا میں اس کو ہمیشہ رکھے گا۔ وہ دولت مند ہونے کی
وجہ سے کبھی نہیں مرے گا۔ گویا اس کا یہ خیال ہے کہ نادار بھوک سے مرجائے گا اور مالدار کبھی نہیں مرے گا۔ اس کلام کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے کیونکہ کسی مالدار کا بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ وہ کبھی نہیں مرے گا بلکہ بطور کنایہ اس شخص کی مال سے محبت طولانی امید اور موت سے غافل رہنے کا اظہار کیا گیا ہے ‘ یا یہ کلام بطور تعریض ہے کہ حقیقت میں دوامی زندگی عطا کرنے والا تو ایمان اور عمل صالح ہے ‘ مال سے دوامی زندگی حاصل نہیں ہوگی۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چوکور لکیر کھینچی اور مربع…
Read the full tafseer →وہ کافر خیال کر رہا ہے کہ اس کا مال دنیا میں اس کے پاس ہمیشہ رہے گا۔
Read the full tafseer →(یحسب ان مالہ اخلدہ):”خلد یخلد خلوا“ (ن) ہمیشہ رہنا اور ”اخلد یخلد اخلادا“ (افعال) ہمیشہ رہنے والا بنادینا۔”اخلدہ“ ماضی کا صیغہ ہے، اسلئے آیت کا ترجمہ کیا گیا ہے :”وہ گمان کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے ہمیشہ رہنے والا بنادیا۔“ اس کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ مال کو موت سے بچانے والا سمجھتا ہے، کیونکہ اتنی عمر ہونے کے باوجود وہ مال جمع ہی کرتا جاتا ہے، نہ اللہ کا حق ادا کرتا ہے نہ بندوں کا ، تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ جمع کیا ہوا مال اسے مرنے نہیں دے گا بلکہ ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ ورنہ ساٹھ ستر برس کی عمر میں اپنے لئے کروڑوں اربوں روپے جمع کرنے اور سینکڑوں برس باقی رہنے والی پختہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک جا پہنچے گی۔
وہ یہ گمان کرتا ہے اس کا مال اسے زندہ رکھے گا وہ مرے گا نہیں، یہ سدی نے کہا : عکرمہ نے کہا : معنی ہے مال اس کی عمر میں اضافہ کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وقت گزر چکا ہے اسے زندہ کردے گا۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے جو مستقبل کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھلک واللہ فلان و دخل النار۔ اللہ کی قسم ! فلاں ہلاک ہوگیا اور آگ میں داخل ہوگیا۔
کلا کا لفظ اس لیے ذکر کیا گیا کہ کافر نے جو وہم کیا اس کا رد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[يَحْسَبُ ان مَالَهٗٓ: وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال ][ اَخْلَدَهٗ : دوام بخشے گا اس کو ]
(آیت۔ 3) اَنَّ کا اسم مَالَہٗ ہے اس لیے یہ حالت نصب میں ہے اور یہ اَخْلَدَ کا فاعل ہے۔ اس سے متصل ہٗ کی ضمیر مفعولی گزشتہ آیت میں اَلَّذِیْ کے لیے ہے۔
نوٹ 3: آیت۔ 3 ۔ کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے حیات جاوداں بخش دے گا یعنی دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں وہ ایسا منہمک ہے کہ اسے اپنی موت یاد نہیں رہی اور اسے کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ایک وقت یہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
﴿ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ002﴾ دنیا سے محبت کرنے والے اسی کو سب کچھ سمجھنے والے جہاں دوسروں کی غیبت و بدگوئی اور عیب تراشی میں وقت گزارتے ہیں وہاں مال سے محبت کرنا بھی ان کا خاص مزاج ہوتا ہے، مال کی محبت کے مظاہرے کئی طرح سے ہوتے ہیں، اولاً مال کو جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا، جسے ﴿ ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ002﴾ میں بیان فرمایا ہے جب مال جمع کرنے کا ذہن ہوتا ہے تو نہ حلال حرام کا خیال رہتا ہے اور نہ لوگوں کے حق مارنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور نہ مال کمانے میں فرائض اور واجبات کے ضائع کرنے سے دکھ ہوتا ہے اور نہ نیکیاں کرنے کی توفیق ہوتی ہے ثانیاً مال جمع کرنے والے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” الذی جمع “ نیک کاموں کی تو اسے توفیق ملی نہیں، برے کاموں میں منہمک ہے اور دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے کا بہت شوق ہے۔ دولت جمع کرتا ہے اور اسے نیک کاموں میں خرچ نہیں کرتا اور دولت دنیا کو سامان بنا کر رکھتا ہے۔ ” ایحسب ان مالہ اخلدہ “ ہمزہ استفہام مقدر ہے۔ ایحسب، کیا اس کا خیال ہے کہ یہ دولت اسے ہمیشہ رکھے گی اور اسے دائمی زندگی عطاء کرے گی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ
اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔
اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →يَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗ 3 ۚ
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214]
( ح س ب ) الحساب
اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →یَحْسَبُ اَنَّ مَالَـہٗٓ اَخْلَدَہٗ ۔ (الہمزۃ : 3)
(وہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنادیا ہے۔ )
مال و دولت میں گہرے انہماک کا سبب
اس کے مال و دولت میں گہرے انہماک کا اصل سبب یہ ہے کہ اس کا گمان یہ ہے کہ یہ مال اسے کبھی مرنے نہیں دے گا بلکہ اسے زندہ وجاوید رکھے گا۔ یعنی مال کی محبت ایک ایسا دھوکہ یا ایسا نشہ ہے جو موت جیسی حقیقت کو بھی آنکھوں سے اوجھل کردیتا ہے۔ وہ دوسروں کے جنازے اٹھتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن اپنی موت اسے کبھی یاد نہیں آتی۔ ٹھیک کہا کسی نے :
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
قومیں جب بگڑتی ہیں تو ان کے بگاڑ کا حقیقی سبب یہی مال و دولت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن
ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔
ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →3 : یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗ اَخَلْدَہٗ (وہ خیال کررہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا) یعنی اس کا ترکہ اس کو دنیا میں ہمیشہ رکھنے والا ہے وہ نہ مرے گا۔ نمبر 2۔ یہ عمل صالح کے لئے تعریض ہے۔ کہ عمل صالح ہی انسان کو نعمتوں میں ہمیشہ رکھنے والا ہے مال نے آج تک تو کسی کو ہمیشہ رکھا نہیں۔
Read the full tafseer →3 ۔” یحسب ان مالہ اخلدہ “ دنیا میں ۔ وہ گمان کرتا ہے کہ وہ اپنی دولت کی وجہ سے نہ مرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →(يَحْسَبُ ) اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے (اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ ) کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکے گا اس لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کردیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
Read the full tafseer →(3) اس اخلاقی بگاڑ کے اصل سبب کی نشاندہی : سو اس سے اس امر کو واضح فرما دیا گیا کہ اخلاقی بگاڑ کا اصل سبب حب دنیا اور کبر و غرور ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جوڑ جوڑ کر رکھتا ہے اپنے مال کو کہ اس چیز کو اس نے مقصد حیات بنا رکھا ہے، اور مال و دولت کو جوڑنے و جمع کرنے ہی کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اپنی اسی مالداری اور دولتمندی کی بنا پر وہ تکبر میں مبتلا ہوتا ہے، اور دوسروں کی تحقیر کرتا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، اور کسی ناصح کی نصیحت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اور حقوق کی یاد دہانی اور نصیحت کرنے والوں کو وہ " ھمز " اور " لمز " کے حربوں سے چپ کرانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ
تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔
آیات 1 تا 9۔
اسرار ومعارف۔
بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 6 شاہصاحب لکھتے ہیں :” یعنی جس دل میں ایمان ہے تو نہ جلاوے کفر ہے تو جلاوے (مرضح)
Read the full tafseer →(104:3) یحسب ان مالہ اخلدہ۔ یہ جملہ محل نصب میں ہے اور جمع کے فاعل سے حال ہے۔ ان حرف تحقیق اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے مالہ اسم ان اخلدہ اس کی خبر۔
اخلد ماضی کا صیغہ بمعنی مضارع ہے) اخلد وہ سدا رہا۔ اخلاد (افعال) مصدر سے جس کا معنی ہمیشہ رہنے کا ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ وہ خیال کر رہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا۔ (تفسیر ماجدی)
وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہیگا۔ کبھی فناء نہ ہوگا کبھی ختم نہ ہوگا۔ (تفسیر ضیاء القرآن)
سورة الکہف میں صاحب الجنۃ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے۔ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا (18:35) کہنے لگا میں خیال نہیں کرتا کہ یہ باغ تباہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔
ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔
تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی طعنہ زنی اور عیب جوئی کا منشاء تکبر۔ اور تکبر کا سبب مال ہے جس کو مارے حرص کے ہر طرف سے سمیٹتا اور مارے بخل کے گن گن کر رکھتا ہے کوئی پیسہ کہیں خرچ نہ ہوجائے، یا نکل کر بھاگ نہ جائے اکثر بخیل مالدار کو دیکھا ہوگا، کہ وہ بار بار روپیہ شمار کرتے اور حساب لگاتے رہتے ہیں اسی میں ان کو مزہ آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الھمزہ
اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع
ایں خیال است ومحال است…
Read the full tafseer →(3) وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا - یعنی غایت حرص اور غایت طمع اور بار بار گننا اور سنبھال سنبھال کر رکھنا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کیساتھ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 3۔ یعنی اس میں اس قدر انہماک و اشتغال و استغراق رکھتا ہے جیسے معتقد خلود رکھتا ہو اور یہ ظاہر ہے اور ان صفات و اعمال پر یہ خاص وعید اس صورت میں ہے جبکہ منشاء ان کا کفر ہو گو مطلق وعید صفات و افعال مذکورہ پر بھی دوسرے نصوص میں ہے۔
Read the full tafseer →وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے نام کو باقی رکھے گا
3 ؎ انسانی خواہشات میں سے یہ خواہش بھی سر فہرست ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ میرا نام باقی رہے اس کے لیے وہ اولاد کی خواہش رکھتا ہے اور اولاد کے بعد مال کی خواہش رکھتا ہے تو اس کا مدعا بھی یہ ہے لیکن اگر انسان غور کرے تو گزشتہ لوگوں کے حالات پڑھنے اور سننے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ تو کوئی شخص اولاد کے باعث اپنا نام زندہ رکھ سکا اور نہ مال و دولت کے بل بوتے پر کوئی شخص اپنے نام کو سدا زندہ رکھ سکا پھر یہ مقصد بھی تو اس کا اسی طرح پورا ہو سکتا تھا کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ، اپنی ذات پر بھی خرچ کرتا اور دوسروں کی ضرورتوں کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
The third evil quality denounced severely in this Surah is greed, that is, the selfish hoarding of wealth, against which is the stern warning of the dreadful end of those who have passion for worldly riches. This verse, however, refers to the love of, and passion for, wealth which is accumulated and counted over and over again. Other verses and Ahadith bear testimony to the fact that amassing of wealth in principle is not prohibited or sinful. Therefore, verse [ 2] must be interpreted in the light of those verses and traditions. This verse purports to say that anyone who accumulates wealth…
Read the full tafseer →3 Another meaning also can be: "He thinks that his wealth will make him immortal. " That is, he is so engrossed in amassing wealth and counting it over and over again that he has forgotten death and he never bothers to consider that a time will come when he will have to depart from the world empty-handed, leaving everything behind.
Read the full tafseer →