Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →سورة الھمزۃ 2
پہلے فقرے کے بعد یہ دوسرا فقرہ خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ لوگوں کی یہ تحقیر و تذلیل وہ اپنی مال داری کے غرور میں کرتا ہے۔ مال جمع کرنے کے لیے جَمَعَ مَالًا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے مال کی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے۔ پھر گن گن کر رکھنے کے الفاظ سے اس شخص کے بخل اور زر پرستی کی تصویر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔
Read the full tafseer →بخیل سرمایہ داروں کی نہایت جامع تصویر: یعنی حقوق کی یاددہانی اور نصیحت کرنے والوں کو تو انھوں نے ہمز و لمز کے حربے سے چپ کرنے کی کوشش کی اور خود مال جمع کرنے اور اس کو گن گن کر سینتنے میں لگے رہے۔ مال کے حریص و بخیل مال داروں کی یہ نہایت جامع تصویر ہے۔ ان کا دل و دماغ ہمیشہ اپنے سرمایہ کے حساب و کتاب میں لگا رہتا ہے۔ کس کاروبار میں کتنا منافع ہوا ہے؟ فلاں سرمائے سے یافت کی کتنی توقع ہے؟ فلاں خسارہ جو ہوا ہے اس کی تلافی کی کیا صورت ہو گی؟ اگلے سال تک سرمایہ کی مجموعی مقدار کہاں تک پہنچ جائے گی؟ اسی طرح کے سوال ہمیشہ ان کے دل و دماغ پر مستولی رہتے ہیں۔ اگر کسی نے ذکر کیا کہ فلاں نے غریبوں اور…
Read the full tafseer →اس سے مراد مال جمع کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا۔ ورنہ مطلق مال جمع کرکے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اس وقت ہے جب اس میں زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ نہ کا اہتمام نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت ہے، جسے قرآن کریم میں نہایت گھناؤنا گناہ قرار دیا گیا ہے، اور کسی کے منہ پر طعنہ دینا جس سے اس کی دل آزاری ہو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی طعنہ زنی اور عیب جوئی کا منشاء تکبر اور تکبر کا سبب مال ہے جس کو مارے حرص کے ہر طرف سے سمیٹتا اور مارے بخل کے گن گن کر رکھتا ہے کہ کوئی پیسہ کہیں خرچ نہ ہوجائے یا نکل کر بھاگ نہ جائے۔ اکثر بخیل مالداروں کو دیکھا ہوگا کہ وہ باربار روپیہ شمار کرتے اور حساب لگاتے رہتے ہیں۔ اسی میں ان کو مزہ آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 2{ نِ الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ۔ } ”جو مال جمع کرتا رہا اور اس کو گنتا رہا۔“
جس نے اپنی زندگی اور زندگی کی ساری جدوجہد مال کمانے اور اس کا حساب رکھنے میں برباد کردی۔ وہ یہی سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ اس ماہ میرے اکائونٹس میں اتنے فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال میرے اثاثہ جات اس قدر بڑھ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →2 ان کا ایسی حرکتیں کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مالدار تھے اور اپنی دولت کے نشہ میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر ایسی حرکتیں کرتے تھے۔ مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بخیل بھی انتہا درجے کے تھے۔ روپے پیسے کو محفوظ رکھنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں انہیں خاص لطف آتا تھا۔ واضح رہے کہ اگرچہ ان آیات کا روئے سخن رؤسائے قریش کی طرف ہے۔ لیکن الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ایسے تمام مالداروں پر ہوتا ہے جو ان صفات کے حامل ہوں اور یہ تو عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مالداروں اور زر پرستوں کو مال جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں ایک خاص فرحت محسوس ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی اس کے عمل سے تو ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ گویا وہ اپنے مال، دولت، خزانہ کے خلود کا معتقد ہے، جبھی تو اسکے ساتھ اس درجہ اشتعال وانہماک رکھتا ہے۔ انسان دولت کثیر کے ساتھ ہی کیسے کیسے دور دراز کے منصوبے باندھنے اور کیسی کیسی لمبی اسکیمیں بنانے لگتا ہے اور زبان سے کہے یا نہ کہے لیکن بہرحال دل سے تو یہی سمجھنے لگتا ہے کہ اب حلال مشکلات میرے ہاتھ آگیا ہر افتاد کا توڑ اپنی اسی دولت کے زور سے کرلیاکروں گا قرآن مجید نے اپنے جامع وبلیغ لفظوں میں اس ساری بشری ذہینت کیطرف اشارہ کردیا۔ (آیت) ” ویل ..... المزہ “۔ اس میں اجتماعی زندگی کے دو (2) بڑے امراض، پس پشت عیب رکھنے۔ اور رو در رو طعنہ دینے کا علاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، طعنہ زنی کرنے والا ہو، یعنی بکثرت بدگوئی کرنے والا اور طعنہ زن ہو، یہ سورت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی، جو آنحضرت ﷺ اور مومنین کی غیبت کرتا تھا، جیسا کہ امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغریہ ہما جس نے مال جمع کر کے رکھا ہے جمع تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اس کو گن گن کر رکھا اور اس کو حودث زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھا (اور) وہ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو دوام بخشے گا کہ کبھی نہ میر گا، ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →الذی جمع مالا وعددہ . جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھ چھوڑا یا آئندہ مصائب کو دور کرنے کیلئے ذخیرہ بنا رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) ایسے شخص کے لیے سخت عذاب ہے جو لوگوں کی پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرنے والا ہو اور ان کے مونہہ پر طعنے دینے والا ہو۔ یہ آیت اخنس بن شریق یا یہ کہ ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ رسول اکرم کی غیبت کیا کرتا تھا اور آپ کے سامنے آپ کو طعنہ دیتا تھا اور جو دنیا میں مال جمع کرتا ہو اور گن گن کر رکھتا ہو۔
شان نزول : ویل لکل ھمزۃ لمزۃ الخ
ابن ابی حاتم نے حضرت عثمان اور حضرت عمر سے روایت کیا ہے کہ ہم برابر سنتے ہیں کہ یہ آیت ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
سدی سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ابن جریر نے روایت کیا ہے کہ یہ جمیل بن عام رجہمی کے بارے میں…
Read the full tafseer →(1) الذی جمع مالا وعددہ، یعنی لوگوں کی عیب جوئی، ان پر طعنہ زنی اور ان کی تحقیر کا اصل باعث اس کی مال جمع کرنے کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش اور شدید بخل ہے۔ اس بخل نے چونکہ اس میں فراخ دلی یا ہمدردی وغیرہ کی کوئی خوبی باقی نہیں چھوڑی، اسلئے وہ اپنی خست و کمینگی پر پردہ ڈلانے کے لئے ہر صاحب خیر پر طعن کرتا اور اس کی عیب جؤی کرتا ہے، تاکہ کوئی اس کے بخل و حرص کی مذمت کی طرف متوجہ ہی نہ ہو سکے۔ منفاقین بھی یہی کام کرتے تھے، فرمایا :(الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت والذین لایجدون الا جھدھم فیسخرون منھم) (التوبۃ : 89)”یہ وہ لوگ ہیں جو خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا۔
اس نے حادثات زمانہ کے لیے تیار کر کے رکھا۔ جس طرح کرم اور اکرم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس کی مقدار کو شمار کیا ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس نے اپنے وارث کے لیے اپنا مال تیار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے عدد اور کثرت پر فخر کیا۔ مقصود طاعت میں مال خرچ کرنے سے روکنے پر مذمت کرنا ہے، جس طرح فرمایا : مناع للخیر (ق) اور فرمایا و جمع فاوعی (المعارج) عام قرات جمع ہے۔
ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے اسے میم کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ابو عبید نے وعددہ کی وجہ سے اسے ہی اختیار کیا ہے۔
حضرت حسن بصیر، نصر بن عاصم اور ابو العالیہ نے جمع اور عددہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[الَّذِي جَمَعَ مَالًا : جس نے جمع کیا کچھ مال ][ وَّعَدَّدَهٗ : اور وہ بار بار گنتا رہا اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
﴿ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ002﴾ دنیا سے محبت کرنے والے اسی کو سب کچھ سمجھنے والے جہاں دوسروں کی غیبت و بدگوئی اور عیب تراشی میں وقت گزارتے ہیں وہاں مال سے محبت کرنا بھی ان کا خاص مزاج ہوتا ہے، مال کی محبت کے مظاہرے کئی طرح سے ہوتے ہیں، اولاً مال کو جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا، جسے ﴿ ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ002﴾ میں بیان فرمایا ہے جب مال جمع کرنے کا ذہن ہوتا ہے تو نہ حلال حرام کا خیال رہتا ہے اور نہ لوگوں کے حق مارنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور نہ مال کمانے میں فرائض اور واجبات کے ضائع کرنے سے دکھ ہوتا ہے اور نہ نیکیاں کرنے کی توفیق ہوتی ہے ثانیاً مال جمع کرنے والے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” الذی جمع “ نیک کاموں کی تو اسے توفیق ملی نہیں، برے کاموں میں منہمک ہے اور دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے کا بہت شوق ہے۔ دولت جمع کرتا ہے اور اسے نیک کاموں میں خرچ نہیں کرتا اور دولت دنیا کو سامان بنا کر رکھتا ہے۔ ” ایحسب ان مالہ اخلدہ “ ہمزہ استفہام مقدر ہے۔ ایحسب، کیا اس کا خیال ہے کہ یہ دولت اسے ہمیشہ رکھے گی اور اسے دائمی زندگی عطاء کرے گی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ
اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔
اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ 2 ۙ
جمع
الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ،
( ج م ع ) الجمع
کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے
ميل
المَيْلُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →الَّذِیْ جَمَعَ مَالاً وَّعَدَّدَہٗ ۔ (الہمزۃ : 2)
(جس نے مال جمع کیا اور اس کو گنتا رہا۔ )
متذکرہ بالا اخلاقی خرابیوں کا اصل سبب
اس آیت میں ان کی اخلاقی خرابیوں کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے یعنی جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ توہین و تذلیل کا رویہ اختیار کرتے ہیں اس کا حقیقی سبب یہ ہے کہ انھیں اپنی مالداری کا غرور ہے۔ وہ مال کو حقیقی طاقت سمجھ کر اس کی محبت میں اس طرح ڈوبے رہتے ہیں کہ انھیں سوائے دولت کے جمع کرنے کے اور کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ اور اسے چونکہ طاقت کا حقیقی سبب سمجھتے ہیں اس لیے جن لوگوں کے پاس مال و دولت نہیں اور وہ بظاہر اسبابِ دنیا سے تہی دامن نظر آتے ہیں تو یہ دولت کی طاقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن
ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔
ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →2 : اڑلَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ (جو مال جمع کرتا ہو اور اس کو بار بارگنتا ہو)
نحو : الذی یہ کل سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ منصوب ہے۔ فعل ذم کی وجہ سے۔
قراءت : شامی، حمزہ، علی نے جمَّع صیغہ مبالغہ پڑھا اور وہ عددہ کے ظاہر میں مطابق بھی ہے۔ عدّدہٗ یعنی اس کو حوادث دھر کیلئے تیار کیا اور سامان بنایا۔
Read the full tafseer →2 ۔” پھر اس کی وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا ” الذی جمع مالا “ ابوجعفر، ابن عامر، حفص ، حمزہ اور کسائی نے ” جمع “ میم کی تشدید کے ساتھ کثرت کے معنی پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ۔ ” وعددہ “ اس کو شمار کیا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کو روکا اور ذخیرہ کیا۔ کہا جاتا ہے ” عددت الشیء وعددتہ “ جب تونے اس کو روک لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
) وَيْلٌ) یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ( لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۨ) ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول وفعل سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھماز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے لماز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں کے عیب نکالتا ہے اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) اشارہ بازوں کی ہلاکت و خرابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی و ہلاکت ہے اشارہ بازی کے خوگروں کے لیے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ یہ اخلاقی خرابیاں جن کا آگے ذکر فرمایا جارہا ہے، ایسی سخت اخلاقی اور خطرناک خرابیاں ہیں کہ یہ انسان کے لیئے اس دنیا میں بھی ذلت و خواری کا باعث بنتی ہیں اور آخرت میں بھی، والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب ھذہ الاخلاق السیئہ۔ سو انسان کی اصل قدرو قیمت اس کے ایمان و یقین اور اخلاق و کردار ہی سے ہے، اور اخلاق فاضلہ کی جو جامع موثر اور بلیغ تعلیم دین حنیف، اسلام مجید نے دی ہے اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے پوری تاریخ انسانیت میں کبھی پائی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ
تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔
آیات 1 تا 9۔
اسرار ومعارف۔
بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی انتہائی حریص اور بخیل ہے۔ خزانہ پر سانپ بن کر بیٹھتا ہے۔
Read the full tafseer →(104:2) ن الذین جمع مالا وعددہ۔ یہ جملہ کل سے بدل ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس نے مال جمع کیا اور اس کو (بار بار) گنا۔
ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب مال کی طرف راجع ہے۔
عدد ماضی واحد مذکر غائب تعدید (تفعیل) مصدر۔ بمعنی بار بار گننا۔ گن گن کر رکھنا ۔
امام ابو جعفر بیہقی نے تاج المصادر میں تعدید کے معنی لکھے ہیں :۔ بڑی تعداد میں مال جمع کرنا۔ نہایت اہتمام سے کسی چیز کا گننا۔
علامہ فیومیء نے مصباح میں تصریح کی ہے کہ :۔ عدد بالتشدید کا استعمال مبالغہ کے لئے ہوتا ہے۔
امام رازی (رح) تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :۔ ارشاد الٰہی وعددہ کے معنی کئی طرح ہوسکتے ہیں :۔
(1) یہ کہ عدۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ذخیرہ کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔
ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔
تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول : یہ آیتیں ان کفار کے حق میں نازل ہوئیں جو نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب پر زبان طعن کھولتے تھے اور ان حضرات کی غیبت کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تنبیہ میں یہ سورت نازل فرمائی، اور یہ حکم ہر غیبت کرنے والے کے لیے عام ہے یعنی اپنی خبر نہیں لیتا، دوسروں کو حقیر سمجھ کر طعنے دیتا ہے اور ان کے واقعی یا غیر واقعی عیب چنتا رہتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الھمزہ
اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع
ایں خیال است ومحال است…
Read the full tafseer →(2) وہ جو حرص کی وجہ سے مال سمیٹتا ہو اور اس کو بار بار گنتا ہو۔ یعنی مال کی محبت کا یہ حال ہے کہ مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے جیسا کہ بعض حریص اور مال سے محبت کرنے والوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بلا ضرورت روز صبح کو تجوری کھولتے اور روپیہ کو گن گن کر رکھتے ہیں انہوں نے ہر روز کا مشغلہ بنالیا ہے روزصبح کو یا شام کو ایک دفعہ ضرور رقم کو گن لیتے ہیں اور سینت کر رکھ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 3۔ یعنی اس میں اس قدر انہماک و اشتغال و استغراق رکھتا ہے جیسے معتقد خلود رکھتا ہو اور یہ ظاہر ہے اور ان صفات و اعمال پر یہ خاص وعید اس صورت میں ہے جبکہ منشاء ان کا کفر ہو گو مطلق وعید صفات و افعال مذکورہ پر بھی دوسرے نصوص میں ہے۔
Read the full tafseer →جو مال کو جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے
2 ؎ گزشتہ آیت میں دو صفات جن لوگوں کی گنائی گئی ہیں ان کے متعلق مزید فرمایا جا رہا ہے کہ یہ عادات و خصائل ان لوگوں کے ہیں جو بہت مالدار ہیں اور مال و دولت کے جمع کرنے کے عادی مجرم ہیں کہ پیسہ خرچ ہو تو ان کی جان ہوتی ہے اور مال و دولت کی جمع کرنے کے لیے وہ سارے جتن کرتے ہیں اور جب مال جمع ہوگا تو اب گویا وہ بڑے لوگ بن گئے اور پھر کوئی سمجھے یا نہ سمجھے بہر حال وہ خود تو اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھنے لگتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بنظر حقارت دیکھتے ہیں لیکن دولت مند ہونے کے باوجود بڑے کنجوس مکھی چوس ہیں کہ مال و دولت کو گن گن کر بڑی احتیاط سے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
The third evil quality denounced severely in this Surah is greed, that is, the selfish hoarding of wealth, against which is the stern warning of the dreadful end of those who have passion for worldly riches. This verse, however, refers to the love of, and passion for, wealth which is accumulated and counted over and over again. Other verses and Ahadith bear testimony to the fact that amassing of wealth in principle is not prohibited or sinful. Therefore, verse [ 2] must be interpreted in the light of those verses and traditions. This verse purports to say that anyone who accumulates wealth…
Read the full tafseer →2 This second sentence after the first sentence by itself gives the meaning that he slanders others because of his pride of wealth. The words jama `a malan for collecting money suggest the abundance of wealth; then the words "counting it over and over again" depict the person's miserliness and his selfish hoarding of wealth.
Read the full tafseer →