وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۟ۙوَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ
ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe to every scorner and mocker
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz
The Traducer · Meccan · 9 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۟ۙوَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ
ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe to every scorner and mocker
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 29 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Humaza
تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (منہ در منہ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) برائیاں کرنے کا خوگر ہے
ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے
بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو
بڑی خرابی ہے اس شخص کی جو پیٹھ پیچھے دوسروں پر عیب لگانے والا (اور) منہ پر طعنے دینے کا عادی ہو۔
خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے
ہر اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو (روبرو) طعنہ زنی کرنے والا ہے (اور پسِ پشت) عیب جوئی کرنے والا ہے،
بڑی ہلاکت ہے ہر بہت طعنہ دینے والے، بہت عیب لگانے والے کے لیے۔
ہر طعنہ زن اور عیب گیری کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے
ہلاکی ہو ہر اشارہ باز، عیب جو کے لئے !
بڑی خرابی (اور تباہی) ہے ہر ایسے شخص کے لیے جو خوگر (و عادی) ہو منہ در منہ طعن (وتشنیع) کا اور پیٹھ پیچھے عیب لگانے کا
کم بختی ہے پس پشت عیب جوئی کرنے والے کے لئے اور طعنہ دینے والے کے لئے
بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں کے عیب ُ چنتا رہتا ہے اور طعنے دیتا رہتا ہے۔
خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے کی
Woe to every fault-finding backbiter;
Woe to every backbiter, derider
Woe to every backbiter, derider
Woe to every Humazah Lumazah.
Woe unto every slandering traducer,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe to every scorner and mocker
Woe to every slanderer and backbiter
Woe to every slanderer, defamer,
Woe Unto every slanderer, traducer,
Woe to every (kind of) scandal-monger and-backbiter,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–9
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ ھماز مشآء بنمیم کی تفسیر بیان ہوچکی ہے حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے ربیع بن انس کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو ہمز ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا لمز ہے۔ قتادہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستنا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیب کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے مجاہد فرماتے ہیں ہمز ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور لمز زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن…
Read the full tafseer →سورة الھمزۃ 1 اصل الفاظ ہیں هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۔ عربی زبان میں ھمز اور لمز معنی کے اعتبار سے باہم اتنے قریب ہیں کہ کبھی دونوں ہم معنی استعمال ہوتے ہیں اور کبھی دونوں میں فرق ہوتا ہے، مگر ایسا فرق کہ خود اہل زبان میں سے کچھ لوگ ھمز کا جو مفہوم بیان کرتے ہیں، کچھ دوسرے لوگ وہی مفہوم لمز کا بیان کرتے ہیں، اور اس کے برعکس کچھ لوگ لمز کے جو معنی بیان کرتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کے نزدیک ھمز کے معنی ہیں۔ یہاں چونکہ دونوں لفظ ایک ساتھ آئے ہیں اور هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس لیے دونوں ملکر یہ معنی دیتے ہیں کہ اس شخص کی عادت ہی یہ بن گئی ہے کہ وہ دوسروں کی تحقیر و تذلیل کرتا ہے، کسی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو پس پشت عیب نکالنے الا ہو (اور) رو در رو طعنہ دینے والا ہو جو (بہت حرص کی وجہ سے) مال جمع کرتا ہو اور (اس کی محبت اور اس پر فخر کے سبب) اس کو بار بار گنتا ہو (اس کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا) وہ خیال کر رہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا (یعنی مال کی محبت میں ایسا انہماک رکھتا ہو جیسے وہ اس کا معتقد ہے کہ ہو خود بھی ہمیشہ زندہ رہیگا اور اس کا مال بھی ہمیشہ یوں ہی رہے گا حالانکہ یہ مال اس کے پاس) ہرگز نہیں (رہے گا، آگے اس ویل یعنی خربای کی تفصیل ہے کہ) واللہ وہ شخص ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جس میں جو کچھ پڑے وہ اس کو توڑ پھوڑ دے، اور آپ…
Read the full tafseer →ایک ہی کردار کے دو پہلو: ’ہَمْزٌ‘ کے معنی اشارہ بازی کرنے اور ’لَمْزٌ‘ کے معنی عیب لگانے کے ہیں۔ ’ہُمَزَۃٌ‘ اور ’لُمَزَۃٌ‘ مبالغہ کے صیغے ہیں اور اسی سورہ میں آگے ’حُطَمَۃٌ‘ بھی اسی وزن پر آیا ہے۔ ’ہُمَزَۃٌ‘ کے معنی اشارہ باز اور ’لُمَزَۃٌ‘ کے معنی عیب جُو اور عیب چیں کے ہیں۔ اشارہ بازی کا تعلق زیادہ تر حرکتوں اور اداؤں سے ہے اور عیب جُوئی کا تعلق زبان سے۔ یہ دونوں ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ جب کسی کا مذاق اڑانا، اس کا تہتک کرنا اور اس کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانا مقصود ہو تو اس میں اشارہ بازی سے بھی کام لیتے ہیں اور زبان سے بھی۔ اشارہ بازی سے کسی کی تضحیک و تحقیر کے جو پہلو پیدا کیے جا…
Read the full tafseer →ھمزۃ اور لمزۃ، بعض کے نزدیک ہم معنی ہیں بعض اس میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ ھمزۃ وہ شخص ہے جو رو در رو برائی کرے اور لمزۃ وہ جو پیٹھ پیچھے غیمت کرے۔ بعض اس کے برعکس معنی کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ھمز، آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے برائی کرنا ہے اور لمز زبان سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت ہے، جسے قرآن کریم میں نہایت گھناؤنا گناہ قرار دیا گیا ہے، اور کسی کے منہ پر طعنہ دینا جس سے اس کی دل آزاری ہو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی اپنی خبر نہیں لیتا دوسروں کو حقیر سمجھ کر طعنے دیتا ہے اور ان کے واقعی یا غیر واقعی عیب چنتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ۔ } ”بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں کے عیب ُ چنتا رہتا ہے اور طعنے دیتا رہتا ہے۔“ ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ دونوں الفاظ معنی کے اعتبار سے باہم بہت قریب ہیں۔ بعض اہل لغت کے نزدیک روبرو طعنہ زنی کرنے والے کو ہُمَزَۃ اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے کو لُمَزَۃ کہتے ہیں ‘ جبکہ بعض اہل لغت نے ان کا معنی برعکس بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس - کا قول ہے کہ ہر چغلی کھانے والے ‘ دوستوں میں جدائی اور تفرقہ ڈالنے والے ‘ بےقصور اور بےعیب انسانوں میں نقص نکالنے والے کو ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →1 ھَمَزَ کا لغوی مفہوم :۔ ھُمَزَۃٌ : ھَمَزَ بمعنی کسی شخص کی کسی حرکت، کام یا بات پر طعن وتشنیع کرنا، خواہ وہ کام طعن وتشنیع کے قابل ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ طعن وتشنیع زبان سے کی جائے یا آنکھوں کے اشارے سے ہی کام چلا لیا جائے اور لَمَزَ بمعنی کسی کے عیب تلاش کرتے رہنا اور اس ٹوہ میں رہنا کہ اس کا کوئی کمزور پہلو ہاتھ آجائے۔ عیب جوئی یا عیب چینی کرنا پھر دوسرے سے ایسی باتوں کی غیبت کرنا۔ اس آیت میں دراصل ان معززین قریش کو متنبہ کیا جارہا ہے جو ہر وقت مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے، ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے، جو غلطیاں ان کی نظر میں معلوم ہوتیں ان پر طعن وتشنیع کرتے اور جو باتیں معلوم نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی اس کے عمل سے تو ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ گویا وہ اپنے مال، دولت، خزانہ کے خلود کا معتقد ہے، جبھی تو اسکے ساتھ اس درجہ اشتعال وانہماک رکھتا ہے۔ انسان دولت کثیر کے ساتھ ہی کیسے کیسے دور دراز کے منصوبے باندھنے اور کیسی کیسی لمبی اسکیمیں بنانے لگتا ہے اور زبان سے کہے یا نہ کہے لیکن بہرحال دل سے تو یہی سمجھنے لگتا ہے کہ اب حلال مشکلات میرے ہاتھ آگیا ہر افتاد کا توڑ اپنی اسی دولت کے زور سے کرلیاکروں گا قرآن مجید نے اپنے جامع وبلیغ لفظوں میں اس ساری بشری ذہینت کیطرف اشارہ کردیا۔ (آیت) ” ویل ..... المزہ “۔ اس میں اجتماعی زندگی کے دو (2) بڑے امراض، پس پشت عیب رکھنے۔ اور رو در رو طعنہ دینے کا علاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، ہر ایسے شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، طعنہ زنی کرنے والا ہو، یعنی بکثرت بدگوئی کرنے والا اور طعنہ زن ہو، یہ سورت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی، جو آنحضرت ﷺ اور مومنین کی غیبت کرتا تھا، جیسا کہ امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغریہ ہما جس نے مال جمع کر کے رکھا ہے جمع تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اور اس کو گن گن کر رکھا اور اس کو حودث زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھا (اور) وہ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو دوام بخشے گا کہ کبھی نہ میر گا، ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →ویل لکل ھمزۃ لمزۃ . عیب چیں ‘ چغل خوروں کے لیے ویل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہمزہ اور لمزہ دونوں ہم معنی ہیں ‘ دونوں کا معنی ہے عیب چیں ‘ خوردہ گیر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلیاں کھاتے پھرتے ہیں ‘ دوستوں میں پھوٹ پیدا کرا دیتے ہیں اور بےداغ لوگوں کے عیب کے طلبگار رہتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : ھُمَزَہ : رُو در رو عیب لگانے والا اور لُمَزَہ پس پشت عیب بیان کرنے والا۔ ابو العالیہ اور حسن بصری (رح) نے اس کے برعکس کہا ہے۔ سعید بن جبیر (رح) اور قتادہ (رح) نے کہا : ہمزہ غیبت کرنے والا ‘ آدمیوں کا گوشت کھانے والا اور لمزہ لوگوں پر طنز کرنے والا ‘ نکتہ چیں۔ ابن زید نے کہا : ہمزہ وہ شخص جو ہاتھوں کے اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) ایسے شخص کے لیے سخت عذاب ہے جو لوگوں کی پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرنے والا ہو اور ان کے مونہہ پر طعنے دینے والا ہو۔ یہ آیت اخنس بن شریق یا یہ کہ ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ رسول اکرم کی غیبت کیا کرتا تھا اور آپ کے سامنے آپ کو طعنہ دیتا تھا اور جو دنیا میں مال جمع کرتا ہو اور گن گن کر رکھتا ہو۔ شان نزول : ویل لکل ھمزۃ لمزۃ الخ ابن ابی حاتم نے حضرت عثمان اور حضرت عمر سے روایت کیا ہے کہ ہم برابر سنتے ہیں کہ یہ آیت ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ سدی سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ابن جریر نے روایت کیا ہے کہ یہ جمیل بن عام رجہمی کے بارے میں…
Read the full tafseer →(ویل لکل ھمزۃ لمزۃ :”ھمزۃ لمزۃ“ ”ھمز بھمر ھمزا“ (ن، ض) اور ”لمز یلمز لمزا“ (ن، ض) سے مبالغے کے صیغے ہیں، دونوں کے معنی آپس میں اس قدر ملتے ہیں کہ بعض نے انہیں ہم معنی قرار دیا ہے اور بعض نے فرق کیا ہے۔ دونوں کے مفہوم میں ”اشارہ بازی، طعن اور عیب لگانا“ شامل ہے۔ دوسری جگہ فرمایا :(ولا تطع کل حلاف مھین، ھماز مشآء بمیم) (القلم : 10، 11)”ہر بہت قسمیں کھانے والے حقیر کی اطاعت نہ کر۔ جو بہت طعنہ مارنے والا (یا عیب لگانے والا) ، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔“ اور فرمایا :(ولا تلمزوآ انفسکم) (الحجرات : 11) ”اور تم آپس میں عیب نہ لگاؤ۔“
Read the full tafseer →ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو (روبرو) طعنے دیتا ہے پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرتا ہے۔ ویل کے بارے میں وضاحت کئی مواقع پر گزر چکی ہے اس کا معنی رسوائی، عذاب اور ہلاکت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جہنم میں ایک وادی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد چغل خور، دوستوں کے درمیان فساد برپاد کرنے والے، پاکباز لوگوں پر عیب لگانے والے ہیں۔ اس تاویل کی بنا پر دونوں کا معنی ایک ہی ہے نبی کریم نے ارشاد فرمایا : شرار عباد اللہ تعالیٰ المشاون بالنمیمۃ المفسدون بین الاحبۃ الباغون للبراء العیب۔ اللہ کے بندوں میں سے سب سے برے چغل خور، دوستوں میں فساد برپا کرنے والے اور پاک باز لوگوں پر عیب لگانے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ یہ آیت ویل لکل ہمزۃ لمزۃ عیب چیں اور چغلخوروں کے لیے ہلاکت ہے۔ اصحاب محمد ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا نہ ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں اور نہ قرآن مجید کی دس سورتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 3۔ عثمان بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم برابر سنتے رہے کہ آیت ویل لکل ہمزہ کسی کے لیے رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جمیل بن عامر کے بارے میں نازل ہوئی۔ رقاشی کا یہ خیال ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویل لکل ہمزہ اخنس بن شریق کے بارے میں…
Read the full tafseer →[وَيْلٌ لِكُلِ : تباہی ہے ہر ایک ][ هُمَزَةٍ : بہت طعنہ زنی کرنے والے ][ لُّمَزَةِۨ: بہت عیب جوئی کرنے والے کے لیے ] ترکیب : (آیات۔ 1 تا 4) ھُمَزَۃٌ۔ لُمَزَۃٌ۔ حُطَمَۃٌ یہ تینوں الفاظ اسمائے صفت ہیں اور ان تینوں پر تائے مبالغہ ہے۔ نوٹ 1: سابق سورة العصر اور اس سورة کے مضمون میں نہایت واضح مناسبت یہ ہے کہ سابق سورة میں فلاح پانے والے انسانوں کا کردار بیان ہوا ہے اور اس سورة میں اس کے بالکل ضد کردار بیان ہوا ہے جو روپیہ گن گن کر رکھتے ہیں اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا تو درکنار، کسی کو اگر دیکھ پائیں کہ وہ ادائے حقوق کے معاملے میں عملاً وقولاً سرگرم ہے تو اپنے طعن وطنز سے اسے تنگ کرتے ہیں۔ ان کی…
Read the full tafseer →اوپر سورة الہمزہ کا ترجمہ لکھا گیا ہے، اس میں ھُمَزَة اور لُمَزَة کی ہلاکت بتائی ہے یہ دونوں فُعَلَةٌ کے وزن پر ہیں۔ پہلے لفظ کے حروف اصلی ھ م ز، اور دوسرے کلمہ کے حروف اصلی ل، م، ز ہیں۔ یہ دونوں کلمے عیب نکالنے اور عیب دار بتانے پر دلالت کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی وارد ہوئے ہیں اور سورة القلم میں ہے : ﴿وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍۙ0010 هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍۙ0011﴾ اور سورة توبہ میں فرمایا ﴿وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ﴾ اور سورة الحجرات میں فرمایا ﴿وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ﴾ حضرات مفسرین کرام نے دونوں کلموں کی تحقیق میں بہت کچھ لکھا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
طعن وتشنیع وعیب جوئی وحب مال موجب ہلاکت و باعث نار جہنم ہے : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ....... الی ..... فی عمدممددۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورة والعصر میں انسان کو اسے ایسے اصول کی ہدایت فرمائی گئی جن کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور انسانی حیات جس فوز و فلاح کے لئے عطا کی گئی اس کو حاصل کرنے خسران و محرومی سے محفوظ رہے، اب اس سورت میں ان بعض ناپاک اور بیہودہ خصلتوں کا بیان ہے جن سے انسان اپنی انسانیت ہی کو برباد کر ڈالتا ہے وہ طعن وتشنیع جیسی مذموم خصلتوں، لوگوں میں عیب تلاش کرنا، ان پر طنز کرنا ان کی تحقیر وتذلیل کے در پے ہوجانا ہے ان مذموم خصلتوں کا حامل انسان…
Read the full tafseer →2:۔ ” ویل “ ھمزۃ، غیبت کرنے والا اور پس پشت عیب جوئی کرنے والا۔ لمزۃ، منہ پر طعنہ دینے والا اور گالی گلوچ کرنے والا۔ یا ھمزۃ، منہ پر عیب جوئی کرنے والا اور لمزۃ، پس پشت عیب چینی کرنے والا اور چغلخور۔ وقال ابو العالیۃ والھسن و مجاھد وعطاء بن ابی رباح : الہمزۃ الذی یغتاب و یطعن فی وجہ الرج، واللمزۃ الذی یغتابہ من خلفہ اذا غاب (قرطبی ج 20 ص 181) ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان دونوں لفظوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو چغلی کھائیں اور دوستوں کو آپ میں لڑائیں اور بےگناہوں پر تہمتیں اور عیب لگائین۔ ھم المشاءون بالنمیمۃ، المفسدون بین الاحبۃ، الباغون للبراء العیب (ابن جریر) ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الھمزۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں ہمزہ کا لفظ آیا ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی نو آیات ہیں۔ یہ سورة تینتیس الفاظ اور چھیانوے حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ اور آئندہ سورتوں کا خلاصہ اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی کامیابی کے چار اصول بیان فرمائے تھے۔ اس سورة میں افراد اور جماعت کی اس بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے صحیح پروگرام پر عمل نہیں کرتے یہ زرپرستی یا سرکایہ داری کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة اسی کے رد میں نازل فرمائی ہے۔ اس سے اگلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور…
Read the full tafseer →وَيْلٌ لِّكُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۨ 1 ۙ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ ویل مبتدء وجاز الابتداء بالنکرۃ لکونہ علیھم لکل ھمزۃ لمزۃ۔ خبرہ۔ قرء الجمھور بضم اولھما وفتح المیم وقریٔ بسکون المیم فیھا واصل الھمز الکسر والضرب وکذاللمزیقال ھمزہ یھمزہ ہمزاً ولمزہ یلمز لمزًا۔ قال الرازی الھمزۃ قال تعالیٰ ھمازمشاء واللمزہ الطعن ولا تلمزوا انفسکم والمراد الکسر من اعراض الناس والغض منھم والطعن فیھم۔ ھمزۃ لمزۃ علی وزن فعلۃ وبناء فعلۃٍ لمبالغۃ الفاعل کا لضحکۃ واللغۃ ای کثیر الضحک وکثیر اللعن۔ واذا اسکنت العین یکون لمبالغۃ المفعول یقال رجل لغۃٌ بسکون العین اذاکان ملعونا للناس یکثرون اللعن علیہ۔ الذی الخ بدل من کل اوفی محل نصب علی الذم اوتعلیل لماقبلہ عددہ قرء الجمھور…
Read the full tafseer →وَیْلٌ لِّـکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ نِ ۔ (الہمزۃ : 1) (ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو (روبرو) طعنے دیتا ہے اور پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرتا ہے۔ ) ھُمَزَۃٍ اور لُمَزَۃِ کا مفہوم ھُمَزَۃٍاور لُمَزَۃِ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ھُمَزَۃٍ کا معنی ہے اشارہ باز، اور لُمَزَۃِ کا معنی ہے عیب جو اور عیب چیں۔ یہ دونوں معنی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ کبھی دونوں کو ایک ہی معنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی دونوں ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی ھُمَزَۃٍ کا معنی عیب جو اور لُمَزَۃِ کا معنی اشارہ باز کیا جاتا ہے۔ یعنی دونوں کے معنی میں گہری مناسبت ہے۔ اشارہ بازی کا تعلق زیادہ تر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : العصر میں انسان کے نقصان اٹھانے کی بات ہوئی یہاں بتلایا ہے کہ جو لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے وہ یہ ہوں گے جو آخرت کی فکر کرنے کی بجائے دنیا کا مال گن گن کر رکھتے تھے اور اس کا حق ادا نہیں کرتے تھے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کی عیب جوئی کرتا اور ان کی پیٹھ پیچھے ان کی غیبت کرتا ہے۔ ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ الگ الگ معنٰی رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ مفسرین نے دونوں کا ایک ہی مفہوم بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر ” ھُمَزَۃٍ “ اور ” لُمَزَۃِ “ میں ایک لطیف فرق ہے۔” ھُمَزَۃٍ “ کا معنٰی عیب جوئی اور طعن زنی کرنا ہے۔”…
Read the full tafseer →1 : وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ (بڑی خرابی ہے ایسے شخص کیلئے جو پس پشت عیب نکالنے والا اور رودررو طعنے دینے والا ہو) نحو : ویل مبتدأ لکل ہمزہ اس کی خبر ہے۔ ہمزہؔ وہ شخص جو غیر موجودگی میں عیب نکالے۔ لُمزۃ۔ سامنے عیب نکالے۔ طعنہ زنی کرے۔ نکتہ : فَعَلۃ کا وزن اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اس شخص کی عادت ثانیہ ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ یہ اخنس بن شریق کے متعلق اتری۔ اس کی عادت غیبت تھی۔ ایک اور قول : اّمیہ بن خلف کے متعلق اتری۔ ایک قول اور ہے کہ ولید کے متعلق نازل ہوئی۔ فیصلہ : سبب خاص ہوسکتا ہے۔ اور وعید عام ہو۔ تاکہ ایسے تمام افراد کو شامل ہو جو اس قباحت کا ارتکاب کرنے والے ہوں۔
Read the full tafseer →ہمزہ اور لمزہ کی تفسیر 1 ۔” ویل لکل ھمزۃ المزۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ چغلی کے ساتھ چلنے والے پیاروں کے درمیان فرق ڈالنے والے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے اور وہ عیب جو۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” الھمزۃ “ جو پیٹھ پیچھے تیرے عیب نکالے اور ” اللمزۃ “ جو سامنے تیرے عیب نکالے اور ابوالعالیہ اور حسن نے اس کا الٹ کہا ہے اور سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الھمزۃ “ جو لوگوں کے گوشت کھائے اور ان کی غیبت کرے اور ” اللمزۃ “ ان پر بہت زیادہ طعنہ مارنے والا اور ابن زید ” الھمزۃ “ ایسا شخص جو لوگوں کو اپنے ہاتھ سے مارے اور ” اللمزۃ “ جو اپنی زبان سے ان میں عیب نکالے۔ اور سفیان ثوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ دنیا میں اگر آگ آدمی کے جسم میں اس طرح لگے کہ دل تک پہنچ جائے تو آدمی فوراً مرجائے کیونکہ دل پر کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی اس کی برداشت نہیں کرسکتا دوزخ کے عذاب میں یہ ایک اور سخت تکلیف ہے کہ دوزخی شخص ناقابل برداشت عذاب متواتر جھیلے گا اور پھر بےحیا زیست جیتا رہے گا۔ اسی واسطے سبح اسم میں فرمایا کہ دوزخی لوگ نہ زندوں میں ہوں گے نہ مردوں میں تفسیر ابن منذر 1 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں بعض شخصوں کو چغل خوری اور لوگوں کی نقلیں لگانے کی عادت تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ سورة نازل فرمائی۔ دوزخ کے دروازے اس طرح بند کئے جائیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
) وَيْلٌ) یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ( لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۨ) ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول وفعل سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھماز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے لماز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں کے عیب نکالتا ہے اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) اشارہ بازوں کی ہلاکت و خرابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی و ہلاکت ہے اشارہ بازی کے خوگروں کے لیے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ یہ اخلاقی خرابیاں جن کا آگے ذکر فرمایا جارہا ہے، ایسی سخت اخلاقی اور خطرناک خرابیاں ہیں کہ یہ انسان کے لیئے اس دنیا میں بھی ذلت و خواری کا باعث بنتی ہیں اور آخرت میں بھی، والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب ھذہ الاخلاق السیئہ۔ سو انسان کی اصل قدرو قیمت اس کے ایمان و یقین اور اخلاق و کردار ہی سے ہے، اور اخلاق فاضلہ کی جو جامع موثر اور بلیغ تعلیم دین حنیف، اسلام مجید نے دی ہے اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے پوری تاریخ انسانیت میں کبھی پائی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بد کردار انسان اور دوزخ تشریح : اس سورت میں دوزخ کے ایک خاص درجے کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص برائیاں کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس طرح جنت میں درجات مقرر ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی درجات بنائے گئے ہیں۔ یعنی اعمال کے مطابق سزا جزا دی جائے گی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں دوسروں کو طعنہ زنی ' عیب جوئی سے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی دوسروں کی عزت خراب کرتے ہیں اور مال سے محبت اس قدر رکھتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بھی خرچ نہیں کرتے انتہائی بخیل اور تنـگ نظر لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کیسے مال بڑھتا رہے کم نہ ہو۔ مثل مشہور ہے کہ 99 کے چکر میں ہی رہتے ہیں کہ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الھمزہ۔ آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ بہت بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اسلام پر عمل کرنے کی بجائے طعنہ زنی اختیار کی اور اعتراضا تراشتے رہے بات صرف یہ تھی کہ وہ دولت دنیا سمیٹنا چاہتے تھے حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال بڑھاتے رہے اور گن گن کر خوش ہوتے رہے کہ شاید ہمیشہ ان کے پاس رہے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا یہاں سے سب چھوڑ کر جانا ہے اور آخرت میں روندنے والی جہنم میں پھینکے جائیں گے جو جہنم کا وہ حصہ ہے جس کی آگ اتنی سخٹ ہے کہ کہیں بدن کو چھوجائے تو شعلہ دل میں جابھڑکتا ہے اور ایسے لوگوں کونہ صرف ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ اس کے بڑے بڑے ستونوں میں گھرے ہوں گے اور اوپر سے بند…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی جو منہ پیا پیٹھ پیچھے لوگوں کے عیب بیان کرتا ہے۔ ” ویل “ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے، دوزخ کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔
Read the full tafseer →(104:1) ویل لکل ھمزۃ لمزۃ۔ ویل مبتدا۔ لکل ھمزۃ لمزۃ اس کی خبر۔ ویل دوزخ کی ایک وادی کا نام۔ عذاب، ہلاکت، عذاب کی شدت۔ لکل ھمزۃ۔ لام حرف جار۔ کل ھمزۃ ، مضاف مضاف الیہ مجرور لمزۃ معطوف : اس کا عطف ھمزۃ پر ہے۔ واؤ عاطفہ محذوف ہے۔ ھمزۃ صیغہ صفت برائے مبالغہ۔ بڑا عیب گو۔ بہت غیبت کرنے والا۔ طعن کرنے والا۔ ھمز (باب ضرب و نصر ) مصدر۔ بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا۔ چھبونا۔ عیب گوئی کرنا۔ دور کرنا۔ مارنا۔ کاٹنا۔ توڑنا۔ اور صرف باب نصر سے، زمین پر پٹکنا۔ ھمز الشیطن شیطانی وسوسہ ھمز کی جمع ھمزات ہے۔ مھمز۔ مھماز۔ وار کے جوتے کی ایڑی پر جو لوہا نکلا ہوتا ہے اور اس سے گھوڑے کے پہلو پر (تیز چلانے کے لئے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن۔ ویل۔ خرابی۔ بربادی۔ ھمزۃ۔ طعنے دینے والا۔ لمزۃ۔ عیب تلاش کرنے والا۔ عدد۔ اس نے گنا۔ اخلد۔ ہمیشہ رہے گا۔ لینبذن۔ البتہ ضرور پھینکا جائے گا۔ الموقدۃ۔ بھڑکائی گئی۔ تطلع۔ جا پہنچے گی۔ عمد۔ ستون۔ ممددۃ۔ لمبے لمبے۔ تشریح : دین اسلام میں حلال اور جائز طریقے سے مال و دولت حاصل کرنے، سرمایہ رکھنے اور سرمایہ دار کہلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اگر مال و دولت اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کے بندوں کی خدمت اور مدد کے لئے ہو تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ البتہ دین اسلام نے اس سرمایہ پرستی کو حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف ذاتی آرام و سکون اور دوسروں کو ستانا اور بداخلاقیوں کو عام کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الھمزہ اس سورة سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ صنادید قریش کی اخلاقی حالت عام طور پر یہی تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تنقیص کرتے ۔ ان کے عیوب بھری محفلوں میں ازراہ کبروتبختر بیان کرتے اور ہنستے ۔ اور سب سے بڑا عیب جو ان کی نظر میں کھٹکتا تھا ، وہ ان کی خدا دوستی اور توحید سے محبت تھی ۔ اس بنا پر یہ لوگ دلوں میں بغض اور حسد کی آگ پنہاں رکھتے تھے اور موقع بموقع ملعن وتشنیع سے ان کے دلوں کو چھیدتے ۔ دن رات مال کی محبت اور حصول میں سرمست رہتے ۔ گن گن کر لاتے اور لالاکر گنتے اور یہ سمجھتے کہ یہ دولت و ثروت ہمیشہ ان کے پاس رہیگی ۔ فرمایا کہ یہ خیال محض غلط ہے ۔ ع ایں خیال است ومحال است…
Read the full tafseer →(1) ہر ایسے شخص کے لئے بڑی خرابی ہے جو عیب نکالنے والا اور طعنہ دینے والا ہو - ھمز اور لمز کے معنی توڑنے اور شکستہ کرنے کے آتے ہیں یہاں مراد لوگوں کی عزت اور آبرو کو مجروح کرنے والا ابن عباس کا قول ہے ھمزہ بہت غیبت کرنیوالا اور لمزہ بکثرت عیب بیان کرنے والا ابو زید نے کہا ہاتھوں ، آنکھوں اور بھوئوں سے حقارت کرنے والا ھمزہ اور زبان سننے طعن کرنے والا المزہ ہے ابو العالیہ کا قول ہے ھمزہ وہ ہے جو لوگوں کو رو در رو برا کہے اور لمزہ وہ ہے جو پیٹھ پیچھے لوگوں کے عیب بیان کرے۔ مھزہ وہ ہے جو کھلم کھلا لوگوں کے عیب بیان کرے۔ لمزہ وہ ہے جو سر اور آنکھوں سے کسی کے لئے تحقیر آمیز اشارات کرے۔ بعض نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 3۔ یعنی اس میں اس قدر انہماک و اشتغال و استغراق رکھتا ہے جیسے معتقد خلود رکھتا ہو اور یہ ظاہر ہے اور ان صفات و اعمال پر یہ خاص وعید اس صورت میں ہے جبکہ منشاء ان کا کفر ہو گو مطلق وعید صفات و افعال مذکورہ پر بھی دوسرے نصوص میں ہے۔
Read the full tafseer →خرابی ہے اس شخص کے لیے جو طعنہ زنی اور عیب جوئی کرنے والا ہے 1 ؎ (ھمزۃ) اس کا اصل مادہ م ز ہے اور ہمزہ صیغہ مبالغہ ہے۔ بڑا عیب گو اور کثیر الغیۃ یعنی کثرت سے غیب کرنے والا ۔ بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا ، نچوڑنا ، چبھونا ، عیب گوئی کرنا ، دور کرنا ، مارنا ، کاٹنا ، توڑنا ، شیطانی وسوسہ اور دیوانگی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ لوگوں کے عیب ڈھونڈنے والا ، چغل خور اور عیب چیں وغیرہ سب اس کے معانی ہیں اور اس کے معنوں میں بہت وسعت ہے اور اس میں خرابی اور بڑائی ۔ ہائے ہائے اور افسوس پایا جاتا ہے۔ ( لمزۃ) صیغہ صفت برائے مبالغہ عیب چینی اور پس پشت عیب بیان کرنے والا ۔ آنکھ سے بطور طنز اشارہ کرنے والا…
Read the full tafseer →Warning against dreadful end of those committing three obnoxious sins This Surah warns of the severe punishment on three grave sins, and then highlights the nature of that severe punishment. The three sins are backbiting, deriding and selfish hoarding of wealth. The words hamz and lamz are used in several senses. Most commentators agree that the word hamz, from which is derived the word humazah, means to 'backbite', that is, to speak ill of a person behind his back. The word lamz, from which is derived the word lumazah, means to 'slander' or 'to deride', that is, to speak ill of a person to…
Read the full tafseer →1 The words used in the original are humazat il-lumazah. In Arabic hamz and lamz are so close in meaning that they are sometimes used as synonyms and sometimes with a little difference in the shade of meaning. But this difference is not definite and clear, for the meaning given to lamz by some Arabic speaking people themselves is given to lamz by other Arabic speaking peoples. On the contrary, the meaning given to harm by some people is given to hamz by others. Here, since both the words appear together and the words humazat il-lumazat have been used, they give the meaning that it has become…
Read the full tafseer →