Al-Asr 103:3

Al-Asr · from ayah 3

103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۙ۬— وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۟۠اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۙ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except for those who have believed and done righteous deeds and advised each other to truth and advised each other to patience.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 28 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Asr

All translations of 103:3

سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دورے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اور (معاشرے میں) ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور (تبلیغِ حق کے نتیجے میں پیش آمدہ مصائب و آلام میں) باہم صبر کی تاکید کرتے رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بجز ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے ان لوگوں کے جو صدق دل سے ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین بھی کرتے رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

مگر وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو فہمائش کرتے رہے حق کی اور ایک دوسرے کو فہمائش کرتے رہے پابندی کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

— محترمہ رفعت اعجاز

save those who have faith and do righteous deeds, and counsel each other to hold on to truth and counsel each other to be steadfast.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except those who believed and did righteous deeds, and exhorted each other to follow truth, and exhorted each other to observe patience.

— Muhammad Taqi Usmani

except those who believed and did righteous deeds, and exhorted each other to follow truth, and exhorted each other to observe patience.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except those who believe and do righteous deeds, and recommend one another to the truth, and recommend one another to patience.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Save those who believe and do good works, and exhort one another to truth and exhort one another to endurance.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except for those who have believed and done righteous deeds and advised each other to truth and advised each other to patience.

— Saheeh International

except the righteously striving believers who exhort each other to truthful purposes and to patience.

— Muhammad Sarwar

Except those who believe and do good, and enjoin on each other truth, and enjoin on each other patience.

— Muhammad Habib Shakir

But not those who themselves believe and work righteous works, and enjoin upon each other the truth, and enjoin upon each other endurance.

— Abdul Majid Daryabadi

Except such as have Faith, and do righteous deeds, and (join together) in the mutual teaching of Truth, and of Patience and Constancy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 103:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات : عصر سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، حضرت زید بن اسلم نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو اعمال میں نیکیاں ہوں حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی حرام کاموں سے رکنے کی دوسرے کو تاکید کرتے ہوں قسمت کے لکھے پر مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر 1 اس سورة میں زمانے کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے، اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر چار صفتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) ایمان (2) عمل صالح (3) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا (4) ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا۔ اب اس کے ایک ایک جز کو الگ لے کر اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس ارشاد کا پورا مطلب واضح ہوجائے۔ جہاں تک قسم کا تعلق ہے اس سے پہلے بارہا ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم اس کی عظمت یا اس کے کمالات و عجائب کی بنا پر نہیں کھائی ہے، بلکہ اس بنا پر کھائی ہے کہ وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے جسے ثابت کرنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر قسم ہے زمانہ کی (جس میں رناج و خسران واقع ہوتا ہے) کہ انسان (اپنی عمر ضائع کرنے کی وجہ سے) بڑے خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جو اپنے نفس کا کمال ہے) اور ایک دوسرے کو حق (پر قائم رہنے کی فرمائش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (عمال کی) پابندی کی فرمائش کرتے رہے (جو دو رسوں کی تکمیل ہے تو جو لوگ یہ کمال حاصلک ریں اور دو رسوں کی بھی تکمیل کریں یہ لوگ البتہ خسارے میں نہیں بلکہ نفع میں ہیں) معارف و مسائل سورة عصر کی خاص فضیلت۔ حضرت عبید اللہ ابن حصن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے دو شخص ایسے تھے کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کی ساری قدر و قیمت ایمان اور عمل صالح کے اندر مضمر ہے۔ خالق نے یہ عطا فرمائی ہی اس لیے ہے کہ انسان اس کو شیطان کے علی الرغم اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارے اور اس کے صلہ میں ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی سند اور ابدی جنت کا ٹکٹ حاصل کر لے۔ چن دنوں کے امتحان کے بدلے میں ابدی جنت کا انعام جس طرح کوئی معمولی انعام نہیں اسی طرح اس کو شیطان کی ترغیبات کے جال میں پھنس کر کھو بیٹھنا بھی کوئی معمولی محرومی نہیں ہے۔ ایمان کام مفہوم: ایمان کی تعریف اس کتاب میں جگہ جگہ بیان ہو چکی ہے۔ مختصر الفاظ میں یوں سمجھیے کہ خدا کو اس کی تمام صفات اور ان کے لازمی مقتضیات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوط ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں، کیونکہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو، موت کے بعد وہ بہر حال ابدی نعمتوں اور جنت کی پر آسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔ آگے اہل ایمان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے۔ 3۔ 2 یعنی اللہ کی شریعت کی پابندی اور محرمات و معاصی سے اجتناب کی تلقین۔ 3۔ 3 یعنی مصائب و آلام پر صبر، احکام و فرائض شریعت پر عمل کرنے میں صبر، معاصی سے اجتناب پر صبر، لذات و خواہشات کی قربانی پر صبر، صبر بھی اگرچہ تواصی بالحق میں شامل ہے، تاہم اسے خصوصیت سے الگ ذکر کیا گیا، جس سے اس کا شرف و فضل اور خصال حق میں اس کا ممتاز ہونا واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: اس سے معلوم ہوا کہ خود نیک بن جانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے اپنے اثرو رسوخ کے دائرے میں دوسروں کو حق بات اور صبر کی تلقین کرنا بھی ضروری ہے، صبر قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کی دلی خواہشات اسے کسی فریضے کی ادائیگی سے روک رہی ہوں یا کسی گناہ پر آمادہ کررہی ہوں اس وقت ان خواہشات کو کچلا جائے، اور جب کوئی ناگوار بات سامنے آئے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتراض سے اپنے آپ کو روکا جائے، ہاں تقدیر کا شکوہ کئے بغیر اس ناگوار چیز کے تدارک کی جائز تدبیر کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔ مزید دیکھئے سورة آل عمران کی آخری آیت پر ہمارا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

سوال یہ ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟.... ہم یہاں ایمان کی فقہی تشریح وتعریف نہیں کرتے۔ ہماری بات ایمان کے مزاج ، اس کی قدروقیمت اور زندگی پر اس کے اثرات تک محدود ہے۔ ایمان دراصل وہ رابط ہے جو یہ چھوٹی ، محدود ، انسانی مخلوق ، اس حقیقت کے ساتھ قائم کرلیتی ہے جو ازلی ، ابدی اور باقی رہنے والی ہے اور جو اس کائنات کی اصل ہے اور جس سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ انسانی مخلوق اس حوالے سے اس کائنات کے ساتھ بھی مربوط ہوجاتی ہے کہ دونوں کا خالق ایک ہے ، اور پھر یہ حضرت انسان ان قوانین قدرت سے بھی مربوط ہوجاتا ہے جن کے مطابق یہ جہاں چلتا ہے اور انسان ان قوتوں سے بھی مربوط ہوجاتا ہے جو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے، پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض اپنی انفرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصفت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلاف طبع امور کا تحمل کرنا پڑے، پورے صبرو استقامت سے تحمل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ } ”سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔“ ان شرائط میں پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان ایمان لائے۔ اس میں ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت سمیت تمام ایمانیات شامل ہیں۔ یعنی انسان اس کائنات کے مخفی اور غیبی حقائق کو سمجھے ‘ ان کا شعور حاصل کرے اور ان کی تصدیق کرے۔ ایمان لانے کے بعد دوسری شرط اس ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی اگر انسان اللہ پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 مومنوں کی چار لازمی صفات :۔ اس آیت میں وہ چار صفات مذکور ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان اخروی خسارہ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ پہلی صفت ایمان بالغیب ہے۔ جس کے چھ اجزاء ہیں اور وہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 3 کے تحت تفصیل سے ذکر کیے جاچکے ہیں۔ دوسری صفت اعمال صالحہ کی بجاآوری ہے۔ اعمال صالحہ کا لفظ اس قدر وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ خیر اور بھلائی کا کوئی کام اس سے باہر نہیں رہتا۔ البتہ اس کی دو اہم شرائط ہیں۔ ایک ایمان بالغیب جس کا پہلے ذکر ہوچکا۔ ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کا کوئی تصور ہی نہیں اور دوسری یہ کہ وہ کام شریعت کی ہدایات کے مطابق سرانجام دیا جائے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی تاکید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یعنی خسران و محرومی تو منکروں اور کافروں کے حصہ میں آئی ہے جنہوں نے وقت کی قدر نہ پہچانی اور ساری فرصت عمر برباد کردی، نہ کہ ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی عمریں قانون الہی کے مطابق بسر کیں۔ روایتوں کیں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ مکہ کے مشہور تاجر ابوبکر بن ابی قحافہ جب دعوت اسلام کے بالکل شروع ہی میں ایمان لے آئے تو ایک معاصر نے ان سے کہا کہ تم معاملات میں تو بڑے ہوشیار تھے، لیکن اس باب میں سخت دھوکا کھاگئے، اپنے کو فلاں فلاں ٹھاکروں اور دیوتاؤں کی توجہ، شفقت وسفارش سے محروم کردیا، اور لائق وفائق اسلاف کے طور طریقوں کو چھوڑ دیا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ محروم رہ جانے والے حقیقۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمانہ کی یا مابعد الزوال سے غروب تک کے زمانہ یا عرص کی نماز کی قسم بلاشبہ انسان اپنی تجارت میں بڑے خسارے میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ایک دوسرے کو حق کی یعنی ایمان کی نصیحت اور طاعت پر صبر اور معصیت سے اجتناب کی تلقین کرتے رہے، خسارے میں نہیں ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد مفسر عالم نے الدھر، او مابعد الزوال، او صلوۃ العصر، کہہ کر عصر کی تین تفسیروں کی طرف اشارہ کیا ہے اور الانسان کے بعد لفظ جنس کا اضافہ کر کے بتادیا کہ الانسان میں الف لام جنس کا ہے اور اس کی تائید الا الذین آمنوا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا الذین امنوا واعملوا الصلحت . سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے (یہ گھاٹے میں نہیں ہیں) کیونکہ انہوں نے فانی دنیا کے عوض لازوال آخرت خرید لی ‘ اس لیے ان کی تجارت نفع بخش ہوئی۔ وتوا صوا بالحق . اور باہم ایک ‘ دوسرے کو نیکی کی نصیحت کی۔ قتادہ اور حسن نے کہا : الحق سے مراد قرآن ہے اور مقاتل نے کہا : ایمان و توحید مراد ہے۔ وتوا صوا بالصبر . اور باہم صبر کرنے کی نصیحت کی۔ یعنی بری باتوں سے اور ان خواہشات سے جو اللہ کو ناپسند ہیں ‘ نفس کو روکنے کی نصیحت کی۔ صبر سے مراد مطلق صبر ہے ‘ خواہ طاعت اور مصائب پر صبر ہو یا بری باتوں کے ترک پر۔ پس اعمال صالحہ سے مراد یا تو اچھے کام ہیں (کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

البتہ جو حضرات ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو توحید یا یہ کہ قرآن کریم پر بھارتے رہے اور فرائض کی ادائیگی اور ترک معاصی اور مصائب پر صبر کی ترغیب دیتے رہے سو یہ حضرات نفع میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) والعصر، ان الانسان لفی خسر…: قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر اس دعویٰ کی دلیل ہوتی ہیں جو قسموں کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ اس سورت کا مفہوم سمجھنے کے لئے خسارے کا مفہوم ذہن میں لانا ضروری ہے۔ خسارہ یا نفع کسی نہ کسی تجاتر اور بیع میں ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا راس المال (سرمایہ) لگاتا ہے، اگر راس المال فروخت ہوجائے اور راس المال اور محنت سے بڑھ کر آمدنی ہوجائے تو یہ نفع ہے، ورنہ خسارہ۔ اس سورت میں زمانے کی قسم کھا کر یہ حقیقت مدلل کی گئی ہے کہ چار صفات والے لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان ہی خسارے میں ہے، کیونکہ انسان کے پاس رسا المال صرف اور صرف زمانے کا کچھ حصہ یعنی اس کی عمر ہے، جیسا کہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

بجز ان (خوش نصیبوں) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے نیز ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے رہے۔ الا الذین یہ الانسان سے مستثنی ہے کیونکہ صحیح قول کے مطابق وہ الناس کے معنی میں ہے۔ عملوا الصالحات سے مراد انہوں نے فرائض ادا کیے وہ رسول اللہ کے صحابہ ہیں۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا : میں نے رسول اللہ پر عصر کی نماز پڑھی پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کی تفسیر کیا ہے ؟ فرمایا والعصر یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قسم ہے تمہارے رب نے دن کے آخر کی قسم اٹھائی، انسان سے مراد ابو جہل ہے۔ الذین امنوا سے مراد حضرت ابوبکر ہیں۔ عملو الصالحات سے مراد حضرت عمر ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعصر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ الطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو ملیکہ الدارمی جو صحابی تھے ان سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی جب آپ میں ملاقات کرتے وہ آپس میں جدا ہونے سے پہلے ان میں سے ایک دوسرے پر سورة والعصر اس کے آخرتک پڑھتا۔ زمانہ کی قسم ! بیشک انسان گھاٹے میں ہے۔ پھر ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا۔ 3۔ ابن سعد نے میمون (رح) سے روایت کیا کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت عمر ؓ پر نیزے سے حملہ کیا گیا تو ہم نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ماما بنایا تو انہوں نے صبح کی نماز میں دو چھوٹی سورتیں والعصر اور اذا جاء…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلَّا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ][ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ : اور باہم تاکید کی اس حق (دین) کی ][ ڏ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ : اور باہم تاکید کی ثابت قدم رہنے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

خسارہ والوں سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ﴾ (سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے) ﴿ وَ تَوَاصَوْا بالْحَقِّ 1ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بالصَّبْرِ (رح) 003﴾ (اور آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور آپس میں ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی) جو حضرات ان صفات سے متصف ہیں وہ نقصان والے نہیں ہیں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اعمال صالحہ انجام دینے والے ہیں اور دوسری صفت یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے ہیں یعنی خود تو اچھے اعمال کرتے ہی ہیں (جن میں گناہوں کا چھوڑنا بھی شامل ہے) اپنے آپس کے ملنے جلنے والوں، پاس اٹھنے والوں مجلس کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” الا الذین “ یہ ماقبل سے مستثنی ہے۔ تمام انسان خسارے میں ہیں البتہ جن لوگوں میں یہ چار صفتیں موجود ہوں وہ خسارے میں نہیں ہیں، بلکہ فائدے میں ہیں اور وہ دنیا سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے بلکہ آخرت کا توشہ ساتھ لے کر جائیں گے۔ پہلا وصف ” امنوا “ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسالت، قیامت اور دیگر تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوں۔ دوسرا وصف ” وعلموا الصالحات “ وہ نیک کام کریں اسلام میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجا لائیں اور جن سے روکا گیا ہے ان سے باز رہیں۔ تیسرا وصف ” وتواصوا بالحق وہ آپس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں اور ایک دوسرے کو سچی بات یعنی توحید اور اسلام کے اخلاقی، معاشرتی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة العصر ہے۔ اس کی پہلی آیت میں عصر کا لفظ آیا ہے۔ جس سے یہ نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیات ہیں اور یہ سورة چودہ الفاظ اور ارسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورة کو قسم سے شروع کیا گیا ہے۔ اس میں انسانیت کی کامیابی کے لئے چار اٹل اصل اصول بیان کئے گئے ہیں۔ جن کا نتیجہ قطعی طور پر سامنے آئے گا اور اگر لوگ ان اصولوں کو اپنا لیں گے تو انہیں ضرور سعادت نصیب ہوگی۔ عصر کا مفہوم والعصر قسم ہے عصر کی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ 1 ؎ کہ عام طور پر عصر سے زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔ تاہم اس مقام پر عصر سے مراد عصر کی نماز بھی ہو سکتی ہے۔ عصر سے مراد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۝ 0ۥۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۝ 3 ۧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ وللقسم العصر مقسم بہ والمرادبہ الدھر عموماً وقیل العشی وھو مابین زوال الشمس وغروبھا وقیل صلوٰۃ العصر۔ قرء الجمھور بسکون الصادوقریٔ بکسرھا ایضاً ان الانسان اسم ان لفی خسر خبرھا والجملۃ جواب القسم۔ قرء الجمھور بضم الخاء و سکون السین وقریٔ بضبھما ایضاً والمعنی فی نقصان و خسران وشر۔ الاستثناء متصل من الانسان وقیل منقطع علی ان المراد بالانسان الکافر وعملوا ومابعدہ عطف علی آمنوا والتواصی وصیۃ بعضھم لبعض۔ تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ صرف قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ ربط ¦ ربط اس سورة کا سورة تکاثر سے یہ ہے کہ انسان تمام عمر کثرت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ 5 لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ (العصر : 3) (بجز ان کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ ) خسارے سے بچنے والوں کی چار صفات قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ ساری دنیا کے انسان خسارے میں پڑے ہوئے ہیں سوائے ان لوگوں کے جن میں آگے بیان کی جانے والے چار صفات موجود ہوں۔ ضروری ہے کہ ان چار صفات میں سے ایک ایک کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ایمان کا مفہوم ان میں سب سے پہلی صفت ایمان ہے۔ ایمان کا لفظ اٰمَنَ سے بنا ہے۔ یہ لغت میں مختلف معنی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے التکاثر کے آخر میں بتلایا ہے کہ ہر وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھائے گا جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دے گا اس سے ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا مگر اس کے باوجود انسان نقصان کا سودا کیے ہوئے ہے۔ فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ عربی زبان میں واؤ کا حرف قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس چیز کی قسم اٹھاتا ہے لازم نہیں کہ وہ چیز دوسری چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو۔ قسم اٹھانے کا بنیادی مقصد اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جس چیز کے لیے قسم اٹھائی جاتی ہے تاکہ سننے والا اس بات کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھ سکے۔ یہاں زمانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آخرت کے خریدار : 3 : اِلَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے) اس لئے کہ انہوں نے آخرت کو دنیا کے بدلے خرید لیا اس لئے نفع پالیا۔ اور خوش نصیب ہوگئے۔ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ (اور ایک دوسرے کو حق کی فہمائش کرتے رہے) ایسے امر ثابت و برحق کی ایک دوسرے ِکوتلقین کرتے رہے۔ جس کا انکار ممکن نہیں۔ اور وہ نری خیر ہے۔ جیسے توحید باری تعالیٰ اور اس کی اطاعت اور اس کی کتابوں کی اتباع اور رسولوں کی پیروی۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (اور ایک دوسرے کو پابندی کی فہمائش کرتے رہے) معاصی سے بچنے اور طاعات پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے اور ان موقعوں پر جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” الا الذین امنوا وعملوا الصالحات “ کیونکہ یہ لوگ خسارہ میں نہیں ہیں۔ ” وتواصوا “ ایک دوسرے کو وصیت کریں۔ ” بالحق “ قرآن کی۔ اس کے قائل حسن اور قتادہ رحمہما اللہ ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ایمان و توحید کے ساتھ۔ ” وتواصوا بالصبر “ فرائض کی ادائیگی اور اللہ کے امر کو قائم کرنے پر۔ ابراہیم (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ انسان دنیا میں جب عمر گزارے اور بوڑھا ہوجائے تو وہ نقصان اور خسارہ میں ہے سوائے مومنین کے کیونکہ ان کے لئے ان کے اجر اور اچھے اعمال جو وہ اپنی جوانی اور صحت میں کرتے تھے لکھے جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ اسفل سافلین الا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ اگرچہ مفسرین سلف نے لفظ عصر کے طرح طرح کے معنی کئے ہیں لیکن مشہور قول حضر عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی ہے کہ عصر کے معنی اس سورة میں زمانہ کے ہیں اس واسطے امام بخاری 3 ؎ نے اسی قول کو لیا ہے زمانہ کے دو جز رات دن ہیں دنیا بھر کے عجائبات قدرت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ پیدائش میں سب انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں لیکن عادت میں کوئی نیک ہے دنیا کی چند روزہ زیست میں عقبیٰ کی راحت کے اسباب مہیا کرنا ہے اور دوسروں کو بھی نیک راستہ سے لگانا ہے اور کوئی لہو و لعب میں اپنی زندلی ضائع کرتا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا ہے اور یہی بات اس سورة کے معنی کا حاصل ہے نیک خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

اللہ تبارک وتعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے جو گردش شب وروز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر، نفع اٹھانے والے کی ضد ہے خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے جیسے اس شخص کا حال، جس نے دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھایا جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے۔ 1۔ ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) سعادت دارین سے سرفرازی کی اساس ایمان و عمل صالح : سو خسارے والوں سے محفوظ و مستثنی لوگوں کی صفات کے ذکرو بیان کے سلسلے میں پہلی صفت ایمان باللہ کی بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ صفت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا اصل ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس کی اساس و بنیاد ہے، اس کے بغیر خسارہ ہی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اس لیے یہاں پر خسارے سے محفوظ اور سعادت مند لوگوں کی تعیین و تشخیص کرتے ہوئے استثناء کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان لوگوں کو جو ایمان لائے اللہ پر، یعنی وہ ایمان لائے اپنے خالق ومالک کی ذات وصفات اور اس کے حقوق و اختیارات پر، اس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

خسارہ اور اس سے بچاؤ تشریح : تین آیات کی یہ چھوٹی سی سورت علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ عصر کا مطلب ہے زمانہ تو اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انسان خسارے میں ہے۔ یہاں پہلے عصر یعنی زمانے کی کچھ وضاحت کردی جائے۔ تو کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں اس لیے اس کو برا بھلا ہرگز نہ کہا کرو۔ حقیقت بھی یہی ہے جب وہی اول ' وہی آخر ' وہی ظاہر ' وہی باطن ہے تو پھر کون سا زمانہ رہ جاتا ہے جو اللہ کے وجود یا نظر یا حفاظت سے خالی رہ جاتا ہے۔ بیشک ماضی ' حال ' مستقبل سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جب ہمارا عقیدہ پوری طرح مضبوط ہے تو پھر ڈانواں ڈول ہونے گبھرانے پریشان ہونے کی کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے زمانے کی یعنی زمانہ خود گواہ ہے کہ انسان خسارے میں جارہا ہے جس مال کے لیے تڑپتا ہے وہ کھوجائے گا ہر لمحہ عمرعزیز کم ہورہی ہے اور اعضاء کمزوری کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ہر شے اور ہر طاقت خرچ ہورہی ہے کہ اللہ نے بیشمار نعمتیں دیں جو ایک ایک کرکے ختم ہونے کو ہیں اور موت سب لذتیں مٹا دینے کو ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اللہ کو پہچانا اس کا شکر ادا کیا انہوں نے بجائے خسارے کے کمالات حاصل کیے کہ اللہ کے حکم اور نظام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا اور زندگی بھر حق کی تلقین کرتے رہے یعنی یہ کام نہ صرف خود کیا بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی بھرپور کوشش…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 1 حق سے مراد ہے توحید و رسالت پر ایمان، شریعت کے عائد کردہ احکام پر عمل اور منع کردہ امور سے اجتناب۔2 یعنی راہ حق میں پیش آنے والی دشواریوں اور مصیبتوں سے حوصلہ نہ ہارنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(103:3) الا الذین امنوا وعملوا الصلحت : الا حرف استثناء یہ الانسان سے استثناء متصل ہے۔ اور اگر الانسان سے یہاں مراد کافر لئے جاویں تو استثناء منقطع ہے۔ الذین اسم موصول امنوا اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر مستثنیٰ ۔ اور الانسان مستثنیٰ منہ۔ وعملوا الصلحت : وتواصوا بالحق۔ وتواصوا بالصبر۔ تینوں جملوں کا عطف امنوا پر ہے اور تینوں الا کے تحت مستثنیٰ ہیں۔ تواصوا : تواصی (تفاعل) مصدر سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ انہوں نے وصیت کی۔ وہ کہہ مرے۔ انہوں نے تاکید کی۔ چونکہ باب تفاعل کی خاصیت میں سے ایک خاصیت اشتراک بھی اہم خاصیت ہے۔ لہٰذا معنی ہوں گے :۔ اور باہم حق بات کی تلقین کرتے رہے اور صبر کی تاکید…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن : العصر۔ زمانہ۔ خسر۔ نقصان۔ گھاٹا۔ تو اصوا۔ ایک دوسرے کو کہتے رہے۔ تاکید کرتے رہے۔ تشریح : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تعلیمات کو اس طرح سمودیا ہے کہ بقول امام شامی ؓ اگر لوگ اسی ایک سورت میں غورو فکر کرلیں تو یہی سورت ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابہ کرام ؓ بھی اس سورت کو بہت اہمیت دیتے تھے چناچہ حضرت عبداللہ ابن حصین الدارمی سے روایت ہے کہ اصحاب رسول ﷺ میں جب دو آدمی ملتے تو اس وقت تک جدانہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورة عصر نہ سنالیتے۔ (طبرانی ) اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے عصر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام لوگ سراسر گھاٹے اور نقصان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) اس سورت میں سخت وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں پر نقصان میں ہونے کا حکم کیا سوائے ان کے جو چارباتیں اختیار کریں جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے کہ انسان کو نقصان سے بچنے کے لیے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر قلب و دماغ تک محدود نہ رہے بلکہ جوارح میں ظاہر ہو اور اس کی عملی زندگی اس کے ایمان قلبی کا آئینہ ہو ۔ تیسرے محض اپنی افرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم وملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے، جب وہ مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول فعل سے سچے دین اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] حق بالعموم دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک صحیح اور سچی اور مطابق عدل و انصاف بات خواہ وہ عقیدہ و ایمان سے تعلق رکھتی ہو یا دنیا کے معاملات سے۔ دوسرا وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو، خواہ وہ اللہ کا حق ہو یا بندوں کا حق یا خود اپنے نفس کا حق۔ پس ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے میں وہ سب مفہوم شامل ہیں جو قرآن کی بہت سی اصطلاحوں میں مضمر ہیں جیسے امربالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کی دعوت اور اس کا حکم دینا اور بدی سے منع کرنا اور روکنا، یا تواصی بالمرحمہ یعنی لوگوں کو باہم ایک دوسرے پر شفقت اور نرمی کرنے کی نصیحت یا جہاد فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے جدوجہد کرنے پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر اس مختصر سی سورت میں انسانیت کی پوری تاریخ مضمر ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ تم عصروزمانہ کے اوراق الٹ جاؤ۔ جو قومیں اس معمورہ ارضی پر جلوہ گر ہوئیں ، ان میں تمہیں ایک حقیقت نظر آئے گی اور وہ یہ ہے کہ جن قوموں نے فطرت کے قوانین کی رعایت کی اور اللہ کے احکام کو تسلیم کیا ۔ وہ زندہ ہیں اور جنہوں نے مخالفت کی اور سرکشی وبغاوت کا اظہار کیا ۔ وہ مٹ گئیں ۔ یہی وہ راز ہے قوموں کے فنا اور بقا کا ۔ جس کو اکثر لوگوں نے نہ سمجھا اور ابدی خسارے اور گھاٹے کو خریدلیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند بھی رہے اور ایک دوسرے کو دین حق پر قائم رہنے کی تاکید کرتے رہے اور نیز ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی فہمائش کرتے رہے۔ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے بعض دوشت مسلمان ہوگئے بعض کفر پر قائم رہے اور جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ مسلمانوں کو طعنہ دیتے تھے کہ تم تو بڑے سمجھ دار تھے تم کیسے مسلمان ہوگئے اور تم نے اپنی عمر کو تباہ کرلیا۔ اسی قسم کی گفتگو ایک دفعہ کلدہ بن اسد نے حضرت صدیق ؓ سے کی انہوں نے فرمایا تو بیوقوف ہے جو آدمی امر حق کو قبول کرتا ہے وہ ٹوٹے اور نقصان میں نہیں پڑتا، خسارے میں وہ ہوتا ہے جو امر حق کے قبول…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مگر ہاں ! ایمان لانے والے ، اچھے عمل کرنے والے جو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے ہیں 3 ؎ اپنے گزرے ہوئے سال پر نظر ڈالو جس کا سال مفید کاموں میں صرف ہوا وہ کامیاب ہوا اور جس نے وقت کو ضائع کیا وہ خسارے میں پڑا ، زندگی کیا ہے ؟ ایک برف کی تجارت ہے جو برف بک گئی وہ بلا شبہ نفع دے گئی اور جو پڑی پڑی پگھل گئی وہ خسارہ میں چلی گئی اس طرح جو لمحہ کسی مفید کام میں صرف ہوگیا وہ نفع دے گیا اور جو آواز گزر گیا یا کسی غیر مفید کام میں صرف ہوگیا وہ خسارہ دے گیا ۔ انسان کی موجودہ زندگی بلا شبہ آئندہ زندگی کی تمہید ہے پھر اس زندگی کا ہر لمحہ اگر آئندہ زندگی کے اعلیٰ اور بہتر بنانے میں کام نہ آیا تو سمجھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Virtue of [ Studying ] Surah al-` Asr Sayyidna ` Ubaidullah Ibn Hisn ؓ reports that whenever two Companions of the Holy Prophet ﷺ met, they would not part company until one of them had recited Surah Al-` Asr in its entirety to the other. [ Transmitted by At-Tabarni ]. Imam Shafi` i (رح) says that if people thought about Surah Al-` Asr carefully, it would be enough for their guidance. It is a concise but comprehensive Surah, which in three verses, outlines a complete way of human life based on the Islamic worldview. In this Surah, Allah swears an oath by the 'Time' and says that mankind is in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 In this Surah an oath has been sworn by the Time to impress the point that man is in sheer loss and only those people are an exception from the loss who are characterised by four qualities: (1) Faith, (2) righteous deeds, (3) exhorting one another to Truth, and (4) exhorting one another to patience. Let us consider each of these parts separately in order to understand the meaning fully. As for the oath, we have explained several times above that Allah has not sworn an oath by any of the created objects on account of its glory or its excellence and wonderful qualities but for the reason that…

Read the full tafseer →