103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

قسم ہے عصر کی1

1 " عصر " زمانہ کو کہتے ہیں یعنی قسم ہے زمانہ کی جس میں انسان کی عمر بھی داخل ہے جسے تحصیل کمالات و سعادات کے لئے ایک متاع گرانمایہ سمجھنا چاہیے یا قسم ہے نماز عصر کے وقت کی جو کاروباری دنیا میں مشغولیت اور شرعی نقطہ نظر سے نہایت فضیلت کا وقت ہے (حتی کہ حضور ﷺ نے حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کا سب گھر بار لٹ گیا) یا قسم ہے ہمارے پیغمبر کے زمانہ مبارک کی، جس میں رسالت عظمیٰ اور خلافت کبریٰ کا نور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

مقرر انسان ٹوٹے میں ہے2

2 اس سے بڑھ کر ٹوٹا کیا ہوگا کہ برف بیچنے والے دکاندار کی طرح اس کی تجارت کا راس المال جسے عمر عزیز کہتے ہیں، دم بدم کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس رواداری میں کوئی ایسا کام نہ کرلیا جس سے یہ عمر رفتہ ٹھکانے لگ جائے، بلکہ ایک ابدی اور غیر فانی متاع بن کر ہمیشہ کے لئے کار آمد بن جائے، تو پھر خسارہ کی کوئی انتہاء نہیں۔ زمانہ کی تایخ پڑھ جاؤ اور خود اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرو تو ادنیٰ غور و فکر سے ثابت ہوجائے گا کہ جن لوگوں نے انجام بینی سے کام نہ لیا اور مستقبل سے بےپروا ہو کر مخض خالی لذتوں میں وقت گزار دیا وہ آخرکار کس طرح ناکام و نامراد بلکہ تباہ و برباد ہو کر رہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وقت کی قدر پہچانے اور عمر عزیز کے لمحات کو یونہی غفلت و شرارت یا لہو و لعب میں نہ گنوائے۔ جو اوقات تحصیل شرف و مجد اور اکتساب فضل و کمال کی گرم بازاری کے ہیں۔ خصوصاً وہ گراں مایہ اوقات جن میں آفتاب رسالت اپنی انتہائی نور افشانی سے دنیا کو روشن کر رہا ہے، اگر غفلت و نسیان میں گزار دیے گئے، تو سمجھو کہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لئے کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ بس خوش نصیب اوراقبال مند انسان وہی ہیں جو اس عمر فانی کو باقی اور ناکارہ زندگی کو کار آمد بنانے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں اور بہترین اوقات اور عمدہ مواقع کو غنیمت سمجھ کر کسب سعادت اور تحصیل کمال کی کوشش میں سرگرم رہتے ہیں۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر آگے " الا الذین امنو و عملوا الصلحت " میں کیا گیا ہے۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی3

3 یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے، پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض اپنی انفرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصفت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلاف طبع امور کا تحمل کرنا پڑے، پورے صبرو استقامت سے تحمل کریں، ہرگز قدم نیکی کے راستہ میں ڈگمگانے نہ پائے۔ جو خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہوں گے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ جاوید رہے گا۔ اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔ فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے۔ امام شافعی (رح) نے سچ فرمایا کہ اگر قرآن میں سے صرف یہی ایک سورت نازل کردی جاتی تو (سمجھدار بندوں کی) ہدایت کے لئے کافی تھی۔ بزرگان سلف میں جب دو مسلمان آپس میں ملتے تھے، جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے کو یہ سورت سنایا کرتے تھے۔