103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیر انوار البیان
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
قسم ہے زمانے کی
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
بلاشبہ انسان ضرور بڑے خسارہ میں ہے
اوپر سورة العصر کا ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں انسان کی ناکامی اور کامیابی کا اجمالی طور پر ایک خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ والعصر (قسم ہے زمانہ کی) اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے زمانہ کو پیش فرمایا، زمانہ اس بات کا گواہ ہے (جو اس کی زندگی کی انمول پونجی بھی ہے) کہ دنیا میں جو لوگ ہیں عموماً خسارہ ہی میں ہیں، دنیا میں جو کچھ کماتے ہیں اسے تو چھوڑ ہی جاتے ہیں اور چونکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے خالی ہوتے ہیں اس لیے آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے، انسان اگر گزشتہ اقوام کی تاریخ پڑھے اپنے سامنے جو انقلابات جہاں ہیں ان کو دیکھے تو اس کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آجائے گی کہ عام انسانوں کے عمومی حالات ایسے ہی ہیں کہ وہ آخرت کے اعتبار سے بڑے خسارہ میں ہیں۔ دنیا میں برے لوگ بھی جی رہے ہیں اور مومن بھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ زندگی بخشی ہے انسان اگر صحیح طریقہ پر چلے تو کامیاب ہوگا اور اگر غلط طریقہ پر زندگی گزارے تو نقصان اٹھائے گا اور خسارہ میں پڑے گا۔
سب سے بڑا مقابلہ ایمان اور کفر کا ہے چونکہ اکثر انسان کفر ہی کو اختیار کیے ہوئے ہیں اس لیے جنس کے طور پر فرمایا کہ انسان خسارہ میں ہیں۔ پھر اہل ایمان کو مستثنیٰ فرما دیا کافروں کا خسارہ بتاتے ہوئے سورة ٴ زمر میں فرمایا ﴿قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ﴾ (آپ فرما دیجئے کہ نقصان والے لوگ وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں کا نقصان کر بیٹھے اور اپنے اہل و عیال کا بھی) ۔
اپنی جانیں بھی دوزخ میں گئیں اور اہل عیال بھی جدا ہوئے۔ کچھ کام نہ آئے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ 0015﴾ (خبردار یہ کھلا ہوا خسارہ ہے) ۔
کافروں سے بڑھ کر کسی کا بھی خسارہ نہیں ہے۔ دنیا میں جو کچھ کمایا وہ بھی چھوڑا اور آخرت میں پہنچے تو ایمان پاس نہیں اور دنیا میں واپس لوٹنے کی کوئی صورت نہیں۔ لہٰذا ہمیشہ کے لیے دوزخ میں جانا ہوگا اور اس سے بڑا کوئی خسارہ نہیں ہے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرتے رہے۔
خسارہ والوں سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ﴾ (سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے) ﴿ وَ تَوَاصَوْا بالْحَقِّ 1ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بالصَّبْرِ (رح) 003﴾ (اور آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور آپس میں ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی) جو حضرات ان صفات سے متصف ہیں وہ نقصان والے نہیں ہیں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اعمال صالحہ انجام دینے والے ہیں اور دوسری صفت یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے ہیں یعنی خود تو اچھے اعمال کرتے ہی ہیں (جن میں گناہوں کا چھوڑنا بھی شامل ہے) اپنے آپس کے ملنے جلنے والوں، پاس اٹھنے والوں مجلس کے ساتھیوں ہمسفر اصحاب اور دیگر احباب اور گھر کے لوگ سب آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں کہ حق قبول کریں حق کے ساتھ چلیں اور انہی اعمال کو اختیار کریں جو حق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں صحیح ہوں اور تیسری صفت یہ ہے کہ آپس میں یہ بھی وصیت کریں کہ جو دنیا میں تکلیفیں آئیں انہیں برداشت کریں اور گناہوں سے بچتے رہیں اور نیکیوں پر لگے رہیں (یہ تینوں صبر کے اجزاء ہیں) اور صبر کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں کو حق کی دعوت دی جائے ان کی برطرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کو بھی برداشت کیا جائے۔
انسان کو سوچنا چاہیے کہ میری زندگی کے لیل و نہار کس طرح گزر رہے ہیں ؟ نقصان والی زندگی ہے یا فائدہ والی ؟ جو لوگ اہل ایمان ہیں اپنے ایمان کی پختگی اور مضبوطی کی طرف دھیان دیں کہ کس درجہ کا ایمان ہے اعمال صالحہ میں بڑھتے چلے جائیں۔ عمر کا ذرا سا وقت بھی ضائع نہ ہونے دیں، ذرا ذرا سے وقت کو آخرت کے کاموں میں خرچ کریں جب اللہ تعالیٰ شانہ نے سب سے بڑے خسارہ یعنی کفر سے بچا دیا ایمان کی دولت سے نواز دیا تو اب اس کے لیے فکر مند ہوں کہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں اور آخرت میں بلند درجات حاصل کریں۔ لوگوں کو نہ اپنے آخرت کے منافع کی فکر ہے نہ دین اسلام کی قدردانی ہے۔ خود بھی نیک بنیں دوسروں کو بھی نیک بنائیں گناہوں سے روکیں اور جو کوئی تکلیف پہنچے اس پر صبر کریں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کریں۔ رات دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں ان میں سے عام طور پر تجارت یا سروس اور محنت مزدوری میں 8 گھنٹے خرچ ہوتے ہیں کچھ وقت سونے میں گزرتا ہے باقی گھنٹے کہاں جاتے ہیں ؟
ان میں سے مجموعی حیثیت 3، 3 گھنٹے نماز کے اور کھانے کے، باقی وقت ضائع ہوجاتا ہے اور یہ ضائع بھی ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے جو گناہوں میں مشغول نہ ہوں کیونکہ جو وقت گناہوں میں لگا وہ تو وبال ہے اور باعث عذاب ہے۔ مسلمان آدمی کو آخرت کی نجات کے لیے اور وہاں کے رفع درجات کے لیے فکر مند ہونا لازم ہے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ملازمتوں سے ریٹائرڈ ہوگئے، کاروبار لڑکوں کے سپرد کردیئے دنیا کمانے کی ضرورت بھی نہیں رہی بہت کرتے ہیں فرض نماز پڑھ لیتے ہیں پوتی پوتا کو گود میں لے لیتے ہیں اس کے علاوہ سارا وقت یوں ہی گزر جاتا ہے حالانکہ یہ وقت بڑے اجر وثواب میں لگ سکتا ہے۔ ذکر میں تلاوت میں، درود شریف پڑھنے میں، اہل خانہ کو نماز سکھانے اور دینی اعمال پر ڈالنے اور تعلیم و تبلیغ میں سارا وقت خرچ کریں تو آخرت کے عظیم درجات حاصل ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پچاس پچپن سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہوتے ہیں کاروبار سے فارع ہوجاتے ہیں اس کے بعد برس ہا برس تک زندہ رہتے ہیں۔
بہت سے لوگ 80 سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں ریٹائر ہونے کے بعد یہ 25۔ 30 سال کی زندگی لایعنی فضول باتوں بلکہ غیبتوں میں، تاش کھیلنے میں، ٹیوی دیکھنے میں وی سی آر سے لطف اندوز ہونے میں گزار دیتے ہیں نہ گناہ سے بچتے ہیں نہ لایعنی باتوں اور کاموں سے پرہیز کرتے ہیں یہ بڑی محرومی کی زندگی ہے۔ گناہ تو باعث عذاب اور وبال ہیں ہی ہوش مند وہ ہے جو اپنی زندگی کو نیک کاموں میں خرچ کرے تاکہ اس کی محنت اور مجاہدہ دوزخ میں جانے کا ذریعہ نہ بنے، آخرت کی عظیم اور کثیر نعمتوں کے نقصان اور خسران اور حرمان کی راہ اختیار نہ کرے۔
آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ مومن کے لیے خود اپنا نیک بننا ہی کافی نہیں ہے دوسروں کو بھی حق اور صبر کی نصیحت کرتا رہے اور اعمال صالحہ پر ڈالتا رہے خاص کر اپنے اہل و عیال کو اور ماتحتوں کو بڑے اہتمام اور تاکید سے نیکیوں پر ڈالے اور گناہوں سے بچنے کی تاکید کرتا رہے۔ ورنہ قیامت کے دن یہ پیار و محبت سے پالی ہوئی اولاد وبال بن جائے گی۔
حدیث شریف میں فرمایا ہے : ( كلكم راع وكلكم مسؤل عن رعیتہ۔ ) (یعنی تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت ( جس کی نگرانی سپرد کی گئی ) کے بارے سوال کیا جائے گا) ۔ (رواہ البخاری)
آج کل اولاد کو دین دار بنانے کی فکر نہیں ہے، ان کو خود گناہوں کے راستے پر ڈالتے ہیں، حرام کمانا سکھاتے ہیں ایسے ممالک میں لے کر جا کر انہیں بساتے ہیں جہاں ہر گناہ کرنے کا ماحول مل جاتا ہے اور اس کا نام ترقی رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سمجھ دے۔
واللہ المستعان وھو والی الصالحین والصابرین