103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

قسم ہے زمانے کی

(1) زمانے کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ زمانے کی قسم دراصل شہادت ہے انسان کے خسارے پر، والعیاذ باللہ۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے زمانے کی جو کہ شاہد عدل ہے اس مضمون کا جو کہ اس قسم کے ذریعے بیان فرمایا گیا ہے کہ عمر رواں اور حیات مستعار ہی انسان کا راس المال اور اس کی وہ عظیم الشان پونجی اور بےمثل دولت ہے جس میں وہ آخرت کی حقیقی و ابدی زندگی کی دائمی فوز و فلاح کا سامان کرسکتا ہے، اور یہ عظیم الشان دولت برف کے ڈلے کی طرح مسلسل پگھلتی، گھٹتی اور لمحہ بہ لمحہ انسان کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے، اور اس کا جو حصہ گزر گیا وہ پھر کبھی اور کسی بھی قیمت پر انسان کو واپس نہیں مل سکتا، تو پھر اس سے بڑھ کر خسارے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ جس کا سرمایہ زندگی اس طرح لمحہ بہ لمحہ ختم ہورہا ہے، اور وہ اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اس کے تقاضوں اور اس کے لیے تیاری سے غافل و بیخبر ہو، اور حیات مستعار کی جس محدود فرصت کو وہ اپنے رب کی رضا میں صرف کر کے آخرت کی کامیابی کی لازوال دولت اور ابدی بادشاہی سے سرفرازی ہوسکتا تھا، ، اس کو وہ خواہشات نفس کی تحصیل و تکمیل میں گنوا کر اور اس دنیا عارضی وفانی لذتوں پر ریجھ کر ابدی ذلت و لعنت کا ذریعہ بنا دے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسواء وانحراف۔
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

بلاشبہ انسان قطعی طور پر خسارے میں ہے

( 2) نور حق و ہدایت سے محروم انسان قطعی طور پر خسارے میں، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انسان قطعی طور پر خسارے میں ہے، اگرچہ وہ قارون کے خزانوں کا ہی مالک کیوں نہ ہو، اور اس کی زندگی کی سارسی بہاریں حکمرانی و فرمانرواہی میں اور بادشاہوں کی کرسیوں پر ہی کیوں نہ گزری ہو، کیونکہ یہ سب کچھ تو بہرحال عارضی اور فانی ہے، اور آخر کار اس نے اس کو یہیں چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ اپنی آخرت کو سدھارنا ہے، اور تن تنہا اپنے خالق ومالک کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جواب دہی کرنی ہے، اور اس کی جزا و سزا کے لیے پیش ہونا ہے، اور ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کے لیے اس کے بعد دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا وہ ہولناک عذاب ہے، جس میں انہوں نے ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہوگا، سو اس سے بڑا فساد اور کیا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں لوگوں کے لیے زبردست تنبیہ ہے کہ وہ غفلت کی نیند سے جاگیں، اپنی حقیقت اور اپنی فرصت حیات کی قدرو قیمت کو پہچانیں، اور اس کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے صحیح فائدہ اٹھائیں، اور زندگی کے گزرنے اور مٹنے والے ان تیز رو لمحات کے بدلے میں ابدی بادشاہی کے حاصل کرنے کی فکرو کوشش کریں، ورنہ یہ ابدی لعنت کے مستحق بن جائیں گے، جو کہ سب سے بڑا خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو صدق دل سے ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین بھی کرتے رہے ہوں گے

(3) سعادت دارین سے سرفرازی کی اساس ایمان و عمل صالح : سو خسارے والوں سے محفوظ و مستثنی لوگوں کی صفات کے ذکرو بیان کے سلسلے میں پہلی صفت ایمان باللہ کی بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ صفت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا اصل ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس کی اساس و بنیاد ہے، اس کے بغیر خسارہ ہی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اس لیے یہاں پر خسارے سے محفوظ اور سعادت مند لوگوں کی تعیین و تشخیص کرتے ہوئے استثناء کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان لوگوں کو جو ایمان لائے اللہ پر، یعنی وہ ایمان لائے اپنے خالق ومالک کی ذات وصفات اور اس کے حقوق و اختیارات پر، اس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں اور اس کی تیار کردہ جنت اور دوزخ اور تمام غیبی حقائق پر جن کی اس نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے دی ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو اس ہولناک خسارے اور ابدی نقصان سے بچنے کے لیے اولین اساس اور بنیادی شرط ایمان ہے، اس سے سرفرازی کے بغیر حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی ممکن نہیں، خواہ کوئی کیسے ہی دعوے کیوں نہ کرے۔ پس انسان کی اصل قدروقیمت ایمان و عقیدہ، اور عمل و کردار ہی سے ہے، نہ کہ مصنوعی اور خود ساختہ فوارق و امتیازات سے، جیسا کہ ابنائے دنیا نے سمجھ رکھا ہے، اور ایمان کے بعد جس دوسری چیز کا یہاں ذکر فرمایا گیا وہ ہے عمل صالح، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کام بھی نیک کیے ہوں، یعنی اپنے رب تبارک وتعالی کے احکام وارشادات اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی ہدایات وتعلیمات کے مطابق، جن کی تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ اب قرآن حکیم اور سنت نبوی کی شکل میں جامع طور پر اور اپنی کامل شکل میں موجود ہے، اور جو ہر کمی بیشی سے محفوظ ہے، اور قیامت تک محفوظ رہے گا، کہ راہ حق و صواب کی تعیین اور اس کی نشاندہی کے لیے اس کے سوا اور کوئی طریقہ ممکن نہیں، اور اس کی سچی تعلیمات پر صدق دل سے عمل پیرا ہونا ہی سلامتی اور نجات کی واحد راہ ہے۔ فایاہ نسال التوفیق لمایحب ویرضی جل وعلا۔ سو ایمان بمنزلہ بیج اور جڑ کے ہے جس کا محل دل ہے اور اعمال صالح بمنزلہ پودوں اور پھل کے ہیں، جس طرح بیج اور جڑ کے بغیر پودے اور پھل کا وجود ممکن نہیں، اسی طرح ایمان و عقیدہ کے بغیر عمل صالح کا وجود ممکن نہیں، نیز جس طرح کسی بیج سے اگر پودا نہ اگے تو یہ اس بات کی علامت اور نشانی ہوتی ہے کہ بیج فاسد تھا، یا گل سڑ کر ختم ہوگیا، اسی طرح اعمال صالحہ کا نہ پایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ ایمان صحیح کا بیج ختم ہوگیا ہے ورنہ اس سے اعمال صالحہ کا ظہور و صدور ضرور ہوتا، سو ایمان اور عمل صالح میں باہم خاص تلازم و ترابط ہے ایک کا وجود و صدور دوسرے کی علامت و نشانی ہے اور ایک کا انتفاء دوسرے کے انتفاء کی علامت و نشانی، جبکہ نجات و فلاح کے لیے دونوں کا پایا جانا ضروری ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں جابجا ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین واکرم الاکرمین۔ (4) فوز و فلاح کی دوسری بنیاد تواصی بالحق : سو اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی " یعنی انہوں نے صرف یہی نہیں کہ اپنی فکر کی اور بس، اور خود اپنی ہی صلاح و سلامتی پر اکتفا کرلیا، نہیں۔ بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بہتری و بہلائی کی بھی کوشش کی، کیونکہ دین حق کی تعلیمات مقدسہ انسان کو یہ درس دیتی ہیں کہ وہ صرف فرد اور خود غرض بن کر نہ رہے، بلکہ پورے معاشرے کی اور اس سے بھی آگے بڑھ کر تمام بنی نوع انسان کی اصلاح کی فکر و کوشش کرے، اور اپنی ہمت و وسعت کے مطابق اس سب کو فساد و بگاڑ سے بچانے کی کوشش کرے، کیونکہ معاشرے کی اصلاح و پاکیزگی میں سب کا بھلا اور فائدہ ہے اور اس کی بگاڑ میں سب کی ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ۔ چناچہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا " انھلک وفینا الصالحون ؟ ( یعنی کیا نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود ہمیں ہلاک کردیا جائے گا ؟ تو آپ نے فرمایا " نعم اذا کر الخبث " یعنی ہاں جب کہ خباثت عام اور زیادہ ہوجائے، یعنی جب خباثت پھیل جائے گی اور زیادہ ہوجائے گی تو اس وقت نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود سب کو ہلاک کردیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ، پس " تواصی بالحق " بھی دین حنیف میں ایک اہم مطلب ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔ (5) فوز و فلاح سے سرفرازی کے لیے تیسری بنیاد " تواصی بالصبر " : سو ارشاد فرمایا گیا اور وہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین بھی کرتے رہے، کہ وہ خود بھی مستقیم و ثابت قدم رہیں راہ حق و صواب پر اور ہر حال میں وہ اس پر استقامت و مداومت سے کام لیں، اور برائی اور برائی کی راہ سے دور و نفور رہیں، اور جادہ حق پر ثبات و استقامت کی راہ میں حق کی پیروی و اتباع میں جو بھی مشکلات ان کو پیش آئیں، اور جن رکاوٹوں اور پریشانیوں کا بھی سامنا ہو ان پر صبر و برداشت ہی سے کام لیں، سو ایمان و عمل صالح اور " تواصی بالحق " اور " تواصی بالصبر " کی یہ چار صفات جن لوگوں کے اندر موجود ہوں گی، وہی اس خسران و نقصان سے محفوظ رہیں گے اور وہی لوگ فائز المرام ہوں گے، اس کے سوا باقی تمام لوگ اور ہر انسان قطعی طور پر خسارے میں ہے، خواہ وہ کوئی بھی اور کہیں بھی ہو کیسا ہی ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وشر، فکن اللھم لنا واجعلنا لک، وخذنا اللھم بنواصینا الی ماتحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا اکرم الاکرمین۔