103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsمظہر القرآن

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

قسم (اس)1، زمانہ (محبوب) کی

(ف 1) عصر زمانہ کو کہتے ہیں اور زمانہ چونکہ عجائبات پر مشتمل ہے اس میں احوال کا تغیر وتبدل ناظر کے لیے عبرت کا سبب ہوتا ہے، اور یہ چیزیں خالق حکیم کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اس لیے ہوسکتا ہے کہ زمانہ کی قسم مراد ہو یعنی قسم ہے ہمارے پیغمبر کے زمانہ مبارک کی جس میں رسالت عظمی اور خلافت کبری کا نور اپنی پوری آب تاب کے ساتھ چمکا، کیونکہ یہ بڑی خیر و برکت کا زمانہ اور تمام زمانوں میں سے زیادہ فضیلت وشرف والا ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضور کے زمانہ کی قسم یاد فرمائی جیسا کہ لا اقسم بھذالبلد۔ میں حضور کے مسکن مکان کی قسم یا دفرمائی ہے اور جیسا کہ لعمرک میں آپ کی عمر شریف کی قسم یاد فرمائی اور اس میں شان محبوبیت کا اظہار ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ عصر سے نماز عصر مراد ہوجوشرعی نقطہ نظر سے نہایت فضیلت کا وقت ہے حتی کہ حضور نے حدیث شرفی میں ارشاد فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کا سب گھربار لٹ گیا۔
Ayahs 103:2–3

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

بیشک2، آدمی نقصان میں ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق (یعنی ایمان وعمل صالح) پر قائم رہنے کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی (یہ لوگ نقصان میں نہیں ہیں) ۔

(ف 2) اس سورت میں سخت وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں پر نقصان میں ہونے کا حکم کیا سوائے ان کے جو چارباتیں اختیار کریں جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے کہ انسان کو نقصان سے بچنے کے لیے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر قلب و دماغ تک محدود نہ رہے بلکہ جوارح میں ظاہر ہو اور اس کی عملی زندگی اس کے ایمان قلبی کا آئینہ ہو ۔ تیسرے محض اپنی افرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم وملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے، جب وہ مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت وصیت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی وقومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلاف طبع امور کا تحمل کرنا پڑے پورے صبر و استقامت سے تحمل کریں ہرگز قدم نیکی کے راستہ سے ڈگمگانے نہ پائے، جو خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہوں گے اور خود کامل ہوکردوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ جاوید رہے گا، اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے، فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے امام شافعی نے سچ فرمایا کہ اگر قرآن میں سے صرف یہی ایک سورت نازل کردی جاتی تو سمجھدار بندوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی ، بزرگان سلف میں جب دو مسلمان آپس میں ملتے جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے کو یہ سورت سنایا کرتے تھے۔