Ayahs 102:1–2صبر اور نیک کام پر قائم رہنے کا ذکر۔
(ف 1) صحبت ، بدن وقت پر غذا کاملنا، ٹھنڈے پانی کاملنا، اس طرح سب چیزوں جن پر آدمی کی زندگی کی مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد حرص وہوس میں ان لوگوں کی زندگی کٹتی ہے اس ساری سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسے لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ کی نعمتوں کی شکرگزاری سے غفلت کریں گے قیامت کے دن ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے کام میں لانے کی جواب دہی مشکل ہوجائے گی۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مردے کے ساتھ تین ہوتے ہیں دولوٹ آتے ہیں ۔ ایک اس کے ساتھ رہ جاتا ہے یعنی ایک مال۔ دوسرا اس کے اہل و اقارب۔ اور ایک اس کا عمل۔ عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے باقی دونوں واپس ہوجاتے ہیں (بخاری )
Ayahs 102:3–4(ف 1) یعنی دیکھو بار بار تاکید کہا جاتا ہے کہ تمہارا خیال صحیح نہیں ہے کہ مال واولاد وغیرہ کی بہتات ہی کام آنے والی چیز ہے عنقریب تم جان لوگے کہ زائل فانی چیز ہرگز فخر مباہات کے لائق نہ تھی پھر سمجھ لو کہ آخرت ایسی چیز نہیں جس سے انکار کیا جائے یاغفلت برتی جائے آگے چل کر کر تم کو بہت جلد کھل جائے گا کہ اصل زندگی اور عیش آخرت کا ہے اور دنیا اس زندگی کے مقابلہ میں ایک خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی یہ حقیقت بعض لوگوں کو دنیا میں تھوڑی بہت کھل جاتی ہے لیکن قبر میں پہنچ کر اور اس کے بعد محشر میں سب کو پوری طرح کھل جائے گی۔
Ayah 102:5(ف 2) یعنی تمہارا خیال ہرگز صحیح نہیں اگر تم یقینی طو پر دلائل صحیحہ سے اس بات کو جان لیتے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں تو ہرگز اس غفلت میں پڑے نہ رہتے۔
Ayah 102:6(ف 3) یعنی اس غفلت و انکار کا نتیجہ دوزخ ہے وہ تم کو دیکھنا پڑے گا اول تو اس کا کچھ اثر برزخ میں نظر اجائے گا پھر آخرت میں پوری طرح دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوجائے گا۔
Ayahs 102:7–8یاد الٰہی سے غفلت اللہ کی رحمت سے محرومی کا باعث۔
(ف 3) یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ اب بتلاؤ دنیا کے عیش و آرام کی کیا حقیقت تھی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریوہ کی روایت ہے کہ جو دیدار الٰہی اور حساب کتاب کی ایک بہت بڑی حدیث ہے اور اس صحیح حدیث کا ایک ٹکڑا گویا اس سورت کی تفسیر ہے حاصل اس ٹکڑے کا یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں صاحب نعمت اور اللہ کے روبرو کھڑے ہونے اور حساب کتاب سے غافل ہیں اس طرح کے لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا ھساب کتاب یوں ہی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے شخص کیا میں نے تجھ کو دنیا میں عزت دی مال دیا اور ہر طرح کا صاحب نعمت کیا تھا جب یہ شخص اللہ کی نعمتوں کا اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس خدا نے ان نعمتوں کو پیدا کیا تھا اس کی پیدا کی ہوئی نعمتوں کو برت کر اس خدا کی یاد بھی کچھ تو نے دل میں رکھی تھی، یہ شخص جب اس سوال کا جواب پورا نہ دے سکے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دنیا میں تو جس طرح تو نے میری یاد کو بھلادیا اسی طرح میں نے بھی آض اپنی رحمت سے تجھ کو محروم کردیا اور بھلادیا۔