103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 103:1–2

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

قسم ہے زمانہ کی ،

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

کہ انسان بڑے خسارہ میں ہے،1۔

1۔ (بسبب اپنی فرصت عمر کے تلف وضائع کر ڈالنے کے) (آیت) ” العصر “۔ زمانہ جو ہر لمحہ انتہائی سرعت کے ساتھ گزرتا چلا جاتا ہے، وہی تو وہ ظرف ہے جس کے اندر انسان سب ہی کچھ کرتا رہتا ہے، اور سب ہی کچھ اس پر گزرتی رہتی ہے، اس میں وہ کھوتا بھی ہے، اور اسی میں وہ پاتا بھی ہے۔ رنج و حرمان، نقصان و خسران بھی اسی میں اس پر واقع ہوکررہتا ہے۔ محض وقت کا مفہوم ادا کرنے کے لئے عربی زبان میں زبان دہروغیرہ اور لفظ بھی تھے۔ لیکن گزرتے ہوئے زمانہ کی طرف، مرور ایام کی طرف خاص اشارہ کرنے والا لفظ یہی ” عصر “ ہے۔ وقسم بالزمان لما فی مرورہ من اصناف العجائب (کشاف) عمر انسانی کے لمحات دیکھتے دیکھتے کس تیزی سے گزر جاتے ہیں، اور انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے، اسی کو گواہ کرکے قرآن مجید کہتا ہے کہ کافر انسان بھی کیسا بدقسمت اور حرماں نصیب ہے ! وقت کی پوری قدر کرنا، عمر کے ایک ایک لحظہ اور پل کا حساب رکھنا کہ اس سب کا سوال ہوگا، اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان۔ سے اس سیاق میں بھی مراد وہی کافر انسان ہے۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کئے، اور ایک دوسرے کو فہمائش کرتے رہے حق کی، اور ایک دوسرے کو فہمائش کرتے رہے پابندی کی،2۔

2۔ یعنی خسران و محرومی تو منکروں اور کافروں کے حصہ میں آئی ہے جنہوں نے وقت کی قدر نہ پہچانی اور ساری فرصت عمر برباد کردی، نہ کہ ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی عمریں قانون الہی کے مطابق بسر کیں۔ روایتوں کیں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ مکہ کے مشہور تاجر ابوبکر بن ابی قحافہ جب دعوت اسلام کے بالکل شروع ہی میں ایمان لے آئے تو ایک معاصر نے ان سے کہا کہ تم معاملات میں تو بڑے ہوشیار تھے، لیکن اس باب میں سخت دھوکا کھاگئے، اپنے کو فلاں فلاں ٹھاکروں اور دیوتاؤں کی توجہ، شفقت وسفارش سے محروم کردیا، اور لائق وفائق اسلاف کے طور طریقوں کو چھوڑ دیا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ محروم رہ جانے والے حقیقۃ کون ہیں، (آیت) ” وتواصوبالحق “۔ یعنی اعتقاد حق پر قائم رہنے کہ فہمائش کرتے رہے، (آیت) ” وتواصوبالصبر “۔ حسرت و حرمان سے بچے رہنے والے خوش نصیب انسانون کی چار صفات کا یہاں بیان ہوا ہے، ان میں سے پہلی (2) دو یعنی ایمان اور عمل صالح، صفات ذاتی، وانفرادی اور بطور کمال لازم کے ہیں، باقی (2) دو یعنی تواصی بالحق وتواصی بالصبر، صفات ملی واجتماعی بطور کمالات متعدی کے ہیں،۔ اسلام تو اصلاح، انفرادی واجتماعی، ذاتی وملی دونوں قسم کے ساتھ ساتھ چاہتا ہے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ فرصت عمر نعمت مغتنم ہے، ضائع کوئی لمحہ نہ ہونا چاہئے، ساری عمر تحصیل کمال یا تکمیل ہی میں بسر ہونا چاہیے۔