103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیر القرطبی
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
عصر کی قسم
قسم ہے زمانہ کی۔
اس میں دو مسئلے ہیں۔
عصر کا معنی اور مراد :
مسئلہ نمبر 1: عصر سے مراد دھر (زمانہ) ہے۔ یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ عصر دہر کی طرح ہے۔ شاعر نے کہا :
سبیل الھوی وعر و بحر الھوی غمر۔۔۔ و یوم الھوی شھر و شھر الھوی دھر
محبت کا راستہ پر پیچ ہے محبت کا سمندر گہرا ہے محبت کا دن مہینہ برابر ہوتا ہے اور محبت کا مہینہ زمانہ برابر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زمانہ کی قسم اٹھائی کیونکہ اس میں احوال کے تصرف اور تبدل پر تنبیہ ہے اور اس میں صانع پر دلالت ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : عصر سے مراد رات اور دن ہے، حمید بن ثور نے کہا :
ولن یلبث العصران یوم و لیلۃ۔۔۔ اذا طلبا ان یدرکا ما تیمما
عصران یعنی دن اور رات نہیں رکیں گے جب وہ اپنے مقصود کو پانے کا مطالبہ کردیں۔
عصرا سے مراد صبح اور شام ہے۔ شاعر نے کہا :
وامطلہ العصرین حتی یملنی۔۔۔ ویرضی بنصف الدین والانف راغم
میں اس کے ساتھ صبح و شام ٹال مٹول سے کام لیتا ہوں یہاں تک کہ مجھ سے اکتا جاتا ہے وہ مجبور ہو کر نصف قرض لینے پر راضی ہوجاتا ہے۔
وہ کہتا ہے : جب وہ دن کے پہلے پہر میرے پاس آتا ہے تو اس کے ساتھ پچھلے پہر کا وعدہ کرتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عشی ہے وہ سورج کے زوال سے لیکر اس کے غروب ہونے کا وقت ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا نقطہ نظر ہے ؛ اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
تروح بنایا عمرو قد قصر العصر۔۔۔ وفی الروحۃ الاولی الغنیمۃ والاجر۔
اے عمرو ہمیں لے چلو وقت تھوڑا رہ گیا ہے پہلی روانگی میں غنیمت اور اجر ہے۔
قتادہ سے یہ بھی مروی ہے ؛ عصر سے مراد دن کی ساعتوں میں سے آخری ساعت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز کی قسم اٹھائی یہی درمیان نماز ہے کیونکہ یہ نمازوں میں سے افضل نماز ہے۔ یہ مقاتل کا قول ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اذن للعصر یعنی نماز عصر کے لیے آزان دی گئی۔ صلیت للعصر عصر کی نماز پڑھی گئی۔ حدیث صحیح میں ہے السلاۃ الوسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : نبی کریم کے زمانہ کی قسم اٹھائی کیونکہ اس میں نبوت کی تجدید ہوئی اس وجہ سے یہ زمانہ فضیلت رکھتا ہے اس کی قسم اٹھائی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے زمانہ کے رب کی قسم ہے۔
اگر کوئی عصر کے لفظ کو قسم میں ذکر کرے تو کتنا وقت مراد ہوگا ؟
مسئلہ نمبر 2: امام مالک نے فرمایا : جس نے یہ قسم اٹھائی لو یکلمہ عصرا تو وہ اس سے ایک سال تک بات نہ کرے۔ ابن عربی نے کہا : امام مالک نے قسم اٹھانے والے کی قسم کو سال پر محمول کیا جبکہ اس نے لفظ عصر کا ذکر کیا تھا کیونکہ اس کی تعبیر میں جو قول کیے جاتے ہیں یہ ان میں سے لمبے عر سے پر محیط ہے۔ یہ تعبیر ان کے اس اصول پر مبنی ہے کہ قسموں میں سختی کی جائے۔
امام شافعی نے کہا : وہ ایک ساعت نہ بولا تو قسم پوری کرنے والا ہوگا مگر جب اس کی کوئی نیت ہو۔ میں بھی یہی کہتا ہوں مگر جب وہ عربی ہو تو اس سے کہا جائے گا : تو نے کیا ارادہ کیا تھا ؟ جب اس نے ایسی تعبیر کی کلام جس کا احتمال رکھتی تھی تو اسے قبول کرلیا جائے گا مگر اس صورت میں کہ وہ بہت ہی قلیل ہو۔ یہ تعبیر کہ قسم کو اس پر محمول کیا جائے گا جو اس نے تفسیر کی یہ بھی امام مالک کے مذہب کے موافق ہے۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
کہ انسان نقصان میں ہے
یقینا ہر انسان خسارے میں ہے۔
یہ جواب قسم ہے اور انسان سے مراد کافر ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، جو حضرت ابو صالح سے مروی ہے۔ ضحاک نے ان سے روایت نقل کی کہ اس سے مراد مشرکین کی ایک جماعت ہے ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبدالمطلب اور اسود بن عبد یغوث۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ انسان سے مراد جنس انسان ہے۔ خسر سے مراد خسارہ ہے۔ اخفش نے کہا : اس سے مراد ہلاکت ہے۔ فراء نے کہا : اس سے مراد سزا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کان عاقبۃ امرھا خسرا۔ (الطلاق) ان کے امر کا انجام عذاب ہے۔ ابن زید نے کہا : اس کا معنی شر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا معنی نقص ہے۔ معنی سب کا قریب قریب ہے۔ سلام سے مروی ہے کہ عصر یہ صاد کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ اعرج، طلحہ، اور عیسیٰ نے خسر پڑھا ہے۔ یہی ہارون نے ابوبکر سے وہ عاصم سے روایت نقل کرتے ہیں دونوں کی دلیل حرکات میں دوسرے حرف کی اتباع ہے یوں لفظ ذکر کیا جاتا ہے خسر اور خسر جس طرح عسر اور عسر۔ حضرت علی شیر خدا یوں پڑھا کرتے تھے : والعصر و نوائب الدھران الانسان لفی خسر۔ اس روایت میں الی آخر الدھر کے الفاظ بھی ہیں۔
ابراہیم نے کہا : انسان جب اپنی زندگی میں بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ نقصان، کمزوری اور پہلی حالت میں پلٹنے والا ہوجاتا ہے مگر مومنوں کا معاملہ مختلف ہے ان کے حق میں ان اعمال کا اجر لکھا جاتا رہتا ہے جو وہ جوانی کے عالم میں کیا کرتے تھے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ثم رددنہ اسفل سافلین۔ (التین) اور کہا : ہماری قرات میں وانہ لفی آخر الدھر ہے جبکہ صحیح وہ ہے جس پر ائمہ اور مصاحف ہیں جس نے مصحف عثمانی کی مخالفت کی اس کا رد کتاب کے مقدمہ میں ہوچکا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کو قرآن میں تلاوت کیا جاسکے۔ اسے وہاں غور سے پڑھ لیجیے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
بجز ان (خوش نصیبوں) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے نیز ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے رہے۔
الا الذین یہ الانسان سے مستثنی ہے کیونکہ صحیح قول کے مطابق وہ الناس کے معنی میں ہے۔ عملوا الصالحات سے مراد انہوں نے فرائض ادا کیے وہ رسول اللہ کے صحابہ ہیں۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا : میں نے رسول اللہ پر عصر کی نماز پڑھی پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کی تفسیر کیا ہے ؟ فرمایا والعصر یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قسم ہے تمہارے رب نے دن کے آخر کی قسم اٹھائی، انسان سے مراد ابو جہل ہے۔ الذین امنوا سے مراد حضرت ابوبکر ہیں۔
عملو الصالحات سے مراد حضرت عمر ہیں وتواصوا سے مراد حضرت عثمان اور وتواصوا بالصبر سے مراد حضرت علی شیر خدا ہیں۔ حضرت ابن عباس نے منبر پر بیٹھ کر اس طرح خطبہ دیا تھا۔
تواصوا کا معنی ہے انہوں نے باہم محبت کی، انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی اور ایک دوسرے کو برا نگیختہ کیا۔ الحق سے مراد توحید ہے ؛ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : حق سے مراد قرآن ہے۔ سدی نے کہا : یہاں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ْ
وہ باہم اللہ تعلای کی طاعت اور معاصی پر صبر کی وصیت کرتے ہیں۔ یہ گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔