103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 103:1–3

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

عصر کی قسم

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

کہ انسان نقصان میں ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

خسارہ اور اس سے بچاؤ تشریح : تین آیات کی یہ چھوٹی سی سورت علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ عصر کا مطلب ہے زمانہ تو اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انسان خسارے میں ہے۔ یہاں پہلے عصر یعنی زمانے کی کچھ وضاحت کردی جائے۔ تو کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں اس لیے اس کو برا بھلا ہرگز نہ کہا کرو۔ حقیقت بھی یہی ہے جب وہی اول ' وہی آخر ' وہی ظاہر ' وہی باطن ہے تو پھر کون سا زمانہ رہ جاتا ہے جو اللہ کے وجود یا نظر یا حفاظت سے خالی رہ جاتا ہے۔ بیشک ماضی ' حال ' مستقبل سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جب ہمارا عقیدہ پوری طرح مضبوط ہے تو پھر ڈانواں ڈول ہونے گبھرانے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ بس جو لوگ عقیدہ کی اس پختگی سے محروم ہیں وہ سرا سر خسارے میں ہیں۔ کیونکہ ہماری روحانی ' جسمانی ' صحت اس عقیدہ کی مضبوطی اور کمز وری پر ہی انحصار کرتی ہے۔ جیسا کہ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے اور انسانی نفسیات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بندہ جب کسی مصیبت پریشانی یا بےسکونی میں گرفتار ہوتا ہے تو ایسی طاقت کا سہارا ڈھونڈ تا ہے جو بہت مضبوط ہو۔ جیسے بچہ ہر دکھ درد میں ماں کو پکارتا ہے۔ اور جب اس کو وہ مضبوط سہارا مل جاتا ہے تو وہ ذہنی طور پر بڑا مطمئن اور پر سکون ہوجاتا ہے اس سکون اور اطمینان سے وہ اس ذہنی کھچاؤ اور پھر اس کھچاؤ سے پورے جسم کی متعدد تکلیفات سے نجات پالیتا ہے۔ اصل میں ہر بیماری چاہے روحانی ہو یا جسمانی وہ سوچ سے ہی شروع ہوتی ہے۔ غلط سوچ غلط راستوں پر چلاتی ہے یعنی جھوٹ ' چوری ' غیبت ' قتل و غارت گری ' دنگا فساد ' بد عہدی ' بد دیانتی وغیرہ وغیرہ یہ تمام غلط سوچ کی پیداوار ہیں اور یہ سوچ رکھنے والا شیطان کا بھائی ہوتا ہے۔ اور صاف ظاہر ہے یہ تمام کام ہمارے لیے بےسکونی اور مسلسل ذہنی دباؤ کا سبب ہوتا ہے۔ تمام بیماریاں ذہنی دباؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔ بیماریوں کی اور بھی بڑی وجوہات ہوتی ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ ذہنی دباؤ ہے تو جو لوگ توحید ' قرآن ' رسول اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عام طور پر اس دباؤ کا شکار رہتے ہیں اسی حقیقت کو رب العزت نے دو لفظوں میں بیان کردیا ہے کہ '' انسان خسارے میں ہے ''۔ اور ساتھ ہی اس خسارے سے بچنے کا نسخہ بھی بتا دیا ''۔ وہ نسخہ یہ ہے۔ 1 ۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھنا :۔ ایسے لوگ بڑے پرسکون مطمئن اور صحت مند ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور اللہ کی محبت اور حفاظت ماں سے ستر گنا زیادہ ہے۔ خود اندازہ کرلیجئے کہ ہم اس سے محبت کر کے اس کے بندے بن کر اس کے احکامات کو مان کر کس قدر محفوظ اور مطمئن ہوسکتے ہیں کیونکہ اس کے بتائے ہوئے اصول اور قانون ہر بندے کے لیے مفید اور سکون و نجات کا ذریعہ ہیں۔ 2 ۔ نیک عمل کرنا :۔ اس کی بڑی لمبی فہرست ہے جو کئی بار بتائی جا چکی ہے ہر وہ کام کرنا جس کے کرنے میں نہ کوئی خوف نہ ندامت اور نہ ہی گبھراہٹ پیدا ہو نیک عمل ہے۔ 3 ۔ حق سچ کی تاکید کرنا :۔ حق کا مطلب ہے وہ تعلیمات جو حق تعالیٰ نے ایک حق کتاب کے ذریعے حق رسول ﷺ کی وساطت سے ہم تک پہنچائیں۔ یعنی دین اسلام کی تعلیمات پر خود عمل کرنا اور دوسروں کو عمل کرنے کی تاکید کرنا۔ 4 ۔ صبر کی تلقین کرنا :۔ صبر و برداشت انسان میں لازوال ہمت طاقت ' جواں مردی ' اعتماد اور مضبوطی پیدا کرتے ہیں۔ ایک صابر و شاکر انسان پختہ دیوار کی طرح ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے اللہ نے جو پریشانی یا مصیبت اس پر ڈالی ہے وہ یقینا کسی مصلحت کسی بہتری کے لیے ہی ڈالی ہے۔ یہ سچ ہے کہ اللہ کا کوئی کام بھی مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ مصیبت ' پریشانی ' بیماری اور نقصانات یہ سب زندگی کا لازمی حصہ ہیں کیونکہ جس طرح رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے اسی طرح مشکلات کے بعد راحتوں کا آنا ضروری ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں بندے کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ اس میں کس قدر توکل ' صبر اور شکر کی طاقت موجود ہے جو کہ اللہ کی محبت کا پیمانہ ہیں۔ دیکھا آپ نے کیسی خوبصورت اور جامع سورت ہے۔ یہ سورت کیا پورا قرآن ہی ہمیں اپنی محبت میں اللہ تعالیٰ نے تحفہ میں دے دیا ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ ایک ایک سطر حکمتوں برکتوں اور رحمتوں کا خزانہ ہے۔ ہے نا خسارے میں ! وہ شخص جو اس بہترین تحفہ سے دور رہ کر در بدر کی ٹھوکریں کھا کر زندگی کے حقائق ڈھونڈنے کی کوشش میں در ماندہ و حیران پھر رہا ہے۔ سیدھی سی بات ہے۔ خود کو پہچانو ' اپنے خالق کو پہچانو ' اس سے محبت کرو ' اس کی عبادت کرو اور اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلو۔ اور دنیا و آخرت کی نعمتوں برکتوں اور کامیابیوں سے مالا مال ہوجاؤ۔ دنیا میں بھی خوش آخرت میں بھی خوش۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے۔ ذرا غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ چھوٹی سی سورت ہمارے لیے دنیا کا بہترین نسخہ ہے۔ اس سے جسمانی ' روحانی صحت ملتی ہے دنیا میں کامیابی اور آخرت میں بہترین آسائش و آرام کا ابدی انعام۔ آخر میں حدیث ملاحظہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ '' میں اس شخص کے لیے جنت کی حدود میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو دکھاوے سے باز رہے اگرچہ اس کا عمل نیک ہی کیوں نہ ہو۔ اور میں اس شخص کے لیے جنت کے عین بیچ گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھوٹ سے باز رہا ' اگرچہ مذاق ہی کیوں نہ ہو۔ اور میں اس شخص کے لیے جنت کی بلندیوں پر گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو اعلیٰ اخلاق والا ہو۔ (ابو داؤد) یہی خلاصہ ہے اس سورت کا۔ الحمدللہ سورة العصر مکمل ہوگئی۔