103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیرِ حقانی
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
قسم ہے عصر کی۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
بیشک انسان خسارہ میں ہے
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
مگر وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی باہم ہدایت کرتے رہے۔
ترکیب ¦ وللقسم العصر مقسم بہ والمرادبہ الدھر عموماً وقیل العشی وھو مابین زوال الشمس وغروبھا وقیل صلوٰۃ العصر۔ قرء الجمھور بسکون الصادوقریٔ بکسرھا ایضاً ان الانسان اسم ان لفی خسر خبرھا والجملۃ جواب القسم۔ قرء الجمھور بضم الخاء و سکون السین وقریٔ بضبھما ایضاً والمعنی فی نقصان و خسران وشر۔ الاستثناء متصل من الانسان وقیل منقطع علی ان المراد بالانسان الکافر وعملوا ومابعدہ عطف علی آمنوا والتواصی وصیۃ بعضھم لبعض۔
تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ صرف قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔
ربط ¦ ربط اس سورة کا سورة تکاثر سے یہ ہے کہ انسان تمام عمر کثرت مال و اولاد و فراہمی اسباب عیش و نشاط میں صرف کرنا اپنی اوقات گرانمایہ کا حاصل سمجھتا ہے ورنہ جانتا ہے کہ میرے اوقات خراب ہوئے اور عمر ضائع ہوئی اور اسی کو وہ مقصود اصل جانتا ہے اور اسی لیے وہ اس کی حرص کرتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے اس خیال کے رد کرنے کو یہ سورة نازل فرمائی کہ کوئی کیسا ہی مال و دولت میں کامیابی حاصل کرلے مگر پھر بھی نقصان اور خسارہ ہی میں ہے اس خسارہ سے تو وہ بچے ہوئے ہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کر گئے اور نیک کاموں کی بنیاد اپنے بعد ڈال گئے۔ عمر گرانمایہ کا اصلی نفع یہی ہے نہ وہ کہ جو عموماً طبائعِ انسانیہ سمجھی ہوئی ہیں۔
چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ان کے جاہلیت کے دوست ابوالاسد نے بطور طنز کے یہ کہا تھا کہ تم بڑے ہوشیار اور تجارت میں خبردار تھے کبھی نقصان نہیں اٹھایا، اب کیا نادانی چھا گئی جو تمام مال صرف کر کے ایک شخص کے معتقد ہوگئے اور قدیم دین کو چھوڑ بیٹھے۔ یہ تم نے بڑا خسارہ اٹھایا اس کا خیال باطل بھی اس سورة میں رد کردیا گیا۔
فقال والعصر کہ قسم ہے زمانہ کی جس میں یہ انسان زندہ ہے اور یہ ایک نہایت قیمتی اور گرانمایہ سرمایہ ہے جو خداوند تعالیٰ نے انسان کو دے کر دنیا میں ایمان اور نیکوکاری کی تجارت کرنے بھیجا ہے اور یہ سرمایہ ایسا بےثبات ہے کہ برف کی طرح آپ ہی آپ پگھلتا جاتا ہے اگر اس نے بجائے ایمان اور عمل نیک کے برا سودا خریدا یا کچھ بھی نہیں خریدا تو یہی انسان خسارہ میں ہے اس لیے اس وقت عزیز کی قسم کھائی جس کو یہ ناقدر انسان برے وقت میں صرف کرتا ہے یا یوں ہی ضائع کرتا ہے اور اس قسم کو اپنے مابعد کے مضمون سے نہایت ارتباط ہے گویا وہ دعویٰ ہے تو یہ اس کی دلیل مقدم ہے تاکہ مخاطب کو اس مضمون میں کہ انسان خسارہ میں ہے (سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے) کوئی تردد نہ رہے اور یہ قرآن مجید کا کمال بلاغت ہے ولہ الحمد۔ مفسرین کے عصر کے معنی میں چند قول ہیں۔
(1) بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عصر سے مراد مطلقاً زمانہ ہے جس کو عربی میں دہر کہتے ہیں اور اس کی قسم کھانے میں اپنی قدرت و حکمت کی باریکیوں کا اظہار کرنا مقصود ہے۔ اور یہ اس لیے کہ زمانہ کی تمام چیزوں پر زمانہ کا پورا احاطہ ہے کوئی بادشاہ ‘ کوئی مالدار ‘ کوئی شہ زور ایسا نہیں کہ زمانہ کی نیرنگیوں سے نکل جائے۔ زمانہ کا پہلا اثر موسموں کا تبدل ہے جب سردی آتی ہے تمام لوگوں پر سردی کا اثر پھیل جاتا ہے اور جب گرمی کی سلطنت آتی ہے تو رات کافور ہوجاتی ہے زمین پر نور پھیل جاتا ہے۔ اس کے بعد انسان کی عمر پر زمانہ کا وہ نمایاں سکہ چلتا ہے کہ کسی طرح ٹلتا ہی نہیں لڑکپن کے بعد جوانی اور جوانی کے بعد بڑھاپا بےاختیار آتا ہے اور پھر زمانہ زمانیات کو فنا کرتا ہے اور پھر حیوانات ‘ جمادات اور حیوانات میں سے انسانوں کو مار کر ایسے فنا کے عمیق گڑھے میں ڈال دیتا ہے کہ جوں جوں زمانہ گزر جاتا ہے وہ فناشدہ اتنا ہی نیچے چلا جاتا ہے اب دیکھا چاہیے کہ زمانہ کی ڈوریاں کس کے ہاتھ میں ہیں ؟ اسی قادر مطلق کے لیکن جن کی نظر دور تک نہیں پہنچتی وہ ان سب حوادث کو زمانہ ہی کے مستقل افعال جانتے ہیں جیسا کہ فرقہ دہریہ اور جن کی نگاہیں دور جاتی ہیں اور وہ گہری نظروں سے دیکھتے ہیں وہ اس کل کے موجد اور اس کے چلانے والے کے ہاتھ کی کاریگری سمجھتے ہیں جو زمانہ سے باہر ہو کر زمانہ کی کل چلا رہا ہے اس لیے زمانہ کی قسم کھائی کہ وہ اس کی ایک عمدہ اور بڑی کل ہے جس میں اشارہ ہے کہ زمانہ کے موافق بنو۔ زمانہ تمہارے موافق نہیں بنے گا اور جب کسی نے زمانہ سے لڑائی کی تو فوراً شکست کھائی اور اسی بات کی طرف نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے جو دہر کو گالیاں دیا کرتا ہے دہر تو میں ہوں میرے ہاتھ میں سب کام ہے۔ میں ہی رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ (متفق علیہ) ۔
(2) بعض فرماتے ہیں اخیر دن کا وقت مراد ہے جو زوال سے غروب تک کا وقت ہے جس کو عربی میں عشی کہتے ہیں۔ یہ قتادہ اور حسن بصری کا قول ہے اور اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ دن بھر کے کاروبار کا نفع و نقصان اخیر دن میں ظاہر ہوتا ہے۔ دن بھر بیچ کھوچ کر سوداگر دکان بڑھاتا ہے اور اپنے گھر کا رستہ لیتا ہے اور نیز زیادہ بیع و شراکا بازار اسی وقت گرم ہوتا ہے اور نیز ایک انقلاب عظیم کی یہ تمہید ہے یعنی دن کا جانا رات کا آنا اور اسی لیے اس وقت کی نماز کی جس کو صلوٰۃ الوسطیٰ اور صلوٰۃ العصر کہتے ہیں بڑی تاکید ہے پس اس میں اشارہ ہے کہ انسان تیری زندگانی کا بہت سا زمانہ گزر گیا اب اخیر وقت رہ گیا تو اپنی تجارت میں جو آخرت میں کام آئے سرگرمی کرلے وقت بہت نہیں رہا ورنہ پھر خسارہ ہی خسارہ ہے۔
(3) بعض فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ مراد ہے جو بڑا متبرک زمانہ ہے اور جس میں تجارتِ آخرت کا بازار بڑا گرم تھا جس نے سعادت کی طرف ذرا توجہ کی اس نے سلطنتِ آسمانی حاصل کرلی اور جس نے برا سودا کیا عمر کھو کر کفروبدکاری خریدی، گھاٹا اٹھایا اور بڑا گھاٹا۔ اسی لیے آپ نے ارشاد فرمایا تھا خیرالقرون قرنی الحدیث کہ سب زمانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے الخ۔ جب صبح سے لے کر تھوڑے دن رہے تک بنی آدم آخرت کے سودے میں پورے کامیاب نہ ہوئے اور وقت رہ گیا کم تو اس نے اپنی رحمت سے ایسا نبی برپا کیا جو دنیا کو نافع تجارت سکھانے آیا ایسی تجارت کہ تھوڑے سے داموں پر (یعنی چند روزہ زندگی سے جو امم سابقہ کی بہ نسبت وقت عصر ہے اور تھوڑے سے اعمال سے) بےبہا دولت حاصل ہوتی ہے یعنی دارآخرت اور اس کے نعمائے باقیہ اسی لیے لفظ والعصر میں اس طرف اشارہ کردیا کہ بس اب اور وقت نہیں رہا جو اور نبی آئے گا انہیں پر سلسلہ تمام ہے۔ پھر اب بھی جو کوئی ہدایت پر نہ آئے تو ازلی بدنصیب ہے۔ دنیا کی دکان بڑھا چاہتی ہے۔ اسی لیے آپ نے فرما دیا کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں اور انگلی سے انگلی ملا کر دکھائی یعنی ساتھ لگے ہوئے میرے بعد قیامت ہے۔
(4) بعض فرماتے ہیں کہ خاص نماز عصر کی قسم مراد ہے یہ مقاتل کا قول ہے اسی لیے اس نماز کی قسم کھائی کہ یہ اس دارآخرت کی تجارت کا ایک مخصوص وقت ہے اور نیز دنیاوی تجارت کا بھی وقت ہے اور کاروبار میں مصروف ہونے کا وقت ہے اور نیز دن کے اعمال کے دفتر بند ہونے کا وقت ہے اس کے بعد سے رات کے اعمال کا دفتر کھلتا ہے اور اسی لیے حدیث صحیح میں آیا ہے کہ جس کی نماز عصر قضا ہوگئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا اور قرآن مجید میں صلوٰۃ وسطیٰ سے (جس کی محافظت پر تاکید ہے) یہی نماز مراد ہے۔
فائدہ : قرآن مجید میں بہت سی چیزوں کی خدا پاک نے قسم کھائی ہے۔ رات کی، دن کی، آفتاب کی، آسمان کی، مکہ شہر کی، انجیر کی، زیتون کی۔ آنحضرت ﷺ کی عمر کی وغیرہ۔ حالانکہ حدیث شریف میں بندوں کے لیے بجز خدا پاک کے نام کی قسم کھانے کی ممانعت آئی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ قسم کھانے میں تعظیم بیحد ہے اور اس کا مستحق وہی حق سبحانہ ٗ ہے اور اہل توحید کا شیوہ خاص ہے کہ اس کی تعظیم کے برابر کسی کی تعظیم نہ کریں پھر حق سبحانہ ٗ نے اپنی مخلوقات کی کیوں قسمیں کھائیں۔ اپنی ذات وصفات کی قسم پر انحصار کیوں نہ فرمایا ؟
جواب : اس میں علماء کا اختلاف ہے جمہور معتزلہ اور بڑے بڑے علمائِ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ ایسے مقامات پر لفظ رب محذوف ہے جیسا کہ والتین قسم ہے۔ رب تین یعنی رب انجیر کی پھر ان اشیاء کے ذکر کرنے میں اور ان کی ربوبیت کے اظہار میں بندوں کو ان چیزوں سے جو منافع اور فوائد ہیں ان کا اظہار کرنا مقصود ہے تاکہ ان چیزوں میں اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھ کر ایمان لائیں اور اپنے قدیم محسن اور آقاء ولی النعمۃ کی طرف جھکیں یعنی ہر جگہ اپنی ہی قسم کھائی ہے نہ مخلوق کی۔ اکثر متکلمین کا بھی اسی طرف رجحان ہے اور بات بھی یہی قوی ہے لیکن علمائِ کرام کی ایک جماعت ظاہر الفاظ پر خیال کر کے یہ بھی کہتی ہے کہ لفظ رب کے محذوف ماننے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ انہیں چیزوں کی قسم کھائی ہے مگر ہر ایک قسم کھانے والے کی حالت اور شان کے مطابق اس چیز کی قسم کھانے سے جو مقصود ہوتا ہے وہی مراد لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بادشاہ کے سر کی قسم کھائے یا تخت کی تو اس کا مقصود عزت و عظمت بادشاہ کی اور اس کے تخت کی ہوگی اور جو کوئی اپنی اولاد یا اپنے مال کی قسم کھائے تو مقصود محبت ہوگی علیٰ ہذا القیاس۔ پس حق سبحانہ ٗ جو اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کی قسم کھاتا ہے تو مقصود اس چیز کے پیدا کرنے میں جو اس نے اسرار قدرت اور بندوں کے منافع رکھے ہیں ان کا اظہار ہوگا۔ قطع نظر اس سے کہ یہ شے جملہ مخلوق میں بڑھ کر ہے یا نہیں اور کبھی محض اس چیز کا شرف و عزت بندوں کی نگاہ میں ظاہر کرنا بھی مقصود ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی قسم یا مکہ معظمہ کی قسم۔ اب کوئی محل اعتراض باقی نہیں رہا اس پر بھی جو کوئی اس رمز سے ناواقف ہو کر عیب لگائے اور طعن کرے یہ اس کی بھونڈی سمجھ ہے۔
الحاصل عصر کی قسم کھا کر فرماتا ہے ان الانسان لفی خسر کہ بیشک ابن آدم نقصان میں ہے کس لیے کہ اس کی عمر گرانمایہ جو بڑا مال ہے اور جس سے دارآخرت کی کارآمد چیزیں خریدی جاتی ہیں وہ ہر آن گھٹتی جاتی ہے اور جو گھٹتی ہے اس کے پھر آنے کی امید منقطع ہے۔ کیا خوب کہا ہے حافظ مرحوم نے ؎
مرادر منزل جاناں چہ امن و عیش چوں ہر دم جرس فریاد میدارد کہ بربندید محملہا
اور اگر اس عمر گرانمایہ کو گناہوں اور شہوات و لذات فانیہ میں صرف کیا یا کھیل کود ‘ لہو ولعب میں گزار دیا تو اور بھی نقصان ہو اور خسران سرمدی و حرمان ابدی نصیب ہوا۔
لیکن اس عمر چند روزہ میں اگر نفع حاصل کرنا چاہے اور نقصان سے محفوظ رہنا چاہے تو اس کے لیے یہ دو باتیں ضروری ہیں۔ اول یہ کہ اپنی حیات میں کمال حاصل کرے اور دوم یہ کہ مرنے کے بعد بھی حسنات و باقیات کا سلسلہ باقی چھوڑ جائے تاکہ اس کے بعد بھی اس کے حسنات ہمیشہ اس کو پہنچتے رہیں۔ اور اس سبب سے اس کو اکتساب حسنات کے لیے ایک وسیع زمانہ مل جائے ورنہ عمر تو بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے خصوصاً جبکہ ایک اس میں سے لڑکپن اور بیماری اور بڑھاپے کا زمانہ کم کردیا جائے کیونکہ ایسے وقت انسان بیکار ہوجاتا ہے اور اعضاء جواب دے چکتے ہیں تو بہت ہی حصہ کم رہ جاتا ہے اس لیے اس خسارہ پانے والوں میں سے جن میں یہ دو وصف ہوں ان کو مستثنیٰ کرتا ہے۔ (1) الا الذین امنوا و عملوا الصالحات مگر وہ کہ جو ایمان لائے اور ایمان لا کر نیک کام بھی کئے۔ یہ وہ پہلی بات ہے جو اپنی حیات کی کمائی تھی۔ اس کے دو مرتبہ ہیں۔ اول معرفت اور حقائق الاشیاء کا علم صحیح خصوصاً حق سبحانہ ٗ اور وسائلِ 1 ؎ ہدایت و ارشاد کی بابت اعتقاد صحیح جس کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ یہ اعلیٰ کمال ہے روح کے بدن سے جدا ہوجانے کے بعد یہ کمال ساتھ رہتا ہے اور اسی کو حکما بھی سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اہل ہند بھی اس کو گیان کہتے ہیں جو ان کے نزدیک نجات کا وسیلہ ہے۔ مگر حکماء کے علم حقائق الاشیاء اور ہندوئوں کے گیان اور شرعی ایمان میں بڑا فرق ہے۔ شرعی ایمان وہ علم اور وہ گیان ہے جس میں شکوک و خطرات یا توہمات و تخیلات کی بو بھی نہیں وہ ان ظلماتی دھبوں سے پاک ہے نہ اس کے حصول کے وہ ذرائع ہیں جن میں عقلی قیاسات اور وہمی تگ بندیوں کو دخل ہو نہ تمام مخلوق کی حقیقت دریافت کرنے کی تکلیف مالایطاق نہ آسمانوں اور زمین کے قلابے ملانے کی حاجت۔ دوسرا مرتبہ ایمان کے بعد نیک کام کرنے کا ہے۔ یہ لفظ بڑا وسیع المعنی ہے۔ ہر ایک نیک کام کو شامل ہے خواہ عبادت بدنی ہو خواہ مالی خواہ ذکر و مراقبہ و فکر و تسبیح و تہلیل ہو اور خواہ نماز و خیرات ہو خواہ صلہ رحمی مخلوق خدا پر ترحم اور نفع رسانی ہو۔ کس لیے کہ اگر ایمان ہے اور اعمال صالحہ نہیں تو ایمان ایک درخت بےثمر ہے اور اگر دونوں باتیں حاصل ہیں تو دنیا سے نفع کما لایا۔ (2) وتواصوابالحق وتواصوا بالصبر کہ اپنے بعد بھی سلسلہ حسنات باقی چھوڑ گئے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہمیشہ زندہ ہیں اور ہمیشہ دنیا میں نیک کام کر رہے ہیں کس لیے کہ جو اپنے بعد نیک کاموں کی بنیاد ڈال جاتے ہیں جب تک وہ نیک کام باقی رہیں گے اور لوگ ان سے نفع حاصل کریں گے ان کے بنیاد ڈالنے والوں کو بھی اسی قدر ثواب ملتا رہے گا اور احادیث صحیحہ میں بھی یہی مضمون وارد ہے چناچہ مسلم نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی کو ہدایت کی طرف بلایا تو اس کو بھی اتنا ہی اجر ہے کہ جتنا اس ہدایت قبول کرنے والے کو ہے اور جس نے کسی کو برے کام کی ترغیب دلائی تو اس کو بھی اسی قدر گناہ ہے کہ جس قدر اس برے کام کرنے والے کو ہے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ اور ترمذی و ابن ماجہ وغیرہ نے بھی اس قسم کا مضمون نقل کیا ہے۔
1 ؎ وسائلِ ہدایت فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اور پھر انبیاء کی کتابیں ان سب پر ایمان ضرور ہے بغیر اس کے معرفت و علم ناقص ہے اس لیے نجات نہیں۔ 12 منہ
حق کی تفسیر ¦ اس نیک کام کی بابت دو لفظ ارشاد فرمائے کہ جس کا اوروں کو تقید کر کے دنیا سے چلے تھے۔ اول حق پر قائم رہنے کی تاکید۔ یہ لفظ بھی وسیع المعنٰی ہے دین حق پر قائم رہنے کو بھی شامل ہے اور راست بازی اور نفع خلائق کو بھی شامل ہے پھر دین میں عبادات سے لے کر اعتقاد صحیح اور اخلاق کریمانہ خیرات و صدقات سب کو شامل ہے۔ بنائے مساجد و مدارس اور اسلام کے قیام و استحکام کی بابت تدابیر اور عمدہ تصانیف اور تعلیم علوم سب اس میں آگئے۔ اسی لیے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اسلام میں اعلیٰ درجات رکھتے ہیں کہ اپنے بعد مفید اسلام وہ وہ باتیں چھوڑ گئے جن سے آج تک مسلمان نفع پا رہے ہیں۔ اور ان کے بعد آئمہ و مجتہدین و پیران طریقت وغیرہم ہیں۔ اور دوسرا لفظ صبر ہے۔ یہ بھی بڑا وسیع المعنٰی لفظ ہے کس لیے کہ مخالفوں کی ایذا اور بدگوئی کی برداشت بھی صبر ہے اور یہ وصف ہر ایک عالی حوصلہ کو لازم ہے اگر یہ نہیں تو نہ ہم چشموں میں عزت ہے نہ عافیت ہے۔ بات بات پر لڑنا مقابلہ کرنا لوگوں سے انتقام لے کر دشمن بنانا زیست تلخ کردیتا ہے۔
حکایت : سیدنا حضرت امام حسن ؓ کو ایک بدوی نے جبکہ آپ خلیفہ تھے مجمع عام میں سخت الفاظ کہے اور گالیاں بھی دیں لوگوں کو غصہ آیا۔ فرمایا تمہیں تو کچھ نہیں کہا، مجھے کہا ہے۔ آپ نے حکم دیا کہ غریب بھوکا ہوگا کھانا کھلائو۔ عمدہ کپڑے دو ، خرچ سے تنگ ہوگا روپے دو ۔ چناچہ حضرت کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ تیسرے دن اس شخص کو روبرو بلا کر پوچھا کہ بھائی اب بھی تم مجھ سے خفا ہو ؟ وہ شخص رو پڑا اور کہا کہ میں نہ پہلے خفا تھا نہ اب ہوں۔ صرف امتحان منظور تھا کہ دیکھوں رسول خدا ﷺ کا خون آپ میں کس قدر ہے ان کے اوصاف حمیدہ کا کتنا حصہ ملا ہے ؟ آپ نے فرمایا بحمداللہ ہم پہاڑ ہیں ایسے جھوکوں سے ہلنے والے نہیں۔ صبر کی تاثیر ہے کہ مخالف برائی کر کے آپ شرمندہ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں جابجا اس کی تاکید ہے۔ ادفع بالتیھی احسن الخ کہ برائی کے مقابلہ میں بھلائی کر کوئی گالی دے تو دعا دے۔
نفسِ بد کا مقابلہ اور پھر مقابلہ میں ثابت قدمی بھی صبر ہے نفس چاہتا ہے کہ رات کو گرم ہو کر سو رہو مگر یہ جوانمرد نہیں مانتا نماز پڑھتا ہے ‘ سردی گرمی کی برداشت کرتا ہے، اسی طرح جملہ اخلاق میں نفسانی خواہش روکنے میں ثابت قدمی صبر ہے۔ اسی طرح صف جنگ میں دشمنوں کا مقابلہ اور مقابلہ میں استقلال بھی صبر ہے۔ خدا کی راہ میں مشقتوں کی برداشت بھی صبر ہے۔ مصائبِ ارضی و سماوی پر استقلال بھی صبر ہے۔ انسان کی سعادت کے دو بازو ہیں جن سے اڑ سکتا ہے۔ اول درستی اعتقاد یعنی تکمیل قوت نظریہ یہ دایاں بازو ہے۔ اس کے لیے تو اصوابالحق استعمال ہوا۔ دوسرا بایاں بازو نیک کام کرنا بری باتوں سے پرہیز کرنا ہے یعنی قوت عملیہ کی تکمیل اس کے لیے تو اصوا بالصبر استعمال ہوا۔ تمام حکمت نظریہ و عملیہ کا انہیں دو لفظوں میں خاتمہ کردیا۔
اور یہ بھی ہے کہ اول انسان آپ کامل ہولے اس بات کی طرف اٰمنوا وعملوا الصلحت میں اشارہ کیا تھا اور آپ کامل ہو کر اوروں کی تکمیل کی بھی فکر کرے اور حکیم روحانی بن کر مریضان بنی آدم کا علاج کرے۔ یہ پورا کمال ہے اس لیے اس کے لیے تو اصوابالحق وتوصوا بالصبر میں اشارہ فرمایا۔ حق پر قائم رہنے کی وصیت و تاکید گویا دوا پینے کا حکم ہے اور تو اصوابالصبر میں اشارہ ہے کیونکہ اگر مریض دوا پی کر مضر اشیاء سے پرہیز نہ کرے گا کبھی فائدہ نہ اٹھائے گا۔
وصیت کے معنی ¦ تو اصوا وصیت سے ہے۔ یہ لفظ عرف شرع میں تقید و تاکید کے معنی میں بھی مستعمل ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ووصینا الانسان بوالدیہ احسانا 1 ؎ اور عرف عام میں وصیت اس بات کو کہتے ہیں جس پر اس کے مرنے کے بعد عمل ہو یا کہو بوقت مرگ حکم دے۔ اس لیے اس لفظ کے اختیار کرنے میں یہ رمز ہے کہ مرتبہ ارشاد و تکمیل کا نفس فنا کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے گویا یہ لوگ نفس کو مار کر جیتی زندگی میں مرگئے یا قریب بمرگ ہیں۔ اب جو کہتے ہیں گویا وصیت کرتے ہیں اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ابتدائِ سورة میں لفظ عصر کی قسم کھائی تھی جو اخیر وقت ہے گویا ہر زندہ دل اپنی زندگانی پر بھروسا نہ کر کے ہر وقت کو دم اخیر سمجھتا ہے پس وہ جو کچھ فرماتا ہے گویا بوقت مرگ فرماتا ہے جس کی پابندی پچھلوں پر بلحاظ محبت واجب ہے اور یہ ہی ہوسکتا ہے کہ اچھے لوگ بوقت مرگ دنیاوی جھگڑے چھوڑ کر اپنے مریدوں محبوں کے لیے حق پر قائم رہنے اور صبر کرنے کی وصیت کیا کرتے ہیں جیسا کہ سورة بقر میں ہے۔ 1 ؎ ووصی بہا ابراھیم بنیہ ویعقوب یا بنی ان اللہ اصطفٰی لکم الدین فلا تموتن الاوانتم مسلمون وام کنتم شہداء اذاحضریعقوب الموت اذقال لبینہ الخ۔
1 ؎ ہم نے انسان کو ماں باپ سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا۔