Al-Asr 103:2

Al-Asr · from ayah 2

103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۟ۙاِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ

کہ انسان نقصان میں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, mankind is in loss,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 28 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Asr

All translations of 103:2

انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ انسان نقصان میں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ بیشک ہر انسان یقینا گھاٹے میں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ انسان گھاٹے میں ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلاشبہ انسان قطعی طور پر خسارے میں ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ انسان بڑے خسارہ میں ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا انسان خسارے میں ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ انسان نقصان میں ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Lo! Man is in a state of loss;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

man is in a state of loss indeed,

— Muhammad Taqi Usmani

man is in a state of loss indeed,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, man is in loss.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, mankind is in loss,

— Saheeh International

the human being is doomed to suffer loss,

— Muhammad Sarwar

Most surely man is in loss,

— Muhammad Habib Shakir

Verily man is in loss,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 103:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات : عصر سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، حضرت زید بن اسلم نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو اعمال میں نیکیاں ہوں حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی حرام کاموں سے رکنے کی دوسرے کو تاکید کرتے ہوں قسمت کے لکھے پر مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر 1 اس سورة میں زمانے کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے، اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر چار صفتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) ایمان (2) عمل صالح (3) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا (4) ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا۔ اب اس کے ایک ایک جز کو الگ لے کر اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس ارشاد کا پورا مطلب واضح ہوجائے۔ جہاں تک قسم کا تعلق ہے اس سے پہلے بارہا ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم اس کی عظمت یا اس کے کمالات و عجائب کی بنا پر نہیں کھائی ہے، بلکہ اس بنا پر کھائی ہے کہ وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے جسے ثابت کرنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر قسم ہے زمانہ کی (جس میں رناج و خسران واقع ہوتا ہے) کہ انسان (اپنی عمر ضائع کرنے کی وجہ سے) بڑے خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جو اپنے نفس کا کمال ہے) اور ایک دوسرے کو حق (پر قائم رہنے کی فرمائش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (عمال کی) پابندی کی فرمائش کرتے رہے (جو دو رسوں کی تکمیل ہے تو جو لوگ یہ کمال حاصلک ریں اور دو رسوں کی بھی تکمیل کریں یہ لوگ البتہ خسارے میں نہیں بلکہ نفع میں ہیں) معارف و مسائل سورة عصر کی خاص فضیلت۔ حضرت عبید اللہ ابن حصن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے دو شخص ایسے تھے کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل بات: یہ وہ اصل بات ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے زمانہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ جب ایک طرف مہلت حیات کی اہمیت اور قدر و قیمت کا حال یہ ہے کہ اسی کے بدلے میں انسان ابدی بادشاہی حاصل کر سکتا ہے اور اگر اس سے غفلت برتے تو یہ اس کے لیے ابدی لعنت بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اس کی تیزروی کا یہ حال ہے کہ ہر سیکنڈ کے ساتھ وہ ماضی کے اندر تحلیل ہوتی جا رہی ہے اور اس پر انسان کو کوئی قابو نہیں تو وہ سارے انسان انتہائی خسارے میں ہوئے جن کا اصل راس المال اس تیزی سے برباد ہو رہا ہے اور وہ اس سے غافل ہوں۔ چنانچہ اس کو شہادت میں پیش کر کے فرمایا کہ انسان گھاٹے میں ہیں بجز ان کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ انسان کا خسارہ اور ہلاکت واضح ہے کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے، اس کے شب و روز سخت محنت کرتے ہوئے گزرتے ہیں، پھر جب موت سے ہمکنار ہوتا ہے تو موت کے بعد آرام اور راحت نہیں ہوتی، بلکہ وہ جہنم کا ایندھن بنتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: یعنی زمانے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور نیک عمل سے محروم ہوتے ہیں، وہ بڑے گھاٹے میں ہیں اس لئے کہ ایسی بہت سی قوموں کو دنیا ہی میں آسمانی عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر زمانے میں اللہ کی نازل کی ہوئی کتابیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر خبر دار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایمان اور نیک عمل کی رَوِش اختیار نہ کی گئی تو آخرت میں بڑا سخت عذاب انسان کا منتظر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

سوال یہ ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟.... ہم یہاں ایمان کی فقہی تشریح وتعریف نہیں کرتے۔ ہماری بات ایمان کے مزاج ، اس کی قدروقیمت اور زندگی پر اس کے اثرات تک محدود ہے۔ ایمان دراصل وہ رابط ہے جو یہ چھوٹی ، محدود ، انسانی مخلوق ، اس حقیقت کے ساتھ قائم کرلیتی ہے جو ازلی ، ابدی اور باقی رہنے والی ہے اور جو اس کائنات کی اصل ہے اور جس سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ انسانی مخلوق اس حوالے سے اس کائنات کے ساتھ بھی مربوط ہوجاتی ہے کہ دونوں کا خالق ایک ہے ، اور پھر یہ حضرت انسان ان قوانین قدرت سے بھی مربوط ہوجاتا ہے جن کے مطابق یہ جہاں چلتا ہے اور انسان ان قوتوں سے بھی مربوط ہوجاتا ہے جو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اس سے بڑھ کر ٹوٹا کیا ہوگا کہ برف بیچنے والے دکاندار کی طرح اس کی تجارت کا راس المال جسے عمر عزیز کہتے ہیں، دم بدم کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس رواداری میں کوئی ایسا کام نہ کرلیا جس سے یہ عمر رفتہ ٹھکانے لگ جائے، بلکہ ایک ابدی اور غیر فانی متاع بن کر ہمیشہ کے لئے کار آمد بن جائے، تو پھر خسارہ کی کوئی انتہاء نہیں۔ زمانہ کی تایخ پڑھ جاؤ اور خود اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرو تو ادنیٰ غور و فکر سے ثابت ہوجائے گا کہ جن لوگوں نے انجام بینی سے کام نہ لیا اور مستقبل سے بےپروا ہو کر مخض خالی لذتوں میں وقت گزار دیا وہ آخرکار کس طرح ناکام و نامراد بلکہ تباہ و برباد ہو کر رہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وقت کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ } ”یقینا انسان خسارے میں ہے۔“ اگلی آیت میں اس نقصان اور خسارے سے بچائو کے لیے چارشرائط بتائی گئی ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی ایک یا دو یا تین شرائط پوری کردینے سے مذکورہ خسارے سے بچنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ کامیابی کے لیے بہرحال چاروں شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اس آیت کے مختلف مفہوم :۔ خُسْرٍ بمعنی راس المال میں کمی واقع ہونا۔ کسی سودے میں نفع کی بجائے الٹا نقصان ہوجانا، ٹوٹا، گھاٹا اور اس کی ضد رِبْحٌ ہے بمعنی کسی سودے میں نفع ہوجانا۔ اب اگر زمانہ سے مراد گزرا ہوا زمانہ لیا جائے تو اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ گزرے ہوئے زمانہ کی پوری تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان انفرادی طور پر بھی اور بحیثیت مجموعی بھی ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہا مگر اس گھاٹے سے صرف وہ لوگ بچ سکے ہیں جن میں وہ چار صفات پائی جائیں جو آگے مذکور ہیں اور اگر عصر سے مراد گزرنے والا زمانہ لیا جائے جو بڑی تیزی سے گزرتا جارہا ہے تو اس سے مراد ہر انسان کی مدت عمر ہوگی جو اسے اس دنیا میں بطور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (بسبب اپنی فرصت عمر کے تلف وضائع کر ڈالنے کے) (آیت) ” العصر “۔ زمانہ جو ہر لمحہ انتہائی سرعت کے ساتھ گزرتا چلا جاتا ہے، وہی تو وہ ظرف ہے جس کے اندر انسان سب ہی کچھ کرتا رہتا ہے، اور سب ہی کچھ اس پر گزرتی رہتی ہے، اس میں وہ کھوتا بھی ہے، اور اسی میں وہ پاتا بھی ہے۔ رنج و حرمان، نقصان و خسران بھی اسی میں اس پر واقع ہوکررہتا ہے۔ محض وقت کا مفہوم ادا کرنے کے لئے عربی زبان میں زبان دہروغیرہ اور لفظ بھی تھے۔ لیکن گزرتے ہوئے زمانہ کی طرف، مرور ایام کی طرف خاص اشارہ کرنے والا لفظ یہی ” عصر “ ہے۔ وقسم بالزمان لما فی مرورہ من اصناف العجائب (کشاف) عمر انسانی کے لمحات دیکھتے دیکھتے کس تیزی سے گزر جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمانہ کی یا مابعد الزوال سے غروب تک کے زمانہ یا عرص کی نماز کی قسم بلاشبہ انسان اپنی تجارت میں بڑے خسارے میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ایک دوسرے کو حق کی یعنی ایمان کی نصیحت اور طاعت پر صبر اور معصیت سے اجتناب کی تلقین کرتے رہے، خسارے میں نہیں ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد مفسر عالم نے الدھر، او مابعد الزوال، او صلوۃ العصر، کہہ کر عصر کی تین تفسیروں کی طرف اشارہ کیا ہے اور الانسان کے بعد لفظ جنس کا اضافہ کر کے بتادیا کہ الانسان میں الف لام جنس کا ہے اور اس کی تائید الا الذین آمنوا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الانسان لفی خسر . عموماً انسان بڑے گھاٹے میں ہیں۔ خُسْرٍ میں تنوین مفید عظمت ہے کیونکہ خسر کا معنی ہے اصل پونجی ضالع ہوجانا اور انسان اپنی جان ‘ اپنی عمر اور اپنا مال ایسے کاموں میں برباد کرتا ہے جو آخرت میں اس کے لیے بالکل سودمند نہ ہوں گے (اس لیے انسان بڑے گھاٹے میں ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) زمانہ کی سختیوں اور تکالیف کی یا یہ کہ نماز عصر کی قسم ہے کافر اپنے عمل کے برباد ہونے اور جنت نہ ملنے سے بڑے خسارے اور عذاب میں ہے، یا یہ کہ بڑھاپے اور موت کے بعد نقصان عمل کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) والعصر، ان الانسان لفی خسر…: قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر اس دعویٰ کی دلیل ہوتی ہیں جو قسموں کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ اس سورت کا مفہوم سمجھنے کے لئے خسارے کا مفہوم ذہن میں لانا ضروری ہے۔ خسارہ یا نفع کسی نہ کسی تجاتر اور بیع میں ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا راس المال (سرمایہ) لگاتا ہے، اگر راس المال فروخت ہوجائے اور راس المال اور محنت سے بڑھ کر آمدنی ہوجائے تو یہ نفع ہے، ورنہ خسارہ۔ اس سورت میں زمانے کی قسم کھا کر یہ حقیقت مدلل کی گئی ہے کہ چار صفات والے لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان ہی خسارے میں ہے، کیونکہ انسان کے پاس رسا المال صرف اور صرف زمانے کا کچھ حصہ یعنی اس کی عمر ہے، جیسا کہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یقینا ہر انسان خسارے میں ہے۔ یہ جواب قسم ہے اور انسان سے مراد کافر ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، جو حضرت ابو صالح سے مروی ہے۔ ضحاک نے ان سے روایت نقل کی کہ اس سے مراد مشرکین کی ایک جماعت ہے ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبدالمطلب اور اسود بن عبد یغوث۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ انسان سے مراد جنس انسان ہے۔ خسر سے مراد خسارہ ہے۔ اخفش نے کہا : اس سے مراد ہلاکت ہے۔ فراء نے کہا : اس سے مراد سزا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کان عاقبۃ امرھا خسرا۔ (الطلاق) ان کے امر کا انجام عذاب ہے۔ ابن زید نے کہا : اس کا معنی شر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا معنی نقص ہے۔ معنی سب کا قریب قریب ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعصر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ الطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو ملیکہ الدارمی جو صحابی تھے ان سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی جب آپ میں ملاقات کرتے وہ آپس میں جدا ہونے سے پہلے ان میں سے ایک دوسرے پر سورة والعصر اس کے آخرتک پڑھتا۔ زمانہ کی قسم ! بیشک انسان گھاٹے میں ہے۔ پھر ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا۔ 3۔ ابن سعد نے میمون (رح) سے روایت کیا کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت عمر ؓ پر نیزے سے حملہ کیا گیا تو ہم نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ماما بنایا تو انہوں نے صبح کی نماز میں دو چھوٹی سورتیں والعصر اور اذا جاء…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الْانسَان لَفِيْ خُسْرٍ : بیشک تمام انسان یقینا خسارے میں ہیں ] نوٹ 2: اس سورة میں خسارے سے بچنے کے لیے جن چار صفات کا ذکر ہے وہ یہ ہیں ایمان۔ عملِ صالح۔ تواصی بالحق۔ تواصی بالصبر۔ ان میں ایمان اور عمل صالح خود انسان کی ذات سے متعلق ہیں۔ ان کا معاملہ واضح ہے اور کسی تشریح کا محتاج نہیں، البتہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر قابل غور ہیں۔ تواصی کا لفظ وصیت سے بنا ہے۔ کسی شخص کو تاکید کے ساتھ مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا نام وصیت ہے۔ اسی وجہ سے مرنے والا اپنے بعد کے لیے جو ہدایات دیتا ہے اس کو بھی وصیت کہا جاتا ہے۔ لفظ حق اور صبر کے معنی میں ایک احتمال یہ ہے کہ حق سے مراد صحیح عقائد اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

اوپر سورة العصر کا ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں انسان کی ناکامی اور کامیابی کا اجمالی طور پر ایک خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ والعصر (قسم ہے زمانہ کی) اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے زمانہ کو پیش فرمایا، زمانہ اس بات کا گواہ ہے (جو اس کی زندگی کی انمول پونجی بھی ہے) کہ دنیا میں جو لوگ ہیں عموماً خسارہ ہی میں ہیں، دنیا میں جو کچھ کماتے ہیں اسے تو چھوڑ ہی جاتے ہیں اور چونکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے خالی ہوتے ہیں اس لیے آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے، انسان اگر گزشتہ اقوام کی تاریخ پڑھے اپنے سامنے جو انقلابات جہاں ہیں ان کو دیکھے تو اس کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آجائے گی کہ عام انسانوں کے عمومی حالات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” والعصر “ زمانہ گواہ ہے کہ انسان سراسر خسارے میں ہے۔ زمانے کے مختلف ادوار کو دیکھئے اور ہر دوڑ کے بڑے سے بڑے بادشاہ کا حال ملاحظہ کیجئے کہ دنیا کی شان و شوکت اور دولت و سلطنت کا فخر و غرور کہاں گیا جب دنیا سے رخصت ہوئے تو کوئی چیز بھی ساتھ نہ گئی، نہ دولت نے ساتھ دیا نہ سلطنت نے نہ لاؤ لشکر نے۔ اس کے علاوہ العصر کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ تفصیل متداول تفسیروں میں ملاحظہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة العصر ہے۔ اس کی پہلی آیت میں عصر کا لفظ آیا ہے۔ جس سے یہ نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیات ہیں اور یہ سورة چودہ الفاظ اور ارسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورة کو قسم سے شروع کیا گیا ہے۔ اس میں انسانیت کی کامیابی کے لئے چار اٹل اصل اصول بیان کئے گئے ہیں۔ جن کا نتیجہ قطعی طور پر سامنے آئے گا اور اگر لوگ ان اصولوں کو اپنا لیں گے تو انہیں ضرور سعادت نصیب ہوگی۔ عصر کا مفہوم والعصر قسم ہے عصر کی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ 1 ؎ کہ عام طور پر عصر سے زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔ تاہم اس مقام پر عصر سے مراد عصر کی نماز بھی ہو سکتی ہے۔ عصر سے مراد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۝ 2 ۙ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ وللقسم العصر مقسم بہ والمرادبہ الدھر عموماً وقیل العشی وھو مابین زوال الشمس وغروبھا وقیل صلوٰۃ العصر۔ قرء الجمھور بسکون الصادوقریٔ بکسرھا ایضاً ان الانسان اسم ان لفی خسر خبرھا والجملۃ جواب القسم۔ قرء الجمھور بضم الخاء و سکون السین وقریٔ بضبھما ایضاً والمعنی فی نقصان و خسران وشر۔ الاستثناء متصل من الانسان وقیل منقطع علی ان المراد بالانسان الکافر وعملوا ومابعدہ عطف علی آمنوا والتواصی وصیۃ بعضھم لبعض۔ تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ صرف قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ ربط ¦ ربط اس سورة کا سورة تکاثر سے یہ ہے کہ انسان تمام عمر کثرت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۔ (العصر : 2) (بیشک انسان خسارے میں ہے۔ ) یہ ہے جوابِ قسم یہ ہے وہ جوابِ قسم جس کو ثابت کرنے کے لیے زمانہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی عمر کی جو مدت انسان کو دی گئی ہے وہی زمانہ ہے جو تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس کو اگر ضائع کردیا جائے اور صحیح صفات سے متصف کرنے کی بجائے اسے غلط کاموں میں صرف کر ڈالا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے جس پر گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھائی گئی ہے۔ انسان کا لفظ اگرچہ واحد ہے لیکن اس سے مراد کوئی ایک انسان نہیں۔ کیونکہ اس کے بعد کی آیت میں ان لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار صفات سے متصف ہیں۔ اور ان لوگوں کو بغیر کسی تحدید کے ذکر کیا گیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے التکاثر کے آخر میں بتلایا ہے کہ ہر وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھائے گا جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دے گا اس سے ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا مگر اس کے باوجود انسان نقصان کا سودا کیے ہوئے ہے۔ فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ عربی زبان میں واؤ کا حرف قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس چیز کی قسم اٹھاتا ہے لازم نہیں کہ وہ چیز دوسری چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو۔ قسم اٹھانے کا بنیادی مقصد اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جس چیز کے لیے قسم اٹھائی جاتی ہے تاکہ سننے والا اس بات کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھ سکے۔ یہاں زمانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنس انسان خسارے میں : 2 : اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (کہ انسان بڑے خسارہ میں ہے) یہ جواب قسم ہے یعنی جنس انسان اپنی تجارات کے سبب نقصان میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” ان الانسان لفی خسر “ یعنی خسارے اور نقصان میں۔ کہا گیا ہے اس سے کافر مراد ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مومنین کا استثناء کیا ہے اور خسران انسان کا اصل سرمایہ چلا جانا اپنے نفس اور عمر کو معاصی میں ہلاک کرنے میں اور یہ دونوں اس کا بڑا سرمایہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ اگرچہ مفسرین سلف نے لفظ عصر کے طرح طرح کے معنی کئے ہیں لیکن مشہور قول حضر عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی ہے کہ عصر کے معنی اس سورة میں زمانہ کے ہیں اس واسطے امام بخاری 3 ؎ نے اسی قول کو لیا ہے زمانہ کے دو جز رات دن ہیں دنیا بھر کے عجائبات قدرت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ پیدائش میں سب انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں لیکن عادت میں کوئی نیک ہے دنیا کی چند روزہ زیست میں عقبیٰ کی راحت کے اسباب مہیا کرنا ہے اور دوسروں کو بھی نیک راستہ سے لگانا ہے اور کوئی لہو و لعب میں اپنی زندلی ضائع کرتا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا ہے اور یہی بات اس سورة کے معنی کا حاصل ہے نیک خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

اللہ تبارک وتعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے جو گردش شب وروز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر، نفع اٹھانے والے کی ضد ہے خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے جیسے اس شخص کا حال، جس نے دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھایا جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے۔ 1۔ ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

( 2) نور حق و ہدایت سے محروم انسان قطعی طور پر خسارے میں، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انسان قطعی طور پر خسارے میں ہے، اگرچہ وہ قارون کے خزانوں کا ہی مالک کیوں نہ ہو، اور اس کی زندگی کی سارسی بہاریں حکمرانی و فرمانرواہی میں اور بادشاہوں کی کرسیوں پر ہی کیوں نہ گزری ہو، کیونکہ یہ سب کچھ تو بہرحال عارضی اور فانی ہے، اور آخر کار اس نے اس کو یہیں چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ اپنی آخرت کو سدھارنا ہے، اور تن تنہا اپنے خالق ومالک کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جواب دہی کرنی ہے، اور اس کی جزا و سزا کے لیے پیش ہونا ہے، اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

خسارہ اور اس سے بچاؤ تشریح : تین آیات کی یہ چھوٹی سی سورت علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ عصر کا مطلب ہے زمانہ تو اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انسان خسارے میں ہے۔ یہاں پہلے عصر یعنی زمانے کی کچھ وضاحت کردی جائے۔ تو کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں اس لیے اس کو برا بھلا ہرگز نہ کہا کرو۔ حقیقت بھی یہی ہے جب وہی اول ' وہی آخر ' وہی ظاہر ' وہی باطن ہے تو پھر کون سا زمانہ رہ جاتا ہے جو اللہ کے وجود یا نظر یا حفاظت سے خالی رہ جاتا ہے۔ بیشک ماضی ' حال ' مستقبل سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جب ہمارا عقیدہ پوری طرح مضبوط ہے تو پھر ڈانواں ڈول ہونے گبھرانے پریشان ہونے کی کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے زمانے کی یعنی زمانہ خود گواہ ہے کہ انسان خسارے میں جارہا ہے جس مال کے لیے تڑپتا ہے وہ کھوجائے گا ہر لمحہ عمرعزیز کم ہورہی ہے اور اعضاء کمزوری کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ہر شے اور ہر طاقت خرچ ہورہی ہے کہ اللہ نے بیشمار نعمتیں دیں جو ایک ایک کرکے ختم ہونے کو ہیں اور موت سب لذتیں مٹا دینے کو ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اللہ کو پہچانا اس کا شکر ادا کیا انہوں نے بجائے خسارے کے کمالات حاصل کیے کہ اللہ کے حکم اور نظام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا اور زندگی بھر حق کی تلقین کرتے رہے یعنی یہ کام نہ صرف خود کیا بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی بھرپور کوشش…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 1 حق سے مراد ہے توحید و رسالت پر ایمان، شریعت کے عائد کردہ احکام پر عمل اور منع کردہ امور سے اجتناب۔2 یعنی راہ حق میں پیش آنے والی دشواریوں اور مصیبتوں سے حوصلہ نہ ہارنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(103:2) ان الانسان لفی خسر : یہ جملہ جواب قسم ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل الانسان اس کا اسم اور لفی خسر اس کی خبر۔ خسر۔ گھاٹا۔ ٹوٹا۔ نقصان۔ خسران۔ اس میں تنوین مفید عظمت ہے۔ کیونکہ خسر کا معنی ہے اصل پونجی کا ضائع ہوجانا۔ اور انسان۔ اپنی جان۔ اپنی عمر، اپنا مال ایسے کاموں میں برباد کرتا ہے جو آخرت میں اس کے لئے ہرگز سود مند نہ ہوں گے۔ خسر : خسر یخسر (باب سمع) کا مصدر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن : العصر۔ زمانہ۔ خسر۔ نقصان۔ گھاٹا۔ تو اصوا۔ ایک دوسرے کو کہتے رہے۔ تاکید کرتے رہے۔ تشریح : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تعلیمات کو اس طرح سمودیا ہے کہ بقول امام شامی ؓ اگر لوگ اسی ایک سورت میں غورو فکر کرلیں تو یہی سورت ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابہ کرام ؓ بھی اس سورت کو بہت اہمیت دیتے تھے چناچہ حضرت عبداللہ ابن حصین الدارمی سے روایت ہے کہ اصحاب رسول ﷺ میں جب دو آدمی ملتے تو اس وقت تک جدانہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورة عصر نہ سنالیتے۔ (طبرانی ) اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے عصر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام لوگ سراسر گھاٹے اور نقصان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) اس سورت میں سخت وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں پر نقصان میں ہونے کا حکم کیا سوائے ان کے جو چارباتیں اختیار کریں جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے کہ انسان کو نقصان سے بچنے کے لیے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر قلب و دماغ تک محدود نہ رہے بلکہ جوارح میں ظاہر ہو اور اس کی عملی زندگی اس کے ایمان قلبی کا آئینہ ہو ۔ تیسرے محض اپنی افرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم وملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے، جب وہ مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول فعل سے سچے دین اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] خسارہ یا خسران ٹوٹے اور گھاٹے اور نامرادی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ فلاح کی ضد ہے جس کے معنی ہیں خوشحالی اور کامیابی۔ قرآن خسارے کو اپنی خاص اصطلاح بنا کر فلاح کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے اور جس طرح اس کا تصور فلاح آخرت کی خوشحالی اور کامیابی کا ہم معنی ہے اسی طرح اس کا تصور خسران بھی آخرت کی نامرادی و ناکامی کا ہم معنی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر اس مختصر سی سورت میں انسانیت کی پوری تاریخ مضمر ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ تم عصروزمانہ کے اوراق الٹ جاؤ۔ جو قومیں اس معمورہ ارضی پر جلوہ گر ہوئیں ، ان میں تمہیں ایک حقیقت نظر آئے گی اور وہ یہ ہے کہ جن قوموں نے فطرت کے قوانین کی رعایت کی اور اللہ کے احکام کو تسلیم کیا ۔ وہ زندہ ہیں اور جنہوں نے مخالفت کی اور سرکشی وبغاوت کا اظہار کیا ۔ وہ مٹ گئیں ۔ یہی وہ راز ہے قوموں کے فنا اور بقا کا ۔ جس کو اکثر لوگوں نے نہ سمجھا اور ابدی خسارے اور گھاٹے کو خریدلیا ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ انسان خسارہ میں ہے 2 ؎ (الانسان) کا لفظ پورے قرآن کریم میں 58 بار استعمال ہوا ہے جس میں سے 16 بار صرف اس تیسویں پارہ میں ( الانسان) کا لفظ آیا ہے اور ان سولہ بار میں سے ہر ایک جگہ ( الانسان) سے وہی انسان مراد ہیں جو روز قیامت سے منکر ہیں خواہ ان کا انکار قولی ہے یا فعلی اور ان سولہ بار میں سے ایک بار اس جگہ بھی ہے اور ظاہر ہے کہ اس جگہ بھی ( الانسان) سے مراد ہی انسان ہے جو قیامت کے قولا ً فعلا ً انکاری ہیں اور جو فریاد قوم و جماعت بھی قیامت کی منکر ہے وہ دنیا میں کتنی ہی کامیاب و کامران ہو اس کے خسارہ میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس دنیا کی زندگی ہی بالکل عارضی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Virtue of [ Studying ] Surah al-` Asr Sayyidna ` Ubaidullah Ibn Hisn ؓ reports that whenever two Companions of the Holy Prophet ﷺ met, they would not part company until one of them had recited Surah Al-` Asr in its entirety to the other. [ Transmitted by At-Tabarni ]. Imam Shafi` i (رح) says that if people thought about Surah Al-` Asr carefully, it would be enough for their guidance. It is a concise but comprehensive Surah, which in three verses, outlines a complete way of human life based on the Islamic worldview. In this Surah, Allah swears an oath by the 'Time' and says that mankind is in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 In this Surah an oath has been sworn by the Time to impress the point that man is in sheer loss and only those people are an exception from the loss who are characterised by four qualities: (1) Faith, (2) righteous deeds, (3) exhorting one another to Truth, and (4) exhorting one another to patience. Let us consider each of these parts separately in order to understand the meaning fully. As for the oath, we have explained several times above that Allah has not sworn an oath by any of the created objects on account of its glory or its excellence and wonderful qualities but for the reason that…

Read the full tafseer →