Al-Asr 103:1

103. Al-Asrالعصر

The Declining Day, Epoch · Meccan · 3 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

103:1

وَالْعَصْرِ ۟ۙوَالۡعَصۡرِۙ

عصر کی قسم

— Fateh Muhammad Jalandhari

By time,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 28 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Asr

All translations of 103:1

زمانے کی قسم

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس زمانہ محبوب کی قسم

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

زمانہ کی قَسم (جس کی گردش انسانی حالات پر گواہ ہے)۔ (یا- نمازِ عصر کی قَسم (کہ وہ سب نمازوں کا وسط ہے)۔ (یا- وقتِ عصر کی قَسم (جب دن بھر چمکنے والا سورج خود ڈوبنے کا منظر پیش کرتا ہے)۔ (یا- زمانۂ بعثتِ مصطفیٰ ﷺ کی قَسم (جو سارے زمانوں کا ماحصل اور مقصود ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قسم ہے زمانے کی

— مولانا اسحاق مدنی

عصر کی قسم

— محترمہ رفعت اعجاز

(I swear) by the Time,

— Muhammad Taqi Usmani

(I swear) by the Time,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the time (of the advent of Islam),

— Muhammad Sarwar

I swear by the time,

— Muhammad Habib Shakir

By the time,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 103:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات : عصر سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، حضرت زید بن اسلم نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو اعمال میں نیکیاں ہوں حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی حرام کاموں سے رکنے کی دوسرے کو تاکید کرتے ہوں قسمت کے لکھے پر مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر 1 اس سورة میں زمانے کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے، اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر چار صفتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) ایمان (2) عمل صالح (3) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا (4) ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا۔ اب اس کے ایک ایک جز کو الگ لے کر اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس ارشاد کا پورا مطلب واضح ہوجائے۔ جہاں تک قسم کا تعلق ہے اس سے پہلے بارہا ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم اس کی عظمت یا اس کے کمالات و عجائب کی بنا پر نہیں کھائی ہے، بلکہ اس بنا پر کھائی ہے کہ وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے جسے ثابت کرنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر قسم ہے زمانہ کی (جس میں رناج و خسران واقع ہوتا ہے) کہ انسان (اپنی عمر ضائع کرنے کی وجہ سے) بڑے خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جو اپنے نفس کا کمال ہے) اور ایک دوسرے کو حق (پر قائم رہنے کی فرمائش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (عمال کی) پابندی کی فرمائش کرتے رہے (جو دو رسوں کی تکمیل ہے تو جو لوگ یہ کمال حاصلک ریں اور دو رسوں کی بھی تکمیل کریں یہ لوگ البتہ خسارے میں نہیں بلکہ نفع میں ہیں) معارف و مسائل سورة عصر کی خاص فضیلت۔ حضرت عبید اللہ ابن حصن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے دو شخص ایسے تھے کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ’عصر‘ کی تحقیق: ’و‘ قسم کے لیے ہے اور ’عَصْرٌ‘ کے معنی زمانہ کے ہیں۔ استاذ امام مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس لفظ کی جو تحقیق اپنی تفسیر سورۂ عصر میں بیان فرمائی ہے اس کا خلاصہ ہم اپنے لفظوں میں پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’’عصر‘ کے معنی زمانہ کے ہیں۔ جس طرح ’دَھْرٌ‘ میں زمانہ کی مجموعیت کا اعتبار ہے اسی طرح لفظ ’عَصْرٌ‘ میں اس کے گزرنے اور اس کی تیزروی کی طرف اشارہ ہے چنانچہ اس کا غالب استعمال گزرے ہوئے زمانہ ہی پر ہوتا ہے۔ امرؤ القیس کا مصرعہ ہے: وھل ینعمن من کان فی العصر الخالی (اور اب ان کے لیے کیا مبارکی ہے جو گزرے ہوئے زمانوں میں ہوئے) عبید بن الابرص نے کہا ہے: فذاک عصر وقد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 زمانے سے مراد، شب و روز کی یہ گردش اور ان کا ادل بدل کر آنا ہے، رات آتی ہے تو اندھیرا چھا جاتا ہے اور دن طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز روشن ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں کبھی رات لمبی، دن چھوٹا اور کبھی دن لمبا، رات چھوٹی ہوجاتی ہے یہی مرور ایام، زمانہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کاریگیر پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے رب نے اس کی قسم کھائی ہے۔ یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے لیکن انسانوں کے لیے اللہ کی قسم کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھان جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: یعنی زمانے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور نیک عمل سے محروم ہوتے ہیں، وہ بڑے گھاٹے میں ہیں اس لئے کہ ایسی بہت سی قوموں کو دنیا ہی میں آسمانی عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر زمانے میں اللہ کی نازل کی ہوئی کتابیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر خبر دار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایمان اور نیک عمل کی رَوِش اختیار نہ کی گئی تو آخرت میں بڑا سخت عذاب انسان کا منتظر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

سوال یہ ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟.... ہم یہاں ایمان کی فقہی تشریح وتعریف نہیں کرتے۔ ہماری بات ایمان کے مزاج ، اس کی قدروقیمت اور زندگی پر اس کے اثرات تک محدود ہے۔ ایمان دراصل وہ رابط ہے جو یہ چھوٹی ، محدود ، انسانی مخلوق ، اس حقیقت کے ساتھ قائم کرلیتی ہے جو ازلی ، ابدی اور باقی رہنے والی ہے اور جو اس کائنات کی اصل ہے اور جس سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ انسانی مخلوق اس حوالے سے اس کائنات کے ساتھ بھی مربوط ہوجاتی ہے کہ دونوں کا خالق ایک ہے ، اور پھر یہ حضرت انسان ان قوانین قدرت سے بھی مربوط ہوجاتا ہے جن کے مطابق یہ جہاں چلتا ہے اور انسان ان قوتوں سے بھی مربوط ہوجاتا ہے جو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 " عصر " زمانہ کو کہتے ہیں یعنی قسم ہے زمانہ کی جس میں انسان کی عمر بھی داخل ہے جسے تحصیل کمالات و سعادات کے لئے ایک متاع گرانمایہ سمجھنا چاہیے یا قسم ہے نماز عصر کے وقت کی جو کاروباری دنیا میں مشغولیت اور شرعی نقطہ نظر سے نہایت فضیلت کا وقت ہے (حتی کہ حضور ﷺ نے حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کا سب گھر بار لٹ گیا) یا قسم ہے ہمارے پیغمبر کے زمانہ مبارک کی، جس میں رسالت عظمیٰ اور خلافت کبریٰ کا نور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ وَالْعَصْرِ۔ } ”زمانے کی قسم ہے۔“ یعنی اس حقیقت پر زمانہ گواہ ہے یا پوری تاریخ انسانی شاہد ہے کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 عصر کے دو معنی :۔ عصر کا لفظ بنیادی طور پر دو معنوں میں آتا ہے (1) عصر کا وقت جو انتہائی مصروفیات کا وقت ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اس وقت کی نماز کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ 238۔ ) 2 ۔ البقرة :238) اور احادیث میں یہ صراحت مذکور ہے۔ کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی عصر کی نماز ضائع ہوگئی۔ وہ سمجھ لے کہ اس کا گھر بار اور مال لٹ گیا۔ (ترمذی، ابو اب الصلوۃ۔ باب ماجاء فی السہو عن وقت صلوۃ العصر) اور عصر کا دوسرا معنی زمانہ اور اس سے وہی زمانہ یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (بسبب اپنی فرصت عمر کے تلف وضائع کر ڈالنے کے) (آیت) ” العصر “۔ زمانہ جو ہر لمحہ انتہائی سرعت کے ساتھ گزرتا چلا جاتا ہے، وہی تو وہ ظرف ہے جس کے اندر انسان سب ہی کچھ کرتا رہتا ہے، اور سب ہی کچھ اس پر گزرتی رہتی ہے، اس میں وہ کھوتا بھی ہے، اور اسی میں وہ پاتا بھی ہے۔ رنج و حرمان، نقصان و خسران بھی اسی میں اس پر واقع ہوکررہتا ہے۔ محض وقت کا مفہوم ادا کرنے کے لئے عربی زبان میں زبان دہروغیرہ اور لفظ بھی تھے۔ لیکن گزرتے ہوئے زمانہ کی طرف، مرور ایام کی طرف خاص اشارہ کرنے والا لفظ یہی ” عصر “ ہے۔ وقسم بالزمان لما فی مرورہ من اصناف العجائب (کشاف) عمر انسانی کے لمحات دیکھتے دیکھتے کس تیزی سے گزر جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، زمانہ کی یا مابعد الزوال سے غروب تک کے زمانہ یا عرص کی نماز کی قسم بلاشبہ انسان اپنی تجارت میں بڑے خسارے میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ایک دوسرے کو حق کی یعنی ایمان کی نصیحت اور طاعت پر صبر اور معصیت سے اجتناب کی تلقین کرتے رہے، خسارے میں نہیں ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد مفسر عالم نے الدھر، او مابعد الزوال، او صلوۃ العصر، کہہ کر عصر کی تین تفسیروں کی طرف اشارہ کیا ہے اور الانسان کے بعد لفظ جنس کا اضافہ کر کے بتادیا کہ الانسان میں الف لام جنس کا ہے اور اس کی تائید الا الذین آمنوا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والعصر . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زمانہ کی قسم۔ بعض علماء نے زمانہ کی قسم کھانے کی یہ وجہ بیان کی کہ غور کرنے والوں کے لیے زمانہ بڑا عبرت آگیں ہے۔ ابن کیسان ؓ نے کہا : العصر سے مراد ہے رات و دن۔ حسن بصری (رح) نے کہا : زوال سے غروب آفتاب تک العصر ہے۔ قتادہ نے کہا : دن کی آخری گھڑی العصر ہے۔ مقاتل (رح) نے کہا : نماز عصر مراد ہے یعنی درمیانی نماز ہے ہم اس کا ذکر سورة بقر میں کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) زمانہ کی سختیوں اور تکالیف کی یا یہ کہ نماز عصر کی قسم ہے کافر اپنے عمل کے برباد ہونے اور جنت نہ ملنے سے بڑے خسارے اور عذاب میں ہے، یا یہ کہ بڑھاپے اور موت کے بعد نقصان عمل کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) والعصر، ان الانسان لفی خسر…: قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر اس دعویٰ کی دلیل ہوتی ہیں جو قسموں کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ اس سورت کا مفہوم سمجھنے کے لئے خسارے کا مفہوم ذہن میں لانا ضروری ہے۔ خسارہ یا نفع کسی نہ کسی تجاتر اور بیع میں ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا راس المال (سرمایہ) لگاتا ہے، اگر راس المال فروخت ہوجائے اور راس المال اور محنت سے بڑھ کر آمدنی ہوجائے تو یہ نفع ہے، ورنہ خسارہ۔ اس سورت میں زمانے کی قسم کھا کر یہ حقیقت مدلل کی گئی ہے کہ چار صفات والے لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان ہی خسارے میں ہے، کیونکہ انسان کے پاس رسا المال صرف اور صرف زمانے کا کچھ حصہ یعنی اس کی عمر ہے، جیسا کہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قسم ہے زمانہ کی۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ عصر کا معنی اور مراد : مسئلہ نمبر 1: عصر سے مراد دھر (زمانہ) ہے۔ یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ عصر دہر کی طرح ہے۔ شاعر نے کہا : سبیل الھوی وعر و بحر الھوی غمر۔۔۔ و یوم الھوی شھر و شھر الھوی دھر محبت کا راستہ پر پیچ ہے محبت کا سمندر گہرا ہے محبت کا دن مہینہ برابر ہوتا ہے اور محبت کا مہینہ زمانہ برابر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمانہ کی قسم اٹھائی کیونکہ اس میں احوال کے تصرف اور تبدل پر تنبیہ ہے اور اس میں صانع پر دلالت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عصر سے مراد رات اور دن ہے، حمید بن ثور نے کہا : ولن یلبث العصران یوم و لیلۃ۔۔۔ اذا طلبا ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعصر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ الطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو ملیکہ الدارمی جو صحابی تھے ان سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی جب آپ میں ملاقات کرتے وہ آپس میں جدا ہونے سے پہلے ان میں سے ایک دوسرے پر سورة والعصر اس کے آخرتک پڑھتا۔ زمانہ کی قسم ! بیشک انسان گھاٹے میں ہے۔ پھر ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا۔ 3۔ ابن سعد نے میمون (رح) سے روایت کیا کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت عمر ؓ پر نیزے سے حملہ کیا گیا تو ہم نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ماما بنایا تو انہوں نے صبح کی نماز میں دو چھوٹی سورتیں والعصر اور اذا جاء…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالْعَصْرِ : قسم ہے زمانے کی ] نوٹ 1: العصر (زمانہ) کا لفظ گزرے ہوئے زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور گزرتے ہوئے زمانے کے لیے بھی جسے حال کہتے ہیں۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی تھے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے۔ اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کا مطلب سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ جو زمانہ اب گزر رہا ہے یہ دراصل وہ وقت ہے جو ہر ایک شخص کو دنیا میں کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس کی مثال اس وقت کی سی ہے جو امتحان کے کمرے میں طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ وقت جس تیز رفتاری سے گزر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

اوپر سورة العصر کا ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں انسان کی ناکامی اور کامیابی کا اجمالی طور پر ایک خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ والعصر (قسم ہے زمانہ کی) اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے زمانہ کو پیش فرمایا، زمانہ اس بات کا گواہ ہے (جو اس کی زندگی کی انمول پونجی بھی ہے) کہ دنیا میں جو لوگ ہیں عموماً خسارہ ہی میں ہیں، دنیا میں جو کچھ کماتے ہیں اسے تو چھوڑ ہی جاتے ہیں اور چونکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے خالی ہوتے ہیں اس لیے آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے، انسان اگر گزشتہ اقوام کی تاریخ پڑھے اپنے سامنے جو انقلابات جہاں ہیں ان کو دیکھے تو اس کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آجائے گی کہ عام انسانوں کے عمومی حالات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” والعصر “ زمانہ گواہ ہے کہ انسان سراسر خسارے میں ہے۔ زمانے کے مختلف ادوار کو دیکھئے اور ہر دوڑ کے بڑے سے بڑے بادشاہ کا حال ملاحظہ کیجئے کہ دنیا کی شان و شوکت اور دولت و سلطنت کا فخر و غرور کہاں گیا جب دنیا سے رخصت ہوئے تو کوئی چیز بھی ساتھ نہ گئی، نہ دولت نے ساتھ دیا نہ سلطنت نے نہ لاؤ لشکر نے۔ اس کے علاوہ العصر کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ تفصیل متداول تفسیروں میں ملاحظہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة العصر ہے۔ اس کی پہلی آیت میں عصر کا لفظ آیا ہے۔ جس سے یہ نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیات ہیں اور یہ سورة چودہ الفاظ اور ارسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورة کو قسم سے شروع کیا گیا ہے۔ اس میں انسانیت کی کامیابی کے لئے چار اٹل اصل اصول بیان کئے گئے ہیں۔ جن کا نتیجہ قطعی طور پر سامنے آئے گا اور اگر لوگ ان اصولوں کو اپنا لیں گے تو انہیں ضرور سعادت نصیب ہوگی۔ عصر کا مفہوم والعصر قسم ہے عصر کی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ 1 ؎ کہ عام طور پر عصر سے زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔ تاہم اس مقام پر عصر سے مراد عصر کی نماز بھی ہو سکتی ہے۔ عصر سے مراد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْعَصْرِ۝ 1 ۙ عصر العَصْرُ : مصدرُ عَصَرْتُ ، والمَعْصُورُ : الشیءُ العَصِيرُ ، والعُصَارَةُ : نفاية ما يُعْصَرُ. قال تعالی:إِنِّي أَرانِي أَعْصِرُ خَمْراً [يوسف/ 36] ، وقال : وَفِيهِ يَعْصِرُونَ [يوسف/ 49] ، أي : يستنبطون منه الخیر، وقرئ : (يُعْصَرُونَ ) أي : يمطرون، واعْتَصَرْتُ من کذا : أخذت ما يجري مجری العُصَارَةِ ، قال الشاعر : وإنّما العیش بربّانه ... وأنت من أفنانه مُعْتَصِرٌ وَأَنْزَلْنا مِنَ الْمُعْصِراتِ ماءً ثَجَّاجاً [ عم/ 14] ، أي : السحائب التي تَعْتَصِرُ بالمطر . أي : تصبّ ، وقیل : التي تأتي بالإِعْصَارِ ، والإِعْصَارُ : ريحٌ تثیر الغبار . قال تعالی: فَأَصابَها إِعْصارٌ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ وللقسم العصر مقسم بہ والمرادبہ الدھر عموماً وقیل العشی وھو مابین زوال الشمس وغروبھا وقیل صلوٰۃ العصر۔ قرء الجمھور بسکون الصادوقریٔ بکسرھا ایضاً ان الانسان اسم ان لفی خسر خبرھا والجملۃ جواب القسم۔ قرء الجمھور بضم الخاء و سکون السین وقریٔ بضبھما ایضاً والمعنی فی نقصان و خسران وشر۔ الاستثناء متصل من الانسان وقیل منقطع علی ان المراد بالانسان الکافر وعملوا ومابعدہ عطف علی آمنوا والتواصی وصیۃ بعضھم لبعض۔ تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ صرف قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ ربط ¦ ربط اس سورة کا سورة تکاثر سے یہ ہے کہ انسان تمام عمر کثرت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالْعَصْرِ ۔ (العصر : 1) (قسم ہے زمانے کی۔ ) قسم کی وضاحت ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جس لفظ یا جملے پر وائو قسمیہ آتی ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کی حیثیت دلیل کی ہوتی ہے۔ اور اس کے بعد جو جملہ آتا ہے اسے جوابِ قسم کہتے ہیں اور اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ گویا قسم دلیل بن کر اس دعوے کا اثبات کرتی ہے۔ اور کبھی اسی قسم کو شاہد یعنی گواہ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ شاہد جوابِ قسم کے اثبات کے لیے گواہی دیتا ہے۔ عصر کا مفہوم یہاں زمانے کی قسم کھائی گئی ہے۔ زمانہ کا لفظ عام طور پر تین معنوں پر بولا جاتا ہے ماضی، حال اور مستقبل۔ زمانے کے مجموعے پر تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے التکاثر کے آخر میں بتلایا ہے کہ ہر وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھائے گا جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دے گا اس سے ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا مگر اس کے باوجود انسان نقصان کا سودا کیے ہوئے ہے۔ فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ عربی زبان میں واؤ کا حرف قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس چیز کی قسم اٹھاتا ہے لازم نہیں کہ وہ چیز دوسری چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو۔ قسم اٹھانے کا بنیادی مقصد اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جس چیز کے لیے قسم اٹھائی جاتی ہے تاکہ سننے والا اس بات کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھ سکے۔ یہاں زمانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : وَالْعَصْرِ (قسم ہے زمانہ کی) نماز عصر کی قسم اٹھائی اس کی عظمت شان کی وجہ سے اس کی دلیل دوسرے ارشاد میں ہے : والصلاۃ الوسطٰی مصحف حفصہ ؓ میں صلاۃ العصر کے لفظ ہیں۔ اور یہ بھی بات ہے کہ اس کی ادائیگی میں تکلیف زیادہ ہے۔ کیونکہ لوگ اس وقت اپنے کاموں اور تجارات میں گھر جا رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ دن کا پچھلا وقت ہوتا ہے۔ اور اس وقت گزران اوقات کی مشغولیتوں میں مست ہوتے ہیں۔ نمبر 2۔ العشی کی یہاں قسم اٹھائی جیسا کہ چاشت کی قسم پچھلی سورتوں میں اٹھائی گئی ہے کیونکہ اس میں دلائل قدرت ہیں۔ نمبر 3۔ زمانہ کی قسم اٹھائی کیونکہ اس کے گزرنے میں قسم قسم کے عجائبات ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” والعصر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمانے کی قسم ہے۔ کہا گیا ہے اس کی قسم کھائی اسی لئے کہ اس میں دیکھنے والے کے لئے عبرت ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی زمانے کے رب کی قسم ہے اور اسی طرح اس کی مثل دوسری قسموں میں ہے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں العصر سے مرادرات اور دن ہیں۔ ان دونوں کو عصران کہا جاتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں سورج کے زوال سے اس کے غروب ہونے تک اور قتادہ فرماتے ہیں دن کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز کی قسم کھائی اور یہی صلوٰۃ وسطیٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ اگرچہ مفسرین سلف نے لفظ عصر کے طرح طرح کے معنی کئے ہیں لیکن مشہور قول حضر عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی ہے کہ عصر کے معنی اس سورة میں زمانہ کے ہیں اس واسطے امام بخاری 3 ؎ نے اسی قول کو لیا ہے زمانہ کے دو جز رات دن ہیں دنیا بھر کے عجائبات قدرت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ پیدائش میں سب انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں لیکن عادت میں کوئی نیک ہے دنیا کی چند روزہ زیست میں عقبیٰ کی راحت کے اسباب مہیا کرنا ہے اور دوسروں کو بھی نیک راستہ سے لگانا ہے اور کوئی لہو و لعب میں اپنی زندلی ضائع کرتا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا ہے اور یہی بات اس سورة کے معنی کا حاصل ہے نیک خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

اللہ تبارک وتعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے جو گردش شب وروز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر، نفع اٹھانے والے کی ضد ہے خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے جیسے اس شخص کا حال، جس نے دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھایا جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے۔ 1۔ ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) زمانے کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ زمانے کی قسم دراصل شہادت ہے انسان کے خسارے پر، والعیاذ باللہ۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے زمانے کی جو کہ شاہد عدل ہے اس مضمون کا جو کہ اس قسم کے ذریعے بیان فرمایا گیا ہے کہ عمر رواں اور حیات مستعار ہی انسان کا راس المال اور اس کی وہ عظیم الشان پونجی اور بےمثل دولت ہے جس میں وہ آخرت کی حقیقی و ابدی زندگی کی دائمی فوز و فلاح کا سامان کرسکتا ہے، اور یہ عظیم الشان دولت برف کے ڈلے کی طرح مسلسل پگھلتی، گھٹتی اور لمحہ بہ لمحہ انسان کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے، اور اس کا جو حصہ گزر گیا وہ پھر کبھی اور کسی بھی قیمت پر انسان کو واپس نہیں مل سکتا، تو پھر اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

خسارہ اور اس سے بچاؤ تشریح : تین آیات کی یہ چھوٹی سی سورت علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ عصر کا مطلب ہے زمانہ تو اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انسان خسارے میں ہے۔ یہاں پہلے عصر یعنی زمانے کی کچھ وضاحت کردی جائے۔ تو کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں اس لیے اس کو برا بھلا ہرگز نہ کہا کرو۔ حقیقت بھی یہی ہے جب وہی اول ' وہی آخر ' وہی ظاہر ' وہی باطن ہے تو پھر کون سا زمانہ رہ جاتا ہے جو اللہ کے وجود یا نظر یا حفاظت سے خالی رہ جاتا ہے۔ بیشک ماضی ' حال ' مستقبل سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جب ہمارا عقیدہ پوری طرح مضبوط ہے تو پھر ڈانواں ڈول ہونے گبھرانے پریشان ہونے کی کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے زمانے کی یعنی زمانہ خود گواہ ہے کہ انسان خسارے میں جارہا ہے جس مال کے لیے تڑپتا ہے وہ کھوجائے گا ہر لمحہ عمرعزیز کم ہورہی ہے اور اعضاء کمزوری کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ہر شے اور ہر طاقت خرچ ہورہی ہے کہ اللہ نے بیشمار نعمتیں دیں جو ایک ایک کرکے ختم ہونے کو ہیں اور موت سب لذتیں مٹا دینے کو ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اللہ کو پہچانا اس کا شکر ادا کیا انہوں نے بجائے خسارے کے کمالات حاصل کیے کہ اللہ کے حکم اور نظام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا اور زندگی بھر حق کی تلقین کرتے رہے یعنی یہ کام نہ صرف خود کیا بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی بھرپور کوشش…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یہ ترجمہ اس لحاظ سے ہے کہ ” عصر “ کے معنی عصر کے وقت یا نماز کے بھی ہیں اور زمانہ کے بھی۔ بعض مفسرین نے زمانہ سے مراد خاص طور پر نبی ﷺ کا زمانہ لیا ہے۔ زمانہ کی قسم اس لحاظ سے کھائی کہ آگے جو حقیقت بیان کی جا رہی ہے اس کی سچائی پر زمانہ کے واقعات گواہ ہیں، اور عصر کی اس لحاظ سے کہ وہ بڑا بابرکت وقت ہے۔ اس میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، یہاں تک کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس سے عصر کی نماز قضا ہوگئی گویا اس سکا سب گھر بار لٹ گیا۔ (قرطبی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(103:1) والعصر : واؤ قسمیہ ہے العصر مقسم بہٖ ۔ قسم ہے عصر کی۔ العصر سے کیا مراد ہے اس میں علماء کے متعدد اقوال ہیں۔ مثلاً (1) اس سے مراد زمانہ ہے۔ (حضرت ابن عباس ؓ (2) اس سے مراد رات و دن ہے۔ (ابن کیسان (رح)) (3) اس سے مراد زوال سے غروب آفتاب تک العصر ہے۔ (حسن بصری (رح)) (4) دن کی آخری گھڑی العصر ہے۔ (قتادہ) (5) اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ (مقاتل) (6) الدھر کلہ (زمانہ مطلقا) ۔ (ایسر التفاسیر) (7) الزمن کلہ او جزء منہ (زمانہ مطلقا یا اس کا کوئی حصہ) ۔ (اضواء البیان) وغیرہ۔ قسم اس شے کی کھائی جاتی ہے جو قسم کھانے والے کے نزدیک اہم اور عظیم ہو اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی قسم کھائی ہے اپنی مخلوق کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن : العصر۔ زمانہ۔ خسر۔ نقصان۔ گھاٹا۔ تو اصوا۔ ایک دوسرے کو کہتے رہے۔ تاکید کرتے رہے۔ تشریح : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تعلیمات کو اس طرح سمودیا ہے کہ بقول امام شامی ؓ اگر لوگ اسی ایک سورت میں غورو فکر کرلیں تو یہی سورت ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابہ کرام ؓ بھی اس سورت کو بہت اہمیت دیتے تھے چناچہ حضرت عبداللہ ابن حصین الدارمی سے روایت ہے کہ اصحاب رسول ﷺ میں جب دو آدمی ملتے تو اس وقت تک جدانہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورة عصر نہ سنالیتے۔ (طبرانی ) اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے عصر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام لوگ سراسر گھاٹے اور نقصان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) عصر زمانہ کو کہتے ہیں اور زمانہ چونکہ عجائبات پر مشتمل ہے اس میں احوال کا تغیر وتبدل ناظر کے لیے عبرت کا سبب ہوتا ہے، اور یہ چیزیں خالق حکیم کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اس لیے ہوسکتا ہے کہ زمانہ کی قسم مراد ہو یعنی قسم ہے ہمارے پیغمبر کے زمانہ مبارک کی جس میں رسالت عظمی اور خلافت کبری کا نور اپنی پوری آب تاب کے ساتھ چمکا، کیونکہ یہ بڑی خیر و برکت کا زمانہ اور تمام زمانوں میں سے زیادہ فضیلت وشرف والا ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضور کے زمانہ کی قسم یاد فرمائی جیسا کہ لا اقسم بھذالبلد۔ میں حضور کے مسکن مکان کی قسم یا دفرمائی ہے اور جیسا کہ لعمرک میں آپ کی عمر شریف کی قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] اصل میں لفظ '' عصر '' استعمال ہوا ہے جو گزرے ہوئے زمانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور گزرتے ہوئے زمانے کے لئے بھی۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب ان تاریخی واقعات کی طرف توجہ دلانا ہے جو قرآن اور دوسرے صحیفوں میں بیان ہوئے ہیں اور جو اس بات پر شہادت دے رہے ہیں کہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی تھے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے۔ اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگیاں غفلت میں نہ گزاریں بلکہ پوری مستعدی سے ان کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ انہی تیز رولمحات کے بدلے وہ عیش وآرام کی ابدی زندگی حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ ان صفات کو اپنے اندر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة العصر اس مختصر سی سورت میں انسانیت کی پوری تاریخ مضمر ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ تم عصروزمانہ کے اوراق الٹ جاؤ۔ جو قومیں اس معمورہ ارضی پر جلوہ گر ہوئیں ، ان میں تمہیں ایک حقیقت نظر آئے گی اور وہ یہ ہے کہ جن قوموں نے فطرت کے قوانین کی رعایت کی اور اللہ کے احکام کو تسلیم کیا ۔ وہ زندہ ہیں اور جنہوں نے مخالفت کی اور سرکشی وبغاوت کا اظہار کیا ۔ وہ مٹ گئیں ۔ یہی وہ راز ہے قوموں کے فنا اور بقا کا ۔ جس کو اکثر لوگوں نے نہ سمجھا اور ابدی خسارے اور گھاٹے کو خریدلیا ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قسم ہے زمانہ کے رب کی 1 ؎ ( والعصر) عصر سے مراد زمانہ ہے اور وقت عصر بھی ۔ امام راغب رقمطراز ہیں کہ عصر اور عصر کے معنی زمانے کے ہیں ۔ اس کی جمع عصور ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ( والعصر ان الانسان لفی خسر) زمانہ کے رب کی قسم بلا شبہ انسان ٹوٹے یعنی گھاٹے میں ہے۔ نیز عصر کے معنی پچھلے پہر یعنی دن کے آخری حصے کے بھی ہیں اور اس معنی میں نماز عصر بھی مراد لی گئی ہے۔ ( مفردات) صاحب قاموس نے اس کی جمع اعصار عصورا اعصر اور عصر نقل کی ہے۔ آیت میں ( عصر) سے مراد بعض نے زمانہ لیا ہے اور بعض نے نماز عصر اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ (والعصر) ایک چھوٹا سا کلمہ ہے لیکن اس کے اندر بہت بڑا وسیع مضمون پنہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Virtue of [ Studying ] Surah al-` Asr Sayyidna ` Ubaidullah Ibn Hisn ؓ reports that whenever two Companions of the Holy Prophet ﷺ met, they would not part company until one of them had recited Surah Al-` Asr in its entirety to the other. [ Transmitted by At-Tabarni ]. Imam Shafi` i (رح) says that if people thought about Surah Al-` Asr carefully, it would be enough for their guidance. It is a concise but comprehensive Surah, which in three verses, outlines a complete way of human life based on the Islamic worldview. In this Surah, Allah swears an oath by the 'Time' and says that mankind is in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 In this Surah an oath has been sworn by the Time to impress the point that man is in sheer loss and only those people are an exception from the loss who are characterised by four qualities: (1) Faith, (2) righteous deeds, (3) exhorting one another to Truth, and (4) exhorting one another to patience. Let us consider each of these parts separately in order to understand the meaning fully. As for the oath, we have explained several times above that Allah has not sworn an oath by any of the created objects on account of its glory or its excellence and wonderful qualities but for the reason that…

Read the full tafseer →