At-Takaathur 102:8

At-Takaathur · from ayah 8

102:8

ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۟۠ثُمَّ لَـتُسۡئَـلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ

پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then you will surely be asked that Day about pleasure.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Takaathur

All translations of 102:8

پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش ہوگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس دن تم سے (اﷲ کی) نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا (کہ تم نے انہیں کہاں کہاں اور کیسے کیسے خرچ کیا تھا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، پھر تم سے اس دن نعمتوں کے باب میں پرستش ہونی ہے تو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر تم سے ضرور بالضرور پوچھ ہونی ہے اس دن ان نعمتوں کے بارے میں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس روز تم سے (ہر) نعمت کی پوچھ ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس دن تم سے آرام کی حقیقت پوچھیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, on that Day, you will be called to account for all the bounties you enjoyed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then you will be asked about all the pleasures (you enjoyed in the world) .

— Muhammad Taqi Usmani

Then you will be asked about all the pleasures (you enjoyed in the world) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then on that Day you shall be asked about the delights!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, on that day, ye will be asked concerning pleasure.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then you will surely be asked that Day about pleasure.

— Saheeh International

Then, on that day, you will be questioned about the bounties (of God).

— Muhammad Sarwar

Then on that day you shall most certainly be questioned about the boons.

— Muhammad Habib Shakir

Then, on that Day, ye shall surely be asked of the delights.

— Abdul Majid Daryabadi

Then, shall ye be questioned that Day about the joy (ye indulged in!).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 102:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مال و دولت اور اعمال : ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التکاثر 4 اس فقرے میں " پھر " کا لفظ اس معنی میں نہیں ہے کہ دوزخ میں ڈالے جانے کے بعد جواب طلبی کی جائے گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر یہ خبر بھی ہم تمہیں دیے دیتے ہیں کہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں یہ سوال کیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سوال عدالت الہی میں حساب لینے کے وقت ہوگا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بات منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بندوں کو دی ہیں ان کے بارے میں جواب دہی مومن و کافر سب ہی کو کرنی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں نے کفران نعمت نہیں کیا اور شکر گزار بن کر رہے وہ اس محاسبہ میں کامیاب رہیں گے، اور جن لوگوں نے اللہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم یعنی تم سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے متعلق باز پرس ہوگی کہ تم نے ان کا شکر کیا ادا کیا اور ان کو گناہوں میں تو خچ نہیں کیا، ان میں سے بعض نعمتوں کے متعلق تو خود قرآن میں دوسری جگہ وضاحت آگئی جیسا فرمایا ان السمع والبصر و الفوادکل اولیک کان عنہ مسؤ لا جس میں انسان کی قوت شنوائی، بینائی اور دل سے متعلق وہ لاکھوں نعمتیں آگئیں جن کو انسان ہر لمحہ استعمال کرتا ہے۔ حدیث۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بندہ سے جس چیز کا سب سے پہلے سوال ہوگا (وہ تندرستی ہے) اس کو کہا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں تندرستی نہیں دی تھی اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نعمتوں کا حق: ’ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ‘۔ یہ بات بھی ’لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ‘ کے تحت ہی ہے، یعنی اگر تمہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اس دن تم سے تمام نعمتوں کی پرسش ہونی ہے۔ پرسش سے مراد، ظاہر ہے کہ، وہ سزا ہے جو ان کی ناشکری، ناقدری اور ان کے سوء استعمال کے نتیجہ میں بھگتنی پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی قوتیں و صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اور جو وسائل و ذرائع بھی بخشے ہیں وہ سب ’نعیم‘ میں داخل ہیں۔ ان کا فطری حق یہ ہے کہ ان کے لیے خدا کا شکرگزار رہا جائے اور ان کو اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر ان کاموں میں استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ عطا ہوئے ہیں۔ کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہونگی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن اور صحت، مال و دولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک سے ہوگا۔ بعض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کیا ہوگا وہ عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا وہ دھر لیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یعنی دنیا میں جو نعمتیں میسر تھیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کیا ؟ اور اس کی کس طرح فرماں برداری کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں تم نے کہاں سے حاصل کیں۔ کہاں ان کو خرچ کیا۔ کیا اللہ کی اطاعت کرکے حاصل کیا اور اللہ کی اطاعت میں خرچ کیا یا اللہ کی معصیت کرکے حاصل کیا اور معصیت میں خرچ کیا۔ حلال راستہ سے کمایا اور حلال راہ میں خرچ کیا یا حرام راستہ سے کمایا اور حرام میں خرچ کیا۔ کیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ کیا ان کا حق ادا کیا۔ کیا اس میں دوسروں کو شر کی کیا یا خود ہی استعمال کرتے رہے۔ یہ سوالات لازماً تم سے ہوں گے کہ یہ دولت کس طرح اکھٹی کی اور کس طرح تم نے اس پر تفاخر کیا۔ یہ دولت اور یہ انعامات تمہیں اپنی مدہوشی اور غفلت کی وجہ سے ہلکی نظر آتی ہیں۔ اور کھیل نظر آتی ہیں لیکن ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اس وقت کہیں گے اب بتلاؤ ! دنیا کے عیش وآرام کی کیا حقیقت تھی۔ یا اس وقت سوال کیا جائے گا کہ جو نعمتیں (ظاہری و باطنی، آفاقی وانفسی، جسمانی و روحانی) دنیا میں عطا کی گئی تھیں ان کا حق تم نے ادا کیا اور منعم حقیقی کو کہاں تک خوش رکھنے کی سعی کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۔ } ”پھر اس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔“ اس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک ایک نعمت کے بارے میں تم سے جواب طلبی ہوگی کہ دنیا میں تم نے اس کی کون کون سی نعمتوں سے استفادہ کیا اور ان کے حقوق کہاں تک ادا کیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو لاتعداد ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا کہ (وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18؀) 16 ۔ النحل :18) (14: 34، 16: 18) یعنی تم پر اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر تم انہیں شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے۔ تاہم ان نعمتوں کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خداداد ہیں مثلاً جوانی اور صحت جو اکیلے ہی ہزار نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ایسی نعمتوں کے متعلق یہ سوال ہوگا کہ ان کو تم نے کس قسم کی کوششوں میں صرف کیا تھا۔ اور دوسری وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کے اپنے کسب کو بھی دخل ہے۔ جیسے مال و دولت اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (کہ ہر نعمت کا حق، یعنی ایمان وطاعت بجالائے یا نہیں) (آیت) ” ثم “۔ مفسرین نے کہا ہے کہ خطاب یہاں نوع انسان کو عام ہے، کفار ومشرکین کے ساتھ مخصوص نہیں، اور (آیت) ” ثم “۔ اس لحاظ سے مفید ترقی ہے، یعنی یہ سوال جب غیر مجرمین تک سے ہوگا، جن پر کوئی ضرر اس سے مترتب نہ ہوگا، تو پھر مجرمین کے لئے اس سوال کی جواہمیت، اشدیت اور ہیبت ہے، ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” النعیم “۔ اس میں دنیا کی ہر وہ چیز آگئی، جو کسی نہ کسی جہت سے مفید یا لذیذہو۔ یجب حملہ علی جمیع النعم (کبیر) والنعیم عام لکل مایتلذذبہ من مطعم ومشرب ومفرش ومرکب (روح) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عطا کی ہوں گی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن، صحت، مال و دولت، اولاد وغیرہ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ سوال کافروں سے ہوگا، مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ سوال مومن و کافر ہر ایک سے ہوگا اس لئے کہ محض سوال مستلزم عذاب نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم . پھر اس روز تم سے نعمت کی باز پرس کی جائے گی کہ تم نے نعمتوں کا شکر کیوں نہیں کیا اور ناشکری کیوں کی۔ بغوی نے کہا جن نعمتوں میں وہ تھے ‘ قیامت کے دن ان کے شکر کی باز پرس ان سے کی جائیگی۔ مقاتل نے کہا : کفار مکہ کو دنیا میں مال و منال حاصل تھا مگر انہوں نے نعمتیں دینے والے کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ دوسروں کی پوجا کی ‘ قیامت کے دن اللہ کا شکر نہ کرنے پر انکو عذاب ہوگا۔ یہی قول حسن بصری کا ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی مرفوعاً یہی مروی ہے ‘ گویا آیت میں انہی کفار کو خطاب ہے جو تکاثر کی وجہ سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لَتَرَوُنَّ سے آخر سورت تک سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–8

(5۔ 7)۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لیتے کہ دنیا میں جو تم نے فخر کیا ہے قیامت میں اس پر کیا مواخذہ ہوگا۔ واللہ قیامت کے دن دوزخ کو دیکھو گے اور تم سب لوگوں سے کھانے، پینے، پہننے کی سب نعمتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ثم نتسلن یومئذ عن النعیم : یعنی صحت و عافیت، کھانیپ ینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا ؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسین ہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ عنہمابھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے، اس نے مہمانی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کمجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا۔ جب خوب سیر ہوچکے تو آپ ﷺ نے فرمایا :(والذی نفسی بیدہ التسالن عن ھذا النعیم یوم القیامۃ) (مسلم، الاشربۃ، باب جواز استباعہ غیرہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

پھر ضرور پوچھا جائے گا تم سے اس دن جملہ نعمتوں کے بارے میں۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ایک دن یا ایک رات باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر موجود ہیں، پوچھا : تمہیں اس وقت کس چیز نے گھروں سے نکالا ؟ دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھوک نے۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے دونوں اٹھو، دونوں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے رسول اللہ ایک انصاری کے گھر آئے تو وہ گھر پر نہیں تھا جب اس کی بیوی نے رسول اللہ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ رسول اللہ نے اس سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

جسمانی اعضاء وجوارح کی سلامتی نعمت ہے 22۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم میں النعیم سے مراد ہے بدنوں اور کانوں اور آنکھوں کا صحیح اور تندرست ہونا اللہ تعالیٰ بندوں سے سوال کریں گے ان کے استعال کرنے بارے میں ار وہ اس بارے میں ان سے زیادہ جانتے ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا۔ (السراء آیت 36) بیشک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔ 23۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم۔ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ۝ۧ (آیت۔ 8) اَلنَّعِیْمِ پر لام جنس ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ (رح) 008﴾ صاحب روح المعانی نے یہاں طویل مضمون لکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نعمتوں کا سوال کس سے ہوگا اور کب ہوگا ؟ چونکہ یہ آیت بھی ما سبق پر معطوف ہے اور اس میں بھی جمع مذکر حاضر کا صیغہ لایا گیا ہے اس لیے سیاق کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب بھی انہی لوگوں سے ہوگا جو دوزخ کو دیکھیں گے اور دوزخ میں داخل ہوں گے اور یہ سوال بطور سرزنش اور ڈانٹ کے ہوگا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کس کام میں لگایا ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں لگانے کی بجائے دنیا میں منہمک رہے، اللہ کی یاد سے اور آخرت سے غافل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔ (ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

5:۔ ” لترون “ تخویف اخروی۔ ” عین الیقین “ مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ یا یہ مفعول مطلق مقدر کی صفت ہے ای رویۃ عین الیقین (روح) ۔ تم ضرور بالضرور دوزخ کو دیکھ وگے۔ پھر کہتا ہوں تم دوزخ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرو گے اور تمہیں اس کا عین الیقین حاصل ہوجائیگا۔ پھر یہ بھی سن لو کہ اس دن تم سے ساری نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ میں تم پر جو انعام کیے تم نے ان کا شکریہ ادا کیا یا نہ۔ وکل ھذہ نعم فیسئل العبد عنہا ھل شکر ذلک امر کفر (قرطبی ج 20 ص 178) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

مال کی محبت انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ۝ 8 ۧ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–8

کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۔ (التکاثر : 5 تا 8) (ہرگز نہیں ! اگر تم یقین کے ساتھ جانتے (تو تمہارا یہ طرزعمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے۔ پھر تم آخرت میں دوزخ کو یقین کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ پھر ضرور اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ) غفلت کا اصل سبب تمہارا یہ طرزعمل کہ تم نے زندگی کا اصل ہدف مال و دولت کی کثرت، عہدہ و منصب کی بہتات اور معیارِزندگی کو اونچا کرنے کی ہوس کو اس طرح بنایا ہے کہ ساری زندگی اسی کے حصول میں کھپ جاتی ہے حتیٰ کہ موت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–8

فہم القرآن ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ 3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔ یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَپذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (پھر اس روز تم سب سے نعمتوں کی پوچھ گچھ ہوگی) امن اور صحت کے متعلق خصوصاً سوال ہوگا۔ کہ ان دونوں کو تم نے کس بات میں فنا کر ڈالا۔ قول ابن مسعود ؓ : اس خوش عیشی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ جس کی لذتوں نے دین اور اس کی تکالیف سے مشغول کردیا۔ قول حسن ؓ : ان تمام نعمتوں کے متعلق پوچھاجائے گا۔ جو اس جھونپڑی کے سوا ہونگیں جس میں پناہ لیتا ہے۔ اور اس کپڑے کے علاوہ ہونگی جس سے اپنے جسم کو ڈھانپتا ہے اور اس روٹی کے ٹکڑے کے علاوہ ہونگی جس سے تقویت پاتا ہے۔ اور مرفوع روایات میں بھی یہ مضمون وارد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی کفار مکہ وہ دنیا میں خیر اور نعمت میں تھے۔ پس وہ قیامت کے دن اس کے لشکر کے بارے میں سوال کیے جائیں گے جس میں وہ تھے اور انہوں نے نعمتوں کے رب کا شکرادا نہیں کیا کہ اس کے غیر کی عبادت کی، پھر وہ شکر کے چھوڑنے پر عذاب دیئے جائیں گے۔ یہ حسن (رح) کا قول ہے اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے اس کو مرفوع نقل کیا ہے فرمایا ” لتسئلن یومئذ عن النعیم “ فرمایا امن اور صحت اور قتادہ (رح) نے فرمایا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر نعمت والے سے سوال کریں گے اس نعمت کے بارے میں جو اس پر کی ہے۔ بندے سے اس پر نعمتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا حضرت ابوہریرہ ؓ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ) پھر تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیاتم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی تب وہ تمہیں ان نعمتوں سے اعلی و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔ یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا ؟ بلکہ تم نے اللہ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ویوم یعرض الذین کفروا۔۔۔ تا۔۔۔۔ تفسقون۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

(5) منکرین و مکذبین کو جہنم کے دیکھنے کی تنبیہ و تذکری : سو منکرین کو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو یقینا دیکھنا ہے دوزخ کو، پس حیات دنیا کی اسی فرصت میں اس سے بچنے کی فکر کرلو، ورنہ ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے گا، اور اس سے بچنے کی کوئی صورت تمہارے لیے اے منکرو ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور تم لوگوں کو اسے دیکھنا ہوگا عین الیقین کے طور پر، اس کے اندر پڑ کر اور اس کے عذاب میں مبتلا ہوکر، اپنے کفر و عصیان اور اسراف و طغیان کی بناء پر، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ حضرت اہل علم کا کہنا ہے کہ یہاں پر رویت یعنی دیکھنے سے مراد اس کے عذاب کا چکھنا ہے ( تفسیر المراغی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

دنیا و آخرت کا مقابلہ تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التکاثر۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی صحت عافیت کھانے پینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا ؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسی نہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی ﷺ ابوبکر اور عمر بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے۔ اس نے صحابی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کھجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا جب خوب سیر ہوچکے تو آپ نے فرمایا :” مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ (فتح مقدر بحوالہ مسلم و…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(102:8) ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔ لتسئلن مضارع مجہول لام تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ضرور پوچھے جاؤ گے۔ تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ اس دن، ایسے واقعات کے دن۔ النعیم : اسم معرفہ۔ مجرور، نعمت، راحت، عیش۔ مراد اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتیں۔ ترجمہ :۔ پھر اس روز تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیحد و حساب ہیں جیسا کہ فرمایا وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ (14:34) اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو تم ان کو گن نہ سکو گے نعما، ظاہریہ، باطنیہ۔ تندرستی، جسم کے اعضاء کی خوبی،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

تعارف : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی صورت پر جتنا بھی غور و فکر کیا جاتا ہے اس میں معانی اور حقائق کی ایک دنیا جھلکتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں عصر کی قسم کھائی ہے۔ عصر کے معنی نماز عصر، تاریخ انسانی، زمانہ یا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دور کی قسم کھا کر یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے سارے لوگ اس وقت تک دنیا اور آخرت میں سخت ناکام ہیں جب تک وہ ایمان لا کر عمل صالح اختیار نہ کریں۔ اگر انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں دو ہی قسم کے انسان نظر آتے ہیں کامیاب یا ناکام ۔ دنیا والوں نے تو کامیابی اور ناکامی کید و پیمانے مقرر رکھتے ہیں کہ جو شخص خوب مال و دولت کما کر اونچی سے اونچی بلڈنگیں تعمیر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

یاد الٰہی سے غفلت اللہ کی رحمت سے محرومی کا باعث۔ (ف 3) یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ اب بتلاؤ دنیا کے عیش و آرام کی کیا حقیقت تھی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریوہ کی روایت ہے کہ جو دیدار الٰہی اور حساب کتاب کی ایک بہت بڑی حدیث ہے اور اس صحیح حدیث کا ایک ٹکڑا گویا اس سورت کی تفسیر ہے حاصل اس ٹکڑے کا یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں صاحب نعمت اور اللہ کے روبرو کھڑے ہونے اور حساب کتاب سے غافل ہیں اس طرح کے لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا ھساب کتاب یوں ہی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے شخص کیا میں نے تجھ کو دنیا میں عزت دی مال دیا اور ہر طرح کا صاحب نعمت کیا تھا جب یہ شخص اللہ کی نعمتوں کا اقرار کرے گا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[3] آیت کا لفظی ترجمہ ہے تم بالکل یقین کی آنکھ سے اسے دیکھ لو گے۔ یقین کی آنکھ یعنی وہ یقین جو براہ راست مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

سورة التکاثر عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) پھر تم سب اس دن دنیوی نعمتوں کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔ اوپر کی آیتوں میں تہویل اور تغلیظ فی التہدید کے لئے کفار کو خطاب تھا اور یہاں خطاب عام ہے کفار سے جو سوال نعمتوں کے بارے میں ہوگا وہ تو بیخ و تقریع کے لئے ہوگا کیونکہ انہوں نے نعمتوں کے استعمال کے بعد ناشکری اور مسلمانوں سے جو سوال ہوگا وہ تشریف اور تکریم کے لئے ہوگا۔ بہرحال ٹھنڈے پانی اور کھجوریں، ٹھنڈا سایہ، نیند کی لذت، شرائع کی تخفیف قرآن کا نزول اسلام کی بزرگی، غرض ہر قسم کی نعمتیں خواہ ظاہری ہوں یا وہ باطنی ہوں جسمانی ہوں یا روحانی ہوں۔ آفاقی ہوں یا ذاتی ہوں سب سے سوال ہوگا بعض علماء نے فرمایا صحت اور فراغ یہ دو نعمتیں بہت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ لتسئلن میں خطاب عام ہے بقرینہ حدیث جس میں آپ نے حضرات شیخین ؓ سے فرمایا کہ تم لوگوں سے ان نعمتوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا، کذا فی الصحاح، پس جب غیر مجرمین تک سوے سوال ہوگا گو اس پر کوئی ضرر مرتب نہ ہو تو مجرمین تو کیوں بچ جائیں گے ؟ اور ان کے لئے وہ مضر بھی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم اس روز ہر نعمت کے متعلق سوال کیے جائو گے 8 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ عین الیقین حاصل ہونے کے بعد تم سے ضرور اللہ تعالیٰ اپنے کیے گئے احسانات کے بارے میں پوچھے گا اور یقینا تم سوال کیے جائو گے اس لیے ضروری ہے کہ حق الیقین کے رنگ میں وارد ہونے یعنی اس میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ضروری ہے کہ انسان سے ان نعمتوں کی نسبت باز پرس ہو جو اسے دنیا میں اس لیے دی گئی تھیں کہ ان کا صحیح استعمال کر کے ان سے اپنے لیے آنے والے زندگی کے واسطے جنت تیار کرلے اور اس میں وہ تمام قویٰ اور استعدادیں ، اخلاق اور علم عقل اور فراست ، احساسات اور جذبات ، دولت اور حکومت ، ضمیر اور الہامی کتب ہیں جو انسان کی ہدایت ،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

Verse [ 102:8] ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (Then you will be asked about all the pleasures [ you enjoyed in the world ].) This means that, on the Day of Judgment, all of you will be questioned whether you had shown gratitude towards Allah's favors, or did you misuse them and were ungrateful to Allah? Some of these favors and bounties are explicitly mentioned elsewhere in the Qur'an: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ‌ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (...Surely, the ear, the eye and the heart - each one of them shall be interrogated about.) [ 17:36] These…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 "Then" in this sentence dces not mean that accountability will be held after the culprits have been cast into Hell, but it means: "Then We give you the news that you will be questioned about these comforts of Iife," and obviously this questioning will be held at the time of accountability in the Divine Court. Its chief argument is that in several Ahadith it has been reported from the Holy Prophet (upon whom be peace) that the believers and the disbelievers, both will have to account for the blessings granted by Allah. However, the people who did not show ingratitude but spent their lives as…

Read the full tafseer →