Ayahs 102:1–2غافل رکھا تمہیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
لغوی تشریح اور شان نزول :
مسئلہ نمبر 1 : الھکم التکاثر۔ تمہیں غافل کردیا۔ فالھی تھا عن ذی تمائم مغیل میں نے اسے مکمل سال کے بچے جو دودھ پیتا تھا سے غافل کردیا۔ آیت کا معنی یہ ہے مال اور تعداد کی کثرت پر فخر و مباہات نے تمہیں اللہ کی طاعت سے غافل کردیا ہے، یہاں تک کہ تم مر گئے اور قبروں میں دفن کردیئے گئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ؛ الھکم کا معنی ہے تمہیں بھلا دیا۔ التکاثر یعنی اموال اور اولاد کی کثرت پر فخر کرنا۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : قبائل پر فخر کرنا، ضحاک نے کہا ؛ معاش اور تجارت پر فخر نے تمہیں غافل کردیا۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے ؛ لھیت عن کذا، الھی لھیا ولھیانا۔ جب تو اسے بھول جائے، اسے ترک کدے اور اس سے اعراض کرے۔ الھاہ اسے غافل کردے۔ لھاہ بہ تلھیۃ اسے مشغول کردیا۔ تکاثر کا معنی کثرت میں مقابلہ کرنا۔ مقاتل، قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا ؛ یہ یہودیوں کے حق میں بات نازل ہوئی ،۔ جب انہوں نے کہا ؛ ہم بنی فلاں سے زیادہ ہیں۔ بنی فلاں، بنی فلاں سے زیادہ نہیں انہیں اس چیز نے غافل کردیا یہاں تک کہ وہ گمراہی میں مرگئے۔ ابن زید نے کہا : یہ انصار کے ایک خاندان کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس، مقاتل اور کلبی نے کہا : یہ قریش کے دو قبیلوں کے بارے میں نازلہوئی جو بنو عبد مناف اور بنو سہم تھے۔ انہوں نے دور اسلام میں سرداروں اور اشراف کے اعتبار سے باہم گنتی کی اور فخر و مباہات کیا۔ ہر ایک خاندان نے کہا : ہم سے ایک زیادہ سردار رکھتا ہے، غلبہ رکھتا ہے، تعداد زیادہ رکھتا ہے اور پناہ دینے والا زیادہ رکھتا ہے تو بنو عبد مناف، بنو سہم پر غالب آگئے پھر انہوں نے مردوں کا شمار کیا تو بنو سہم ان پر غالب رہے۔ تو یہ آیات نازل ہوئیں کہ تم نے زندوں کے ساتھ باہم کثرت کا مقابلہ کیا تو تم راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ تم مردوں کے ساتھ فخر کرنے تک جا پہنچے۔
سعید نے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کہا کرتے تھے : ہم بنی فلاں سے زیادہ ہیں، ہم بنی فلاں سے زیادہ تعداد والے ہیں۔ اس میں سے ہر روز کوئی نہ کوئی کم ہوتا رہا اللہ کی قسم ! وہ اسی طرح رہے، یہاں تک کہ وہ سارے کے سارے اہل قبور میں سے ہوگئے۔ عمرو بن دینار سے مروی ہے : انہوں نے قسم اٹھائی کہ یہ تاجروں کے بارے میں نازل ہوئی۔ شیبان نے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ یہ اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی۔
میں کہتا ہوں : جو اقوال ذکر کیے گئے ہیں آیت انہیں اور غیر کو بھی عام ہے۔ صحیح مسلم میں مطرف سے مروی ہے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ الھکم التکاثر پڑھ رہے تھے فرمایا انسان کہتا ہے مالی مالی وھل لک یا ابن آدم من مالک الا ما اکلت فافنیت او لبست فابلیت او تصدقت فامضیت وما سوی ذلک فذاھب و تارکہ للناس۔ میرا مال، میرا مال اے انسان ! تیرا مال نہیں مگر جو تو نے کھالیا تو نے اسے فنا کردیا یا پہن لیا تو نے اسے بوسیدہ کرنا یا صدقہ کردیا تو آگے بھیج دیا اس کے سوا سب جانے والے ہے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔
بخاری نے ابن شہاب سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت انس بن مالک نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : لو ان لابن آدم وادیا من ذھب لاحب ان یکون لہ وادیان ولن یملا فاہ الا التراب و یتوب اللہ علی من تاب۔ اگر انسان کی سونے کی ایک وادی ہو تو وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی دو وادیاں ہوں مٹی کے سوا کوئی چیز اس کا منہ نہیں بھر سکتی اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے نظر رحمت فرماتا ہے۔
ثابت نے انس سے انہوں نے حضرت ابی سے یہ قول نقل کیا ہے : ہم اسے قرآن کا حصہ خیال کرتے ہیں یہاں تک کہ الھکم التکاثر سورت نازل ہوئی۔ ابن عربی نے کہا : یہ صحیح اور عمدہ نص ہے اہل تفسیر سے غائب رہی وہ خود بھی جاہل رہے اور دروسروں کو بھی جہالت میں رکھا اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے جس نے اس کی معرفت نصیب فرمائی۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : نبی کریم نے یہ سورت پڑھی فرمایا : تکاثر اموال کا مطلب ہے ناحق اسے جمع کرنا، اس کے حق کو روک لینا اور برتنوں میں اسے باند کر رکھنا۔
زیارت مقابر کا معنی و مفہوم :
مسئلہ نمبر 2: حتی زرتم المقابر۔ یہاں تک کہ تمہیں موت آپہنچی تو تم قبروں میں زائر کی طرح ہوگئے تم ان سے لوٹو گے جس طرح زائر اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہے وہ گھر جنت ہو یا جہنم ہو، جو آدمی فوت ہوجاتا ہے اس کے لیے یہ جملہ بولتے ہیں : قد زار قبرہ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے تعداد کی کثرت پر باہم فخر نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم نے مردوں کو شمار کیا۔ جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ وعید ہے یعنی تم دنیا کے مفاخر میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرنے لگے تو اللہ کا عذاب تم پر نازل ہوگا وہ تم ضرور دیکھو گے۔
مقابر کی لغوی تشریح :
مسئلہ نمبر 3: مقابر، مقبرہ اور مقبرہ کی جمع ہے جس کا معنی قبریں ہیں۔ شاعر نے کہا :
اری اھل القصور اذا امیتوا۔۔۔ بنوا فوق المقابر بالصخور
ابوا الا مباھاۃ و فخرا۔۔۔ علی الفقراء حتی فی القبور
میں محلات والوں کو دیکھتا ہوں جب وہ مرتے ہیں تو وہ قبروں پر بڑے بڑے پتھر لگاتے ہیں۔ انہوں نے یہ عمل فقرا پر فخر و مباہات کے لیے کیا یہاں قبروں میں بھی یہی طرز عمل اپنایا۔
ایک شاعر نے کہا :
لکل اناس مقبر بفنائھم۔۔۔ فھم ینقصون والقبور تزید
تمام انسانوں کے لیے ان کے اپنے اپنے میدانوں میں قبرستان ہیں لوگ کم ہورہے ہیں اور قبریں زیادہ ہورہی ہیں۔
ابو سعید مقبری کے لیے دونوں طرح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مقبری اور مقبری، وہ قبرستان میں رہا کرتے تھے۔ قبرت المیت اقبرہ، اقبرہ قبرا، یعنی میں نے اسے دفن کیا۔ اقبرتہ یعنی میں نے اسے دفن کرنے کا حکم دیا۔ اس بارے میں گفتگو سورة عبس میں گزر چکی ہے۔
زیارت قبور کی شرعی حیثیت اور اس کے فوائد :
مسئلہ نمبر 4: قرآن حکیم میں مقابر ذکر صرف اس سورت میں ہوا ہے قبروں کی زیارت سخت دل والے کے لیے زبردست دوا ہے کیونکہ یہ عمل موت اور آخرت کی یاد دلا تا ہے یہ چیز انسان کی امیدیں کم رکھنے، دنیا میں زہد اختیار کرنے اور اس میں رغبت کی کمی پر بر انگیختہ کرتا ہے۔ نبی کریم کا فرمان ہے : کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروا القبور فانھا تذھد فی الدنیا وتذکر الاخرۃ۔ میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا اب قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ چیز دنیا میں زہد پیدا کرتی ہے اور موت کی یاد دلاتی ہے ؛ اسے حضرت ابن مسعود نے روایت کیا ابن ماجہ نے اسے نفقل کیا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے : یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ ترمذی میں حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں میں لعنت کی ہے، کہا : اس باب میں حضرت ابن عباس اور حضرت حسان بن ثابت سے روایت مروی ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عورتوں پر لعنت والا حکم اس سے قبل کا ہے جس میں رسول اللہ نے قبروں کی زیارت کی رخصت دی۔ جب حضور نے رخت دی تو اس رخصت میں مرد اور عورتیں شامل ہوگئیں۔ بعض علماء نے کہا : عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت اس لیے مکرو ہے کیونکہ وہ کم صبر والی اور زیادہ جزع فزع کرنے والی ہوتی ہیں۔
عورتوں کے لیے زیارت قبور کا حکم :
میں کہتا ہوں : مردوں کے لیے قبروں پر جانا جائز ہے، یہ متفق علیہ حکم ہے۔ عورتوں کے بارے میں مختلف فیہ ہے۔ جہاں تک نوجوان بچیوں کا تعلق ہے ان کے لیے باہر نکلنا حرام ہے جہاں تک گھروں میں بیٹھ رہنے والی عورتوں یعنی جن کی عمر ڈھل چکی ہو ان کے لیے مباح اور جائز سب کے لیے ہے یہ اس وقت ہوگا جب وہ مردوں سے الگ ہو کر نکلیں اس میں انشاء اللہ کوئی اختلاف نہیں اس تاویل کی بنا پر رسول اللہ کا ارشاد دورو القبور عام ہوگا جہاں تک ایسی جگہ یا وقت کا تعلق ہے جس جگہ مردوں اور عورتوں کے جمع ہونے سے فتنہ کا خوف ہو تو پھر حلال اور جائز نہیں۔ اس اثنا میں کہ ایک آدمی نکلتا ہے اس کا مقصود عبرت ہوتا ہے تو اس کی نظر کسی عورت پر جا پڑتی ہے تو وہ فتنہ میں جا پڑتا ہے اور اس کے برعکس بھی صورتحال ہوسکتی ہے کہ مرد اور عورت میں سے ایک گناہگار ہوگا ماجور نہیں ہوگا۔
دل کے علاج کا نسخہ اور زیارت قبول کے وقت کیا نیت اور ارادہ ہو تو یہ عمل نفع بخش بنتا ہے :
مسئلہ نمبر 5: علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی، جماعتوں کو جدا کرنے والی، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے فتنوں کے خلاف ان سے مدد لے اگر موت کا ذکر کثرت سے کرنے سے اس نے فائدہ اٹھا لیا اور اس کے دل کی سختی چھٹ گئی تو یہی اس کا مقصود ہے اگر اس پر دل کا میل بڑھ گیا اور گناہ کے اسباب مستحکم ہوگئے تو موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا لوگوں کے پاس جانا اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرنا ان گناہوں کو دور کرنے میں وہاں تک پہنچ سکتا ہے جہاں تک پہلی صورت نہ پہنچ پائی تھی۔ کیونکہ کو ت کا ذکر دل کے لیے ایک خبر ہے جس کی طرف اس کا ٹھکانہ ہے اور یہ اسے خبردار کرنے کے قائم مقام ہے۔ جو آدمی موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اس کے پاس جانا اور مسلمانوں میں سے جو کوئی مرچکا ہے اس کی قبر کی زیارت کرنا یہ آنکھوں سے مشاہدہ ہے اس وجہ سے دوسری صورت پہلی سے زیادہ موثر ہے رسول اللہ کا ارشاد ہے : لیس الخبر کالمعاینۃ خبر آنکھوں دیکھی چیز جیسی نہیں ہوتی۔ اسے حضرت ابن عباس نے روایت کیا ہے۔ جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے حال سے عبرت حاصل کرنا ہر وقت ممکن نہیں ہوتا جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اس کا علاج بعض اوقات ایک لمحے میں نہیں ہوپاتا، جہاں تک زیارت قبول کا تعلق ہے تو اس کا وجود یعنی اثر بہت تیز ہوتا ہے اور ان سے نفع حاصل کرنا زیادہ مناسب اور موزوں ہوتا ہے۔ جو آدمی قبروں کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے مناسب یہ ہے وہ اس کے آداب اپنائے، آتے وقت اس کا دل حاضر ہو اس کے پیش نظر صرف قبر کی زیارت نہ ہو کیونکہ یہ تو صرف اس کی ایسی حالت ہے جس میں حیوان بھی اس کے ساتھ شریک ہیں ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، بلکہ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے فاسد دل کی اصلاح ہونی چاہیے۔ یا میت کو نفع پہنچانے کا ارادہ ہونا چاہیے جو زیارت کرنے والا اس کے پاس قرآن پڑھے گا، دعا کرے گا، قبروں کے اوپر چلنے اور ان پر بیٹھنے سے اجتناب کرے جب قبرستان میں داخل ہو تو وہ انہیں سلام کرے جب وہ اپنے میت کی قبر تک پہنچے جسے وہ پہچانتا ہے تو اسے بھی سلام کرے اور اس کے چہرے کی جانب سے آئے کیونکہ وہ اس کی زیارت میں اس طرح ہے جس طرح وہ زندہ حالت میں اس سے مخاطب تھا اگر زندہ حالت میں اس سے خطاب کرتا تو آداب یہی ہوتے کہ اس کے چہرے کے بالمقابل ہوتا یہاں بھی اسی ہے پھر جو مٹی کے نیچے جا چکا ہے اپنے گھر والوں اور احباب سے الگ ہوچکا ہے اس سے عبرت حاصل کرنے کے بعد کہ اس میت نے چھوٹے بڑے لشکروں کی قیادت کی ہوگی، ساتھیوں اور قبائل سے مقابلہ کیا ہوگا اموال اور ذخائر کو جمع کیا ہوگا تو اسے موت ایسے وقت میں آپہنچی کہ اسے گمان تک نہ تھا ایسی ہولناکی میں موت آئی جس کا اسے کوئی انتظار نہ تھا تو زیارت کرنے والے کو اس بھائی کی حالت میں غور کرنا چاہیے جو گزر چکا ہے اور ان ساتھیوں میں شامل ہوچکا ہے جنہوں نے امیدوں کو پایا اور اموال کو جمع کیا کہ ان کی آرزوئیں کیسے ختم ہوگئیں، ان کے اموال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، مٹی نے ان کے چہروں کے محاسن کو مٹا دیا اور قبروں میں ان کے اجزا بکھر گئے، ان کے بعد ان کی بیویاں بیوہ ہوگئیِ ان کی اولادیں یتیم ہوگئیں، دوسروں نے ان کے عمدہ اموال کو تقسیم کرلیا تاکہ اسے ان کا مقاصد میں گھومنا پھرنا، حصول مطالب میں ان کا حرص، اسباب کے حصول میں ان کا دھوکہ اور جوانی اور صحت کی طرف ان کا میلان سب کو یاد کرسکے اور یہ بھی جان سکے کہ اس کا لہو و لعب کی طرف میلان ان کے میلان اور غفلت کی طرح ہے جس کے سامنے خوفناک موت اور تیز ہلاکت ہے یقینا وہ اس طرف جارہا ہے جس طرف وہ گئے تھے اسے اپنے دل میں اس آدمی کے ذکر کو یاد کرنا چاہیے جو اپنی اغراض میں متردد تھا کہ اس کے پاؤں کیسے ٹوٹ گئے، وہ اپنے دوستوں کو دیکھ کر لذت حاصل کرتا تھا جبکہ اب اس کی آنکھیں بہہ چکی ہیں، وہ اپنی قوت گویائی کی بلاغت سے حملہ کیا کرتا تھا جبکہ کیڑے اس کی زبان کو کھا گئے ہیں، وہ لوگوں کی موت پر ہنسا کرتا تھا جب کہ مٹی نے اس کے دانتوں کو بوسیدہ کردیا ہے، وہ یقین کرلے کہ اس کا حال اس کے حال جیسا ہوگا اور اس کا انجام اس کے انجام جیسا ہوگا۔ اس یاد اور عبرت کی وجہ سے اس سے تمام دنیوی غیرتیں زائل ہوجائیں گی اور اور وہ اخروی اعمال پر متوجہ ہوگا۔ وہ دنیا میں زہد اختیار کرے گا اپنے رب کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوگا اس کا دل نرم ہوجائے گا اور اعضاء میں خشوع واقع ہوجائے گا۔
Ayahs 102:3–4ہاں ہاں تم جلد جان لوگے پھر ہاں ہاں تمہیں (اپنی کوششوں کا انجام) جلد معلوم ہوجائے گا۔
فراء نے کہا : کلا سے مراد یہ ہے معاملہ اس طرح نہیں جس باہم فخر اور کثرت پر تم ہو تم عنقریب اس کا انجام جان لوگے۔
یہاں وعید پر وعید ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں کلام میں جو تکرار ہے وہ تاکید اور تغلیظ کے طریقہ پر ہو ؛ یہ فراء کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : قبر میں جو تم پر عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے پھر آخرت میں تم پر جو عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے۔ پہلی کلام قبر کے عذاب کے بارے میں ہے اور دوسری کلام آخرت کے بارے میں ہے۔ تو یہ تکرار دو حالتوں کے بارے میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون۔ یہ آنکھ سے دیکھنے کے بارے میں ہے کہ جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے وہ حق ہے، ثم کلا سوف تعلمون۔ یہ دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت ہوگا کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا وہ سچ ہے۔ زر بن حبیش نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ ہم عذاب قبر میں شک کرتے تھے یہاں تک کہ یہ سورت نازل ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ کے فرمان : کلا سوف تعلمون، سے مراد ہے تم قبروں میں دیکھ لو گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون، سے مراد ہے جب موت تم پر واقع ہوگی اور فرشتے تمہاری روحیں نکالنے کے لیے تمہارے پاس آئیں گے۔
ثم کلا سوف تعلمون۔ جب تم قبروں میں داخل ہوگے اور تمہارے پاس منکر و نکیر آئیں گے، سوال کی ہولناکی تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گی اور جو اب تم سے ختم ہوجائے گا۔
میں کہتا ہوں : یہ سورت عذاب قبر کے بارے میں قول کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں ذکر کیا ہے کہ اس پر ایمان واجب ہے اس کی تصدیق لازم ہے جیسے نبی صادق و امین نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ قبر میں مکلف بندے کی طرف زندگی لوٹا کر زندہ کردیتا ہے، عقل کی جس صفت پر اس نے زندگی بسر کی تھی اتنا عقل اسے عطا فرماتا ہے تاکہ جو اس سے سوال کیا جارہا ہے اسکی اسے سمجھ ہو، اس کا وہ جواب دے سکے، اس کے رب کی جانب سے جو اسے چیز مل رہی ہے اس کا ادراک کرسکے اور قبر میں اس کے لیے جو کرامت اور ذلت مقدر کی گئی ہے اس کو جان سکے ؛ یہ اہل سنت کا مذہب ہے جس پر اہل اسلام کی جماعت قائم ہے ہم نے التذکرہ میں اس پر مفصل بحث کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون یہ دوبارہ اٹھانے کا وقت ہوگا کہ تم جان لو گے کہ جو تمہیں کہا جاتا تھا کہ تم کو اٹھایا جائے گا۔ ثم کلا سوف تعلمون یہ قیامت میں ہوگا کہ تم جان لو گے کہ تمہیں جو کچھ کہا جاتا تھا کہ تمہیں عذاب دیا جائے گا۔ یہ سورت قیامت کے احوال یعنی دوبارہ اٹھانا، میدان محشر میں جمع کرنا، سوال کرنا، پیشی ہونا وغیرہ دوسرے اموال اور نزاع سب کو شامل ہے، جس طرح ہم نے کتاب التذکرہ میں مردوں کے احوال اور آخرت کے امور پر گفتگو کی ہے۔ ضحاک نے کہا : کلا سوف تعلمون کا مصداق کفار ہیں ثم کلا سوف تعلمون کا مصداق مومن ہیں، اس طرح وہ اسے پڑھا کرتے تھے پہلی آیت تاء کے ساتھ اور دوسری آیت یاء کے ساتھ۔
Ayah 102:5ہاں ہاں اگر تم (اس انجام کو) یقینی طور سے جانتے (تو ایسا ہرگز نہ کرتے)
کلا کے لفظ کو مکرر ذکر کیا یہ زجر اور تنبیہ ہے کیونکہ ہر ایک کے بعد ایک اور چیز کا ذکر کیا گویا فرمایا : تم ایسا نہ کرو بیشک تم شرمندہ ہوگے، تم ایسا نہ کرو بیشک تم عقاب کے مستحق ہوگے۔ علم کی یقین کی طرف جو نسبت ہے وہ اس طرح ہے جس طرح فرمایا : ان ھذا لھو حق الیقین۔ (الواقعہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں یقین کا معنی موت ہے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ؛ اس سے مراد دوبارہ اٹھانا ہے کیونکہ جب وہ متحقق ہوجائے گا تو شک زائل ہوجائے گا۔ یعنی اگر دوبارہ اٹھائے جانے کو جان لیتے۔ لو کا جواب محذوف ہے یعنی اگر تم آج بعث کو جان لیتے جسے تم اس وقت جانو گے جب صور پھونکا جائے گا اور تمہارے جثوں سے لحدیں شق ہوجائیں گی تو تمہارا حشر کیا ہوگا ؟ تو یہ چیز دنیا میں کثرت پر فخر کرنے سے تمہیں غافل کردے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے صحائف اڑیں گے تو تم یقینی طور پر جان لوگے کہ کون شقی ہے اور کون سعید ہے ؟
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان تینوں مواقع پر کلا، الا کے معنی میں ہے، یہ ابن ابی حاتم کا قول ہے۔ فراء نے کہا : یہ حقا کے معنی میں ہے۔ اس بارے میں گفتگو مفصل گزر چکی ہے۔
Ayahs 102:6–7تم دیکھ کر رہو گے دوزخ کو پھر آخرت میں تم دوزخ کو یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔
یہ ایک اور وعید ہے۔ یہ کلام اس بنا پر ہے کہ قسم محذوف ہے یعنی تم آخرت میں ضرور دیکھو گے۔ یہ خطاب ان کفار کو ہے جن کیلیے جہنم لازم ہوچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم عام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان منکم الا واردھا۔ (مریم) یہ کفار کے لیے گھر ہے اور مومن کے لیے گزرگاہ ہے۔ صحیح میں ہے : ان میں سے پہلا بجلی کی سی تیزی سے پھر ہوا کی سی تیزی سے پھر پرندے کی سی تیزی سے گزرے گا۔ سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ کسائی اور ابن عامر نے اسے لترون پڑھا ہے یہ اریتہ الشی سے مشتق ہے یعنی تمہیں اس کی طرف اٹھایا جائے گا اور تمہیں وہ دکھائی جائے گی تاء کے فتحہ کے ساتھ یہ عام قراء کی قرات ہے۔ یعنی تم دور ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں سے جہنم کو دیکھو گے پھر تم اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ہمیشہ جہنم میں رہنے کی خبر ہے یعنی یہ دائمی اور متصل روایت ہے اس بنا پر خطاب کفار کے لیے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لو تعلمون علم الیقین۔ کا معنی ہے تم دنیا میں آج اس امر کو علم یقین سے جان لیتے جو آگے ہونے والا ہے جس کی تمہارے سامنے صفت بیان کی گئی ہے کہ تم ضرور اپنے دل کی آنکھوں سے اسے دیکھو گے، کیونکہ علم یقین تجھے جہنم کو تیرے دل کی آنکھوں سے دکھائے گا وہ یہ ہے تیرے لیے قیامت کے مراحل اور اس کی قطع مسافت تیرے لیے عیاں ہوگی۔ پھر معاینہ کے وقت سر کی آنکھوں سے دیکھے گا تو تو اسے یقینا دیکھ لے گا وہ تیری آنکھ سے غائب نہیں ہوگی پھر سوال اور پیشی کے وقت تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
Ayah 102:8پھر ضرور پوچھا جائے گا تم سے اس دن جملہ نعمتوں کے بارے میں۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ایک دن یا ایک رات باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر موجود ہیں، پوچھا : تمہیں اس وقت کس چیز نے گھروں سے نکالا ؟ دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھوک نے۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے دونوں اٹھو، دونوں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے رسول اللہ ایک انصاری کے گھر آئے تو وہ گھر پر نہیں تھا جب اس کی بیوی نے رسول اللہ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ رسول اللہ نے اس سے پوچھا : فلاں کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہوا ہے، اسی اثنا میں وہ انصاری بھی پہنچ جاتا ہے اس نے رسول اللہ اور آپ کے دونوں صحابہ کو دیکھا پھر گویا ہوا : الحمدللہ آج مجھ سے بڑھ کر کوئی عزت والے مہمانوں والا نہیں۔ وہ گیا تو کھجور کا ایک خوشہ ان کے پاس لے آیا۔ عرض کی : اسے کھاؤ اور چھری لی رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا۔ اس انصاری نے جانور ذبح کیا تو انہوں نے اس بکری اور اس خوشے سے کھانا کھایا اور پانی پیا۔ جب یہ حضرات خوب سیر ہوگئے تو رسول اللہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ْ تم سے اس دن کی نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، تمہیں تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم نہ لوٹے یہاں تک کہ تمہیں اس نعمت نے آلیا۔
اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں : ھذا والذی نفسی بیدہ من النعیم الذی تسالون عنہ یوم القیامۃ ظل بارد و رطب طیب وماء بارد۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے روز تم سے پوچھا جائے گا۔ ٹھنڈا سایہ، عمدہ تر کھجوریں اور ٹھنڈا پانی اور اس انصاری کی کنیت ذکر کی اور کہا : ابو ہیثم بن تیہان اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔
میں کہتا ہوں : اس انصاری کا نام مالک بن تیہان تھا اس کی کنیت ابو ہیثم تھی اس واقعہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اشعار کہتے ہیں اور ابو ہیثم بن تیہان کی مدح کرتے ہیں :
فلم ار کالاسلام عزا لامۃ۔۔۔ ولا مثل اضیاف الا راشی معشرا
میں نے کسی قوم کے لیے اسلام جیسی کوئی عزت نہیں دیکھی اور نہ میں نے اراشی کے مہمانوں جیسی کوئی جماعت دیکھی ہے۔
نبی و صدیق و فاروق امۃ۔۔۔ و خیر بنی حواء فرعا و عنصرا
نبی، صدیق اور امت کا فاروق، بنی حواء میں سے عنصر کے اعتبار سے سب سے بہتر۔
فوافوا لمیقات و قدر قضیۃ۔۔۔ و کان قضاء اللہ قدرا مقدرا
انہوں نے وعدہ و پیمان کا حق ادا کیا۔ اللہ کا فیصلہ ہو کر رہنے والا ہے۔
الی رجل نجد یباری بجودہ۔۔۔ شموس الضحی جو دا و مجدا و مفخرا
نجد کے ایک معزز آدمی کی طرف جو اپنی سخاوت، بزرگی اور فخر میں چاشت کے سورجوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
و فارس خلق اللہ فی کل غارۃ۔۔۔ اذا لبس القوم الحدید المسمرا
یہ غزوہ میں اللہ کی مخلوق کا شاہسوار ہے جب قوم گندمگوں نیزے زیب تن کرلیں۔
ففدی و حیا ثم ادنی قراھم۔۔۔ فلم یقرھم الا سمینا متمرا
اس نے جانور ذبح کیا اسے تیار کیا پھر ضیافت ان کی خدمت میں پیش کی اس نے ان کی خدمت میں کھانا پیش نہیں کیا مگر موٹے موٹے ٹکڑے۔
ابو نعیم نے ابو عسیب سے جو رسول اللہ کے غلام تھے سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ رات کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے میں آپ کی طرف نکلا پھر آپ حضرت ابوبکر کے ہاں تشریف لے گئے انہیں بلایا تو وہ بھی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے، پھر آپ حضرت عمر کے ہاں تشریف لے گئے انہیں بلایا وہ بھی آپ کی خدمت میں آگئے آپ چلے یہاں تک کہ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے آپ نے باغ کے مالک سے فرمایا : ہمیں بسر (کھجور) کھلاؤ، وہ ایک خوشہ لے آیا اور اسے رکھ دیا سب نے کھایا پھر آپ نے پانی طلب کیا اور اسے پیا۔ پھر فرمایا : تم سے قیامت کے روز اس بارے میں پوچھا جائے گا، کہا حضرت عمر نے وہ خوشہ لیا اسے زمین پر مارا یہاں تک کہ وہ بسر کھجوریں رسول اللہ کے سامنے بکھر گئیں عرض کی : یا رسول اللہ ہم سے قیامت کے روز اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ؟ فرمایا : ہاں مگر تین، وہ ٹکڑا جس کے ساتھ وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے یا کپڑا جس کے ساتھ اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہے یا ایسی بل (گھر) جس میں وہ سردی اور گرمی میں پناہ لیتا ہے۔
وہ نعمت جس کے بارے میں سوال ہوگا علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے اس کے بارے میں دس قول ہیں :
1۔ امن و صحت : یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ 2۔ صحت و فراغت : یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ بخاری میں رسول اللہ سے مروی ہے : نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ۔ دو ایسی نعمتیں ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں صحت اور فراغت۔ 3۔ قوت سماعت اور قوت بصارت کے حواس کے ساتھ ادراک۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ قرآن کریم میں ہے : ان السمع والبصر والفواء کل اولئک کان عنہ مسولا۔ (اسرائ) کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
صحیح میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید سے مروی ہے دونوں نے روایت کیا ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے روز ایک بندے کو لایا جائے گا تو اسے کہا جائے گا : کیا میں نے تجھے کان، آنکھ، مال اور اولاد نہیں دی تھی ؟ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس بارے میں کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
4۔ کھانے اور پینے والی چیزیں جن سے لذت حاصل کی جاتی ہے۔ یہ حضرت جابر بن عبداللہ بن کا قول ہے اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔
5۔ اس سے مراد دوبہر اور شام کا کھانا ہے۔ یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔
6۔ یہ محکول شامی کا قول ہے، اس سے مراد پیٹ بھر کر کھانا، ٹھنڈا پانی، گھروں کے سائے، اچھا اخلاق اور نیند کی لذت ہے۔ زید بن اسلم نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد پیٹ بھر کر کھانا ہے۔ ماوردی نے کہا : یہ سوال کافر اور مومن کو عام ہے مگر مومن کا سوال یہ بشارت ہے کہ اس کے لیے دنیا اور آخرت کی نعمتیں جمع کردی گئی ہیں اور کافر سے سوال سے اس امر کے ساتھ جھنجھوڑنا ہے کہ اس نے دنیا کی نعمتوں کے مقابل کفر اور معصیت کو اپنایا۔ ایک قوم کا خیال ہے ؛ یہ سوال ہر نعمت کے بارے میں ہوگا اور کفار کے حق میں ہوگا۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ بتایئے وہ کھانا جو میں نے آپ کے ساتھ ابو ہیثم بن تیہان کے گھر میں کھایا تھا جو کی روٹی، گوشت، آدھ کچی کھجور اور میٹھے پانی پر مشتمل تھا کیا اس بارے میں آپ ہمارے متعلق خوف کھاتے ہیں کہ یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق ہم سے باز پرس ہوگی ؟ تو رسول اللہ نے ارشاد فمرایا : یہ کفار کے لیے ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ھل نجزی الا الکفور۔ (سبا) یہ قشیری ابو نصر نے ذکر کیا ہے دونوں روایات میں تطبیق یوں ہے کہ ہر کسی سے سوال کیا جائے گا تاہم کفار سے سوال انہیں شرمندہ کرنا ہے کیونکہ اس نے شکر کو ترک کیا اور مومن سے سوال اسے عزت بخشنا ہے کیونکہ وہ شکر بجا لایا تھا یہ ہر نعمت کے بارے میں ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ بہت اچھا قول ہے کیونکہ لفظ عام ہے ؛ فریابی نے یہ ذکر کیا، ورقاء، ابن ابی نجیح سے وہ مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں یہ قول نقل کرتے ہیں یعنی ہر وہ چیز جو لذت دنیا سے تعلق رکھتی ہو۔ ابو احوص، عبداللہ سے وہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز بندے پر اپنی نعمتوں کو شمار کرے گا یہاں تک کہ اس پر یہ بھی شمار کرے گا تو نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں تیرا فلاں عورت سے نکاح کردوں اللہ تعالیٰ اس عورت کا نام ذکر کرے گا تو میں نے تیری اس سے شادی کردی۔
ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سے کس نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا ہمیں تو پانی اور کھجور میسر ہے، دشمن سامنے حاضر ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ؟ فرمایا : ایسا ضرور ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : ان اول ما یسأل عنہ یوم القیامۃ انہ یقال لہ الم نصخ لک جسمک و نرویک من الماء البارد۔ قیامت کے روز سب سے پہلے انسان سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ یہ ہوگا : کیا ہم نے تیرے جسم کو صحت مند نہیں رکھا تھا اور تجھے ٹھنڈا پانی نہیں پلایا تھا۔
حضرت ابن عمر کی حدیث، کہا : میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو بلائے گا اسے اپنے سامنے کھڑا کرے گا اس سے اس جاہ و حشمت کے بارے میں سوال کرے گا جس طرح اس سے اس کے مال کے بارے میں سوال کرے گا۔ جاہ و حشمت یقینا دنیاوی نعمتوں سے ایک ہے۔
امام مالک نے کہا : اس نعمت سے مراد بدن کی صحت اور عمدہ طبیعت ہے۔ یہ ساتواں قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امن و عافیت کے ساتھ نیند ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : جو چیز بھوک مٹائے اور ستر عورت کا اہتمام کرے جبکہ وہ کھانا ایسا ہو جو حلق سے مشکل سے اترے اور لباس کھردرا ہو قیامت کے روز اس کے بارے میں باز پرس نہ ہوگی بلکہ اس سے ایسی چیزوں کے بارے میں باز پرس ہوگی جو لذت کا باعث ہوں۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو جنت میں سکونت عطا کی اور فرمایا : تیرے لیے یہاں یہ انعام ہے کہ تجھے نہ بھوک لگے اور نہ ہی تو بےپردہ ہوگا تو اس میں پیاسا نہ ہوگا اور نہ تجھے گرمی لگے گی۔ (طہ) یہ چار چیزیں ہیں۔ 1۔ جس کے ساتھ بھوک مٹائی جاتی ہے۔ 2۔ جس کے ساتھ پیاس ختم کی جاتی ہے۔ 3۔ جس کی مدد سے گرمی سے بچا جاتا ہے اور جس کے ساتھ پردہ کیا جاتا ہے۔ یہ حضرت آدم کے لیے مطلق تھیں ان کے بارے میں حضرت آدم کے لیے کوئی حساب و کتاب نہ تھا کیونکہ اس کے بغیر آپ کے لیے کوئی چارہ کار نہیں تھا۔
میں کہتا ہوں : اس کی مثل قشیری ابو نصر نے ذکر کیا انہوں نے کہا : بندے سے ایسے لباس کے بارے میں باز پرس نہ ہوگی جس کے ساتھ وہ اپنی شرمگاہ چھپاتا ہے، ایسا کھانا جس کے ساتھ وہ اپنی کمر سیدھی کرتا ہے، ایسا مکان جو اسے سردی اور گرمی سے بچاتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ قول رسول اللہ کے ایک ارشاد سے ماخوذ ہے، لیس لابن آدم حق فی سوی ھذہ الخصال بیت یسکنہ و ثوبہ یواری عورتہ و جلف اخبز والمائ۔ ابن آدم کا ان چیزوں کے علاوہ میں کوئی حق نہیں ایسا گھر جس میں وہ رہتا ہے، ایسا کپڑا جو اس کی شرمگاہ کو ڈھانپتا ہے، خشک روٹی کا ٹکڑا اور پانی، اسے ترمذی نے نقل کیا ہے۔ نضر بن شمیل نے کہا : خشک روٹی کا ٹکڑا جس کے ساتھ سالن نہ ہو۔ محمد بن کعب نے کہا : نعیم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کی صورت میں ہم پر انعام فرمایا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے۔ لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم۔ (آل عمران) تحقیق اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں انہیں میں سے رسول بھیجا۔
حضرت حسن بصری اور مفصل نے کہا : اس سے مراد ہے شرعی احکام میں نرمی اور قرآن حکیم کو آسان بنا دینا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔ (الحج) اور نہیں روا رکھی اس نے تم پر دین کے معاملہ میں کوئی تنگی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مد کر۔ (القمر) اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت پذیری کے لیے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔
میں کہتا ہوں : یہ سب نعمتیں ہیں بندے سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا کیا اس نے شکر کیا یا ناشکری کی، پہلے اقوال ظاہر و باہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔