102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 102:1

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

غفلت میں ڈال دیا تم کو ( اے لوگو ! ) بہتات کی حرص نے

(1) اصل بیماری کی تشخیص کا ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اصل بیماری جو دنیا کے اس دار الغرور میں لوگوں کو لگتی ہے اور جو بیماریوں کی بیماری ہے، وہ ہے غفلت و لاپرواہی، والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اسل بیماری کی تشخیص و تعیین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ غفلت میں ڈال دیا تم کو اے لوگو " تکاثر " نے، سو اس چیز نے تم کو غافل کردیا اپنے مقصد زندگی سے اور غافل کردیا تم کو اپنے خالق ومالک کے حقوق اور اس کے یہاں حاضری اور جواب دہی کے فکر و اندیشہ سے، اور غافل کردیا تم کو اپنی عاقبت اور اپنے انجام اور بھلے برے کی تمیز سے، وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ اس لیے کہ " الھا " کا عموم ان سب ہی معانی و مفاہیم کو عام اور شامل ہے، پس غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور ہر شرو فساد کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ۔ الھا فعل ماضی کا صیغہ ہے جو کہ مشتق ہے " لھو " سے جس کے معنی شغل اور تماشہ کے ہیں، اور عربی زبان میں اس کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جس میں لگ کر انسان دوسری چیزوں اور اپنے اصل مقصد سے غافل ہوجائے، جیسے سکول میں جانے والا بچہ چلتے چلتے مداری کا کھیل دیکھنے ایسا مشغول اور منہمک ہوجاتا ہے کہ سکول جانے کے اپنے مقصد سے غافل ہوجاتا ہے، اور اس کے نتیجے میں آگے وہ کئی طرح کے مفاسد میں گھر جاتا ہے، سو اسی طرح ابنائے دنیا اپنی دنیا اور اپنے دنیاوی مشاغل میں الجھ کر اپنی آخرت اور اپنے حقیقی مقصد سے غافل و لاپرواہ ہوجاتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم، اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ غفلت و لاپرواہی کے ام الامراض کا اصب سبب اور باعث ہے " تکاثر " یعنی کثرت وبہتات کی طلب و ہوس، اور اصل بیماری کی تعیین و تشخیص کے بعد اس کے باعث اور سبب کے ذکرو بیان کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ بہتات کی حرص و ہوس نے دنیاوی مال و دولت اور جتھا اور پارٹی اور جادہ و اقتدار وغیرہ میں اور آگے بڑھ جائیں اور کمائی کرلیں، دوسروں سے آگے نکل جائیں اور دوسروں کے مقابلہ میں فخر جتا سکیں اور اپنی مزعومہ بڑائی کے راگ الاپ سکیں، سو " تکاثر " کے مفہوم کا عموم اس سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے، اور " کم " کا خطاب بھی عام ہے جو ہر دور کے اور ہر زمانے کے لوگوں کو شامل ہے، سو کتنا سچا اور کس قدر مطابق واقع ہے، قرآن حکیم کا یہ ارشاد وبیان جو کل کے لوگوں پر بھی صادق آتا تھا، اور آج بھی سب پر فٹ آتا ہے، اور آئندہ بھی قیامت تک کے سب لوگوں کے لیے عام ہے کہ غفلت کی بیماری کا اصل باعث اور سبب بہرکیف یہی " تکاثر " ہے، یعنی کثرت وبہتات کی حرص و ہوس اور اسی کی فکر و کوشش، اور اسی کے لیے محنت و تگ و دو اور اسی کا نتیجہ ہے غفلت و لاپرواہی، یعنی اپنے انجام سے غفلت و لاپروہی، اور اس کا علاج حق و حقیقت کا علم و یقین ہے، اور اس کے لیے فکر و کوشش، سو اس طرح اس ارشاد سے اصل بیماری بھی بتادی گئی اور اس کے منشا ومصدر کے سبب سے آگہی بھی بخش دی گئی، اور اس کا علاج بھی بتادیا گیا، کہ بیماری ہے غفلت و لاپرواہی، اور اس کا منشاء و سبب ہے حرص و ہو س، اور " تکاثر " اور اس کا علاج ہے آخرت پر ایمان و یقین اور وہاں حساب اور جوابدہی کے لیے فکر و کوشش۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، اللہ ہمیش اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء
Ayahs 102:2–3

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

یہاں تک کہ تم ( اسی تگ و دو میں) جا پہنچے قبروں تک

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

ہرگز نہیں عنقریب تم لوگوں کو خود معلوم ہوجائے گا

(2) غفلت و لاپرواہی کا نتیجہ محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو غفلت میں ڈال دیا، " تکاثر " کی ہوس نے یہاں تک کہ تم جا پہنچتے ہو قبروں کو یعنی یہاں تک کہ اسی غفلت میں تمہاری زندگی کا چراغ گل ہوگیا، فرصت حیات تمام ہوگئی، اور تم پیوند خاک ہوگئے، اور ابدی فیصلے کا وہ جہاں سامنے آگیا، جس سے بھاگنے اور اس دنیا میں واپس آنے اور کمائی کرنے کی کوئی صورت پھر ممکن نہ ہوسکے گی سو بڑی سخت غلط فہمی اور خسارے میں مبتلا ہیں وہ لوگ جو اس دنیا کے متاع فانی اور اسی کے حطام زائل کے پیچھے لگ کر اپنے انجام اور اپنی آخرت سے غافل ہورہے ہیں، اور آج اس غفلت و لاپرواہی کا دور دورہ ہر طرف ہے، صبح سے شام اور شام سے صبح تک، مشرق سے مغرب اور مغر سے مشرق تک، ہر طرف ایسی ایسی دوڑ بھاگ، افرا تفری اور نفسا نفسی ہے کہ " الامان والحفیظ " کندھے سے کندھا چھلتا ہے، جدھر جاؤ راستہ نہیں ملتا، اور یہ سب کچھ مادہ و معدہ اور پیسہ اور پیٹ کے لیے ہے، کسی کو اس کی کوئی فکر و پروا نہیں کہ ایک روز بہرحال یہاں سے جانا ہے، اور آگے زندگی کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ الا ماشاء اللہ والعیا باللہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 102:4

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر (سن لو ! ) ہرگز نہیں عنقریب تم لوگوں کو خود معلوم ہوجائے گا

(3) غفلت کے ماروں کو سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور غفلت کے ماروں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ہرگز ایسا نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ رکھا ہے کہ متاع دنیا کی یہ کثرت اور اس کے حطام فانی و زائل کی یہ بہتات ہی اصل ترقی اور کامیابی ہے، اور اس میں دوسروں سے آگے بڑھ جانا ہی اصل مقصود ہے، سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں، مگر آج چونکہ دنیا کے اس دار الامتحان میں تمہاری آنکھوں پر غفلت کی پٹی بندھی ہوتی ہے، اس لیے تمہیں اصل حقیقت نظر نہیں آتی، ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دار الجزاء نہیں، دار العمل ہے اس میں انسان کو عمل اور کمائی کا موقع دیا گیا ہے اور فیصلہ آخرت کے اس ابدی اور حقیقی جہاں میں ہوگا جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، جہاں انسان اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پھل پائے گا، سو اگر تمہاری آنکھیں پھر بھی نہیں کھلتیں تو تم سن لو اور کان کھول کر سن لو کہ زندگی یہی دنیاوی زندگی نہیں جس پر تم لوگ ریجھے ہوئے ہو، اور کامیابی وہی کامیابی ہے جو اس دنیا میں حاصل ہو اور بس۔ جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ اصل اور حقیقی زندگی وہی ہے جو اس دنیا کے بعد آئے گی اور اصل کامیابی وہی ہے جو اس حقیقی اور ابدی زندگی میں حاصل ہوگی، پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیشہ اسی کو پیش نظر رکھا جائے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین۔ سو ان کی تنبیہ مزید کے لیے ان کو ان کے انجام کی تزکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب تم لوگوں کو خود معلوم ہوجائے گا، کہ اصل حقیقت کیا ہے، صحیح راستہ کیا تھا، اور تم نے کیا سمجھ رکھا تھا اور امر واقع کیا تھا، اور یہ کہ جس کو تم لوگوں نے اپنی تنگ نظر اور کوتاہ بینی سے ترقی سمجھ رکھا تھا اور اس کو مقصد حیات بنایا ہوا تھا، وہ سب محض دھوکے کا سامان تھا مگر اس وقت کے اس جاننے اور ماننے کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافہ و زیادتی کے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس وقت تمہیں اچھی طرح سے اور پورے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ زندگی یہی دنیاوی زندگی نہیں تھی جس کے عشق میں تم لوگ اندھے ہو رہے تھے، بلکہ وہ دراصل ایک محدود فرصت اور عارضی منزل تھی جس کا اصل مقصد اور حقیقی مصرف آخرت کی اس اصل منزل اور حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کی کامیابی کے لیے محنت کرنا تھا، تب تم لوگوں کو معلوم ہوجائے گا اور اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ کتنا احسان تھا تم لوگوں پر اس دین حنیف اور اس کے ان دعاۃ و مبلغین کا جو تم کو تمہارے اس انجام سے خبردار کرتے، اور تم کو اس جہان غیب اور اس کے تقاضوں سے آگاہ کرتے تھے، سو غافلوں کو تنبیہ و تذکیر مکرر کے طور پر خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر سن لو عنقریب تم لوگوں خود معلوم ہوجائے گا، جب کہ دنیا کی حرص و ہوا میں لگی ہوئی یہ آنکھ بند ہوجائے گی اور حقیقت حال تمہاری سامنے آجائے گی مگر اس وقت کا وہ جاننا تمہارے کچھ کام نہ آئے گا کہ اس کا وقت بہرحال گزر چکا ہوگا، کیونکہ وہ دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے بعد کا جاننا اور ماننا ہوگا، جب کہ اصل مقصود ایمان بالغیب ہے یعنی بندیکھے ماننا، جس کا وقت اور موقع یہ دنیاوی زندگی ہی ہے، بلکہ وہ اصل حقیقت جو آج تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہے، اس وقت وہ پوری طرح روشن ہو کر تمہارے سامنے آجائے گی، تب تم لوگوں کو سب معلوم ہوجائے گا، اور اس وقت تمہارے حسرت کی کوئی حد و انتہا نہیں ہوگی، والعیاذ باللہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 102:5–6

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

ہرگز نہیں کاش کہ تم لوگ جان لیتے یقین کا جاننا (تو تمہارا حال ہرگز یہ نہیں ہوتا)

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

تم یقینا دیکھ کر رہو گے دوزخ (اور اس کی ہولناکیوں) کو

(4) غفلت کا علاج فکر آخرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور غفلت و لاپرواہی کی اس داء عضال کے علاج کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کاش کہ تم لوگ جان لیتے یقین کا جاننا یعنی اہل حق اور اصحاب فکر و بصیرت کے بتانے سے تو پھر یقینا تمہاری روش وہ نہ ہوتی جو اب ہے، بکہ وہ اس سے یکسر مختلف اور قطعی طور پر دگرگوں ہوتی، اور تم آخرت کو پس پشت ڈال کر دنیا کے پیچھے نہ لگ جاتے، سو جملہ شرطیہ کا جواب محذوف ہے جیسا کہ واضح ہے اور تمام ثقہ مفسرین کرام کا کہنا یہی ہے کہ اور اس کے حذف میں بلاغت یہ ہے کہ وہ ایسی کیفیت ہے کہ الفاظ و کلمات اس کا احاطہ نہیں کرسکتے، سو اس ارشاد پاک سے لوگوں کی غفلت و لاپرواہی کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ دراصل تمہیں آخرت اور روز جزا کا یقین نہیں، ورنہ تمہاری یہ حالت کبھی نہ ہوتی، پس تم لوگ اس غفلت سے چونک جاؤ قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے، سو آخرت کے ایمان و یقین سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے، اور اس سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرائی، پس غفلت کا علاج فکر آخرت ہے، جو یقین آخرت ہی سے پیدا ہوسکتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، سو فکر آخرت سے انسان کی زندگی میں انقلاب آجاتا ہے، اور وہ ایک فکر مند اور ذمہ دار انسان بن جاتا ہے۔
Ayahs 102:7–8

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر (سن لو ! ) تمہیں بہرحال دیکھنا ہے اس کو یقین کا دیکھنا

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر تم سے ضرور بالضرور پوچھ ہونی ہے اس دن ان نعمتوں کے بارے میں

(5) منکرین و مکذبین کو جہنم کے دیکھنے کی تنبیہ و تذکری : سو منکرین کو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو یقینا دیکھنا ہے دوزخ کو، پس حیات دنیا کی اسی فرصت میں اس سے بچنے کی فکر کرلو، ورنہ ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے گا، اور اس سے بچنے کی کوئی صورت تمہارے لیے اے منکرو ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور تم لوگوں کو اسے دیکھنا ہوگا عین الیقین کے طور پر، اس کے اندر پڑ کر اور اس کے عذاب میں مبتلا ہوکر، اپنے کفر و عصیان اور اسراف و طغیان کی بناء پر، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ حضرت اہل علم کا کہنا ہے کہ یہاں پر رویت یعنی دیکھنے سے مراد اس کے عذاب کا چکھنا ہے ( تفسیر المراغی وغیرہ) سو اس انجام اور منظر کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا تاکہ تم اس لہو اور غفلت سے بچ سکو، اور اس کے نتیجے میں تم دوزخ کے اس عذاب سے بچ سکو۔ سو اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں علم الیقین ہی حاصل ہوسکتا ہے، کہ اس کا تعلق آفاق وانفس کے ان دلائل سے ہے، جو قرآن حکیم میں بیان فرما دیے گئے ہیں اور جن سے کائنات کی یہ کھلی کتاب بھری پڑی ہے، رہ گیا عین الیقین تو وہ آخرت ہی میں حاصل ہوگا کہ اس کا تعلق معائنہ اور مشاہدہ سے ہے اور وہ وہیں حاصل ہوسکے گا، اسی لیے یہاں پر اس کا ذکر " ثم " کے کلمہ تراخی سے فرمایا گیا ہے، اور دوسری بات اس ارشاد سے یہ نکلتی ہے کہ ہر عاقل انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ آفاق وانفس کے ان دلائل میں غور و فکر سے کام لے تاکہ اس طرح وہ علم الیقین کی دولت سے سرفراز ہوسکے، اور یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ جب اس کا یہ غور و فکر قرآن وسنت کی روشنی میں ہو، ورنہ اس کے بغیر دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔