Ayah 102:1(102:1) الہکم التکاثر : الہی ماضی واحد مذکر غائب الہاء (افعال) مصدر سے بمعنی زیادہ ضروری چیز سے غافل رکھنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تم کو غفلت میں کھا۔
التکاثر : بہتات، زیادہ طلبی، دولت و جاہ، عزت و مرتبہ، مال اور اولاد کی کثرت کے لئے باہم جھگڑنا۔
بروزن تفاعل مصدر ہے۔ مال و متاع کی مزید چاہت و طلب (حرص نے) تم کو غافل کر رکھا۔ باب تفاعل کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت باہمی اشتراک بھی ہے یعنی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے تم نے مال و متاع کی مزید سے مزید طلب و سعی میں دیگر بہتر اور زیادہ ضرور امور سے غفلت برتی۔
Ayah 102:2(102:2) حتی زرتم المقابر : حتی انتہاء غایت کے لئے ہے۔ یہاں تک کہ ۔ زرتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر زیارۃ (باب نصر) مصدر سے۔ تم نے دیکھا۔ تم نے جا زیارت کی۔ المقابر۔ جمع مقبرۃ کی، قبریں۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔
Ayah 102:3(102:3) کلا سوف تعلمون : کلا حرف ردع وزجر ہے۔ کسی امر سے باز داشت (روکنے) اور جھڑک دینے کے لئے ہے۔ یہاں تکاثر سے بازداشت کے لئے ہے مطلب یہ کہ تمہیں ایسا نہ کرنا چاہیے۔
سوف مضارع پر داخل ہوکر اسے مستقبل سے حال کی طرف زیادہ قریب کردیتا ہے ۔ سوف تعلمون : تم عنقریب جان لوگے
تعلمون کا مفعول محذوف ہے یعنی عذاب کے وقت تم جان لو گے کہ اس تکاثر کا انجام کیا ہے ؟
Ayah 102:4(102:4) ثم کلا سوف تعلمون : ثم یہاں تراخی رتبہ کے لئے آیا ہے یعنی یہ دوبارہ وعید پہلی دھمکی سے زیادہ سخت ہے۔ اس کو وعید اول کی تاکید و تائید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔ تمہیں پھر خبردار کیا جاتا ہے کہ تم قریب ہی اس تکاثر کے انجام کو جان لوگے۔
Ayah 102:5(102:5) کلا لو تعلمون علم الیقین : کلا یہ ممانعت تکاثر کی تاکید در تاکید کے لئے آیا ہے (تم کو پھر خبردار کیا جاتا ہے)
لو تعلمون علم الیقین جملہ شرطیہ ہے تعلمون کا مفعول محذوف ہے یعنی اس تکاثر و تفاخر کا انجام۔
علم کا نصب بوجہ مصدر ہونے کے ہے۔ اور علم الیقین میں موصوف کی اضافت اس کی صفت کی طرف ہے۔ اگر تم کو (اس انجام کا) یقینی علم ہوتا اگر تم یقینی طور پر جان لیتے)
جواب شرط محذوف ہے یعنی : تو تم اس تکاثر و تفاخر میں وقت ضائع نہ کرتے اور ضروری امور سے غافل نہ رہتے۔
Ayah 102:6(102:6) لترون الجحیم۔ جملہ جواب قسم میں ہے جس کا جملہ قسمیہ محذوف ہے۔ ای واللہ لترون الجحیم۔ خدا کی قسم تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔ یعنی تم کو دوزخ ضرور دیکھنا ہوگا۔
(یہ سب کو خطاب ہے یعنی نیک و بد دونوں دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ نیک لوگوں کے لئے یہ محض ایک گزرگاہ ہوگا اور وہ سرعت کے ساتھ گزر جائیں گے اور بدوں کے لئے یہ گھر ہوگا کہ اس میں ہی رہیں گے)
اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وان منکم الا واردھا (19:71) اور تم میں سے کوئی شخص نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔
لام جواب قسم کا ہے ترون رؤیۃ سے مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
Ayah 102:7(102:7) ثم لترونھا عین الیقین : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔
لترونھا۔ لام تاکید کا ۔ ترون مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع جحیم ہے
پھر (یعنی قبروں سے اٹھنے کے بعد ، قیامت کے روز) تم اس کو ضرور بالضرور دیکھ لوگے۔
عین الیقین مضاف مضاف الیہ۔ یقین کی آنکھ۔ یہ لترون کا مفعول مطلق ہے۔
علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ رؤیت اور معائنہ ہم معنی ہیں۔ (اس لئے یہاں علم سے مراد ہے مشاہدہ) عین الیقین لترون کا مفعول مطلق ہے اگرچہ دونوں کا مادہ جدا جدا ہے مگر معنی ایک ہی ہے۔ اس تقریر سے رؤیر کو اس جگہ بمعنی علم قرار دینے کا قول دفع ہوگیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے ایسا معائنہ کرلو گے جو یقین کا موجب ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ رؤیت اور مشاہدہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کو عین الیقین کہا جاتا ہے ۔ رؤیت چشم حصول علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 102:8(102:8) ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔
لتسئلن مضارع مجہول لام تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ضرور پوچھے جاؤ گے۔ تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔
یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ اس دن، ایسے واقعات کے دن۔
النعیم : اسم معرفہ۔ مجرور، نعمت، راحت، عیش۔ مراد اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتیں۔
ترجمہ :۔ پھر اس روز تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیحد و حساب ہیں جیسا کہ فرمایا وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ (14:34) اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو تم ان کو گن نہ سکو گے نعما، ظاہریہ، باطنیہ۔ تندرستی، جسم کے اعضاء کی خوبی، رزق، روزی۔ گرمیوں میں ٹھنڈا پانی، سایہ وغیرہ۔ جس سے کوئی فرد بشر خالی نہیں۔ ان کے علاوہ بیشمار نعمتیں ہیں جن کا بندہ شکر ادا کر ہی نہیں سکتا۔