102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 102:1

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

(لوگو) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا

الھکم . تم کو غافل بنا دیا ‘ یعنی بیہودہ ‘ لغو اور بےفائدہ کام میں تم کو ڈال دیا اور اللہ کی اطاعت سے اور ان کاموں سے روک دیا جو اللہ کی ناراضگی سے بچانے والے ہیں۔ التکاثر . کثرت مال و جاہ اور جتھے کی افزونی پر دوسرے کے مقابلہ میں فخر کرنے۔
Ayah 102:2

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں

حتی زرتم المقابر . یعنی مال و جاہ اور کنبہ و قبیلہ کی زیادتی پر فخر کرنے نے تم کو لغویات اور بیہودگیوں میں ڈال دیا یہاں تک کہ موت آگئی اور قبروں میں دفن کردیئے گئے۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم کا قول بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم کو تکاثر نے طاعت سے باز رکھا ‘ یہاں تک کہ تم کو موت آگئی۔ قتادہ نے کہا : یہودی اپنی کثرت پر فخر کرتے تھے اور کہتے تھے ‘ ہم فلاں قبیلہ سے زیادہ ہیں۔ اس شیخی بازی نے ان کو (اعترافِ حق اور طاعت سے) مرتے وقت تک باز رکھا۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس تفسیر اور شان نزول پر حتی غایت کے لیے آیا ہے (یعنی مرتے دم تک) ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن بریدہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول انصار کے دو قبیلوں کے حق میں ہوا۔ ایک بنی حارثہ ‘ دوسرا بنی الحارث۔ ہر ایک نے دوسرے پر فخر اور اپنی کثرت پر شیخی کا اظہار کیا تھا۔ ایک نے کہا : کیا تم میں کوئی فلاں ‘ فلاں اشخاص کی طرح ہے ‘ دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا۔ یہ مقابلہ تو زندوں کے متعلق تھا ‘ پھر کہنے لگے۔ اب قبرستان کو چلو۔ دونوں قبرستان کو گئے اور ہر ایک نے اپنے قبیلے کے مردوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے۔ کلبی نے کہا کہ یہ آیات قریشی قبائل کے حق میں نازل ہوئیں۔ بنی عبد مناف اور بنی سہم میں سے ہر قبیلہ نے کہا ہم میں سردار اور عزت مند آدمی تم سے زیادہ ہیں اور ہماری تعداد بھی تم سے زیادہ ہے۔ گنتی کی تو بنی عبد مناف زیادہ نکلے۔ پھر کہنے لگے : اب ہم اپنے مردوں کو شمار کریں گے چناچہ قبرستان میں جا کر مردوں کو شمار کیا تو بنی سہم کی تعداد کے تین گھر بڑھ گئے کیونکہ دور جاہلیت میں ان کی تعداد زیادہ تھی۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ان دونوں روایتوں کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے قبرستان میں جا کر مردوں کو بھی شمار کیا یہاں تک تمہارا تفاخر عددی بڑھ گیا کہ زندوں کو شمار کرنے کے بعد مردوں کی کثرت پر بھی فخر کرنے لگے۔ اس تفسیر پر زیارت قبور سے مجازاً مراد ہوگا مردوں کا ذکر کرنا یا زیارت قبور کا حقیقی معنی ہی مراد ہوگا کیونکہ وہ واقعی قبرستان کو قبر شماری کے لیے گئے تھے۔ بہرحال اس صورت میں حتّٰی سببیت کے لیے ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن السخیر نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا ‘ اس وقت حضور ﷺ آیت : الھٰکم التکاثر پڑھ رہے تھے ‘ پھر فرمایا : آدمی کہتا ہے ‘ میرا مال ہے ‘ میرا مال ہے ‘ تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا پہن کر پرانا کردیا یا خیرات کردیا اور جاری کردیا۔ بغوی (بعض دوسری روایت میں جاری کردیا کی جگہ تو نے ذخیرہ کرلیا ہے) ۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میت کے پیچھے تین چیزیں آتی ہیں ‘ دو واپس چلی جاتی ہیں۔ ایک میت کے ساتھ رہ جاتی ہے مردہ کے گھر والے ‘ مردہ کا مال اور مردہ کے اعمال یہ تین چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں ‘ مال اور گھر والے تو لوٹ جاتے ہیں اور اعمال اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ (رواہ البخاری) حضرت عیاض بن حمار مجاشعی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ تم لوگ تواضع کرو ‘ نہ کوئی کسی پر فخر کرے ‘ نہ کوئی کسی پر زیادتی۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کو اپنے مردہ ‘ باپ دادوں پر فخر کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ وہ جہنم کا کوئلہ ہیں۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو اللہ کے نزدیک گوبر کے اس کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائیں گے جو گندگی کو اپنی سونڈھ سے لڑکاتا ہے۔ اللہ نے تم سے جاہلیت کی حمیت اور باپ دادا پر جاہلیت کے زمانہ کی شیخی زائل کردی۔ آدمی یا پرہیزگار مؤمن ہے یا بدبخت فاجر ‘ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے تھی۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد) حضرت عقبہ بن عامر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : تمہارے یہ نسب کسی پر برتری دینے والے نہیں۔ تم سب آدم کی اولاد ہو جیسے ایک صاع کی اونچائی دوسرے صاع کی طرح ہوتی ہے ‘ بغیر دین اور تقویٰ کے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں۔ آدمی (کی برائی) کے لیے اتنا ہی بس ہے کہ وہ بدزبان ‘ فحش گو ‘ بخیل ہو۔ (رواہ احمد والبیہقی) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کا دن ہوگا تو اللہ ایک منادی کو یہ ندا دینے کا حکم دے گا ‘ سن لو میں نے ایک نسبت مقرر کی اور تم نے دوسری نسبت مقرر کی۔ میں نے تم میں سب سے عزت والا اسی کو قرار دیا جو سب سے بڑا متقی ہو مگر تم نے (اس کو ماننے سے) انکار کردیا۔ ہاں یہ کہنے لگے کہ فلاں بن فلاں ‘ فلاں بن فلاں سے افضل ہے۔ پس آج میں اپنی قائم کردہ نسبت کو اونچا کرتا ہوں اور تمہارے نسب کو نیچے گراتا ہوں۔ متقی کہاں ہیں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
Ayah 102:3

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا

کلا . یہ تکاثر بازداشت ہے۔ سوف تعلمون . بتقاضائے سیاق عبارت تعلمون کا مفعول محذوف ہے۔ یعنی آئندہ جب تم کو عذاب کیا جائے گا تو اس تفاخر و تکاثر کے برے انجام کو تم جان لو گے۔
Ayah 102:4

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا

ثم کلا سوف تعلمون . وعید سابق کی تاکید کے لیے مکرر وعید فرمائی یا پہلی وعید کے علاوہ دوسری وعید کی صراحت کی۔ ثم (ترقی مرتبہ کے لیے آتا ہے ‘ اس لیے) یہ بتارہا ہے کہ دوسری وعید پہلی دھمکی سے زیادہ سخت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ پہلی وعید موت کے وقت یا قبر کے اندر عذاب ہونے کی ہے اور دوسری وعید قبر سے اٹھنے کے بعد عذاب کی۔ ابن جریر نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ ہم عذاب قبر میں شک کرتے تھے یہاں تک کہ عذاب قبر کے متعلق الھٰکم التکاثر ...... کلا سوف تعلمون تک نازل ہوئی (اور ہم کو عذاب قبر کا یقین ہوگیا)
Ayah 102:5

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

دیکھو اگر تم جانتے (یعنی) علم الیقین (رکھتے تو غفلت نہ کرتے)

کلا . یہ ممانعت تکاثر کی تاکید در تاکید ہے۔ لو تعلمون علم الیقین . یعنی اگر تم اپنے آگے آنے والی چیزوں کا علم یقین رکھتے یعنی تم کو ان کا یقینی علم ایسا ہوتا جیسا اپنے پاس موجود چیز کا ہوتا ہے ‘ اس کی جزاء محذوف ہے یعنی تو یہ یقینی علم آخرت تم کو (دوسری بیہودگیوں سے) روک دیتا ‘ یا باہم کثرت مال و قبائل پر فخر نہ کرتے چونکہ جزا کی عظمت شان دکھانی ہے اس لیے اس کو حذف کردیا۔ قتادہ نے کہا : ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ علم الیقین سے مراد ہے اس بات کو جاننا کہ مرنے کے بعد اللہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ علم الیقین ‘ ایمان بالغیب ہے جو استدلال سے حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 102:6

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے

لترون الجحیم . شرط مذکور کا جواب نہیں کیونکہ (شرط تقدیری ہے اور) جزا تو (بہرحال) یقینی الوقوع ہے (شرط پر موقوف نہیں ہے علم الیقین ہو یا نہ ہو۔ جحیم کی رویت تو ضرور ہوگی) بلکہ یہ قسم محذوف کا جواب ہے اور اس سے وعید عذاب کو پختہ کرنا مقصود ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لَوْ (شرطیہ) اذا (ظرفیہ) کے معنی میں ہو اور اس سے مراد ہو موت کا وقت یعنی جب موت کے وقت آخرت کا تم کو یقینی علم حاصل ہوگا تو جحیم کو خود دیکھ لو گے مگر تلافی مافات کا وقت جا چکا ہوگا اسلئے وقت جاننا سودمند نہ ہوگا۔ رویت سے مراد ہے جاننا ‘ پہچاننا اور ممکن ہے کہ رویت چشم مراد ہو اور رویت چشم قبروں میں ہوگی ‘ قبروں کے اندر کافروں کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ آیت : وماھم عنھا بغائبین میں ہم اس کی تشریح کرچکے ہیں۔
Ayah 102:7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر اس کو (ایسا) دیکھو گے (کہ) عین الیقین (آ جائے گا)

ثم لترونھا . یعنی پھر قبروں سے اٹھنے کے بعد تم اس کو دیکھ لو گے۔ عین الیقین . رویت اور معاینہ ہم معنی ہیں (اسلئے یہاں علم سے مراد ہے مشاہدہ) عین الیقین لترون کا مفعول مطلق ہے۔ اگرچہ دونوں کا مادہ جدا جدا ہے مگر معنی ایک ہے۔ اس تقریر سے رویت کو اس جگہ بمعنی علم قرار دینے کا قول دفع ہوگیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آنکھوں سے ایسا معائنہ کرلو گے جو یقین کا موجب ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ رویت اور مشاہدہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کو عین الیقین کہا جاتا ہے۔ رویت چشم حصول علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شنیدہ دیدہ کی طرح نہیں ہوتا۔ خطیب ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور طبرانی نے حسن سند کے ساتھ حضرت انس کی روایت سے اس حدیث کو لکھا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے حاکم نے اور طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ اس حدیث میں اتنا زائد بھی نقل کیا ہے کہ اللہ نے موسیٰ کو ان کی قوم کی اس حرکت کی اطلاع دی جو گوسالہ کے سلسلہ میں انہوں نے کی تھی۔ موسیٰ نے (خبر پانے کے بعد بھی) توریت کی تختیاں (ہاتھ سے) نہ پھینکیں لیکن قوم کی حرکت کا جب خود مشاہدہ کرلیا تو (غصہ میں) تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ عین الیقین کا موصوف محذوف ہے یعنی ایسی رویت جو بعینہٖ یقین ہے رویت کو بعینہٖ یقین قرار دینا بطور مبالغہ ہے۔
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی

ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم . پھر اس روز تم سے نعمت کی باز پرس کی جائے گی کہ تم نے نعمتوں کا شکر کیوں نہیں کیا اور ناشکری کیوں کی۔ بغوی نے کہا جن نعمتوں میں وہ تھے ‘ قیامت کے دن ان کے شکر کی باز پرس ان سے کی جائیگی۔ مقاتل نے کہا : کفار مکہ کو دنیا میں مال و منال حاصل تھا مگر انہوں نے نعمتیں دینے والے کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ دوسروں کی پوجا کی ‘ قیامت کے دن اللہ کا شکر نہ کرنے پر انکو عذاب ہوگا۔ یہی قول حسن بصری کا ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی مرفوعاً یہی مروی ہے ‘ گویا آیت میں انہی کفار کو خطاب ہے جو تکاثر کی وجہ سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لَتَرَوُنَّ سے آخر سورت تک سب لوگوں کو عمومی خطاب ہو جیسے آیت : ان منکم الاواردھا میں ہے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ قبر کے اندر مؤمن کو اوّل وہ دوزخ والی جگہ دکھائی جاتی ہے جس کے عوض میں جنت والی جگہ اس کو عطا کی جاتی ہے تاکہ وہ زیادہ شکر گزار ہو۔ فائدہ صرف اہل تکاثر سے نعمتوں کی باز پرس ہوگی ‘ یہ عبارت قرآن کی رفتار سے بھی معلوم ہو رہا ہے اور ایک تفسیری مطلب بھی اسی طرح بیان کیا گیا ہے لیکن متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ کافر و مؤمن ہر شخص سے سوال ہوگا اور نعمت کی باز پرس کی جائے گی۔ حضرت ابن مسعود کی روایت میں رسول اللہ ﷺ کا قول (اس آیت کی تشریح میں) آیا ہے امن اور صحت کی بھی (باز پرس ہوگی) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی آیت کی تفسیر میں فرمایا : آنکھ ‘ کان اور جسمانی صحت کے متعلق اللہ بندوں سے سوال کرے گا کہ کن مصارف میں ان کو استعمال کیا۔ (ابن ابی حاتم) اسی آیت کی تفسیر میں مجاہد (رح) نے کہا : دنیا کی ہر لذت کا سوال ہوگا۔ فریابی اور ابو نعیم۔ قتادہ نے تفسیر آیت میں کہا : اللہ نے جو بھی نعمت عطا فرمائی ہے اس کی باز پرس کرے گا۔ عبدالرزاق۔ حضرت ابو قلابہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے کچھ لوگ گھی اور شہد ملا کر میدہ کی روٹی کے ساتھ کھائیں گے۔ (احمد فی کتاب الزہد) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم سے کس نعمت کی بازپرس ہوگی (کھانے ‘ پینے کو صرف) پانی اور کھجوریں ہیں اور دشمن سامنے (لڑنے) کو موجود ہے اور تلواریں ہمارے کندھوں پر (آویختہ) ہیں۔ فرمایا : خوب سمجھ لو عنقریب ایسا ہوگا (یعنی نعمتیں ملیں گی) ۔ (ترمذی) عکرمہ کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ہم کو کونسی نعمت میسر ہے صرف جو کی روٹی اور وہ بھی آدھے پیٹ۔ اللہ نے وحی بھیجی (کہ ان سے کہہ دو گرم ریت سے بچنے کے لیے) کیا تم جوتے نہیں بناتے اور کیا ٹھنڈا پانی نہیں پیتے۔ (ابن ابی حاتم) حضرت علی ؓ نے فرمایا : جو گیہوں کی روٹی کھاتا ہے اور (سردی و گرمی سے بچنے کے لیے) اس کو سایہ میسر ہے اور صاف پانی پیتا ہے تو یہ ایسی نعمت ہے جس کی باز پرس ہوگی۔ حاکم نے مستدرک میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ ایک حدیث نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر کا حضرت ابو الہیثم کے مکان پر جانا اور وہاں کھجوریں اور گوشت کھانا اور پانی پینا مذکور ہے۔ اسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ یہی وہ نعیم ہے جس کے متعلق قیامت کے دن تم سے باز پرس ہوگی۔ جب صحابہ ؓ نے تکبیر کہی تو فرمایا : جب تم کو ایسی چیز مل جائے اور اپنے ہاتھوں سے روٹی کھانا شروع کرو تو بِسْمِ اللہ وَ عَلٰی بَرَکَۃِ اللہ کہا کرو اور جب کھا چکو تو کہا کرو : اَلْحَمْدُِ ﷲِ الَّذِیْ ھُوَ اَشْبَعَنَا وَاَرْوَانَا وَاَنْعَمَ عَلَیْنَا وَاَفْضَلَ ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں اس قصہ کے ذیل میں اسی طرح مذکور ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : باہم علمی خیر خواہی کرو ‘ کوئی کسی سے علم کو نہ چھپائے۔ علمی خیانت ‘ مالی خیانت سے زیادہ سخت ہے۔ اللہ تم سے اس کی بازپرس کرے گا۔ (طبرانی و اصبہانی) حضرت ابو درداء کی کی روایت ہے ‘ سب سے اوّل بندہ سے سوال کیا جائے گا کہ جو کچھ تو جانتا تھا ‘ اس کے سلسلے میں تو نے کیا عمل کیا۔ (احمد و ابن المبارک) حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ بندہ سے جس طرح مال کے متعلق باز پرس ہوگی اسی طرح اسکے مرتبہ کے متعلق بھی ہوگی۔ (طبرانی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بندہ اگر ایک قدم بھی چلے گا تو اس سے پوچھا جائیگا کہ اس قدم اٹھانے سے تیرا مقصد کیا تھا ؟ (ابونعیم) حضرت معاذ ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ قیامت کے دن مؤمن سے اس کی تمام کوششوں کی بازپرس ہوگی ‘ یہاں تک کہ آنکھوں میں سرمہ لگانے کی بھی۔ (ابو نعیم و ابن ابی حاتم) حسن بصری کی مرفوع روایت ہے کہ بندہ جو خطبہ دے گا ‘ اللہ اس کے متعلق باز پرس کرے گا کہ کس مقصد سے ایسا کیا تھا ‘ یہ حدیث مرسل ہے۔ (رواہ البیہقی) آیت میں لفظ ثُمَّ بتارہا ہے کہ سوال نعمت جحیم کو دیکھنے کے بعد ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ سوال نعمت پل صراط پر ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وقفوھم انھم مسؤلون۔ ان کو روکو ‘ ان سے بازپرس کی جائے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ کے قدم پل صراط سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار باتوں کے متعلق باز پرس نہیں کرلی جائے گی : 1) عمر کو کس کام میں ختم کیا۔ 2) جسم کو کس کام میں دبلا کیا۔ 3) علم کے مطابق کیا عمل کیا۔ 4) مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ (مسلم) حضرت ابن مسعود کی روایت سے ترمذی اور ابن مردویہ نے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ ان عمومی احکام سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن کے متعلق احادیث میں آگیا ہے کہ وہ بلا حساب جنت میں جائینگے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی میں طاقت نہیں کہ ہزار آیات روز پڑھ لیا کرے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہزار آیت روز کون پڑھ سکتا ہے ؟ فرمایا : کیا تم میں سے کوئی (روز) الھٰکم التکاثر بھی نہیں پڑھ سکتا۔ (الحاکم والبیہقی) الحمد للہ سورة التکاثر ختم ہوئی بعونہ و منہ و تعالیٰ