Ayah 102:1(اَلْهٰىكُمُ ) تمہیں غافل کردیا۔ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے (التَّكَاثُرُ ) زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے۔ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرتے ہیں مثلا مال، اولاد، اعوان وانصار، فوجیں، خدم وحشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
Ayah 102:2تمہاری غفلت، تمہارا لہو ولعب اور تمہاری مشغولیت دائمی ہوگئی۔ (حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ) یہاں تک کہ تم قبرستان جاپہنچے۔ تب تمہارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمہارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ) دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زائرین کے نام سے موسوم کیا ہے قیام کرنے والوں سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعدالموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا وسزا پر دلالت کرتی ہے۔
Ayahs 102:3–5اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی (كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۭكَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ ۭ ) ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کرلو گے ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہوجائے گا ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ یعنی جو کچھ تمہارے سامنے ہے اگر تم اس کو جانتے ہوتے ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے تو تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ مال ومتاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمہیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔
Ayah 102:6(لَتَرَوُنَّ الْجَــحِيْمَ ) یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤ گے پس تم یقینا اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کررکھا ہے۔
Ayah 102:7(ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ ) پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔ یعنی روئیت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ورا المجرمنون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یجدوا عنھا مصرفا۔ الکھف 53) اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کرلیں گے کہ وہ اس جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔
Ayah 102:8(ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ) پھر تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیاتم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی تب وہ تمہیں ان نعمتوں سے اعلی و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔ یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا ؟ بلکہ تم نے اللہ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ویوم یعرض الذین کفروا۔۔۔ تا۔۔۔۔ تفسقون۔ الاحقاف 20) جس دن ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمہیں رسوا کن عذاب دیا جائے گا۔