102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 102:1–2

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

فخر کرنا تمہیں غافل کئے رہتا ہے

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

تاآنکہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو،1۔

1۔ (دنیا سے وفات پاکر) آیت میں اس عام حقیقت کا بیان ہے کہ دنیوی جاہ ومال، سامان وقوت و شوکت پر فخر وناز اور ان کی محبت وطلب، آخرت فراموش انسان کے قلب پر غفلت کے پردے ڈالے رہتی ہیں، اور اس میں خوف خدا و خشیت الہی پیدا ہی نہیں ہونے دیتیں، یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے، اور انسان قبر میں پہنچ جاتا ہے، (آیت) ” الھکم “۔ الھاء کے معنی لہو میں ڈال دینے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ دنیوی مشاغل میں انہماک چیز ہی ایسی ہے، جو انسان کا خیال، آخرت کی طرف جانے ہی نہیں دیتی اور اسے سدا فکر آخرت سے غافل رکھتی ہے۔ (آیت) ” التکاثر “۔ یعنی سامان دنیوی کی حرص وہوس، دنیا کا ہو کا، اور مال وجاہ میں ایک دوسرے پر تفوق و غلبہ کی طلب، التباری فی کثرۃ المال والعز (راغب) التباری بکثرۃ الجاہ والمال والمناقب (کبیر) یہاں اس کے تحت میں دنیوی مفاخرت کی ساری ہی چیزیں داخل ہیں، یدخل فیہ التکاثر بالعدد وبالمال والجاہ والاقرباء والانصار والجیش وبالجملۃ فیدخل فیہ التکاثر بکل مایکون من الدنیا والذا تھا وشھواتھا (کبیر) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ جاہلیت میں ہر قبیلہ کی عام عادت دوسرے قبیلہ پر اپنی کثرت آبادی اور کثرت سامان کی بناء پر تفوق جتانے کی تھی، جیسے آج بیسویں صدی کی ” مہذب “ حکومتوں کو فخر وناز اپنی اپنی (MAn Power.) پر رہا کرتا ہے۔
Ayahs 102:3–4

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

ہاں ہاں تمہیں عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے ،

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

ہاں ہاں پھر تمہیں عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے،2۔

2۔ (مرتے ہی اور قبر میں پہنچتے ہی) یعنی یہ ساری غفلتیں محض عارضی ہیں، آنکھ بند ہوتے ہی عالم برزخ شروع ہوجائے گا، اور اسی کے ساتھ کشف حقائق بھی، خود ہی جان لوگے، کہ اصل حقیقت کیا تھی، اور تم اس دنیا میں کیسی شدید حماقت اور بھول میں پڑے رہے ! (آیت) ” کلا۔ ثم کلا “۔ جملہ کی تکرار تاکید مضمون کی غرض سے ہے۔ وذکروا للتکریرانہ للتاکید وانہ وعید بعد وعید (کبیر) مضمون کے مکرر آنے سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے، کہ اشارہ عذاب برزخ اور عذاب آخرت کی (2) دو مختلف حالتوں کی جانب ہے، اور یہ استدلال امیر المومنین حضرت علی ؓ کی جانب منسوب ہے۔ ان احدی الحالتین عذاب القبر والاخری عذاب القیامۃ (کبیر) عن ذرؓ قال سمعت علی ابن ابی طالب ؓ یقول ان ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر (کبیر) قال علی ابن ابی طالب الاول فی القبور والثانی فی النشور (روح) عربی فصاحت وبلاغت پر جب بھی غور کیا جائے گا، عربوں ہی کی معیار سے کیا جائے گا، نہ کہ کسی اور ملک وقوم کے معیار سے، علامہ آلوسی سورة الکافرون کی تفسیر کے تحت میں امام لغت ونحو فراء کا قول نقل کرتے ہیں کہ فصحائے عرب ایسے تکرار سے کام لیتے ہیں، اور سننے والے یا تو اقرار میں بلی، بلی، کہتے جاتے ہیں، اور یا انکار میں لا، لا۔ قال الفراء ان القران نزل بلغۃ العرب ومن عادتھم تکرار الکلام للتاکید والافھام، فیقول المجیب بلی بلی والممتنع لالا،۔ (روح)
Ayah 102:5

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

ہاں اور ہاں کاش تم یقینی طور پر جان لیتے ! ،3۔

3۔ (اور دنیا میں دلائل صحیح پر غور کرکے، یعنی بعد مرگ تو یقین کرنا ہی پڑے گا، کاش اسی زندگی میں تم عقل سلیم سے کام لے کر نتیجہ یقین تک پہنچ گئے ہوتے، (آیت) ” علم الیقین “۔ فقہاء نے بالاتفاق لکھا ہے کہ اعمال میں محض ظن غالب کافی ومعتبر ہے۔ البتہ اعتقادیات میں، متکلمین کہتے ہیں کہ جانب مخالفت کا احتمال بھی نہ رہنا چاہیے، اور یہی علم الیقین ہے۔
Ayah 102:6

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

تم یقیناً دوزخ کو دیکھ کر رہو گے،4۔

4۔ (اور یہ دیکھنا، معا بعد مرگ عالم برزخ میں ہوگا)
Ayah 102:7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر یقیناً تم لوگ اسے ایسا دیکھنا دیکھو گے جو خود یقین ہے،5۔

5۔ یعنی وہ رؤیت استدلالی نہیں، رؤیت مشاہدہ ہوگی جس میں انکشاف استدلالیات سے کہیں زیادہ اور صریح ہوتا ہے، آگ میں گرنے والے کو آگ کی سوزش اور حرارت سے کہ یہ علم الیقین ہے، کہیں بڑھ چڑھ کر ہوتا ہے۔
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر اس روز تم سے (ہر) نعمت کی پوچھ ہوگی،6۔

6۔ (کہ ہر نعمت کا حق، یعنی ایمان وطاعت بجالائے یا نہیں) (آیت) ” ثم “۔ مفسرین نے کہا ہے کہ خطاب یہاں نوع انسان کو عام ہے، کفار ومشرکین کے ساتھ مخصوص نہیں، اور (آیت) ” ثم “۔ اس لحاظ سے مفید ترقی ہے، یعنی یہ سوال جب غیر مجرمین تک سے ہوگا، جن پر کوئی ضرر اس سے مترتب نہ ہوگا، تو پھر مجرمین کے لئے اس سوال کی جواہمیت، اشدیت اور ہیبت ہے، ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” النعیم “۔ اس میں دنیا کی ہر وہ چیز آگئی، جو کسی نہ کسی جہت سے مفید یا لذیذہو۔ یجب حملہ علی جمیع النعم (کبیر) والنعیم عام لکل مایتلذذبہ من مطعم ومشرب ومفرش ومرکب (روح) ۔