102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : اگر اللہ کی رضا و خوشنودی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کے لیے جائز حدود میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور مال و دولت کمانے کی جدوجہد خواہش اور کوشش کی جائے تو شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے شرط یہ ہے کہ قدم قدم پر یہ احساس زندہ رہے کہ قیامت کے دن ہر ایک نعمت کے متعلق جو سوال کیا جائے گا اس کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا ہے۔ دراصل شریعت میں ” تکاثر “ کی اجازت نہیں ہے یعنی ایک دوسرے سے کثرت اور بہت کچھ حاصل کرنے میں زندگی لگا دینا۔ اگر ایک شخص اللہ، اس کے رسول، قیامت ، آخرت، اخلاقی حدود اور اس کی ذمہ داریوں سے غافل ہوکر معیار زندگی بلند کرنے کی دھن میں پوری زندگی کھپادے اور وہ اس بات کو بھلادے کہ اسے ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہوکر دی گئی ہر نعمت کا جواب دینا ہے تو یہ نامناسب بات ہوگی۔ اگر انسان اپنے چاروں طرف نظر دوڑائے تو اس پر اللہ کے اتنے کرم ہیں اور اس کو زندگی گزارنے کے لیے اتنی نعمتیں عطا کی گئی ہیں کہ ان کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کرسکتا۔ نعمت کی قدر تو یہ ہے کہ ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس اور ایک کھجور پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے چناچنہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پاک سے یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ آپ نے صحابہ کرام (رض) کی تربیت کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی نعمتوں پر بھی شکر ادا کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی ہے۔ حضرت جابر ابن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر تشریف لائے۔ ہم نے آپ کو تازہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی پیش کیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں (قیامت کے دن) سوال کیا جائے گا۔ (مسند احمد، نسائی، ابن جریر) ایک مرتبہ سخت دھوپ میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ حضرت عمر فاروق (رض) کو خبر ہوئی تو وہ بھی گھر سے تشریف لے آئے۔ انہوں نے حضرت صدیق اکبر (رض) سے پوچھا کہ اس وقت سخت دھوپ میں کیسے آنا ہوا۔ فرمایا بھوک کی شدت نے مجبور کردیا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم اسی بےچینی نے مجھے بھی مجبور کیا۔ یہ دونوں باتیں کررہے تھے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف لے آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم اس وقت یہاں ؟ عرض کیا حضور بھوک کی شدت نے مجبور کردیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی اسی وجہ سے آیا ہوں۔ اس کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں کو لے کر حضرت ابوایوب انصاری (رض) کے مکان پر تشریف لے آئے۔ حضرت انصاری کی اہلیہ حضور کے آنے سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دیر بعد حضرت ابو ایوب بھی تشریف لے آئے انہوں نے جلدی سے کھجور کا ایک خوشہ توڑا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ پورا خوشہ کیوں توڑ لائے ؟ اس میں کچی پکی ہر طرح کی کھجوریں ہیں۔ عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس لیے لے آیا تاکہ آپ جس قسم کی کھجور کھانا پسند فرمائیں وہ کھالیں۔ اتنی دیر میں حضرت ابو ایوب انصاری (رض) نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا کچھ حصہ آگ پر بھونا کچھ ہانڈی میں ڈال کر پکایا۔ ان سب نے گوشت روٹی کھائی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کی یہ نعمتیں ہیں جن سے قیامت کے دن سوال کے اجائے گا حضرات صحابہ کرام (رض) یہ سن کر حیران رہ گئے کہ اس فقر و فاقہ اور سخت بھوک میں کھائی گئی ان چیزوں کے متعلق بھی اللہ کے ہاں سوال کیا جائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک یہ اللہ کی نعمتیں ہیں ان پر شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بسم اللہ کرکے شروع کرو اور جب ختم کرو تو اس پر اللہ کا شکرا دا کرو۔ اس کے بعد آپ نے ذرا ساگوشت ایک روٹی میں رکھ کر فرمایا کہ ابو ایوب یہ فاطمہ (رض) کو دے آئو اس نے بھی کئی دن سے کوئی چیز نہیں کھائی۔ وہ جلدی سے گئے اور حضرت فاطمہ کو دے آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تکاثر سے محفوظ رکھتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Ayahs 102:1–7

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

تمہیں تکاثر (ایک دوسرے سے آگے بڑھنے نے) غفلت میں مبتلا کئے رکھا

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

یہاں تک کہ تم قبریں جادیکھتے ہو

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر ہرگز نہیں۔ تمہیں بہت جلدمعلوم ہوجائیگا

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ تم یقینی طور پر معلوم کرلو گے

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

البتہ تم جہنم کو ضرور دیکھو گے

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر تم یقین کی آنکھ سے دیکھ لوگے

لغات القرآن : الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور، حرص اور لالچ نہ ہو۔ ہر قدم پر اس بات کا خیال رکھنا کہ اللہ نے جو بھی نعمتیں دی ہیں آخرت میں ان کا حساب دینا ہے۔ ان بنیادی باتوں کا خیال رکھتے ہوئے مال و دولت حاصل کرنے کے لیے محنت و مشقت، جدوجہدا ور بھاگ دوڑ کرنا کسی طرح عبادت سے کم نہیں ہے۔ اس جدوجہد کی قطعاً ممانعت نہیں ہے۔ لیکن جن لوگوں کا مقصد زندگی صرف مال و دولت سمیٹنا، اپنی شان و شوکت کا اظہار کرنا، لوگوں پر رعب اور دھونس جمانے کے لیے اونچی اونچی بلڈنگیں بنانا، لمبی چوڑی سواریاں حاصل کرنا، حلال و حرام کی پرواہ نہ کرنا اور آخرت سے غفلت اختیار کرنا ہو اس کی سخت ممانعت ہے۔ ایسے لوگ کبھی اس بات پر غور وفکر نہیں کرتے کہ یہ تمام چیزیں اس وقت تک ان کے ساتھ ہیں جب تک موت کا فرشت ان کے سامنے آکر کھڑا نہیں ہوجاتا۔ جیسے ہی موت آئے گی یہ تمام چیزیں ان سے چھین لی جائیں گی۔ اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال۔ حالانہ تیر امال تو صرف اتنا ہے جو تنے کھا کر فنا کردیا یا پہن کر پرانا اور بوسیدہ کردیا یا صدقہ کرکے اس کو (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے اور تو اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کرجانے والا ہے۔ “ (مسلم، ترمذی، مسند احمد) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس مال کو اپنا مال کہتا ہے درحقیقت وہ اس کا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وارثوں کے مال کا نگران ہے۔ آنکھ بند ہوتے ہی اس کے وارثوں میں سے ہر ایک اپنا حصہ کھینچنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو فرشتہ آگے آگے یہ کہتا جاتا ہے کہ تو کیا لے کر آیا ہے ؟ اور جو مرنے والے کے وارث ہیں وہ کہتے ہیں کہ تو کیا چھوڑ کر گیا ہے ؟ جو آدمی مال و دولت کے لالچ میں پڑجاتا ہے اور اسی کو مقصد زندگی بنالیتا ہے وہ جتنی بھی دولت جمع کرلیتا ہے اس پر صبر و قناعت نہیں کرتا بلکہ دن رات اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے اس کو دگنے سے دگنا کیسے کرسکتا ہوں۔ اس کی ہوس کا منہ کھلتا ہی چلا جاتا ہے۔ صرف قبر کی مٹی ہی اس کے ہوس کے منہ کو بھر سکتی ہے۔ اس بات کو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” اگر آدم زاد کے لیے سونے سے بھری ہوئی ایک وادی موجود ہو تو وہ چاہے گا کہ ایسی دو وادیاں اور ہوجائیں ( اس کی ہوس بڑھتی ہی چلی جاتی ہے) ۔ مٹی کے سوا کوئی چیز اس کے منہ کو بھر نہیں سکتی۔ لیکن اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ “ (صحیح بخاری) درحقیقت یہی تکاثر ہے جو آخرت کی ابدی زندگی سے غافل کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ اس کو موت آجاتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ” الھکم التکاثر “ پڑھ کر ارشاد فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ مال جو ناجائز طریقوں سے حاصل کیا جائے اور اس پر جو فرائض ہیں ان پر خرچ نہ کیا جائے ۔ (قرطبی) فرمایا کہ آج تم جس عذاب جہنم کا انکار کررہے ہو نہ تو وہ جہنم دور ہے اور نہ اس دنیا سے جانے کا وقت دور ہے وہ بہت جلد آنے والا ہے۔ ہر انسان بہت جلد اس جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر یقین کرنے پر مجبو رہوجائے گا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ہر شخص سے ان تمام نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا جو دنیا میں اسے عطا کی گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل تو ارشاد نہیں فرمائی کہ کن نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا۔ البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص سے دیکھنے، سننے اور سوچنے کی طاقتیں جو نعمت کے طور پر عطا فرمائی گئیں ہیں ان کے بارے میں سوال بھی کیا جائے گا۔ جو لوگ ان سوالوں کے صحیح جواب دیں گے ان کے لیے جنت اور اس کی ابدی راحتیں ہوں گی اور جو اس امتحان میں فیل ہوجائیں گے ان کے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ محشر کے دن کوئی شخص اس وقت تک اپنی جگہ سے ہل نہ سکے گا جب تک وہ پانچ سوالات کے جوابات نہ دے دے۔ (1) ۔ اس نے اپنی عمر کن کاموں میں کھپائی ؟ (2) ۔ اس نے اپنی جوانی کی طاقتوں کو کن کاموں میں خرچ کیا ؟ (3) ۔ وہ مال جو اس نے کمایا وہ کس طریقے سے حاصل کیا تھا (جائز یا ناجائز طریقے پر) ؟ (4) ۔ اس نے جو مال و دولت حاصل کیا تھا اس کو کن مصارف میں خرچ کیا ؟ (5) ۔ اللہ نے جو علم اس کو دیا تھا اس نے اس پر کتنا عمل کیا تھا ؟ سورۃ التکاثر بہت چھوٹی سی سورت ہے مگر غور فکر کرنے والے جانتے ہیں کہ اللہ نے اس میں زندگی اور اس کے متعلق چند جملوں میں دنیا اور آخرت کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور خصوصیت بھی ہے۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم میں کوئی شخص اس کی قدرت و طاقت رکھتا ہے کہ ہر روز قرآن کریم کی ایک ہزار آیات پڑھا کرے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھ سکتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی الھکم التکاثر نہیں پڑھ سکتا ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سورة تکاثر کو پڑھے گا اس کو ایک ہزار آیتیں پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر تم سے اس دن ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جن میں تم لوگ رہا کرتے تھے۔

تعارف : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی صورت پر جتنا بھی غور و فکر کیا جاتا ہے اس میں معانی اور حقائق کی ایک دنیا جھلکتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں عصر کی قسم کھائی ہے۔ عصر کے معنی نماز عصر، تاریخ انسانی، زمانہ یا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دور کی قسم کھا کر یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے سارے لوگ اس وقت تک دنیا اور آخرت میں سخت ناکام ہیں جب تک وہ ایمان لا کر عمل صالح اختیار نہ کریں۔ اگر انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں دو ہی قسم کے انسان نظر آتے ہیں کامیاب یا ناکام ۔ دنیا والوں نے تو کامیابی اور ناکامی کید و پیمانے مقرر رکھتے ہیں کہ جو شخص خوب مال و دولت کما کر اونچی سے اونچی بلڈنگیں تعمیر کرلے۔ اس کے آگے پیچھے گھومنے والے سیکڑوں آدمی ہوں تو وہ کامیاب ہے اور اگر کوئی شخص ایمان داری اور اپنے اخلاص، نیک نیتی اور حسن اخلاق کے باوجود غریب اور مفلس ہے تو وہ ناکام آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ معیار بتایا ہے کہ ہر انسان اس وقت تک سخت ناکام ہے جب تک وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار نہ کرلے۔ کامیاب وہ شخص ہے جس کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوں اور وہ شخص سخت ناکام ہے جو مال و دولت اور دنیاوی وسائل کمانے کے باوجود دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہو اور قیامت میں ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بن جائے۔ قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون وغیرہ دنیا کی وہ قومیں ہیں جنہوں نے ہزاروں سال تک دنیا پر حکومتیں کی ہیں۔ دنیا بھر کے وسائل ان کے پاس تھے۔ مال و دولت اور خوش حالی کی کمی نہ تھی لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی انتہا کردی اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا تو وہ قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوگئیں۔ ان کا مال و دولت، اونچی اونچی بلڈنگیں، تاج و تخت اور افراد کی کثرت ان کو عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے۔ یہ تو دنیا کا معاملہ ہے آخرت میں ان پر دائمی عذاب یہ ہوگا کہ ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال کر جہنم کو اوپر سے بند کردیا جائے گا۔ اللہ کی نظر میں یہ ناکام لوگ ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو وسائل کے اعتبار سے کمزور تھے لیکن ایمان اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال تھے وہ دنیا میں بھی سرخ رو ہوئے اور آخرت میں انہیں ہمیشہ کی راحتیں، آرام و سکون اور عیش و عشرت کے سامان عطا کئے جائیں گے یہ لوگ دنیا اور آخرت میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ اگر عصر سے رماد نبی کریم ﷺ کا زمانہ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے وہ گذشتہ قوموں کی طرح اس طرح ناکام ہوں گے کہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ذلتوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن جو لوگ نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے وہ دنیاوی اسباب کے لحاظ سے کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاکر آپ ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے عمل صالح کا راستہ اختیار کیا وہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ شمار کئے گئے ہیں۔ ان کی شان اور عظمت یہ ہے کہ ان صحابہ کرام ؓ کی طرف نسبت کرنے پر ہر شخص فخر محسوس کرتا ہے لیکن وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی ہر نعمت سے محروم رہے آج وہ اس طرح مٹ گئے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے۔ اگر کچھ نام زندہ ہیں تو وہ بھی قرآن کی وجہ سے ہیں۔ لیکن کتنی افسوسناک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ان کی طرف نسبت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔