Ayah 102:1[اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ ۙ
ترکیب : (آیت۔ 1) تَکَاثُرْ باب تفاعل کا مصدر ہے اس لیے اس میں باہم ایک دوسرے پر کثرت حاصل کرنے کا مفہوم شامل ہے اور یہ اَلْھٰی کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ جس چیز میں کثرت کی خواہش نے انسان کو غافل کیا وہ یہاں محذوف ہے اس لیے اس کے مفہوم میں وسعت ہے۔ دنیوی سازوسامان نے جس چیز سے انسان کو غافل کیا وہ بھی محذوف ہے۔ جو آخرت بھی ہوسکتی ہے، ذکر اللہ بھی ہوسکتا ہے۔
نوٹ 1: تکاثر کا مطلب ہے کثرت کے ساتھ مال و دولت جمع کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سورة پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مال کو ناجائز طریقوں سے حاصل کیا جائے اور مال پر جو فرائض اللہ کے عائد ہوئے ہیں ان میں خرچ نہ کریں۔
(معارف القرآن)
Ayah 102:2حَتّٰى زُرْتم الْمَقَابِرَ ۭ
Ayah 102:3كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ
Ayah 102:4ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۭ
Ayah 102:5كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ ۭ
نوٹ 2: مسجد خالد، لاہور کے پہلے خطیب کرنل اختر مرحوم نے ایک مثال کے ذریعے علم القین اور عین الیقین کا فرق اس طرح واضح کیا کہ ایک عام آدمی بھی بڑی آسانی سے اس کو سمجھ لیتا ہے۔ مثال یہ ہے کہ دو آدمی بازار سے ہو کر اپنے گھر جا رہے تھے۔ کسی نے ان کو اطلاع دی کہ اس راستے پر آگے تمہارا دشمن بیٹھا ہے۔ اس راستے سے مت جائو۔ ایک آدمی نے اس اطلاع پر یقین کرلیا اور راستہ بدل کر بخیریت گھر پہنچ گیا۔ دوسرے آدمی نے یقین نہیں کیا۔ آگے جا کر جب وہ دشمن کے ہتھے چڑھ گیا تب اس کو یقین آیا اس مثال میں ایک اَن دیکھی حقیقت کا علم دونوں کو دیا گیا۔ پہلے آدمی نے اس علم پر یقین کرلیا۔ اس کو علم الیقین کہتے ہیں۔ اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس علم سے فائدہ اٹھانے یا کسی خطرے سے بچائو کرنے کے لیے عمل کرنے کا موقع باقی رہتا ہے۔ دوسرے آدمی نے علم پر یقین نہیں کیا۔ آگے جا کر جب اس کو دشمن نظر آیا تو اس کو یقین آگیا۔ اس کو عین الیقین کہتے ہیں۔ لیکن اس وقت عمل کرنے کا موقع باقی نہیں رہتا۔ آیات۔ 5 تا 7 ۔ میں اسی حقیقت کی نشاندہی اس انداز میں کی گئی ہے کہ کاش تم لوگ علم الیقین کی افادیت کو سمجھتے۔ اب نہیں سمجھ رہے ہو تو آگے جا کر دوزخ کو دیکھ کر عین الیقین تو حاصل ہوجائے گا لیکن اس کا فائدہ کوئی نہیں ہوگا۔ اس حوالہ سے اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ سارا اجروثواب علم الیقین پر ہے اور اسی کا دوسرا نام ایمان بالغیب ہے۔ جدید تعلیم یافتہ کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایمان بالغیب کا مطالبہ غیر فطری ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مطالبہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے کیونکہ غیب پر ایمان لانے کی صلاحیت انسان کی فطرت میں ودیعت شدہ (Inbuilt) ہے۔ اس کی تشریح آیت۔ 2:3، نوٹ۔ 2 میں کی جا چکی ہے۔
مورخہ 16 ۔ صفر 432 ھ ۔ بمطابق 21 ۔ جنوری 2011 ئ۔
Ayah 102:6لَتَرَوُنَّ الْجَــحِيْمَ ۙ
Ayah 102:7ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ ۙ
(آیت۔ 7 ۔ ) تَعْلَمُوْنَ کا مفعول ہونے کی وجہ سے عِلْمَ الْیَقِیْنِ حالت نصب میں ہے۔ ثُمَّ لَتَرَوْنَّ کا مفعول ھَا کی ضمیر ہے اور عَیْنَ الْیَقِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ عِلْمَ الْیَقِیْنِ اور عَیْنَ الْیَقِیْنِ دونوں مرکب اضافی ہیں لیکن اضافت کے ساتھ ترجمہ کرنے سے ان اصطلاحات کا مفہوم واضح نہیں ہوتا اس لیے ان کا ترجمہ اردو محاورے کے مطابق ہوگا۔
Ayah 102:8ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ۧ
(آیت۔ 8) اَلنَّعِیْمِ پر لام جنس ہے۔