Explained with ayahs 1–8
مال و دولت اور اعمال :
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
سورة التکاثر 3
یعنی تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ متاع دنیا کی یہ کثرت، اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔ حالانکہ یہ ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ عنقریب اس کا برا انجام تمہیں معلوم ہوجائے گا اور تم جان لو گے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی جس میں تم عمر بھر مبتلا رہے۔ عنقریب سے مراد آخرت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں پر حاوی ہے، اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لیکن اس سے مراد موت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ تو کسی انسان سے بھی کچھ زیادہ دور نہیں ہے، اور یہ بات مرتے ہی انسان پر کھل جائے گی کہ جن مشاغل میں وہ اپنی ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم یعنی تم سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے متعلق باز پرس ہوگی کہ تم نے ان کا شکر کیا ادا کیا اور ان کو گناہوں میں تو خچ نہیں کیا، ان میں سے بعض نعمتوں کے متعلق تو خود قرآن میں دوسری جگہ وضاحت آگئی جیسا فرمایا ان السمع والبصر و الفوادکل اولیک کان عنہ مسؤ لا جس میں انسان کی قوت شنوائی، بینائی اور دل سے متعلق وہ لاکھوں نعمتیں آگئیں جن کو انسان ہر لمحہ استعمال کرتا ہے۔
حدیث۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بندہ سے جس چیز کا سب سے پہلے سوال ہوگا (وہ تندرستی ہے) اس کو کہا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں تندرستی نہیں دی تھی اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈا…
Read the full tafseer →اس دنیا میں صرف علم یقین حاصل ہوتا ہے: اس سے یہ بات بھی نکلی کہ ایک عاقل کو اس دنیا میں غیب کے حقائق کا علم یقین تو حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ علم یقین دلائل سے حاصل ہوتا ہے جو آفاق و انفس اور قرآن میں بیان کر دیے گئے ہیں لیکن عین الیقین کا درجہ اس کو آخرت ہی میں حاصل ہو گا اس لیے کہ اس کا تعلق معائنہ و مشاہدہ سے ہے۔ جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ چیز اس دنیا میں بھی حاصل ہوتی ہے ان کا دعویٰ ہمارے نزدیک بے بنیاد ہے۔ اس دنیا میں عین الیقین نہیں حاصل ہوتا بلکہ اس بات کا علم یقین حاصل ہوتا ہے کہ قرآن جو کچھ ہمیں بتا رہا ہے وہ ایک دن ہم آنکھوں سے بھی دیکھیں گے۔ عین الیقین اس دن حاصل ہو گا جس…
Read the full tafseer →7۔ 1 پہلا دیکھنا دور سے ہوگا یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لیے اسے عین الیقین (جس کا یقین مشاہدہ عین سے حاصل ہو) کہا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2: جو لوگ جنت میں جائیں گے، انہیں بھی دوزخ دکھائی جائے گی، تاکہ انہیں جنت کی صحیح قدر معلوم ہو۔ دیکھئے سورة مریم : 17
Read the full tafseer →اور اب آخری ضرب ایسی سخت لگائی جاتی ہے کہ ایک غافل سے غافل انسان بھی بیدار ہوکر رہ جاتا ہے ، چوکنا ہوجاتا ہے اور جو منہ کے رخ سرپٹ دوڑرہا ہے وہ بھی ذرا رک کر اس طرف متوجہ کرتا ہے اور بڑے سے بڑے مالدار کا عیش بھی مکدر ہوجاتا ہے ، وہ کانپنے لگتا ہے اور اس کے دل پر ان نعمتوں کے حوالے سے خوف طاری ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8 یعنی اس غفلت و انکار کا نتیجہ دوزخ ہے، وہ تم کو دیکھنا پڑے گا۔ اول تو اس کا کچھ اثر برزخ میں نظر آجائے گا۔ پھر آخرت میں پوری طرح دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“
یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی…
Read the full tafseer →5 دوزخ کے آثار تو تم مرنے کے فوراً بعد دیکھ لو گے۔ پھر جب قیامت کے دن تم میدان محشر میں اکٹھے کیے جاؤ گے تو پھر اسے اپنی آنکھوں سے یوں دیکھ لو گے کہ تمہیں اس کے یقینی ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →5۔ یعنی وہ رؤیت استدلالی نہیں، رؤیت مشاہدہ ہوگی جس میں انکشاف استدلالیات سے کہیں زیادہ اور صریح ہوتا ہے، آگ میں گرنے والے کو آگ کی سوزش اور حرارت سے کہ یہ علم الیقین ہے، کہیں بڑھ چڑھ کر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
حتی زرتم الماقبر اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم زندگی بھر تکاثر و تفاخر کے شغل میں مشغول رہے جس کی وجہ سے آخرت کی فکر اور اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا، حتی کہ تمہاری موت کا وقت آگیا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے تفاخر کے طور پر اپنی کثرت کو ثابت کرنے کے لئے زندوں کو شمار کرتے کرتے مردوں کو بھی شمار کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے قبرستان میں جا کر قبروں کو بھی شمار کر ڈالا جو کہ ایک نہایت احمقانہ حرکت ہے۔
Read the full tafseer →ثم لترونھا . یعنی پھر قبروں سے اٹھنے کے بعد تم اس کو دیکھ لو گے۔
عین الیقین . رویت اور معاینہ ہم معنی ہیں (اسلئے یہاں علم سے مراد ہے مشاہدہ) عین الیقین لترون
کا مفعول مطلق ہے۔ اگرچہ دونوں کا مادہ جدا جدا ہے مگر معنی ایک ہے۔ اس تقریر سے رویت کو اس جگہ بمعنی علم قرار دینے کا قول دفع ہوگیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آنکھوں سے ایسا معائنہ کرلو گے جو یقین کا موجب ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ رویت اور مشاہدہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کو عین الیقین کہا جاتا ہے۔ رویت چشم حصول علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شنیدہ دیدہ کی طرح نہیں ہوتا۔ خطیب ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور طبرانی نے حسن سند کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
(5۔ 7)۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لیتے کہ دنیا میں جو تم نے فخر کیا ہے قیامت میں اس پر کیا مواخذہ ہوگا۔ واللہ قیامت کے دن دوزخ کو دیکھو گے اور تم سب لوگوں سے کھانے، پینے، پہننے کی سب نعمتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
کلالو تعلمون علم الیقین…:”لترون“”رای یری رویہۃ“ (ف) (دیکھنا) سے جمع حاضر فعل مضارع معلوم بانون تاکید ثقلیہ ہے، تم ضرور بالضرور دیکھو گے۔ ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حاقہ کی آیت (51) کی تفسیر۔ مسلمان اور کافر سبھی جہنم کو دیکھیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وان منکم الا واردھا) (مریم : 81)”تم میں سے ہر کوئی اس پر وارد ہوگا۔“ پھر اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لیں گے، کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
تم دیکھ کر رہو گے دوزخ کو پھر آخرت میں تم دوزخ کو یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔
یہ ایک اور وعید ہے۔ یہ کلام اس بنا پر ہے کہ قسم محذوف ہے یعنی تم آخرت میں ضرور دیکھو گے۔ یہ خطاب ان کفار کو ہے جن کیلیے جہنم لازم ہوچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم عام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان منکم الا واردھا۔ (مریم) یہ کفار کے لیے گھر ہے اور مومن کے لیے گزرگاہ ہے۔ صحیح میں ہے : ان میں سے پہلا بجلی کی سی تیزی سے پھر ہوا کی سی تیزی سے پھر پرندے کی سی تیزی سے گزرے گا۔ سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ کسائی اور ابن عامر نے اسے لترون پڑھا ہے یہ اریتہ الشی سے مشتق ہے یعنی تمہیں اس کی طرف اٹھایا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
19۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سوف تعلمون سے کفار مراد ہیں آیت ثم کلا سوف تعلمون سے ایمان والے مراد ہیں اور اسی طرح وہ اس کو پڑھا کرتے تھے۔۔
20۔ فریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمہ سے آیت لو تعلمون علم الیقین کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ بیشک علم الیقین موت ہے اور فرمایا آیت ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرو پوچھا جائے گا۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ہر صاحب نعمت سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس کو عطا فرمائیں۔
Read the full tafseer →ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ ۙ
(آیت۔ 7 ۔ ) تَعْلَمُوْنَ کا مفعول ہونے کی وجہ سے عِلْمَ الْیَقِیْنِ حالت نصب میں ہے۔ ثُمَّ لَتَرَوْنَّ کا مفعول ھَا کی ضمیر ہے اور عَیْنَ الْیَقِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ عِلْمَ الْیَقِیْنِ اور عَیْنَ الْیَقِیْنِ دونوں مرکب اضافی ہیں لیکن اضافت کے ساتھ ترجمہ کرنے سے ان اصطلاحات کا مفہوم واضح نہیں ہوتا اس لیے ان کا ترجمہ اردو محاورے کے مطابق ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
پھر فرمایا ﴿لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَۙ006﴾ یہ جواب قسم ہے اور قسم محذوف ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کی قسم تم لوگ دوزخ کو ضرور ضرور دیکھو گے ﴿ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِۙ007﴾ پھر دوبارہ قسم ہے کہ تم ضرور ضرور دوزخ کو دیکھو گے یہ دیکھنا عین الیقین ہوگا اس کا دیکھنا ہی اس کے یقین کا سبب ہوجائے گا اور یہ دیکھنا تمام انکشافات سے بڑھ کر ہوگا۔ صاحب روح المعانی نے بعض اکابر سے نقل کیا ہے کہ ہر عاقل کو اس بات کا یقین ہونا کہ مجھے مرنا ہے یہ علم الیقین ہے اور جب وہ موت کے فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے تو یہ عین الیقین ہے اور جب واقعی موت کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ حق الیقین ہے۔ (روح المعانی صفحہ 260: ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔
(ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
5:۔ ” لترون “ تخویف اخروی۔ ” عین الیقین “ مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ یا یہ مفعول مطلق مقدر کی صفت ہے ای رویۃ عین الیقین (روح) ۔ تم ضرور بالضرور دوزخ کو دیکھ وگے۔ پھر کہتا ہوں تم دوزخ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرو گے اور تمہیں اس کا عین الیقین حاصل ہوجائیگا۔ پھر یہ بھی سن لو کہ اس دن تم سے ساری نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ میں تم پر جو انعام کیے تم نے ان کا شکریہ ادا کیا یا نہ۔ وکل ھذہ نعم فیسئل العبد عنہا ھل شکر ذلک امر کفر (قرطبی ج 20 ص 178) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مال کی محبت
انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…
Read the full tafseer →ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ 7 ۙ
عين
ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۔ (التکاثر : 5 تا 8)
(ہرگز نہیں ! اگر تم یقین کے ساتھ جانتے (تو تمہارا یہ طرزعمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے۔ پھر تم آخرت میں دوزخ کو یقین کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ پھر ضرور اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ )
غفلت کا اصل سبب
تمہارا یہ طرزعمل کہ تم نے زندگی کا اصل ہدف مال و دولت کی کثرت، عہدہ و منصب کی بہتات اور معیارِزندگی کو اونچا کرنے کی ہوس کو اس طرح بنایا ہے کہ ساری زندگی اسی کے حصول میں کھپ جاتی ہے حتیٰ کہ موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
فہم القرآن
ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔
اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔
1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔
3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔
یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…
Read the full tafseer →7 : ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ (پھر واللہ تم لوگ ضرور اس کو ایسا دیکھنا دیکھو گے جو خود یقین ہے) ثم سے عطف ڈال کر اس کو دوبارہ لائے۔ تاکہ تہدید میں خوب لغلیظ ہوجائے۔ اور تہویل و تخویف میں زیادتی ثابت ہو۔ پہلا دیکھنا تو دل کا دیکھنا ہے اور دوسرا آنکھ سے دیکھنا ہے۔ عین الیقین یعنی ایسا دیکھنا جو بعینہٖ یقین اور خالص یقین ہے۔
Read the full tafseer →7 ۔” ثم لترونھا “ مشاہدہ کرکے ” عین الیقین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…
Read the full tafseer →(ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ ) پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔ یعنی روئیت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ورا المجرمنون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یجدوا عنھا مصرفا۔ الکھف 53) اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کرلیں گے کہ وہ اس جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(5) منکرین و مکذبین کو جہنم کے دیکھنے کی تنبیہ و تذکری : سو منکرین کو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو یقینا دیکھنا ہے دوزخ کو، پس حیات دنیا کی اسی فرصت میں اس سے بچنے کی فکر کرلو، ورنہ ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے گا، اور اس سے بچنے کی کوئی صورت تمہارے لیے اے منکرو ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور تم لوگوں کو اسے دیکھنا ہوگا عین الیقین کے طور پر، اس کے اندر پڑ کر اور اس کے عذاب میں مبتلا ہوکر، اپنے کفر و عصیان اور اسراف و طغیان کی بناء پر، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ حضرت اہل علم کا کہنا ہے کہ یہاں پر رویت یعنی دیکھنے سے مراد اس کے عذاب کا چکھنا ہے ( تفسیر المراغی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
دنیا و آخرت کا مقابلہ
تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر۔
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 11 بعض لوگ (یعنی اہل ایمان) اسے دور سے دیکھیں گے اور بعض لوگ (یعنی کفار) اسے قریب سے دیکھیں گے جبکہ وہ اس کے اندر پھینکے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(102:7) ثم لترونھا عین الیقین : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔
لترونھا۔ لام تاکید کا ۔ ترون مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع جحیم ہے
پھر (یعنی قبروں سے اٹھنے کے بعد ، قیامت کے روز) تم اس کو ضرور بالضرور دیکھ لوگے۔
عین الیقین مضاف مضاف الیہ۔ یقین کی آنکھ۔ یہ لترون کا مفعول مطلق ہے۔
علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ رؤیت اور معائنہ ہم معنی ہیں۔ (اس لئے یہاں علم سے مراد ہے مشاہدہ) عین الیقین لترون کا مفعول مطلق ہے اگرچہ دونوں کا مادہ جدا جدا ہے مگر معنی ایک ہی ہے۔ اس تقریر سے رؤیر کو اس جگہ بمعنی علم قرار دینے کا قول دفع ہوگیا۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن :
الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں
تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
یاد الٰہی سے غفلت اللہ کی رحمت سے محرومی کا باعث۔
(ف 3) یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ اب بتلاؤ دنیا کے عیش و آرام کی کیا حقیقت تھی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریوہ کی روایت ہے کہ جو دیدار الٰہی اور حساب کتاب کی ایک بہت بڑی حدیث ہے اور اس صحیح حدیث کا ایک ٹکڑا گویا اس سورت کی تفسیر ہے حاصل اس ٹکڑے کا یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں صاحب نعمت اور اللہ کے روبرو کھڑے ہونے اور حساب کتاب سے غافل ہیں اس طرح کے لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا ھساب کتاب یوں ہی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے شخص کیا میں نے تجھ کو دنیا میں عزت دی مال دیا اور ہر طرح کا صاحب نعمت کیا تھا جب یہ شخص اللہ کی نعمتوں کا اقرار کرے گا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[3] آیت کا لفظی ترجمہ ہے تم بالکل یقین کی آنکھ سے اسے دیکھ لو گے۔ یقین کی آنکھ یعنی وہ یقین جو براہ راست مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر
عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…
Read the full tafseer →(7) خدا کی قسم تم لوگ اس جہنم کو ایسا دیکھنا دیکھو گے جو خود یقین ہے - یعنی یقین کی آنکھ سے دیکھو گے اور عینی مشاہدہ کرو گے اور اس وقت یقین کرنے میں کسی دلیل کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ استدلال میں کبھی یقین کا ترتب فوری ہوتا ہے اور کبھی تاخیر سے ہوتا ہے لیکن مشاہدہ کرنے میں بغیر کسی دلیل کے یقین کا ترتب فوری ہوتا ہے نیز مشاہدے میں انکشاف بھی زیادہ ہے یہی مراد عین الیقین ہے۔
صاحب مدارک کے الفاظ یہ ہیں الرویۃ التیھی نفس الیقین یہی وجہ ہے کہ ہر منکر اس دن امنابہ کا نعرہ لگاتا ہوگاحالان کہ یہ ایمان اس وقت بیکار اور بےسود ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔
Read the full tafseer →پھر اس کے بعد تم اسے یقین کی آنکھ سے بھی آخرت میں دیکھ لو گے
7 ؎ جیسا کہ قرآن کریم کے بیان سے واضح ہے کہ یقین کے تین مراتب ہیں : (1) علمی دلائل کی وجہ سے یقین کا حاصل ہونا جس کو علم الیقین کا نام دیا گیا (2) یقین کا مشاہدہ سے حاصل ہونا جس کو اس جگہ عین الیقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ (3) جس چیز کا یقین حاصل کرنا ہو اس کے اندر داخل ہونا یا ان حالات کا اپنے اوپر وارد ہوجانا جس سے یقین حاصل ہوتا ہے اس کو حق الیقن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اگرچہ اس حق الیقین کا اس جگہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن دوسری جگہ اس کا ذکر بھی آئے گا اور یقین کے تینوں مراتب کو سمجھنے کیلئے آگ کی مثال بہت خوب ہے مثلاً کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
Verse [ 102:8] ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (Then you will be asked about all the pleasures [ you enjoyed in the world ].) This means that, on the Day of Judgment, all of you will be questioned whether you had shown gratitude towards Allah's favors, or did you misuse them and were ungrateful to Allah? Some of these favors and bounties are explicitly mentioned elsewhere in the Qur'an:
إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
(...Surely, the ear, the eye and the heart - each one of them shall be interrogated about.) [ 17:36]
These…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 That is, "You are under the delusion that the abundance of the worldly goods and surpassing others in it, is real progress and success, whereas the opposite is the case. Soon you will know its evil end and you will realize that it was a stupendous error in which you remained involved throughout your Iife. "Soon" may mean the Hereafter, for, for the Being Whose sight comprehends alI ages, from eternity to eternity, a few thousand years or a few hundred thousand years can only be a short span of the eternal time. But it can also mean death, for death is not very far away from any man, and…
Read the full tafseer →