لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۟ۙلَتَرَوُنَّ الۡجَحِيۡمَۙ
تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
You will surely see the Hellfire.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz
لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۟ۙلَتَرَوُنَّ الۡجَحِيۡمَۙ
تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
You will surely see the Hellfire.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz
Read the whole surah · Surah At-Takaathur
تم دوزخ دیکھ کر رہو گے
تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے
تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے
یقین جانو تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔
بیشک ضرور جنہم کو دیکھو گے
تم (اپنی حرص کے نتیجے میں) دوزخ کو ضرور دیکھ کر رہو گے،
کہ یقینا تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔
کہ تمہیں ضرور جہنم کو دیکھنا ہے
کہ دوزخ سے ضرور دوچار ہو گے
تم یقینا دیکھ کر رہو گے دوزخ (اور اس کی ہولناکیوں) کو
تم یقیناً دوزخ کو دیکھ کر رہو گے۔
تم جہنم کو دیکھ کر رہو گے۔
تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے
You will surely end up seeing Hell;
You will certainly see the Hell,
You will certainly see the Hell,
Verily, you shall see the blazing Fire!
For ye will behold hell-fire.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
You will surely see the Hellfire.
You will be shown hell
You should most certainly have seen the hell;
Surely ye shall behold theScorch.
Ye shall certainly see Hell-Fire!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–8
مال و دولت اور اعمال : ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
سورة التکاثر 3 یعنی تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ متاع دنیا کی یہ کثرت، اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔ حالانکہ یہ ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ عنقریب اس کا برا انجام تمہیں معلوم ہوجائے گا اور تم جان لو گے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی جس میں تم عمر بھر مبتلا رہے۔ عنقریب سے مراد آخرت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں پر حاوی ہے، اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لیکن اس سے مراد موت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ تو کسی انسان سے بھی کچھ زیادہ دور نہیں ہے، اور یہ بات مرتے ہی انسان پر کھل جائے گی کہ جن مشاغل میں وہ اپنی ساری…
Read the full tafseer →ثم لترونھا عین الیقین اوپر خلاصہ تفسیر سے معلوم ہو چا ہے کہ عین الیقین سے مراد وہ یقین ہے کہ جو کسی چیز کے مشاہدہ کے بعد حاصل ہوتا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ درجہ یقین کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر تشریف رکھتے تھے اور ان کے پیچھے ان کی قوم نے گو سالہ پرستی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہیں کوہ طور پر خبر کردی تھی کہ تمہاری قوم اس وبال میں مبتلا ہوگئی ہے مگر موسیٰ ؑ پر اس خبر سے اتنا اثر نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوا جب واپس پہنچ کر انہوں نے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی آنکھوں سے دیکھی اس کا اثر یہ ہوا کہ بےاختیار ہو کر الواح تورات ہاتھ سے چھوڑ دیں (رواہ احمد و…
Read the full tafseer →’لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ‘ سے کلام کا پھر آغاز نہیں ہو رہا ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے خیال کیا ہے، بلکہ یہ ’لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ‘ کے مفعول کے محل میں ہے یعنی اگر تم یقین کے ساتھ جانتے کہ جہنم کو لازماً دیکھو گے۔ ’لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ‘ پر ’ل‘ اس یقین کی تعبیر کے لیے ہے جس کا ہونا مطلوب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ علم یقین جو ان باتوں کو ماننے کے لیے مطلوب ہے اس کے وسائل اللہ تعالیٰ نے آفاق و انفس کے شواہد اور قرآن کی آیات بینات میں رکھ دیے ہیں۔ اس وجہ سے ہر عاقل مکلف ہے کہ ان کو سمجھے اور مانے۔ جو ان سے گریز کرتا ہے، خواہ سمجھنے سے گریز کرتا ہے یا اس کے قبول کرنے سے وہ…
Read the full tafseer →6۔ 1 یہ قسم مخذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2: جو لوگ جنت میں جائیں گے، انہیں بھی دوزخ دکھائی جائے گی، تاکہ انہیں جنت کی صحیح قدر معلوم ہو۔ دیکھئے سورة مریم : 17
Read the full tafseer →اب اس خوفناک حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس حقیقت کی تاکید کی جاتی تاکہ دلوں پر اس کا خوف طاری ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8 یعنی اس غفلت و انکار کا نتیجہ دوزخ ہے، وہ تم کو دیکھنا پڑے گا۔ اول تو اس کا کچھ اثر برزخ میں نظر آجائے گا۔ پھر آخرت میں پوری طرح دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“ یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی…
Read the full tafseer →4 دوبارہ اور سہ بارہ تاکیداً فرمایا گیا کہ تمہارے ایسے خیالات قطعاً درست نہیں ہیں۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے دلائل میں کچھ تھوڑا بہت بھی غور و فکر کرلیتے تو تمہیں یقیناً یہ بات معلوم ہوجاتی کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں اور اس طرح غفلت میں نہ پڑے رہتے۔ تمہیں یہ بھی معلوم ہوجاتا کہ حقیقتاً اچھے کام کون سے ہیں ؟ اور آخرت سے توجہ ہٹانے اور غافل کردینے والے کون سے ؟ نیز یہ کہ کثرت کے حصول کے چکر میں پڑ کر زندگی گزارنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں یقیناً جہنم کو دیکھنا ہوگا اور اس کے کچھ آثار تمہیں مرنے کے فوراً بعد عالم برزخ میں ہی نظرآنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →4۔ (اور یہ دیکھنا، معا بعد مرگ عالم برزخ میں ہوگا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
حتی زرتم الماقبر اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم زندگی بھر تکاثر و تفاخر کے شغل میں مشغول رہے جس کی وجہ سے آخرت کی فکر اور اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا، حتی کہ تمہاری موت کا وقت آگیا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے تفاخر کے طور پر اپنی کثرت کو ثابت کرنے کے لئے زندوں کو شمار کرتے کرتے مردوں کو بھی شمار کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے قبرستان میں جا کر قبروں کو بھی شمار کر ڈالا جو کہ ایک نہایت احمقانہ حرکت ہے۔
Read the full tafseer →لترون الجحیم . شرط مذکور کا جواب نہیں کیونکہ (شرط تقدیری ہے اور) جزا تو (بہرحال) یقینی الوقوع ہے (شرط پر موقوف نہیں ہے علم الیقین ہو یا نہ ہو۔ جحیم کی رویت تو ضرور ہوگی) بلکہ یہ قسم محذوف کا جواب ہے اور اس سے وعید عذاب کو پختہ کرنا مقصود ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لَوْ (شرطیہ) اذا (ظرفیہ) کے معنی میں ہو اور اس سے مراد ہو موت کا وقت یعنی جب موت کے وقت آخرت کا تم کو یقینی علم حاصل ہوگا تو جحیم کو خود دیکھ لو گے مگر تلافی مافات کا وقت جا چکا ہوگا اسلئے وقت جاننا سودمند نہ ہوگا۔ رویت سے مراد ہے جاننا ‘ پہچاننا اور ممکن ہے کہ رویت چشم مراد ہو اور رویت چشم قبروں میں ہوگی ‘ قبروں کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
(5۔ 7)۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لیتے کہ دنیا میں جو تم نے فخر کیا ہے قیامت میں اس پر کیا مواخذہ ہوگا۔ واللہ قیامت کے دن دوزخ کو دیکھو گے اور تم سب لوگوں سے کھانے، پینے، پہننے کی سب نعمتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
کلالو تعلمون علم الیقین…:”لترون“”رای یری رویہۃ“ (ف) (دیکھنا) سے جمع حاضر فعل مضارع معلوم بانون تاکید ثقلیہ ہے، تم ضرور بالضرور دیکھو گے۔ ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حاقہ کی آیت (51) کی تفسیر۔ مسلمان اور کافر سبھی جہنم کو دیکھیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وان منکم الا واردھا) (مریم : 81)”تم میں سے ہر کوئی اس پر وارد ہوگا۔“ پھر اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لیں گے، کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
تم دیکھ کر رہو گے دوزخ کو پھر آخرت میں تم دوزخ کو یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ یہ ایک اور وعید ہے۔ یہ کلام اس بنا پر ہے کہ قسم محذوف ہے یعنی تم آخرت میں ضرور دیکھو گے۔ یہ خطاب ان کفار کو ہے جن کیلیے جہنم لازم ہوچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم عام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان منکم الا واردھا۔ (مریم) یہ کفار کے لیے گھر ہے اور مومن کے لیے گزرگاہ ہے۔ صحیح میں ہے : ان میں سے پہلا بجلی کی سی تیزی سے پھر ہوا کی سی تیزی سے پھر پرندے کی سی تیزی سے گزرے گا۔ سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ کسائی اور ابن عامر نے اسے لترون پڑھا ہے یہ اریتہ الشی سے مشتق ہے یعنی تمہیں اس کی طرف اٹھایا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
19۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سوف تعلمون سے کفار مراد ہیں آیت ثم کلا سوف تعلمون سے ایمان والے مراد ہیں اور اسی طرح وہ اس کو پڑھا کرتے تھے۔۔ 20۔ فریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمہ سے آیت لو تعلمون علم الیقین کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ بیشک علم الیقین موت ہے اور فرمایا آیت ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرو پوچھا جائے گا۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ہر صاحب نعمت سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس کو عطا فرمائیں۔
Read the full tafseer →لَتَرَوُنَّ الْجَــحِيْمَ ۙ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
پھر فرمایا ﴿لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَۙ006﴾ یہ جواب قسم ہے اور قسم محذوف ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کی قسم تم لوگ دوزخ کو ضرور ضرور دیکھو گے ﴿ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِۙ007﴾ پھر دوبارہ قسم ہے کہ تم ضرور ضرور دوزخ کو دیکھو گے یہ دیکھنا عین الیقین ہوگا اس کا دیکھنا ہی اس کے یقین کا سبب ہوجائے گا اور یہ دیکھنا تمام انکشافات سے بڑھ کر ہوگا۔ صاحب روح المعانی نے بعض اکابر سے نقل کیا ہے کہ ہر عاقل کو اس بات کا یقین ہونا کہ مجھے مرنا ہے یہ علم الیقین ہے اور جب وہ موت کے فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے تو یہ عین الیقین ہے اور جب واقعی موت کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ حق الیقین ہے۔ (روح المعانی صفحہ 260: ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔ (ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
5:۔ ” لترون “ تخویف اخروی۔ ” عین الیقین “ مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ یا یہ مفعول مطلق مقدر کی صفت ہے ای رویۃ عین الیقین (روح) ۔ تم ضرور بالضرور دوزخ کو دیکھ وگے۔ پھر کہتا ہوں تم دوزخ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرو گے اور تمہیں اس کا عین الیقین حاصل ہوجائیگا۔ پھر یہ بھی سن لو کہ اس دن تم سے ساری نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ میں تم پر جو انعام کیے تم نے ان کا شکریہ ادا کیا یا نہ۔ وکل ھذہ نعم فیسئل العبد عنہا ھل شکر ذلک امر کفر (قرطبی ج 20 ص 178) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مال کی محبت انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…
Read the full tafseer →لَتَرَوُنَّ الْجَــحِيْمَ 6 ۙ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۔ (التکاثر : 5 تا 8) (ہرگز نہیں ! اگر تم یقین کے ساتھ جانتے (تو تمہارا یہ طرزعمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے۔ پھر تم آخرت میں دوزخ کو یقین کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ پھر ضرور اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ) غفلت کا اصل سبب تمہارا یہ طرزعمل کہ تم نے زندگی کا اصل ہدف مال و دولت کی کثرت، عہدہ و منصب کی بہتات اور معیارِزندگی کو اونچا کرنے کی ہوس کو اس طرح بنایا ہے کہ ساری زندگی اسی کے حصول میں کھپ جاتی ہے حتیٰ کہ موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
فہم القرآن ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ 3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔ یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…
Read the full tafseer →6 : لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ (واللہ تم لوگ ضرور دوزخ کو دیکھو گے) نحو : یہ محذوف قسم کا جواب ہے اور قسم، وعید کی تاکید کیلئے ہے۔ قراءت : لَتُرَوُنَّ تاء ؔ کے ضمہ کے ساتھ شامی و علی نے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔” لترون الجحیم “ ابن عامر اور کسائی رحمہما اللہ نے ” لترون “ تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے ” اریتہ الشیئ “ سے اور دیگر حضرات نے تاء کے زبر کے ساتھ یعنی تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے، اس کے بعد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…
Read the full tafseer →(لَتَرَوُنَّ الْجَــحِيْمَ ) یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤ گے پس تم یقینا اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کررکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(4) غفلت کا علاج فکر آخرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور غفلت و لاپرواہی کی اس داء عضال کے علاج کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کاش کہ تم لوگ جان لیتے یقین کا جاننا یعنی اہل حق اور اصحاب فکر و بصیرت کے بتانے سے تو پھر یقینا تمہاری روش وہ نہ ہوتی جو اب ہے، بکہ وہ اس سے یکسر مختلف اور قطعی طور پر دگرگوں ہوتی، اور تم آخرت کو پس پشت ڈال کر دنیا کے پیچھے نہ لگ جاتے، سو جملہ شرطیہ کا جواب محذوف ہے جیسا کہ واضح ہے اور تمام ثقہ مفسرین کرام کا کہنا یہی ہے کہ اور اس کے حذف میں بلاغت یہ ہے کہ وہ ایسی کیفیت ہے کہ الفاظ و کلمات اس کا احاطہ نہیں کرسکتے، سو اس ارشاد پاک سے لوگوں کی غفلت و لاپرواہی کے اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
دنیا و آخرت کا مقابلہ تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 11 بعض لوگ (یعنی اہل ایمان) اسے دور سے دیکھیں گے اور بعض لوگ (یعنی کفار) اسے قریب سے دیکھیں گے جبکہ وہ اس کے اندر پھینکے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(102:6) لترون الجحیم۔ جملہ جواب قسم میں ہے جس کا جملہ قسمیہ محذوف ہے۔ ای واللہ لترون الجحیم۔ خدا کی قسم تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔ یعنی تم کو دوزخ ضرور دیکھنا ہوگا۔ (یہ سب کو خطاب ہے یعنی نیک و بد دونوں دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ نیک لوگوں کے لئے یہ محض ایک گزرگاہ ہوگا اور وہ سرعت کے ساتھ گزر جائیں گے اور بدوں کے لئے یہ گھر ہوگا کہ اس میں ہی رہیں گے) اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وان منکم الا واردھا (19:71) اور تم میں سے کوئی شخص نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ لام جواب قسم کا ہے ترون رؤیۃ سے مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن : الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور،…
Read the full tafseer →(ف 3) یعنی اس غفلت و انکار کا نتیجہ دوزخ ہے وہ تم کو دیکھنا پڑے گا اول تو اس کا کچھ اثر برزخ میں نظر اجائے گا پھر آخرت میں پوری طرح دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[2] یعنی تمہارا یہ خیال ہرگز صحیح نہیں ہے کہ متاع دنیا ہی کام آنے والی چیز ہے۔ مرتے ہی یہ حقیقت تم پر منکشف ہوجائے گی کہ جن مشاغل میں تم نے دنیا میں اپنی عمر کھپائی وہ سعادت و خوش بختی کا ذریعہ تھے یا بدانجامی اور بدبختی کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التکاثر عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…
Read the full tafseer →(6) خدا کی قسم بلا شبہ تم لوگ ضرور دوزخ کو دیکھو گے - یعنی اگر یہاں استدلال صحیحہ سے اس کا یقین نہیں کرتے تو دیکھ یقین کرو گے اگرچہ اس وقت یقین کرنا مفید نہ ہوگا پھر مکرر تاکید کے لئے کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔
Read the full tafseer →تم اس حرص دنیا کو دوزخ کی صورت میں دیکھ لو گے 6 ؎ گزشتہ آیت میں ( علم الیقین) کی بات کی جا رہی تھی جس کے متعلق ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ علم کے ذریعہ تو میں نے یقین حاصل کرلیا ہے۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بات کہ علم کے ذریعہ یقین حاصل کرلیا ہے کیسے درست تسلیم کی جاسکتی ہے جب کہ وہ مطلوب حاصل نہیں ہو رہا جو علم کے ذریعہ دوزخ کے یقینی ہونے کو حاصل ہے اور جب تک مطلوب حاصل نہ ہو حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی تو دال میں کچھ کالا ہے خواہ وہ شک و شبہ ہے جو زائل نہیں ہوا مثلاً آپ یوں سمجھ لیں کہ آپ کو پیاس لگی ہے ، پیاس کا ازالہ کیا ہے ؟ یہی کہ پانی پیا جائے کیوں پیا…
Read the full tafseer →Verse [ 102:7] ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (...then you will see it with an eye of certainty.) The phrase 'ain-ul-yagin' (translated above as 'eye of certainty' ) refers to the certainty attained by physical observation, and this is the highest degree of certainty. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ reports that when Holy Prophet Musa (علیہ السلام) was on the mount of Tur, his people started worshipping a calf. Allah informed him about this while he was still on the mountain. This piece of information did not affect Musa (علیہ السلام) so much. However, when he returned and saw the Children of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 That is, "You are under the delusion that the abundance of the worldly goods and surpassing others in it, is real progress and success, whereas the opposite is the case. Soon you will know its evil end and you will realize that it was a stupendous error in which you remained involved throughout your Iife. "Soon" may mean the Hereafter, for, for the Being Whose sight comprehends alI ages, from eternity to eternity, a few thousand years or a few hundred thousand years can only be a short span of the eternal time. But it can also mean death, for death is not very far away from any man, and…
Read the full tafseer →