At-Takaathur 102:5

At-Takaathur · from ayah 5

102:5

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ۟ؕكَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِؕ

دیکھو اگر تم جانتے (یعنی) علم الیقین (رکھتے تو غفلت نہ کرتے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! If you only knew with knowledge of certainty...

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takaathur

All translations of 102:5

ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو اگر تم جانتے (یعنی) علم الیقین (رکھتے تو غفلت نہ کرتے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز نہیں ! اگر تم یقینی علم کے ساتھ یہ بات جانتے ہوتے (تو ایسا نہ کرتے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہاں ہاں! کاش تم (مال و زَر کی ہوس اور اپنی غفلت کے انجام کو) یقینی علم کے ساتھ جانتے (تو دنیا میں کھو کر آخرت کو اس طرح نہ بھولتے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں، کاش ! تم جان لیتے، یقین کا جاننا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسا ہرگز نہیں چاہیے کاش ! تم یقینی طور پر جان لیتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں، اگر تم یقین کے ساتھ جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں کاش کہ تم لوگ جان لیتے یقین کا جاننا (تو تمہارا حال ہرگز یہ نہیں ہوتا)

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں اور ہاں کاش تم یقینی طور پر جان لیتے !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم جانتے۔ (یعنی) علم الیقین رکھتے تو غفلت نہ کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay, would that you knew with certainty of knowledge (what your attitude will lead to, you would never have acted the way you do).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No! Only if you knew (it) with a sure knowledge!

— Muhammad Taqi Usmani

No! Only if you knew (it) with a sure knowledge!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! If you knew with a sure knowledge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, would that ye knew (now) with a sure knowledge!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! If you only knew with knowledge of certainty...

— Saheeh International

You will certainly have the knowledge of your deeds beyond all doubt.

— Muhammad Sarwar

Nay! if you had known with a certain knowledge,

— Muhammad Habib Shakir

Lo! would that ye knew now with the surety of knowledge!

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, were ye to know with certainty of mind, (ye would beware!)

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 102:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مال و دولت اور اعمال : ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–7

سورة التکاثر 3 یعنی تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ متاع دنیا کی یہ کثرت، اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔ حالانکہ یہ ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ عنقریب اس کا برا انجام تمہیں معلوم ہوجائے گا اور تم جان لو گے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی جس میں تم عمر بھر مبتلا رہے۔ عنقریب سے مراد آخرت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں پر حاوی ہے، اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لیکن اس سے مراد موت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ تو کسی انسان سے بھی کچھ زیادہ دور نہیں ہے، اور یہ بات مرتے ہی انسان پر کھل جائے گی کہ جن مشاغل میں وہ اپنی ساری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لو تعلمون علم الیقین، حرف لو جو شرط کے لئے آتا ہے اس کے مقابل کوئی جزاء ہونا چاہئے وہ بقرینہ سیاق اس جگہ حذف کردی گئی ہے یعنی لما الھکم التکاثر یعنی اگر تم کو قیامت کے حساب کتاب کا یقین ہوتا تو تم اس تکاثر اور تغافل میں نہ پڑتے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

غفلت کا اصل سبب: یہ ان غافلوں کی اس غفلت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ تمہاری یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ تم کو یہ یقین نہیں آ رہا ہے کہ فی الواقع ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جس دن جہنم کو یقین کی آنکھوں سے دیکھو گے، پھر تم سے ان تمام نعمتوں کی بابت پرسش ہونی ہے جو تمہارے رب نے تم کو بخشیں لیکن تم نے ان کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کیا۔ اگر ان باتوں کا یقین ہوتا تو تم اپنی زندگیاں اس طرح دنیا کے پیچھے نہ گزارتے بلکہ لمحہ لمحہ اس آنے والے دن کی تیاریوں میں صرف کرتے۔ کلام کی تالیف: کلام کی تالیف پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہاں ’لَوْ‘ کا جواب محذوف ہے۔ جواب کو محذوف تو سب مانتے ہیں لیکن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس غفلت کا انجام اسطرح یقینی طور پر جان لو جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تم یقین کرتے ہو تو تم یقینا تکاثر و تفاخر میں مبتلا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: یعنی دنیا سمیٹنے کی دھن میں لگ کر تم آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

ان خوفناک الفاظ کو مکرر کہا جاتا ہے اور اس تکرار کے بعد جو بھاری بات آتی ہے اس کی وجہ سے یہ تاکید نہایت گہری اور خوفناک ہوجاتی ہے اور یہ لوگ اس ہولناک امر کی حقیقت کو نہیں جانتے کیونکہ یہ مدہوشی میں ہیں اور رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی تمہارا خیال ہرگز صحیح نہیں اگر تم یقینی طور پر دلائل صحیحہ سے اس بات کو جان لیتے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں تو ہرگز اس غفلت میں پڑے نہ رہتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–7

آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“ یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–5

3 یعنی تمہاری کثرت کے حصول کی خواہشات اور انہیں باتوں پر فخر و مباہات کی باتیں سراسر لغو اور باطل ہیں اور مرنے کے ساتھ ہی تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری یہ زندگی بھر کی کوششیں فضول اور بےکار تھیں۔ اور ان میں کوئی کوشش اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو مرنے کے بعد تمہارے کام آسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اور دنیا میں دلائل صحیح پر غور کرکے، یعنی بعد مرگ تو یقین کرنا ہی پڑے گا، کاش اسی زندگی میں تم عقل سلیم سے کام لے کر نتیجہ یقین تک پہنچ گئے ہوتے، (آیت) ” علم الیقین “۔ فقہاء نے بالاتفاق لکھا ہے کہ اعمال میں محض ظن غالب کافی ومعتبر ہے۔ البتہ اعتقادیات میں، متکلمین کہتے ہیں کہ جانب مخالفت کا احتمال بھی نہ رہنا چاہیے، اور یہی علم الیقین ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–7

حتی زرتم الماقبر اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم زندگی بھر تکاثر و تفاخر کے شغل میں مشغول رہے جس کی وجہ سے آخرت کی فکر اور اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا، حتی کہ تمہاری موت کا وقت آگیا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے تفاخر کے طور پر اپنی کثرت کو ثابت کرنے کے لئے زندوں کو شمار کرتے کرتے مردوں کو بھی شمار کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے قبرستان میں جا کر قبروں کو بھی شمار کر ڈالا جو کہ ایک نہایت احمقانہ حرکت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . یہ ممانعت تکاثر کی تاکید در تاکید ہے۔ لو تعلمون علم الیقین . یعنی اگر تم اپنے آگے آنے والی چیزوں کا علم یقین رکھتے یعنی تم کو ان کا یقینی علم ایسا ہوتا جیسا اپنے پاس موجود چیز کا ہوتا ہے ‘ اس کی جزاء محذوف ہے یعنی تو یہ یقینی علم آخرت تم کو (دوسری بیہودگیوں سے) روک دیتا ‘ یا باہم کثرت مال و قبائل پر فخر نہ کرتے چونکہ جزا کی عظمت شان دکھانی ہے اس لیے اس کو حذف کردیا۔ قتادہ نے کہا : ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ علم الیقین سے مراد ہے اس بات کو جاننا کہ مرنے کے بعد اللہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ علم الیقین ‘ ایمان بالغیب ہے جو استدلال سے حاصل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–8

(5۔ 7)۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لیتے کہ دنیا میں جو تم نے فخر کیا ہے قیامت میں اس پر کیا مواخذہ ہوگا۔ واللہ قیامت کے دن دوزخ کو دیکھو گے اور تم سب لوگوں سے کھانے، پینے، پہننے کی سب نعمتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–7

کلالو تعلمون علم الیقین…:”لترون“”رای یری رویہۃ“ (ف) (دیکھنا) سے جمع حاضر فعل مضارع معلوم بانون تاکید ثقلیہ ہے، تم ضرور بالضرور دیکھو گے۔ ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حاقہ کی آیت (51) کی تفسیر۔ مسلمان اور کافر سبھی جہنم کو دیکھیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وان منکم الا واردھا) (مریم : 81)”تم میں سے ہر کوئی اس پر وارد ہوگا۔“ پھر اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لیں گے، کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ہاں ہاں اگر تم (اس انجام کو) یقینی طور سے جانتے (تو ایسا ہرگز نہ کرتے) کلا کے لفظ کو مکرر ذکر کیا یہ زجر اور تنبیہ ہے کیونکہ ہر ایک کے بعد ایک اور چیز کا ذکر کیا گویا فرمایا : تم ایسا نہ کرو بیشک تم شرمندہ ہوگے، تم ایسا نہ کرو بیشک تم عقاب کے مستحق ہوگے۔ علم کی یقین کی طرف جو نسبت ہے وہ اس طرح ہے جس طرح فرمایا : ان ھذا لھو حق الیقین۔ (الواقعہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں یقین کا معنی موت ہے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ؛ اس سے مراد دوبارہ اٹھانا ہے کیونکہ جب وہ متحقق ہوجائے گا تو شک زائل ہوجائے گا۔ یعنی اگر دوبارہ اٹھائے جانے کو جان لیتے۔ لو کا جواب محذوف ہے یعنی اگر تم آج…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–7

19۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سوف تعلمون سے کفار مراد ہیں آیت ثم کلا سوف تعلمون سے ایمان والے مراد ہیں اور اسی طرح وہ اس کو پڑھا کرتے تھے۔۔ 20۔ فریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمہ سے آیت لو تعلمون علم الیقین کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ بیشک علم الیقین موت ہے اور فرمایا آیت ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرو پوچھا جائے گا۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ہر صاحب نعمت سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس کو عطا فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ ۝ۭ نوٹ 2: مسجد خالد، لاہور کے پہلے خطیب کرنل اختر مرحوم نے ایک مثال کے ذریعے علم القین اور عین الیقین کا فرق اس طرح واضح کیا کہ ایک عام آدمی بھی بڑی آسانی سے اس کو سمجھ لیتا ہے۔ مثال یہ ہے کہ دو آدمی بازار سے ہو کر اپنے گھر جا رہے تھے۔ کسی نے ان کو اطلاع دی کہ اس راستے پر آگے تمہارا دشمن بیٹھا ہے۔ اس راستے سے مت جائو۔ ایک آدمی نے اس اطلاع پر یقین کرلیا اور راستہ بدل کر بخیریت گھر پہنچ گیا۔ دوسرے آدمی نے یقین نہیں کیا۔ آگے جا کر جب وہ دشمن کے ہتھے چڑھ گیا تب اس کو یقین آیا اس مثال میں ایک اَن دیکھی حقیقت کا علم دونوں کو دیا گیا۔ پہلے آدمی نے اس علم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة التکاثر کا ترجمہ ہے لفظ تکاثر کثرت سے تفاعل کا مصدر ہے۔ یہ باب دونوں طرف سے مقابلہ کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسے تقاتل دونوں نے آپس میں مل کر قتال کیا اور تقابل دونوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے آئے، یہاں پر مال کی کثرت میں مقابلہ کرنے کا تذکرہ ہے۔ اہل دنیا کا طریقہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے لیے کوششیں کرتے ہیں اور جس کے پاس زیادہ مال ہوجائے وہ اس پر فخر کرتا ہے پھر دوسرا شخص اس کے مقابلے میں اپنے مال کی کثرت بیان کرتا ہے اور اگر بیان نہ کرے تو ذہنی مقابلہ تو رہتا ہی ہے اس کو سورة الحدید میں یوں بیان فرمایا ہے ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔ (ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” کلا لو تعلمون “ کلا بمعنی حقا ہے۔ ” لو “ کی جزاء مقدر ہے ای لما الھاکم التکاثر (کبیر) ۔ یا لشغلکم ذلک عن التکاثر (روح) ۔ یعنی اگر تم آئندہ حالات کو اس یقین کے ساتھ جانتے جس طرح تم دیگر احوال یقینیہ مثلاً احوال ماضیہ کو جانتے ہو تو تم کثرت مال و اولاد پر فخر نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

مال کی محبت انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 3–5

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ 3 ۙ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ 4 ۭ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ۝ 5 ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–8

کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۔ (التکاثر : 5 تا 8) (ہرگز نہیں ! اگر تم یقین کے ساتھ جانتے (تو تمہارا یہ طرزعمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے۔ پھر تم آخرت میں دوزخ کو یقین کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ پھر ضرور اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ) غفلت کا اصل سبب تمہارا یہ طرزعمل کہ تم نے زندگی کا اصل ہدف مال و دولت کی کثرت، عہدہ و منصب کی بہتات اور معیارِزندگی کو اونچا کرنے کی ہوس کو اس طرح بنایا ہے کہ ساری زندگی اسی کے حصول میں کھپ جاتی ہے حتیٰ کہ موت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–8

فہم القرآن ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ 3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔ یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 4–5

4، 5 : ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کَلَّا (پھرہرگز نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا ہرگز نہیں) کلاؔ یہ تکرار ردع اور انذار و تخویف کیلئے ہے۔ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ (اگر تم یقینی طور پر جان لیتے) نحو : لوؔ کا جواب محذوف ہے۔ ای لو تعلمون مابین ایدیکم اگر تم جانتے جو تمہارے سامنے ہے۔ علم الیقینؔ، علم الامر الیقین۔ یقینی بات کا علم۔ یعنی اس طرح جان لیتے جیسا تم ان چیزوں کو جانتے ہو۔ جن پر تمہیں یقین ہے تو کثرت اموال میں مقابلہ کی وجہ سے تم غفلت کا شکار نہ ہوتے۔ نمبر 2۔ اگر تم جان لیتے تو وہ کرتے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن تم تو گمراہ اور جاہل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” کلالو تعلمون علم الیقین “ یعنی علم یقینی۔ پس علم کی اضافت یقین کی طرف ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” لھو حق الیقین “ ہے اور ” لو “ کا جواب محذوف ہے۔ یعنی اگر تم جان لو علم یقین تو تمہیں مشغول کردے ۔ اس سے جو تم تکاثر و تفاخر کرتے ہو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہم یہ باتیں کرتے ہیں کہ علم یقین یہ ہے کہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت کے بعد اٹھانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–5

اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی (كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۝ۙثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۝ۭكَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ ۝ۭ ) ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کرلو گے ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہوجائے گا ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ یعنی جو کچھ تمہارے سامنے ہے اگر تم اس کو جانتے ہوتے ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے تو تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ مال ومتاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمہیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

(4) غفلت کا علاج فکر آخرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور غفلت و لاپرواہی کی اس داء عضال کے علاج کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کاش کہ تم لوگ جان لیتے یقین کا جاننا یعنی اہل حق اور اصحاب فکر و بصیرت کے بتانے سے تو پھر یقینا تمہاری روش وہ نہ ہوتی جو اب ہے، بکہ وہ اس سے یکسر مختلف اور قطعی طور پر دگرگوں ہوتی، اور تم آخرت کو پس پشت ڈال کر دنیا کے پیچھے نہ لگ جاتے، سو جملہ شرطیہ کا جواب محذوف ہے جیسا کہ واضح ہے اور تمام ثقہ مفسرین کرام کا کہنا یہی ہے کہ اور اس کے حذف میں بلاغت یہ ہے کہ وہ ایسی کیفیت ہے کہ الفاظ و کلمات اس کا احاطہ نہیں کرسکتے، سو اس ارشاد پاک سے لوگوں کی غفلت و لاپرواہی کے اصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

دنیا و آخرت کا مقابلہ تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التکاثر۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–5

ف 9 یقینا معلوم ہوتا یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہ ہوتا معلوم ہوا کہ آخرت سے غفلت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کا موجب بنتی ہے۔10 یہ خطاب تمام لوگوں سے ہے۔ جیسے فرمایا :” قران منکم الا وارھا “ اور تم میں سے کوئی نہیں جو اس پر آنیوالا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(102:5) کلا لو تعلمون علم الیقین : کلا یہ ممانعت تکاثر کی تاکید در تاکید کے لئے آیا ہے (تم کو پھر خبردار کیا جاتا ہے) لو تعلمون علم الیقین جملہ شرطیہ ہے تعلمون کا مفعول محذوف ہے یعنی اس تکاثر و تفاخر کا انجام۔ علم کا نصب بوجہ مصدر ہونے کے ہے۔ اور علم الیقین میں موصوف کی اضافت اس کی صفت کی طرف ہے۔ اگر تم کو (اس انجام کا) یقینی علم ہوتا اگر تم یقینی طور پر جان لیتے) جواب شرط محذوف ہے یعنی : تو تم اس تکاثر و تفاخر میں وقت ضائع نہ کرتے اور ضروری امور سے غافل نہ رہتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن : الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یعنی تمہارا خیال ہرگز صحیح نہیں اگر تم یقینی طو پر دلائل صحیحہ سے اس بات کو جان لیتے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں تو ہرگز اس غفلت میں پڑے نہ رہتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–6

[2] یعنی تمہارا یہ خیال ہرگز صحیح نہیں ہے کہ متاع دنیا ہی کام آنے والی چیز ہے۔ مرتے ہی یہ حقیقت تم پر منکشف ہوجائے گی کہ جن مشاغل میں تم نے دنیا میں اپنی عمر کھپائی وہ سعادت و خوش بختی کا ذریعہ تھے یا بدانجامی اور بدبختی کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

سورة التکاثر عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) ہرگز تمہارا یہ خیال صحیح نہیں ہے اگر تم یقینی طور پر جان لیتے - یعنی دلائل صحیحہ سے اگر تم جان لیتے کہ آخرت کے مقابلے میں یہ سب دنیوی سازوسامان ہیچ اور بیکار ہے تو ہرگز ان چیزوں پر محرو مباہات نہ کرتے اور حب جاہ ومال میں مبتلا نہ ہوتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–7

ف 1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں ، کاش کہ تم یقینی علم رکھتے ہوتے 5 ؎ فطرت انسانی ہے کہ بات جتنی اہم ہوتی ہے انسان کو اس کو اتنے ہی اہم طریقہ سے کرتا ہے اور پھر جب کرلیتا ہے تو پھر تاکید پر تاکید کیے جاتا ہے۔ اشاروں اور استعاروں میں تاکہ جس کے ساتھ بات کی گئی ہے وہ اس کے اشارہ ، استعارہ اور رمز کو سمجھے اور دوسروں کو اس میں کچھ بھی حاصل نہ ہوتا تاکہ راز بھی قائم رہے اور بات بھی جاری ہے اور تاکید در تاکید بھی ہوتی رہے۔ قرآن کریم چونکہ انسانوں ہی کی زبان میں نازل کیا گیا ہے اس لیے اس نے وہی پیرا یہ بیان اختیار کیا ہے اور یہی صورت اس جگہ پیش آرہی ہے۔ بات کی ہے اور بات پر اس کی تاکید انداز بدل کر کی جا رہی ہے اور پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 102:5] كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (No! if you have had sure knowledge..) The word 'if requires a principal clause that seems missing here, but the context suggests that the sense is the following: "If you had the sure knowledge of accountability on the Day of Judgment, you would not have engrossed yourselves in mutual competition in acquiring worldly goods and taking pride in their abundance."

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

3 That is, "You are under the delusion that the abundance of the worldly goods and surpassing others in it, is real progress and success, whereas the opposite is the case. Soon you will know its evil end and you will realize that it was a stupendous error in which you remained involved throughout your Iife. "Soon" may mean the Hereafter, for, for the Being Whose sight comprehends alI ages, from eternity to eternity, a few thousand years or a few hundred thousand years can only be a short span of the eternal time. But it can also mean death, for death is not very far away from any man, and…

Read the full tafseer →