At-Takaathur 102:4

At-Takaathur · from ayah 4

102:4

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۟ؕثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ

پھر دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then no! You are going to know.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 27 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takaathur

All translations of 102:4

پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر (سن لو کہ) ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (آگاہ کیا جاتا ہے:) ہرگز نہیں! عنقریب تمہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر (سن لو) ایسا ہرگز نہیں چاہیے، جلد ہی تم جان لو گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں، ہرگز نہیں، تم آگے جان لو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (سن لو !) ہرگز نہیں عنقریب تم لوگوں کو خود معلوم ہوجائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں ہاں پھر تمہیں عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر کوئی بات نہیں ! بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

nay, again, you shall soon come to know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Again, you will soon know.

— Muhammad Taqi Usmani

Again, you will soon know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Again nay! You shall come to know!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then no! You are going to know.

— Saheeh International

You shall cetainly know (about the consequences of your deeds).

— Muhammad Sarwar

Nay! Nay! you shall soon know.

— Muhammad Habib Shakir

Again lo! presently ye shall know.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 102:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مال و دولت اور اعمال : ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے پالینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کردیا تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آگئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کرلی اور مرتے دم تک غفلت برتی (ابن ابی حاتم) حسن بصری فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ہم لو کان لابن ادم واد من ذھب یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے یہاں تک کہ الھا کم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–7

سورة التکاثر 3 یعنی تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ متاع دنیا کی یہ کثرت، اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔ حالانکہ یہ ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ عنقریب اس کا برا انجام تمہیں معلوم ہوجائے گا اور تم جان لو گے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی جس میں تم عمر بھر مبتلا رہے۔ عنقریب سے مراد آخرت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں پر حاوی ہے، اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لیکن اس سے مراد موت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ تو کسی انسان سے بھی کچھ زیادہ دور نہیں ہے، اور یہ بات مرتے ہی انسان پر کھل جائے گی کہ جن مشاغل میں وہ اپنی ساری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–4

حتی زرتم المقابر، یہاں زیارت مقابر سے مراد مر کر قبر میں پہنچنا ہے جیسا کہ حدیث مرفوع میں خود رسول اللہ ﷺ نے حتی زرتم المقابر کی تفسیر میں فرمایا حتی یاتیکم الموت (ابن کثیر بروایت ابن ابی حاتم) اس لئے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ تم لوگوں کو مال و دولت کی بہتات یا مال و اولاد اور قبیلہ و نسب پر تفاخر غفلت میں ڈالے رہتی ہے اپنے انجام اور آخرت کے حساب کی کوئی فکر نہیں کرتے یہاں تک کہ اسی حال میں تمہیں موت آجاتی ہے اور وہاں عذاب میں پکڑے جاتے ہو یہ خطاب بظاہر عام انسانوں کو ہے جو مال و اولاد کی محبت یا دوسروں پر اپنی برتری اور تفاخر میں ایسے مست رہتے ہیں کہ اپنے انجام کو سوچنے کی طرف توجہ ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 3–4

یہ ان غفلت کے ماتوں کو تنبیہ اور نہایت زور دار و مؤثر تنبیہ ہے کہ سب کچھ سمجھا دینے کے بعد بھی اگر تم آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں ہو تو سن رکھو کہ زندگی یہی نہیں ہے جو تمہیں نظر آ رہی ہے اور جس کے عشق نے تمہیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ اس کا اصل چہرہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہے جس کو تم جلد دیکھو گے اور پھر سن لو کہ اس کو تم عنقریب دیکھو گے!! یہ تاکید در تاکید انداز کو مؤثر بنانے کے لیے بھی ہے اور اس حقیقت کے اظہار کے لیے بھی کہ جس قوم کو اللہ کا رسول انذار کرتا ہے وہ اس کی تکذیب کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی گرفتار عذاب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اس کے آگے وہ سب کچھ آئے گا جس سے رسول نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: یعنی دنیا سمیٹنے کی دھن میں لگ کر تم آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

ان خوفناک الفاظ کو مکرر کہا جاتا ہے اور اس تکرار کے بعد جو بھاری بات آتی ہے اس کی وجہ سے یہ تاکید نہایت گہری اور خوفناک ہوجاتی ہے اور یہ لوگ اس ہولناک امر کی حقیقت کو نہیں جانتے کیونکہ یہ مدہوشی میں ہیں اور رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

6 یعنی دیکھو بار بار بتاکید کہا جاتا ہے کہ تمہارا خیال صحیح نہیں کہ مال و اولاد وغیرہ کی بہتات ہی کام آنے والی چیز ہے۔ عنقریب تم معلوم کرلو گے کہ یہ زائل وفانی چیز ہرگز فخر و مباہات کے لائق نہ تھی پھر سمجھ لو کہ آخرت ایسی چیز نہیں جس سے انکار کیا جائے یا غفلت برتی جائے۔ آگے چل کر تم پر بہت جلد کھل جائے گا کہ خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی، یہ حقیقت بعض لوگوں کو دنیا میں تھوڑی بہت کھل جاتی ہے لیکن قبر میں پہنچ کر اور اس کے بعد محشر میں سب کو پوری طرح کھل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”پھر کوئی بات نہیں ! بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا۔“ اپنے اسلوب کے اعتبار سے یہ آیات سورة النبا کی ان آیات سے مشابہ ہیں : { کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ - ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۔ }۔ یعنی ابھی تم لوگ ”تَـکَاثُر“ کے نشے میں مست ہونے کی وجہ سے موت کا تصور بھی ذہن میں لانے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ مگر وہ وقت دور نہیں جب موت خود آکر تم سے ملاقات کرے گی : { قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّــہٗ مُلٰقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَــبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } الجمعۃ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–5

3 یعنی تمہاری کثرت کے حصول کی خواہشات اور انہیں باتوں پر فخر و مباہات کی باتیں سراسر لغو اور باطل ہیں اور مرنے کے ساتھ ہی تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری یہ زندگی بھر کی کوششیں فضول اور بےکار تھیں۔ اور ان میں کوئی کوشش اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو مرنے کے بعد تمہارے کام آسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

2۔ (مرتے ہی اور قبر میں پہنچتے ہی) یعنی یہ ساری غفلتیں محض عارضی ہیں، آنکھ بند ہوتے ہی عالم برزخ شروع ہوجائے گا، اور اسی کے ساتھ کشف حقائق بھی، خود ہی جان لوگے، کہ اصل حقیقت کیا تھی، اور تم اس دنیا میں کیسی شدید حماقت اور بھول میں پڑے رہے ! (آیت) ” کلا۔ ثم کلا “۔ جملہ کی تکرار تاکید مضمون کی غرض سے ہے۔ وذکروا للتکریرانہ للتاکید وانہ وعید بعد وعید (کبیر) مضمون کے مکرر آنے سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے، کہ اشارہ عذاب برزخ اور عذاب آخرت کی (2) دو مختلف حالتوں کی جانب ہے، اور یہ استدلال امیر المومنین حضرت علی ؓ کی جانب منسوب ہے۔ ان احدی الحالتین عذاب القبر والاخری عذاب القیامۃ (کبیر) عن ذرؓ قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–7

حتی زرتم الماقبر اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم زندگی بھر تکاثر و تفاخر کے شغل میں مشغول رہے جس کی وجہ سے آخرت کی فکر اور اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا، حتی کہ تمہاری موت کا وقت آگیا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے تفاخر کے طور پر اپنی کثرت کو ثابت کرنے کے لئے زندوں کو شمار کرتے کرتے مردوں کو بھی شمار کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے قبرستان میں جا کر قبروں کو بھی شمار کر ڈالا جو کہ ایک نہایت احمقانہ حرکت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم کلا سوف تعلمون . وعید سابق کی تاکید کے لیے مکرر وعید فرمائی یا پہلی وعید کے علاوہ دوسری وعید کی صراحت کی۔ ثم (ترقی مرتبہ کے لیے آتا ہے ‘ اس لیے) یہ بتارہا ہے کہ دوسری وعید پہلی دھمکی سے زیادہ سخت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ پہلی وعید موت کے وقت یا قبر کے اندر عذاب ہونے کی ہے اور دوسری وعید قبر سے اٹھنے کے بعد عذاب کی۔ ابن جریر نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ ہم عذاب قبر میں شک کرتے تھے یہاں تک کہ عذاب قبر کے متعلق الھٰکم التکاثر ...... کلا سوف تعلمون تک نازل ہوئی (اور ہم کو عذاب قبر کا یقین ہوگیا)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–4

(3۔ 4) تمہیں بہت جلدی معلوم ہوجائے گا کہ تمہارے ساتھ قبروں کا کیا معاملہ کیا جائے گا پھر تمہیں مرنے کے وقت معلوم ہوجائے گا۔ شان نزول : الہٰکم التکاثر۔ حتی زرتم المقابر الخ ابن ابی حاتم نے ابن بریدہ سے روایت کیا ہے کہ انصار کے دو قبیلوں یعنی بنی حارثہ اور بنی حارث نے آپس میں فخر کیا اور ایک دوسرے پر اپنی جماعت کی زیادتی کا اظہار کیا چناچہ ان میں سے ایک قبیلہ کہنے لگا کہ تم میں فلاں فلاں جیسا کوئی ہے پھر دوسرے قبیلے نے بھی یہی کہا چناچہ پہلے زندوں پر فخر کیا پھر کہنے لگے ہمارے ساتھ قبرستان چلو۔ چناچہ وہاں پہنچ کر ایک جماعت قبرستان کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی کہ تم میں کوئی ایسا ہے اور پھر دوسری…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 3–4

کلا سوف تعلمون…: یعنی اپنی غفلت کا انجام جان لو گے۔ تاکید کے لئے بات دہرائی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–4

ہاں ہاں تم جلد جان لوگے پھر ہاں ہاں تمہیں (اپنی کوششوں کا انجام) جلد معلوم ہوجائے گا۔ فراء نے کہا : کلا سے مراد یہ ہے معاملہ اس طرح نہیں جس باہم فخر اور کثرت پر تم ہو تم عنقریب اس کا انجام جان لوگے۔ یہاں وعید پر وعید ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں کلام میں جو تکرار ہے وہ تاکید اور تغلیظ کے طریقہ پر ہو ؛ یہ فراء کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : قبر میں جو تم پر عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے پھر آخرت میں تم پر جو عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے۔ پہلی کلام قبر کے عذاب کے بارے میں ہے اور دوسری کلام آخرت کے بارے میں ہے۔ تو یہ تکرار دو حالتوں کے بارے میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–7

19۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا سوف تعلمون سے کفار مراد ہیں آیت ثم کلا سوف تعلمون سے ایمان والے مراد ہیں اور اسی طرح وہ اس کو پڑھا کرتے تھے۔۔ 20۔ فریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمہ سے آیت لو تعلمون علم الیقین کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ بیشک علم الیقین موت ہے اور فرمایا آیت ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرو پوچھا جائے گا۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ہر صاحب نعمت سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس کو عطا فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة التکاثر کا ترجمہ ہے لفظ تکاثر کثرت سے تفاعل کا مصدر ہے۔ یہ باب دونوں طرف سے مقابلہ کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسے تقاتل دونوں نے آپس میں مل کر قتال کیا اور تقابل دونوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے آئے، یہاں پر مال کی کثرت میں مقابلہ کرنے کا تذکرہ ہے۔ اہل دنیا کا طریقہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے لیے کوششیں کرتے ہیں اور جس کے پاس زیادہ مال ہوجائے وہ اس پر فخر کرتا ہے پھر دوسرا شخص اس کے مقابلے میں اپنے مال کی کثرت بیان کرتا ہے اور اگر بیان نہ کرے تو ذہنی مقابلہ تو رہتا ہی ہے اس کو سورة الحدید میں یوں بیان فرمایا ہے ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تنبیہ وتہدید برغفلت از آخرت ووعید برحرص مال و دولت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الھکم التکاثر ..... الی ...... یومئذ عن النعیم “۔ (ربط) سورة القارعہ میں انسان کو قیامت پر پیش آنے والے ہولناک حوادث سے آگاہ وخبردار کیا گیا تھا، اب اس سورت میں جو اسباب غفلت ہیں ان سے باخبر کیا جارہا ہے کہ مال و دولت کی حرص انسان کو آخرت سے غافل اور دور کرنے والی چیز ہے، اسی مال واولاد پر تفاخر و غرور بھی کوئی اچھی بات نہیں، انسان کو چاہئے ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد یعنی فکر آخرت کو فراموش نہ کرے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) سے یہ منقول ہے کہ یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، جبکہ مدینہ میں رہنے والے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3:۔ ” کلا سوف “ کلا برائے ردع ہے اور اس میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں چاہئے اور نہ یہ خیال ہی درست ہے کہ مال و اولاد کی کثرت سعادت کا باعث ہے یا کوئی قابل فخر چیز ہے۔ بہت جلد تمہیں یہ حقیقت معلوم ہوجائیگی کہ یہ تکاثر و تفاخر ایک فضول چیز تھی۔ ” ثم کلا سوف تعلمون “ تکرار تاکید کے لیے ہے اور ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ یعنی میں پھر یہ بات کہتا ہوں، مراد یہ ہے کہ موت کے بعد آنکھیں کھل جائیں گے اور حقیقت واضح ہوجائیگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

مال کی محبت انسان کو فرائض منصبی سے غافل کرنے والی چیزوں میں مال کی محبت ، سرفہرست ہے یہا پر اس اس بات کو تکاثر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الھکم التکاثر تم کو کثرت کی طلب نے غفل میں ڈال رکھا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرو یعنی مر کر قبروں میں پہنچ جائو تکاثر میں مال ، اولاد ، دنیا کا ساز و سامان اور جماعت سب کچھ شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا کے مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حقیقی مقاصد یعنی اپنے مالک کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کی طرف کوئی د ھیان نہیں دیتے ان کو یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو مال و دولت حاصل ہو ، خاندان بڑا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 3–5

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ 3 ۙ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ 4 ۭ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ۝ 5 ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ اَلْہٰی فعل یقال الہاہ عن فلان اذا شغلہ عنہ وکم مفعولہ التکاثر فاعلہ۔ والتکاثر التباہی والتفاخر بکثرۃ الاموال والا ولا دو الغلفلہ عن اللہ تعالیٰ حتی غایۃ للا لہاء زرتم المقابر جمع مقبرۃ۔ والمعنی انساکم حرص الدنیا والتفاخر بالاموال و العشائر عن الدار الاخرۃ حتی دککم الموت وانتم علیٰ تلک الحالۃ کلا للروع لو شرطیۃ تعلمون شرط و مفعول تعلمون محذوف ای الامر الذی انتم صائرون الیہ علما یقینا ونصب العلم علی المصدریۃ واضافۃ الی الیقین من اضافۃ الموصوف الی صفۃ وقیل العلم عام یکون یقینا وغیر یقین فاضا فۃ الی الیقین اضافۃ العام الخاص و جواب لو محذوف قال الاخفش التقدیر لو تعلمون علم الیقین ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (التکاثر : 3، 4) (ہرگز نہیں، تم عنقریب جان لو گے۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، تم عنقریب جان لو گے۔ ) تکاثر کی ہوس کامیابی نہیں یعنی تم متاع دنیا کی کثرت اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانے کو کامیابی اور ترقی سمجھتے ہو۔ حالانکہ یہ ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ تمہیں عنقریب اندازہ ہوجائے گا۔ یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ تم نے متاع دنیا میں اضافے کے لیے کارخانوں پہ کارخانے لگائے، ملوں پر ملیں لگائیں۔ اور اپنے بچوں کو دیکھنے کے لیے کبھی وقت نہ نکال سکے۔ بیوی کی دلجوئی کے لیے کبھی تمہارے پاس چند…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–8

فہم القرآن ربط سورت : القارعہ میں بتلایا گیا ہے کہ مجرموں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کی جائے گا التّکاثر میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جہنمی آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس سورت کی ابتدا ” اَلْہٰی “ کے لفظ سے ہورہی ہے۔ عربی زبان میں ” اَلْہٰی یَلْہٰی “ کا معنٰی ہے کسی چیز کے ساتھ ایسا لگاؤ جس کی وجہ سے انسان اپنے اہم معاملات سے لاپرواہ اور غافل ہوجائے۔” التَّکَاثُرُ “ کے تین مفہوم لیے گئے ہیں۔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مال واسباب جمع کرنا۔ 2۔ مال کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ 3۔ مال و اسباب کی کثرت پر فخر و غرور کرنا۔ یاد رہے کہ دین اسلام دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 4–5

4، 5 : ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کَلَّا (پھرہرگز نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا ہرگز نہیں) کلاؔ یہ تکرار ردع اور انذار و تخویف کیلئے ہے۔ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ (اگر تم یقینی طور پر جان لیتے) نحو : لوؔ کا جواب محذوف ہے۔ ای لو تعلمون مابین ایدیکم اگر تم جانتے جو تمہارے سامنے ہے۔ علم الیقینؔ، علم الامر الیقین۔ یقینی بات کا علم۔ یعنی اس طرح جان لیتے جیسا تم ان چیزوں کو جانتے ہو۔ جن پر تمہیں یقین ہے تو کثرت اموال میں مقابلہ کی وجہ سے تم غفلت کا شکار نہ ہوتے۔ نمبر 2۔ اگر تم جان لیتے تو وہ کرتے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن تم تو گمراہ اور جاہل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ثم کلا سوف تعلمون “ حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ وعید کے بعد وعید ہے اور معنی یہ ہے کہ عنقریب تم اپنے فخر و غرور کا انجام جان لوگے۔ جب تم پر موت اترے گی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” کلا سوف تعلمون “ یعنی کفار ” ثم کلا سوف تعلمون “ یعنی مومنین اور پہلی کو تاء کے ساتھ اور دسورے کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ صحت بدن ‘ وقت پر غذا کا ملنا ‘ ٹھنڈے پانی کا ملنا ‘ اس طرح سب چیزیں جن پر آدمی کی زیست کا مدار ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اطاعت الٰہی سے غافل ہیں اور رات دن زیادتی مال اور اولاد کی حرص ہو ہوس میں ان لوگوں کی زیست کٹتی ہے اس ساری سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کے پیچھے موت ایسی لگی ہوئی ہے کہ مرتے دم تک بھی آدمی مال اور اولاد کی ہوس میں لگا رہے تو بھی دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ جو لوگ ان چھوڑ جانے کی چیزوں میں اس طرح مصروف رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–5

اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی (كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۝ۙثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۝ۭكَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ ۝ۭ ) ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کرلو گے ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہوجائے گا ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ یعنی جو کچھ تمہارے سامنے ہے اگر تم اس کو جانتے ہوتے ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے تو تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ مال ومتاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمہیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) غفلت کے ماروں کو سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور غفلت کے ماروں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ہرگز ایسا نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ رکھا ہے کہ متاع دنیا کی یہ کثرت اور اس کے حطام فانی و زائل کی یہ بہتات ہی اصل ترقی اور کامیابی ہے، اور اس میں دوسروں سے آگے بڑھ جانا ہی اصل مقصود ہے، سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں، مگر آج چونکہ دنیا کے اس دار الامتحان میں تمہاری آنکھوں پر غفلت کی پٹی بندھی ہوتی ہے، اس لیے تمہیں اصل حقیقت نظر نہیں آتی، ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دار الجزاء نہیں، دار العمل ہے اس میں انسان کو عمل اور کمائی کا موقع دیا گیا ہے اور فیصلہ آخرت کے اس ابدی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

دنیا و آخرت کا مقابلہ تشریح : عام طور پر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر کوئی مال و دولت کے حصول میں پریشان اور مصروف ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت سب کو پاگل کئے ہوئے ہے۔ جب کہ دونوں چیزیں ہی انسان سے جدا ہوجانے والی ہیں۔ ساتھ اگر کچھ دے گا تو صرف وہ جو ہم نے علم الیقین کو سامنے رکھ کر کمایا اور جو اس علم پر یقین نہ رکھ کر حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں تو وہ سخت دکھ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے بعد پھر جو زندگی شروع ہوگی تو پھر علم العین یعنی مشاہدہ کی زندگی ہوگی۔ تو وہاں وہ پچھتائیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تو ضروری ہے کہ ہم اس پر یقین کریں عمل کریں جو ہمیں علم القرآن و الحدیث سے مل رہا ہے۔ قرآن میں ہر قسم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التکاثر۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ اے انسان تجھے کثرت مال کی ہوس نے اپنااسیر کردیا اور تو اللہ کی اطاعت بھول کرنا جائز طریقے سے مال جمع کرنے میں لگارہا یہاں تک قبر میں جاپہنچا اور یقینا وہاں پہنچ کر تو سب حال واضح ہوجائے گا بلکہ سب کچھ جان لوگے جب دوزخ کو دیکھو گے اور علم یقین حاصل ہوگا حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ جو حال دیکھ کرہوتا ہے خبر سن کر وہ اثر نہیں ہوتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر خبر دی گئی کہ آپ کی قوم گوسالہ پوجنے میں لگی ہے مگر جب خود آکر دیکھاتوبھڑک اٹھے اور الواح پھینک ماریں تو لوگوں تم بھی حشر میں جہنم کو روبرو دیکھو گے تب اللہ کریم کی سب نعمتوں کا حساب دینا ہوگا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–5

ف 9 یقینا معلوم ہوتا یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہ ہوتا معلوم ہوا کہ آخرت سے غفلت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کا موجب بنتی ہے۔10 یہ خطاب تمام لوگوں سے ہے۔ جیسے فرمایا :” قران منکم الا وارھا “ اور تم میں سے کوئی نہیں جو اس پر آنیوالا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(102:4) ثم کلا سوف تعلمون : ثم یہاں تراخی رتبہ کے لئے آیا ہے یعنی یہ دوبارہ وعید پہلی دھمکی سے زیادہ سخت ہے۔ اس کو وعید اول کی تاکید و تائید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔ تمہیں پھر خبردار کیا جاتا ہے کہ تم قریب ہی اس تکاثر کے انجام کو جان لوگے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن : الھا۔ بھلائے رکھا۔ غافل کئے رکھا۔ التکاثر۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کثرت نے۔ زرتم۔ تم نے دیکھ لی۔ سوف تعلمون۔ بہت جلد تم جان لو گے۔ علم الیقین۔ یقین کا علم۔ ترون۔ تم ضرور دیکھو گے۔ عین الیقین۔ آنکھ سے حاصل ہونے والا یقین۔ تسئلن۔ تم پوچھے جائو گے۔ النعیم۔ نعمتیں تشریح : آخرت کی فکر رکھتے ہوئے صبر و قناعت اختیار کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق جائز اور حلال ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ جس کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی، اپنے بال بچوں کی مناسب دیکھ بھال، غریب، ضرورت مند اور محتاجوں سے ہمدردی اور بھلائی کا جذبہ رکھنا جس میں فخر و غرور،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

(ف 1) یعنی دیکھو بار بار تاکید کہا جاتا ہے کہ تمہارا خیال صحیح نہیں ہے کہ مال واولاد وغیرہ کی بہتات ہی کام آنے والی چیز ہے عنقریب تم جان لوگے کہ زائل فانی چیز ہرگز فخر مباہات کے لائق نہ تھی پھر سمجھ لو کہ آخرت ایسی چیز نہیں جس سے انکار کیا جائے یاغفلت برتی جائے آگے چل کر کر تم کو بہت جلد کھل جائے گا کہ اصل زندگی اور عیش آخرت کا ہے اور دنیا اس زندگی کے مقابلہ میں ایک خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی یہ حقیقت بعض لوگوں کو دنیا میں تھوڑی بہت کھل جاتی ہے لیکن قبر میں پہنچ کر اور اس کے بعد محشر میں سب کو پوری طرح کھل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–6

[2] یعنی تمہارا یہ خیال ہرگز صحیح نہیں ہے کہ متاع دنیا ہی کام آنے والی چیز ہے۔ مرتے ہی یہ حقیقت تم پر منکشف ہوجائے گی کہ جن مشاغل میں تم نے دنیا میں اپنی عمر کھپائی وہ سعادت و خوش بختی کا ذریعہ تھے یا بدانجامی اور بدبختی کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

سورة التکاثر عفو کے معنی غفلت ونسیان کے ہیں اور غرض یہ ہے کہ جس چیز نے تم کو بھلا رکھا اور غفلت میں ڈال رکھا ہے ، وہ دنیاوی ٹھاٹھ میں افزائش کا جذبہ ہے ۔ تم لوگ پوری زندگی اس حرص کی تکمیل میں صرف کر ڈالتے ہو کہ کیوں کہ ہزاروں کو لاکھوں اور لاکھوں کو کروڑوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اور رات دن اسی فکر میں غلطان دپیچاں رہتے ہو کہ کن ذرائع اور کن وسائل سے عزت وجاہ اور نفس کی آسودگیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ موت آجاتی ہے اور تمہارے ارادے وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا اور قطعی معلوم ہوجائے گا کہ دنیا طلبی کے یہ جذبات اخروی زندگی کے لئے حتماً مضر تھے ۔ تم جہنم کو دیکھو گے اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) کہ ہرگز یہ چیزیں قابل التفات نہیں اور آخرت انکار کے قابل نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا اور تم جلدی ہی جان لو گے۔ یعنی قبروں سے نکلتے ہی تم کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غفلت اور یہ فخر تمہارے لئے کس قدر مضر ہوگا اور کس قدر نقصان پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–7

ف 1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ہرگز نہیں ، عنقریب تم جان لو گے ؟ 4 ؎ ان لوگوں کو قبل از وقت متنبہ کرنے کے لیے دوبارہ ایک زور دار آواز سے جھڑک کر ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک بار کان کھول کر سن لو ہم تم کو اس وقت سنا رہے ہیں جب تم کو سنانا تمہارے لیے مفید ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم بھی ہر سنی ان سنی کرنے میں بہت مہارت رکھتے ہو لیکن تمہارا کام ہے ہر سنی کو ان سنی کرنا اور ہمارے رسول کا کام ہے ہمارے حکم سے تمہارے کانوں تک بات پہنچانا پھر جب تمہاری اولاد اور اولاد آئے گی تو ہمارے نبی و رسول ﷺ کی بھی روحانی اولاد در اولاد جو سچے دل سے ایمان لانے والی ہوگی تمہارے کانوں کی کھڑکیاں کھولتی رہے گی۔ تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–4

حَتَّىٰ زُرْ‌تُمُ الْمَقَابِرَ‌Verse [ 2] (until you reach the graves.) Here the words 'reaching the graves' mean 'to die and be buried in the graves', as the following Prophetic Hadith bears testimony to this interpretation. Referring to verse [ 2] of this Surah, the Messenger of Allah ﷺ said: حَتّٰی یِأتیکُم الموت "until death overtakes you" [ Ibn Kathir, from by Ibn Abi Hatim ]. The verse thus implies that many people are engrossed in acquiring worldly goods and racing each other in wealth and children etc. and remain neglectful of the Hereafter till death comes upon them, and then they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

3 That is, "You are under the delusion that the abundance of the worldly goods and surpassing others in it, is real progress and success, whereas the opposite is the case. Soon you will know its evil end and you will realize that it was a stupendous error in which you remained involved throughout your Iife. "Soon" may mean the Hereafter, for, for the Being Whose sight comprehends alI ages, from eternity to eternity, a few thousand years or a few hundred thousand years can only be a short span of the eternal time. But it can also mean death, for death is not very far away from any man, and…

Read the full tafseer →