102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 102:1–2

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

(لوگو) تم کو (مال اور اولاد کے) زیادہ ہونے کی خواہش نے اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کردیا

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

یہاں تک کہ تم قبروں میں جاپہنچے8

ف 8 یعنی مرتے دم تک اس حرص و طمع میں پھنسے رہے کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی فرصت نہ ملی۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے :” مگر آدمی کے پاس مال کی بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہتا ہے کہ دوسری وادی اور ہو اور اگر اس کے پاس دو وادیاں ہوں تو وہ چاہتا ہے تیسری وادی اور ہو سچ یہ ہے کہ) آدمی کے پیٹ کو صرف (قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ جس پر چاہتا ہے نظر کرم فرماتا ہے۔ “ (جامع صغیر لیستوطی بحوالہ صحیحین ترمذی مسند امام احمد من انس) ایک اور حدیث میں آپ کا اشراد ہے ” میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے پیچھے اس کے گھر والے جاتے ہیں اور اس کا مال اور اس کا عمل گھر والے اور مال واپس آجاتے ہیں اور عمل اس کے ساتھ رہتا ہے (ابن کثیر بحوالہ صحیحین ترمذی نسائی عن انس)
Ayahs 102:3–5

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

یہ سمجھ لو آگے چل کر تم کو اس غفلت کا نتیجہ معلوم ہوجائیگا

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر اچھی طرح سمجھ لوتم کو معلوم ہوجائیگا

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

سمجھ لو اگر تم کو اپنا انجام یقینا9 معلوم ہوتا تو کبھی ایسی غفلت میں نہ رہتے10

ف 9 یقینا معلوم ہوتا یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہ ہوتا معلوم ہوا کہ آخرت سے غفلت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کا موجب بنتی ہے۔10 یہ خطاب تمام لوگوں سے ہے۔ جیسے فرمایا :” قران منکم الا وارھا “ اور تم میں سے کوئی نہیں جو اس پر آنیوالا نہ ہو۔
Ayahs 102:6–7

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

تم بیشک ایک روز جہنم کو دیکھو گے

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر اس کو یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے11

ف 11 بعض لوگ (یعنی اہل ایمان) اسے دور سے دیکھیں گے اور بعض لوگ (یعنی کفار) اسے قریب سے دیکھیں گے جبکہ وہ اس کے اندر پھینکے جائیں گے۔
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر تم سے اس دنیا (دنیا کے) مزوں کی بھی پوچھ ہوگی12

ف 12 یعنی صحت عافیت کھانے پینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا ؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسی نہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی ﷺ ابوبکر اور عمر بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے۔ اس نے صحابی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کھجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا جب خوب سیر ہوچکے تو آپ نے فرمایا :” مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ (فتح مقدر بحوالہ مسلم و اہل السنین