103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی صورت پر جتنا بھی غور و فکر کیا جاتا ہے اس میں معانی اور حقائق کی ایک دنیا جھلکتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں عصر کی قسم کھائی ہے۔ عصر کے معنی نماز عصر، تاریخ انسانی، زمانہ یا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور کی قسم کھا کر یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے سارے لوگ اس وقت تک دنیا اور آخرت میں سخت ناکام ہیں جب تک وہ ایمان لا کر عمل صالح اختیار نہ کریں۔ اگر انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں دو ہی قسم کے انسان نظر آتے ہیں کامیاب یا ناکام ۔ دنیا والوں نے تو کامیابی اور ناکامی کید و پیمانے مقرر رکھتے ہیں کہ جو شخص خوب مال و دولت کما کر اونچی سے اونچی بلڈنگیں تعمیر کرلے۔ اس کے آگے پیچھے گھومنے والے سیکڑوں آدمی ہوں تو وہ کامیاب ہے اور اگر کوئی شخص ایمان داری اور اپنے اخلاص، نیک نیتی اور حسن اخلاق کے باوجود غریب اور مفلس ہے تو وہ ناکام آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ معیار بتایا ہے کہ ہر انسان اس وقت تک سخت ناکام ہے جب تک وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار نہ کرلے۔ کامیاب وہ شخص ہے جس کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوں اور وہ شخص سخت ناکام ہے جو مال و دولت اور دنیاوی وسائل کمانے کے باوجود دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہو اور قیامت میں ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بن جائے۔ قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون وغیرہ دنیا کی وہ قومیں ہیں جنہوں نے ہزاروں سال تک دنیا پر حکومتیں کی ہیں۔ دنیا بھر کے وسائل ان کے پاس تھے۔ مال و دولت اور خوش حالی کی کمی نہ تھی لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی انتہا کردی اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا تو وہ قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوگئیں۔ ان کا مال و دولت، اونچی اونچی بلڈنگیں، تاج و تخت اور افراد کی کثرت ان کو عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے۔ یہ تو دنیا کا معاملہ ہے آخرت میں ان پر دائمی عذاب یہ ہوگا کہ ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال کر جہنم کو اوپر سے بند کردیا جائے گا۔ اللہ کی نظر میں یہ ناکام لوگ ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو وسائل کے اعتبار سے کمزور تھے لیکن ایمان اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال تھے وہ دنیا میں بھی سرخ رو ہوئے اور آخرت میں انہیں ہمیشہ کی راحتیں، آرام و سکون اور عیش و عشرت کے سامان عطا کئے جائیں گے یہ لوگ دنیا اور آخرت میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ اگر عصر سے رماد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائیں گے وہ گذشتہ قوموں کی طرح اس طرح ناکام ہوں گے کہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ذلتوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ختم نبوت پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے وہ دنیاوی اسباب کے لحاظ سے کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے ہوئے عمل صالح کا راستہ اختیار کیا وہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ شمار کئے گئے ہیں۔ ان کی شان اور عظمت یہ ہے کہ ان صحابہ کرام (رض) کی طرف نسبت کرنے پر ہر شخص فخر محسوس کرتا ہے لیکن وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی ہر نعمت سے محروم رہے آج وہ اس طرح مٹ گئے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے۔ اگر کچھ نام زندہ ہیں تو وہ بھی قرآن کی وجہ سے ہیں۔ لیکن کتنی افسوسناک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ان کی طرف نسبت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔

Ayahs 103:1–3

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

زمانے کی قسم

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

بیشک انسان بڑے خسارے میں ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے۔ ایک دوسرے کو حق پر قائم رہنے کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی تاکید کرتے رہے۔

لغات القرآن : العصر۔ زمانہ۔ خسر۔ نقصان۔ گھاٹا۔ تو اصوا۔ ایک دوسرے کو کہتے رہے۔ تاکید کرتے رہے۔ تشریح : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تعلیمات کو اس طرح سمودیا ہے کہ بقول امام شامی ؓ اگر لوگ اسی ایک سورت میں غورو فکر کرلیں تو یہی سورت ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابہ کرام ؓ بھی اس سورت کو بہت اہمیت دیتے تھے چناچہ حضرت عبداللہ ابن حصین الدارمی سے روایت ہے کہ اصحاب رسول ﷺ میں جب دو آدمی ملتے تو اس وقت تک جدانہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورة عصر نہ سنالیتے۔ (طبرانی ) اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے عصر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام لوگ سراسر گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ صرف وہ لوگ کامیاب و با مراد ہیں جو ایمان، عمل صالح، تو اصی بالحق اور تو اصی بالصبر پر قائم رہے۔ عصر کے مختلف معنی ہیں نماز عصر، زمانہ، تاریخ انسانی اور زمانہ خاتم الانبیاء ﷺ بہر حال اللہ تعالیٰ نے تاریخ انسانی، اس کے انقلابات اور قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ دنیا میں صرف وہی لوگ کامیاب رہے، ان ہی لوگوں نے فلاح پائی جو اللہ، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کے فرشتوں، قیامت کے دن، تقدیر الٰہی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے۔ لیکن جنہوں نے ان چیزوں کا انکار کیا اور اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو جھٹلایا وہ نہ صرف دنیا میں رسوا اور ذلیل و خوار ہوئے بلکہ آخرت میں بھی وہ جنت اور اس کی راحتوں سے محروم رہیں گے۔ ہوسکتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے زمانہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی قسم کھا کر بتایا ہو کہ جو لوگ دامن مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ نہیں ہیں وہی ناکام و نامراد ہیں اور جنہوں نے ان پر ایمان لا کر ان کی ہدات پر عمل کرکے اعمال صالحہ کا راستہ اختیار کیا ہے وہی اس سے مستثنیٰ ہیں اور کامیابی ان ہی کا مقدر ہے۔ (ایمان) اللہ کو معبود حقیقی ماننا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، اسی کی ذات پر بھروسہ اور توکل کرنا، اسی کو اپنی تمناؤں کے پورا ہونے کا مرکز ماننا، اس نے جو تعلیمات اپنے پیغمبروں کی معروفت اپنے بندوں تک پہنچائی ہیں ان پر نہایت خلوص سے عمل کرنا، اس کے تمام رسولوں کو ماننا، ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان رکھنا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ کا آخری نبی اور آخری رسول ماننا اور اس بات پر یقین رکھنا کہ آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہے وہ سب سے بڑا جھوٹا اور فریبی ہے۔ قرآن کریم کو اللہ کی آخری کتاب مان کر اس کے تمام احکامات پر مکمل ایمان رکھنا، اس کی دعوت کو ساری دنیا میں پہنچانا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو حق و صداقت پر ڈٹے رہنے کی تلقین کرنا۔ (عمل صالح) ہر نیک اور بہتر عمل کو عمل صالح کہا جاسکتا ہے لیکن عمل صالح اس عمل کو کہتے ہیں جس کی بنیاد ایمان اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق ہو۔ اگر کوئی شخص ایمان کے بغیر کوئی نیک اور بہتر عمل کرتا ہے اللہ کے ہاں اس کی بھی قدر ہے اس کی جزا اور بدلہ اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور جو شخص ایمان کے ساتھ عمل صالح کی روش کو اختیار کرے گا اس کو دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں اس کے نیک اور بہتر اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ایمان اور عمل صالح الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک حقیقت کے دو نام ہیں اسی لیے قرآن کریم میں عام طور پر ایمان کے بعد ہی عمل صالح کا حکم دیا گیا ہے۔ (تواصی بالحق) ایک دوسرے کو حق و صداقت پر چلنے کی تلقین کرنا۔ تو اصی کا لفظ وصیت سے بنا ہے۔ اگر کسی شخص کو تاکید کے ساتھ کسی نیک اور بہتر کام کرنے کی تاکید کی جائے تو اس کو وصیت کہتے ہیں۔ یہاں وصیت کے معنی یہ ہیں کہ ایک مومن دوسرے مومن کو موثر انداز میں اس بات کی تلقین کرتا رہے کہ اس نے حق و صداقت کے جس راستے کو اختیار کیا ہے اسی پر پورے صبر و تحمل کے ساتھ چلتا رہے تاکہ اس کے لیے آخرت کی منزل آسان ہوجائے اور سچائی کے راستے میں جو بھی مشکلات پیش آئیں ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے اللہ ور سول کی رضا و خوشنودی کے لیے ثابت قدم رہے۔ اسلامی معاشرہ کی سب سے اچھی اور بہتری بات یہ ہے کہ اس میں کسی کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا ہے بلکہ ایک کو دوسرے کا سہارا بننا پڑتا ہے۔ (تواصی بالصبر) یعنی صبر کرنے اور ڈٹ جانے کی ایک دوسرے کی تلقین کرنا۔ اصل میں جب کوئی آدمی ایمان اور عمل صالح کی روش کو اختیار کرتا ہے تو اس کو بگڑے ہوئے معاشرے کے ہر فرد اور من گھڑت رسموں اور اصولوں سے ٹکرانا پڑتا ہے جہاں ہر طرف دنیا داری کی چمک دمک ہوتی ہے وہاں ایک شخص کا حق وصداقت کی بات پر جمنا اور عمل کرنا کھیل نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے تو اس کو اپنے گھر اور خاندان والوں سے ہی نامناسب باتیں سننا پڑتی ہیں پھر دوست احباب اور اہل محلہ کی طنز بھری نظریں جو اس کا تعاقب کرتی ہیں ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر ایک دوسرے کو سہارا نہ دیا جائے صبر کی تلقین نہ کی جائے تو ممکن ہے ایک تنہا آدمی اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں عام طور پر ہر شخص اپنے لیے جیتا ہے، اپنے لیے، راحت و آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے اس کی دنیا اپنے گھر والوں اور بچوں تک محدود رہتی ہے۔ ہمارا دین ہمیں پہلی تعلیم ہی یہ دیتا ہے کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے جینا کمال نہیں ہے بلکہ دوسروں کے لیے جینا ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اصل زندگی ہے۔ اس زندگی کی کیفیات ہی کچھ اور ہوتی ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر ایک شخص خود تو نیکیوں پر چلتا ہے، نماز روزے کا پابند ہے لیکن اسی راستے پر اپنی اولاد، گھر والوں اور خاندان والوں کو نہیں چلاتاتو وہ درحقیقت ایک بہت بڑی سچائی سے دور ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو حق وصداقت پر چلنے کی دعوت دینا یہ دین کی روح ہے۔ اگر کسی جسم سے روح نکل جائے تو وہ بےجان لاشہ رہ جاتا ہے اسی طرح اگر ہماری زندگیوں سے دعوت کا عمل نکل جائے تو پھر رسم اذاں تو رہ جاتی ہے لیکن روح بلالی نہیں رہتی۔