103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

(ہم کو) زمانے کی قسم

[1] اصل میں لفظ '' عصر '' استعمال ہوا ہے جو گزرے ہوئے زمانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور گزرتے ہوئے زمانے کے لئے بھی۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب ان تاریخی واقعات کی طرف توجہ دلانا ہے جو قرآن اور دوسرے صحیفوں میں بیان ہوئے ہیں اور جو اس بات پر شہادت دے رہے ہیں کہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی تھے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے۔ اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگیاں غفلت میں نہ گزاریں بلکہ پوری مستعدی سے ان کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ انہی تیز رولمحات کے بدلے وہ عیش وآرام کی ابدی زندگی حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرلیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

کہ انسان یقینا خسارے میں ہے،

[2] خسارہ یا خسران ٹوٹے اور گھاٹے اور نامرادی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ فلاح کی ضد ہے جس کے معنی ہیں خوشحالی اور کامیابی۔ قرآن خسارے کو اپنی خاص اصطلاح بنا کر فلاح کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے اور جس طرح اس کا تصور فلاح آخرت کی خوشحالی اور کامیابی کا ہم معنی ہے اسی طرح اس کا تصور خسران بھی آخرت کی نامرادی و ناکامی کا ہم معنی ہے۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (وہ البتہ خسارے میں نہیں ہیں) ۔

[3] حق بالعموم دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک صحیح اور سچی اور مطابق عدل و انصاف بات خواہ وہ عقیدہ و ایمان سے تعلق رکھتی ہو یا دنیا کے معاملات سے۔ دوسرا وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو، خواہ وہ اللہ کا حق ہو یا بندوں کا حق یا خود اپنے نفس کا حق۔ پس ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے میں وہ سب مفہوم شامل ہیں جو قرآن کی بہت سی اصطلاحوں میں مضمر ہیں جیسے امربالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کی دعوت اور اس کا حکم دینا اور بدی سے منع کرنا اور روکنا، یا تواصی بالمرحمہ یعنی لوگوں کو باہم ایک دوسرے پر شفقت اور نرمی کرنے کی نصیحت یا جہاد فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے جدوجہد کرنے پر لوگوں کو آمادہ کرنا۔ [4] چوتھی اور آخری چیز جو اخروی خسارے سے بچنے کے لئے لازمی قرار دی گئی ہے وہ لوگوں کا ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا ہے۔ یعنی حق کی پیروی اور اس کی حمایت میں جن مصائب و تکالیف سے سابقہ پیش آئے ان کے مقابلے میں لوگ ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہیں اور ہر شخص دوسرے کی ہمت بندھاتا رہے کہ وہ ان حالات کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔ [5] اس سورت میں انسان کی اصل کامیابی و ناکامی کا معیار پیش کیا گیا ہے۔ سورت کے مطالعے سے جو عظیم حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا معیار نہ دولت ہے نہ حیثیت و وجاہت، نہ جاہ و جلال ہے نہ نام و نمود، بلکہ اس کی پہلی شرط ہے ایمان، دوسری شرط ہے عمل صالح، تیسری شرط ہے تواصی بالحق اور چوتھی شرط ہے تواصی بالصبر۔ گویا ہر وہ انسان جس میں یہ چار چیزیں موجود نہ ہوں ایک ناکام و نامراد انسان ہے چاہے وہ کروڑ پتی اور صاحب حیثیت و وجاہت ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس ہر وہ شخص کامیاب اور بامراد ہے جس میں یہ چاروں چیزیں موجود ہوں چاہے اس کے پاس مال و دولت سرے سے موجود نہ ہو اور چاہے وہ دنیا میں کتنا ہی غیر معروف اور گمنام کیوں نہ ہو۔ دوسرا بنیادی نتیجہ جو اس سورت سے نکلتا ہے یہ ہے کہ اس سورت میں نجات کی کم از کم شرائط بیان ہوئی ہیں، اور ان سے کم پر نجات کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ سادہ لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کامیابی کی فرسٹ یا سیکنڈ ڈویژن کا تذکرہ نہیں بلکہ صرف آخر درجہ میں پاس ہونے کا بیان ہے۔ تیسرا نتیجہ جو دوسرے نتیجے کی فرع ہے یہ ہے کہ نجات کے لئے ایمان، عمل صالح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر چاروں لازم ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی ساقط کردیا جائے تو انسان کی نجات کی ذمہ داری قرآن حکیم پر نہیں رہے گی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی ماہر معالج کسی مریض کو چار ادویہ پر مشتمل نسخہ لکھ کر دے اور مریض اپنی مرضی سے ان میں سے کسی ایک دوا کو کم کر دے تو اب اس نسخہ کی ذمہ داری معالج پر نہیں بلکہ مریض پر ہوگی۔ اس حقیقت پر زور دینا اس لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے ذہنوں میں یہ غلط بات بیٹھ گئی ہے کہ ہر کلمہ گو کی نجات لازمی ہے۔ گویا نجات کے لئے صرف ایمان اور اس کا بھی محض زبانی اقرار کافی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی عمل بھی کرے تو یہ اضافی نیکی ہے اور اس سے اس کے درجات بلند ہوجائیں گے ورنہ محض نجات کے لئے عمل ضروری نہیں ہے۔