105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsانوار البیان

Ayah 105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

(105:1) الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل ۔ جملہ استفہام انکاری ہے جو کہ مفید تقریر ہے۔ کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے۔ یا یہ استفہام تقریری ہے بمعنی تری ہے۔ تری میں الف بوجہ جازم (لم) حذف کردیا گیا ہے۔ أ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر نفی جحد بلم رؤیۃ (رای یری باب فتح رأی مادہ) مصدر ۔ بمعنی دیکھنا۔ رائے رکھنا۔ خیال رکھنا۔ خیال کرنا۔ محاورۃ بولتے ہیں الم تر۔ کیا تمہیں نہیں معلوم ؟ (یہاں علم کو بمعنی رؤیۃ سے تعبیر کیا گیا ہے) کیف یہ تعجب آگین استفہام ہے اسی لئے ما فعل کی جگہ کیف فعل فرمایا۔ اصحب الفیل مضاف مضاف الیہ۔ ہاتھی والے۔ فائدہ : باوجود یکہ اصحب جمع کا صیغہ ہے الفیل کو مفرد ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ؟ (1) ضحاک نے کہا کہ ہاتھی آٹھ تھے اور سب سے بڑے ہاتھی کا نام محمود تھا۔ بعض نے کہا کہ محمود کے علاوہ بارہ ہاتھی تھے۔ الفیل کہہ کر اس سب سے بڑے ہاتھی کی طرف سب کی نسبت کرنا مقصود ہے۔ (2) بعض نے کہا کہ مقطع آیات کے توافق کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ (3) الفیل اسم جنس ہے اور جمع کے معنی میں آیا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔
Ayah 105:2

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں گیا ؟ (گیا)

(105:2) الم یجعل کیدھم فی تضلیل : ترکیب مطابق آیت نمبر 1 (استفہام تقریری) کیدھم مضاف مضاف الیہ ۔ کید مصدر و اسم مصدر۔ بری۔ تدبیر۔ مکر چال، فریب، داؤں، چالاکی۔ اور یہ لفظ حسن تدبیر کے معنوں میں بھی آیا ہے۔ مثلا واملی لہم ان کیدی متین (7:183) اور میں انہیں مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر بڑی مضبوط ہے تضلیل : بروزن (تفعیل) مصدر سے۔ بےراہ کرنا۔ غلط کرنا۔ کسی تدبیر کا نا کام ہوجانا۔ کسی کوشش کا بار آور نہ ہونا۔ کسی جدوجہد کا اکارت جانا۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا اس نے ان کے مکروفریب کو (یا بری تدبیروں کو) ناکام نہیں بنادیا۔
Ayah 105:3

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بیجھے

(105:3) وارسل علیہم طیرا ابابیل : وارسل کا عطف الم یجعل پر ہے۔ کیونکہ الم نجعل کا معنی جعل ہے (اس لئے خبر کا عطف خبر پر ہوگیا۔ (تفسیر مظہری) ارسل فلانا علیہ۔ کسی کو کسی پر مسلط کرنا۔ کسی کو کسی کے خلاف مقابلہ کے لئے بھیجنا۔ تسلط جمانے کے لئے ان پر بھیجا۔ طیرا ۔ ارسل کا مفعول ہے (واحد و جمع) پرندہ۔ (طیر جمع اور واحد) مذکر ، مؤنث سب کے لئے آتا ہے) ۔ ابابیل۔ یہ طیرا کی صفت ہے۔ بمعنی جھنڈ کے جھنڈ، پرے کے پرے۔ چناچہ اہل عرب بولتے ہیں جاءت الخیل ابابیل من ھھنا وھھنا (ادھر ادھر سے سواروں کے پرے کے پرے آئے) اخفش اور فراء کے نزدیک اس کی واحد نہیں ہے۔ جیسے شما طیط (ٹولی ۔ جاءت الخیل شما طیط۔ گھوڑے مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے آئے) اور عبادید (لوگوں کے فرقے، گھوڑوں کے گلے) کی واحد نہیں آتی۔ اور کسائی کے قول کے مطابق عجول (واحد) عجا جیل (جمع) کے وزن پر ابابیل کی واحد ابول ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ جھنڈ بھیجے۔
Ayah 105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

(105:4) ترمیہم بحجارۃ من سجیل۔ یہ جملہ طیرا کی صفت ثانی ہے (اول صفت حسب متذکرہ بالا ابابیل ہے) یعنی وہ پرندے اصحاب فیل پر کنکر والے پتھر مار رہے تھے۔ ترمی : مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ رمی باب ضرب مصدر سے : جس کے معنی پھینکنے کے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال اجسام کے متعلق بھی ہوتا ہے مثلاً پتھر پھینکنا، تیر پھینکنا۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :َ وما رمیع اذ رمیت ولکن اللہ رمی (8:17) اور (اے محمد) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اور تہمت لگانے کے معنوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً والذین یرمون المحصنت (24:4) اور جو لوگ پاکدامن عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں۔ حجارۃ پتھر۔ حجر کی جمع۔ سجیل اس میں مفسرین کی مختلف ، متعدد اقوال ہیں :۔ (1) بعض کہتے ہیں یہ سنگ گل کا معرب ہے اور سنگ گل (مٹی کا پتھر) وہ ہے جو بھٹی میں پک کر مٹی پتھر بن جاوے جس کو کھنگر کہتے ہیں (2) بعض کہتے ہیں کہ اصل میں سجین تھا۔ ن لام سے بدل گیا جس میں اشارہ ہے کہ وہ کنکریاں اور پتھر معمولی کنکر نہ تھے بلکہ عالم غیب میں اس طبقہ کے تھے کہ جہاں ارواح کفار کو عذاب دیا جاتا ہے ان کنکریوں کی یہ تاثیر تھی کہ جس پر پڑتی تھیں پار نکل جاتی تھیں۔ (3) بعض کہتے ہیں کہ سجل سے مشتق ہے جس کے معنی لکھنے کے ہیں یا لکھی ہوئی چیز یا دفتر۔ جس میں اشارہ ہے کہ وہ کنکریوں ازل میں ان بدبختوں کے لئے لکھی ہوئی تھیں اور یہ ان کے لئے موت کے پروانے یا وارنٹ تھے ہر کنکری پر بخط غیب جس کو اس جہان کے لوگ پڑھ نہیں سکتے لکھا تھا کہ یہ فلاں بن فلاں کے لئے ہے۔ ترمیہم میں ضمیر فاعل طیرا بابیل کی طرف راجع ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب اصحاب فیل کے لئے ہے۔
Ayah 105:5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس

(105:5) فجعلہم کعصف ماکول۔سببیہ ہے۔ جعلہم میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب رب کی طرف راجع ہے۔ اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اصحب الفیل کے لئے ہے ک تشبیہ کا ہے۔ العصف۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق وہ چھلکا ہے جو گیہوں کے دانہ پر ہوتا ہے۔ سورة الرحمن میں بھی اسی معنی میں آیا ہے :۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ والحب ذوالعصف والریحان (55:12) اور (اس میں) اناج ہے جس پر بھس ہوتا ہے۔ ما کول : اسم مفعول واحد مذکر اکل (باب نصر) مصدر سے ۔ کھایا ہوا۔ عصف کی صفت ہے۔ پس بنا ڈالا ان کو کھایا ہوا بھوسہ