105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیسا (ہولناک اور عبرت انگیز) برتاؤ کیا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کے ساتھ ؟

(1) اصحاب فیل کے قصہ میں دعوت غورو فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیا معاملہ اور برتاؤ کیا تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ ؟ یعنی کیا تم نے اس پر غور نہیں کیا، تاکہ تم اس سے وہ درسہائے عبرت و بصیرت اخذ کرسکو، جو اس عبرتناک قصے کے اندر موجود و مستور ہیں، کہ کس طرح اللہ پاک نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی، وہ کیسا قادر و منتقم ہے، اس کے لشکر کتنے بیشمار ہیں اس کی قدرت کتنی کامل ہے، اس کا علم کس قدر وسیع ہے اور اس کی پکڑ کتنی سخت اور کس قدر ہولناک ہے ؟ " ان اخذہ الیم شدید " سو تمہیں اے مخاطب اور اے سامع، اس پر غور و فکر کر کے ایسے ایسے درسہائے عبرت اور فوائد و نتائج کو جاننا اور اپنانا چاہیے تاکہ اس طرح تم اس سے اپنی زندگی کی راہیں صحیح خطوط پر استوار کرسکو، پس بظاہر یہ خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے کہ وحی خداوندی کے اولیں مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں، ﷺ ۔ مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسے خطاب میں اصل مقصود دوسروں کو سنانا ہوتا ہے، اور قرآن حکیم میں اس طرز خطاب کی مثالیں بکثرت موجود ہیں، مثلا سورة ابراہیم آیت نمبر 19، الحج آیت نمبر 8، النور 43، لقمان 29، الزمر 21 وغیرہ وغیرہ۔ سو ان تمام مقامات اور تمام آیات کریمہ میں اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے کہ وحی خداوندی کے اصل اور اولیں مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں، ﷺ ۔ مگر ان میں سنانا دراصل ہر سامع اور مخاطب کو ہے، جیسا کہ ان کے سیاق وسباق اور مفہوم و مدعا سے واضح ہے، پھر یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے سن ولادت میں بلکہ مشہور قول کے مطابق آپ کی ولادت باسعادت سے صرف پچاس دن قبل پیش آیا، اور علماء و مفسرین نے اس کو آپ کے عظیم ارہاصات میں سے قرار دیا ہے اور اس کے آثار و نشانات اور اس کو بچشم خود دیکھنے جاننے والے لوگ بھی اس وقت تک بکثرت موجود تھے، اس لیے اس کو علم کی بجائے رویت ( الم تر) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، یعنی یہ واقعہ قدر ظاہر واضح اور اتنا یقینی ہے کہ گویا یہ آنکھوں دیکھا ہے سو اس رویت سے یہاں پر مراد رویت بصری نہیں بلکہ رویت علمی مراد ہے، یعنی کیا آپ کو یہ قطعی اور یقینی علم حاصل نہیں ہوا ؟ اور استفہام تقریر و تاکید کے لیے ہے، یعنی ہاں ضرور حاصل ہوا، اور آپ اس واقعہ کو قطعی اور یقینی طور پر جانتے ہیں، تمام ثقہ مفسرین کرام نے اس کا یہی مطلب و مفہوم مراد لیا ہے، بطور نمونہ ملاحظہ ہو ( ابن جریر، روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان، قرطبی، معارف القرآن، صفوۃ التفاسیر، فتح القدیر، صفوۃ البیان وغیرہ) پس اہل بدعت کے جن لوگوں نے اس سے اپنے شرکیہ عقائد کے لیے دلیل کشید کرنے کی کوشش کی، انہوں نے محض اپنی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا ثبوت دیا، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس قصے میں اہل علم اور ارباب فکر و بصیرت کے لیے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، خاص کر یہ کہ شعائر اللہ کی توہین کی کوشش کا نتیجہ و انجام کس قدر برا ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف اصحاب فیل کے ساتھ قدرت کے برتاؤ کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیسا برتاؤ کیا تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ، جو یمن کے اس وقت ملعون حکمران ابرہہ الاشرم کی سربراہی میں اپنے کبر و غرور کے نشے میں مست ہو کر ایک خوفناک لشکر کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے کے اپنے خبیث ارادے کے ساتھ آئے تھے، قرآن حکیم نے ہاتھی والوں کے اس قصے کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی، کہ یہ کون لوگ تھے ؟ کہاں سے آئے تھے ؟ اور کس مقصد کے لیے آئے تھے َ ؟ اس لیے کہ یہ ابھی تازہ واقعہ تھا جو مخاطب لوگوں کو معلوم تھا اس لیے اصحاب الفیل کا عنوان ہی اس کی تذکیر و یاددہانی کے لیے کافی تھا، اور ہاتھیوں والے لشکر کا تجربہ چونکہ عربوں کو پہلی بار اسی واقعے سے ہوا تھا اس لیے انہوں نے اس کو اسی عنوان سے یاد رکھا، جس سے اس کی سنگینی کا اظہار ہوتا ہے، اس لشکر میں ہاتھی ایک ہی تھا یاس سے زیادہ، قرآن حکیم کے الفاظ سے یہ دونوں ہی مفہوم نکل سکتے ہیں، کیونکہ فیل کے لفظ کا اطلاق مفرد پر بھی ہوتا ہے، اور جمع پر بھی۔ لیکن یہاں پر چونکہ صاحب الفیل نہیں اصحاب الفیل فرمایا گیا ہے اس لیے اس سے متبادر یہی لگتا ہے کہ یہ ہاتھی ایک نہیں تھا بلکہ ہاتھیوں کا پورا ایک دستہ تھا، جس سے اس لشکر کی قوت اور اس کی ہیبت میں بڑا اضافہ ہوگیا تھا، اور روایات میں بھی اس کی تصریح اور تفصیل آئی ہے۔ سو اصحاب فیل کے ساتھ قدرت کا برتاؤ اور معاملہ چونکہ بڑا ہی عبرت انگیز تھا اور ہے، اس لیے یہاں پر اس کی اس طرح تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔
Ayah 105:2

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا اس نے (بری طرح) اکارت نہیں کردیا ان لوگوں کی (اس منحوس) چال کو

(2) دشمنوں کی چال اکارت و بےسود، والحمد للہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس نے اکارت نہیں کردیا ان کی چال کو ؟ استفہام تقریر و توثیق کے لیے ہے، یعنی ہاں واقعۃ اس نے ان کی چال کو اکارت اور بیکار کردیا، کہ اس کو خود انہی کی ذلت آمیز تباہی اور دائمی ہلاکت و رسوائی اور ابدی عذاب و خسران کا سبب بنادیا، جس سے وہ ہمیشہ کے لیے " فی النار والسقر " ہوگئے اور یہ طبعی انجام اور منقطی نتیجہ ہوتا ہے کفر و شرک کی نحوست، اور شعائر اللہ کی توہین کے ارتکاب، اور ان پر ہاتھ ڈالنے کا کہ نور حق و صدق سے محرومی اور قسادت قلب کی بنا پر انسان اپنی ہلاکت و تباہی کی راہ پر خود چل پڑتا ہے، جبکہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو کہ بڑا ہی سخت اور نہایت ہی رسوا کن ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اس کی اس لشکر کشی کو " کید " کے لفظ سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا کہ اس نے بظاہر اگرچہ بہانہ یہ کیا تھا کہ اس کی تعمیر کردہ عبادت گاہ کی توہین کی گئی ہے، اس لیے وہ اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے، لیکن اندر سے اس کی غرض اور نیت یہ تھی کہ ایک طرف تو عربوں کے مرکز یعنی بیت اللہ الحرام کو مٹا کر ان کی مرکزیت کو ختم کردے اور اس طرح پورے علاقے پر اپنی دھاک بٹھا دے، اور دوسری طرف یہ کہ قریش کو کچل کر اور تمام اہل عرب کو مرعوب و مغلوب کر رکے ان سے تجارت کی اس عظیم الشان شاہراہ کو چھین لے، جو جنوب مغرب سے شام اور مصر جاتی تھی، تاکہ اس طرح وہ اس کے ذریعے ہونے والی تجارت کو اپنے قابو میں لے لے۔ سو اس کے ان باطنی عزائم اور مقاصد کی بنا پر اس کی اس لشکر کشی کو یہاں پر " کید " یعنی چال سے تعبیر فرمایا گیا۔ انسان کی نیتیں اور اس کے ارادے اور عزائم لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں، لیکن حضرت علام الغیوب سے بھلا کس طرح چھپ سکتے ہیں، جو کہ " علیم بذات الصدور " ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اپنے قلب و باطن کا معاملہ اس کے ساتھ ہمیشہ صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن۔
Ayah 105:3

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور بھیج دئیے اس نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ

(3) سرکشوں کی سرکوبی کے لیے پرندوں کے لشکر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کیا اس نے بھیج نہیں دیے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ، جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں، جو ان پر لگتیں تو چیرتی ہوئی نیچے پہنچ جاتیں ( فتح، جامع، اور روح وغیرہ) روایات کے مطابق ان میں سے ہر کنکری پر اس کافر کا نام بھی لکھا ہوتا تھا، جس پر اس کو لگنا تھا، اور وہ ٹھیک جاکر اسی کو لگتی تھی، کیا مجال جو نشانے سے چونک کر ادھر ادھر ہوجائے، گویا کہ وہ کنکریاں دور حاضر کے سنگر میزائل وغیرہ سے بھی کہیں بڑھ کر تھیں، ہنگر میزائل بھی نشانہ بازی میں ان کے مقابلے میں ہیچ تھے، اور یہ اس کے مقابلے میں کچھ ہو بھی کیسے سکتے تھے ؟ کہ یہ ناقص اور ضعیف انسان کی فکر و کاوش کا نتیجہ وثمرہ ہے اور وہ حضرت قادر مطلق خداوند قدوس کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ اور اس کی بطش شدید کا ایک نمونہ و مظہر تھا۔ ذالک تقدیر العزیز الحکیم، فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ابابیل کا لفظ یہاں پر اس معنی میں نہیں جس معنی میں یہ ہمارے ہاں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے ہاں تو اس کا اطلاق ایک خاص قسم کے پرندے پر ہوتا ہے، جبکہ عربی میں اس کا معنی ہے جھنڈ کے جھنڈ، اور غول کے غول، عام اہل لغت کا کہنا ہے کہ اس لفظ کا مفرد کوئی نہیں، جب کہ بعض کے نزدیک یہ جمع ہے۔ ابالہ یا ابالہ کی، یعنی تشدید کے ساتھ یا بغیر تشدید کے ( فتح القدیر، روح، قرطبی، خازن، ابن کثیر، صفوہ، راغب، صفوۃ البیان وغیرہ) سو اس سے ابرہہ کے اس خوفناک لشکر کی تذلیل و تحقیر اور اس کی بےبسی کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ وہ آئے کس قدر تکبر و غرور کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ ہوا کیا، آئے کیا کرنے کے لیے تھے مگر وہ خود کس انجام سے دو چار ہوئے ؟ ان کا انجام کیا ہوا، سو منکروں اور متکبروں کا انجام عبرت ناک ہوتا ہے، ایسوں کو ڈھیل جتنی بھی ملے آخر کار انہوں نے اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہنا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل سوء وانحراف۔
Ayah 105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر برسا رہے تھے خاص پتھر کھنگر کے

(4) متکبروں اور منکروں پر سنگ باری کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان پر برسا رہے تھے کھنگر کے پتھر، بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ لفظ یعنی " سجیل " دراصل معرب ہے فارسی کے لفظ سنگ گل کا، یعنی وہ مٹی اور اینٹ وغیرہ جو پک کر سخت پتھر بن جائے اسی لیے حضرات مفسرین کرام بالعموم اس کو طین متحجر کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، ( روح، قرطبی، خازن، جامع، صفوہ وغیرہ) بہرکیف وہ کنکر اور سنگریزے جو ان پرندوں نے ان لوگوں پر برسانے کے لئیے اٹھا رکھے تھے، خاص قسم کے اور ایسے سخت پتھر تھے جو ان لوگوں کے سروں پر لگتے ہی نیچے سے نکل جاتے ( ابن کثیر، ابن جریر، معارف وغیرہ) سو یہ انجام ہوتا ہے ایسے ظالم اور بدبخت لوگوں کا جو اللہ سے بغاوت اختیار کرتے ہیں، اور حدود و بندگی سے نکل کر وہ اپنے خالق ومالک کے سامنے اکڑنے لگتے ہیں، اور اللہ پاک کے " اخذ الیم " اور " بطش شدید " کو بھول جاتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، سو بندے کے لائق یہی ہے کہ وہ ہمیشہ بندہ ہی بن کر رہے اور ہر حال میں اور ہر طور سے اپنے خالق ومالک کے حضور دل وجان سے جھکا رہے، اسی میں اس کی سچی عزت اور حقیقی عظمت بھی ہے، اور اسی میں اس کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان بھی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 105:5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

سو اس نے ان سب کو (چورا چورا) کردیا کھائے ہوئے بھوسے کی طرح

(5) متکبروں کے ہولناک انجام کی تصویر کا ذکرو بیان : سو منکروں اور متکبروں کے ہولناک انجام کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ان کو چورا چورا کر کے رکھ دیا کھائے ہوئے بھوسے کی طرح، اور اس طرح ساٹھ ہزار کا یہ مسلح اور خوفناک لشکر جو کہ اپنے کبرو غرور کے نشے میں بدمست اور چکنا چور تھا اپنے انجام کو پہنچ کر رہا، اور قیامت تک دنیا بھر کے لیے درس عبرت بن گیا اور ان کو اس چبائے ہوئے بھوسے کی طرح ذلیل و خوار اور بےقدروقیمت کر کے رکھ دیا گیا جو کہ جانوروں کے منہ سے ان کے کھاتے وقت نیچے گرتا ہے، اور جو ان کے پاؤں کے نیچے روندا اور مسلا جاتا ہے، اور پرندوں جیسی چھوٹی اور معمولی مخلوق سے ان کا کام تمام کرا کے ان کے کبرو غرور کا نشہ خاک میں ملا دیا گیا۔ فصدق اللہ القائل وما یعلم جنود ربک الا ھو "۔ روایات کے مطابق ان بدبختوں کا یہ منحوس لشکر بیت اللہ العتیق کو ڈھانے کے ارادہ و پر گرام سے جب وادی محشر میں پہنچا جو کہ منی اور مزدلفہ کے درمیان واقع ہے تو سمندر کی طرف سے ان عجیب و غریب قسم کے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ یکایک نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنی اٹھائی ہوئی کنکریوں کی بارشا سے ان کا کام تمام کردیا، جس سے ان میں سے کتنے تو وہیں ڈھیر ہوگئے اور کتنے یمن کی طرف واپس بھاگتے ہوئے جگہ جگہ گرتے اور مرتے گئے، تاکہ اس پورے راستے پر جگہ جگہ پڑی ان کی یہ لاشیں لوگوں کے لیے سامان عبرت بنتی جائیں، جہاں جہاں سے یہ اپنے خبیث ارادہ و پروگرام کے مطابق پورے تکبر و غرور کے ساتھ گزرے تھے اور اپنے لاؤ لشکر، تعداد و کثرت اور سازو سامان وغیرہ پر پھول نہیں سماتے تھے وہیں وہیں یہ عام لوگوں کے لیے نمونہ عبرت بن جائیں اور لوگ ان کے انجام کو بچشم خود دیکھ لیں، اور درس عبرت و بصیرت لے سکیں، کہ یہ لوگ کس ٹھاٹھ باٹھ سے کیسے طم طراق کے ساتھ ہی راستوں سے گزرے تھے، اور کس ہولناک انجام سے دو چار ہوئے، سو یہ نتیجہ و انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو اللہ پاک کے شعائر کی توہین کے لیے اس طرح اعلانیہ طور پر نکلتے ہیں۔ والعیاذ باللہ من کل سوا و شر، والزیغ الانحراف فی الفکر والعمل، فخذنا اللھم بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من ھو ارحم بنا منا لانفسنا لک الحمد والشکر، وبک الثقۃ وعلیک والاعتماد، جل وعلا۔