105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 105:1–5

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں کیا ؟

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ اڑتے جانور (پرند) بھیجے

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کنکر سے پتھر پھینکتے تھے

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

سو ان کو ایسا کردیا جیسا کھایا ہوا بھس

سورة الفیل۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جو نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا سال ہے جب یمن میں ذونواس بادشاہ نے اس دور کے مسلمان ہونے والوں کو آگ میں ڈال دیا شام کے حکمران قیصر نے جو عیسائی یعنی اس دور کا مسلمان تھا دو سرداروں ، ارباط اور ابرہہ کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ شکست کھاکر بھاگا اور سمندر میں غرق ہوا اور ارباط کو قتل کرکے ابرہہ حکمران بن گیا لوگ کعبہ شریف کی زیارت کو جاتے تھے اس نے یمن میں ایک کنیسہ بہت عالی شان تعمیر کرایا کہ لوگ اس کا طواف کیا کریں مگر لوگ کعبہ کو ہی جاتے جس پر اس نے فوج کشی کرکے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا۔ عرب کے جملہ قبائل جمع ہوکرمقابلے پہ نکلے مگر شکست کھاگئے ابراہہ بڑھتا چلا گیا اور ہر رکاوٹ کو روندتا ہوا آیا یہاں تک کہ نواح مکہ میں آپہنچا ، حضرت عبدالمطلب نے جو رسول اللہ کے دادا تھے اہل مکہ سے کہا کہ شہر چھوڑ دیں پہاڑوں پر چلے جائیں اور کعبہ کی حفاظت رب کعبہ پر چھوڑ دیں کہ ہم اس کا مقابلہ نہ کرسکیں گے اس کے لشکر میں ہاتھی بھی تھے جو عرب میں نہ پائے جاتے تھے اس کا ذاتی سواری کا شہ زور ہاتھی ، محمود ، نامی تھا جب حملے کی تیاری کی تو اسے آگے لگایا مگر اس نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا ۔ سب کوشش کرچکنے کے بعد اسے سرداروں نے واپسی کا مشورہ دیا مگر نہ مانا چناچہ دفعتا سمندر کی طرف سے پرندوں کے غول نمودار ہوئے چھوٹے پرندے تھے اور پنجوں اور چونچوں میں سنگریزے اٹھائے ہوئے تھے ابرہہ کے لشکر پر ٹوٹ پڑے ہاتھی گھوڑے یا انسان جس پر سنگریزہ لگتا اسے تباہ کردیا اور سوراخ کرتا ہوا دوسری طرف جانکلتا ، بھاگ بھاگ کر لشکر تباہ ہوتار ہا ، ابرہہ سخت زخمی حالت میں یمن لایا گیا مگر ان زخموں کا زہر ایسا تھا کہ بدن گل کو جوڑ الگ ہونے لگے اور آخر سارا بدن مائع بن کر بہہ گیا۔ آج بھی نظام اسلام کی مخالفت بیت اللہ ہی کو ڈھانے کی کوشش ہے ایسے لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ آپ جانتے ہیں ہم نے ہاتھیوں والا کیا حال کیا کہ انہیں اپنی طاقت پر بہت گھمنڈ تھا اور اللہ کا کعبہ مٹانے چلے تھے کہ ہماری بات مانی جائے مگر ان پرندوں کے غول بھیج دیے جو بظاہر بہت چھوٹے تھے اور ان کے پنجوں میں مٹی کی بنی ہوئی کنکریاں تھیں ، گویا ایٹم تھا اس دور کا ، چناچہ انہوں نے کنکریوں سے لشکر کو اس طرح کچل ڈالاجی سے جانور کا کھایا ہوا چارہ اور تباہ وبرباد کردیا۔