105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 105:1–5

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں سے کیا کیا۔

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤ غلط نہیں کردیا

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیج دیے

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کنکریلی پتھریاں پھینک رہے تھے

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

پھر تو ان کو آخور کی مانند بنا دیا۔

ترکیب ¦ الہمزۃ للاستفھام التقریری لم ترا صلہ تریٰ حذفت الالف بالجازم والرؤیۃ قلبیۃ وانما عبرالعلم بالرئویۃ ایماء الی ھذہ الوقعۃ بمنزلہ المشاھد المحسوس وان مضت قبل ولادتہ ﷺ بنحو شھریں ولکنھا التواترھا کانت کالمحسوس المبصر۔ کیف فعل ربک الخ ھذہ الجملۃ سدت مسد مفعولی تریٰ وکیف منصوب علی المصدریۃ ا والحالیۃ واختار الاول ابن ہشام فی المغنی والمعنی ای فعلٍ فعل الم یجعل الاستفھام للتقریر کانہ قال قدجعل کیدھم فی تضلیل والکیدارادۃ المضرۃ بالغیر بالخفیۃ وارسل عطف علی الم یجعل طیراً اسم جنس یذکر و یونث مفعول ارسل ابابیل لغت لطیر قیل جمع ابول بکسر الھمزۃ مثل عجول وقیل جمع ابیل کسکین وقیل جمع ابالۃ وقال الفراء لاواحدلہ من لفظہ مثل الشماطیط والعبادید واصلہ من الابل قال ابوعبیدہ ابابیل جماعۃ فی تفرقۃ یقال جاءت الخیل ابابیل من ھھنا وھھنا ای اقاطیع یتبع بعضھا بعضا کالابل الموئلۃ ترمیھم قرء الجمھور بالفوقیۃ وقری بالتحیۃ والضمیر فی الحالین الی الطیرلانہ اسم جنس یذکر و یونث وقیل الضمیر فی القراءۃ الثانیہ للہ عزوجل۔ والجملۃ فی محل نصب صفۃ اخریٰ لطیر سجیل قال الزجاج مشتق من السجل ای مماکتب علیھم العذاب و قیل معرب من سنگ گل وھی حجارۃ من طین طبخت بالناروقیل السجیل الشدید وقال عبدالرحمن بن ابزی من السماء وقیل من سجین ثم ابدلت النون۔ کعصف عصف برگ کشت قولہ تعالیٰ کعصف ماکول۔ صراح۔ وعصیفہ وعصافہ بمعناہ۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے اس کی پانچ آیت ہیں اور اس میں فیل کا اول ذکر ہے اس لیے اس کو سورة فیل کہتے ہیں۔ ربط اس کا سورة ہمزہ سے یہ ہے کہ اس سورة میں انسان کے چند اخلاق رذیلہ بیان فرما کر ان کی سزائے اخروی بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سورة میں دنیاوی سزا کا ذکر ہے۔ بیشتر قریش مکہ میں اخلاق رذیلہ تھے جن سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو ایذا پہنچتی تھی اور ان منکرین قیامت کو عذاب آخرت کی تو کچھ پروا نہ تھی۔ اس لیے اب اس سورة میں ان کو ایک ایسے واقعہ ہولناک کو یاد دلا کر جو ان کے سامنے گزرا ہے تنبیہ کیا جاتا ہے کہ جب ہم نے خانہ کعبہ کے ڈھانے والے کی دنیا میں یہ سرکوبی کی حالانکہ وہ بڑا لشکر لے کر آیا تھا تو جو اس گھر کو شکستہ کرنا چاہے گا جو اللہ کا گھر ہے یعنی اہل اللہ کا دل تو وہ کیونکر ہمارے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے دنیا میں اس کی سرکوبی ہوگی جو یاد کرے گا۔ چناچہ مدت کے بعد ان بدبختوں پر طرح طرح کے مصائب آئے قحط شدید میں مبتلا ہوئے۔ بدر میں قتل اور ذلیل و رسوا ہوئے جس مکہ شہر کی یہ عزت ہے کہ اس پر حملہ کرنے والے کا سر توڑا گیا اور مکہ کی برکت سے قریش اس آفت سے بچے جو ابرہہ اشرم ان پر لانے والا تھا تو پھر مکہ میں رہ کر اس کے ساتھ یہ بدسلوکی اور یہ ظلم و ستم وحشیانہ کہ جس کی برکت سے مکہ محفوظ رہا بڑی سزا کا مستوجب ہے۔ اصحاب فیل کا واقعہ ¦ اور یہ واقعہ جس سال گزرا ہے اسی سال میں ایک مہینہ پچیس روز کے بعد آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے۔ یہ بھی آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ ہے جس کو ارہاص کہتے ہیں۔ فرماتا ہے الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں سے کیا کیا۔ وہ کون لوگ تھے ؟ ابرہہ اشرم یمن کا بادشاہ حبشی جو نجاشی شاہ حبش کا نائب تھا اور اس کے لشکر والے حبش والے۔ حبش میں بھی ہندوستان کی طرح ہاتھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس بادشاہ کے پاس بہت سے ہاتھی تھے۔ اور مختصراً اس واقعہ کی کیفیت یہ ہے کہ یمن کے ملک میں جب وہاں کا بادشاہ ذونواس قوم حمیر کا اخیر بادشاہ تھا یہودی ہوگیا اور بہت کو یہودی کر ڈالا اور اس نے اسی تعصب میں آ کر نجران کے عیسائیوں کو جو اس وقت ٹھیک مذہب عیسوی پر تھے ناحق ظلم سے مارا، خندق کھدوا کر ان میں آگ جلائی اور ان مسکینوں کو پکڑ پکڑ کر اس میں ڈالا جس کا ذکر سورة السماء ذات البروج میں ہے تو ان عیسائیوں میں سے کچھ لوگ جلی ہوئی انجیل لے کر قیصر روم پاس فریادی پہنچے کیونکہ وہ بھی عیسائی تھا اس نے نجاشی حبش کے بادشاہ کو جو اس کا تابع اور عیسائی تھا مدد کرنے کو لکھا نجاشی نے ابرہہ کو ایک لشکر دے کر یمن کو بھیجا اس نے ذونواس اور اس کی سلطنت کو برباد کیا اور آپ یمن کا بادشاہ بن گیا۔ یہ بڑا بدذات اور شہوت پرست اور کمینہ خصلت شخص تھا۔ اس نے کعبہ کی رونق گھٹانے کے لیے اپنے پائے سلطنت شہر صنعاء میں ایک کنیسہ 1 ؎ بنایا اور اس کی بڑی تیاری کی اور عرب کے لوگوں کو حج کعبہ سے جو ان میں حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے عہد سے ایک عبادت کا دستور چلا آتا تھا 2 ؎ روکا اور طرح طرح کا تشدد شروع کیا اور حکم دیا کہ میرے کنیسہ کا حج کیا کریں مگر لوگوں کے دل تو خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ مقبولیت اسی کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ کون مانتا تھا اس وجہ سے اس کو خانہ کعبہ اور شہر مکہ میں اور وہاں کے لوگوں سے عداوت قلبی پیدا ہوئی مگر اس دبی ہوئی آگ کے ابھارنے کا یہ سبب ہوگیا کہ اس کنیسہ کے جاروب کش نے اس میں رات کو پاخانہ بھر کر اس کو جابجا سے گندہ کردیا اور بھاگ گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ مکہ کا رہنے والا تھا اس نے عداوت سے یہ کام کیا ہے۔ پھر چند روز کے بعد اس کنیسہ میں کسی سبب سے آگ لگ گئی اور جل کر خراب ہوگیا جس سے لوگوں کی نظروں میں اور بھی اس کی بےوقعتی پیدا ہوگئی۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ آگ بھی مکہ کے لوگوں نے لگائی ہے۔ اب تو اس کو غصہ آگیا اور ایک لشکر جرار لے کر جس میں ہاتھی بھی تھے اور بڑے ہاتھی کا نام محمود تھا مکہ کی طرف کعبہ ڈھانے کے لیے چلا اور دل میں یہ داؤ بھی تھا کہ صرف کعبہ کا ڈھانا مشہور کروں تاکہ لوگ نہ بھاگیں ان کو امن کا اشتہار دیدیا تھا اور جب وہ اس کو ملیں تو زن و فرزند صغیر و کبیر سب کو قتل کروں۔ جب وہ مکہ کے پانچ چار کوس قریب آگیا اور مکہ کے لوگ ڈر کر بھاگ گئے صرف عبدالمطلب آنحضرت ﷺ کے دادا رہ گئے تھے اور دادی محسر 3 ؎ میں یا بقول ابن عباس ؓ صفاح میں ڈیرا کردیا تو اس کے پاس عبدالمطلب آئے، تعظیم سے بٹھایا اور پوچھا کیا چاہتا ہے۔ کہا میرے اونٹ تیرے لشکریوں نے پکڑ لیے ہیں وہ دلا دو ۔ اس نے تعجب سے کہا کہ اونٹوں کی فکر کی کعبہ کے لیے تو نے کچھ نہ کہا۔ عبدالمطب نے کہا اونٹ میرے تھے، مجھے ان کی فکر ہے اور یہ تو اللہ کا گھر ہے جو سب پر غالب ہے اس کی وہ آپ تدبیر کرلے گا۔ اور رستہ میں بھی بہت کچھ عربوں نے منت وزاری کی تھی کہ تو یہ نہ کر مگر وہ کب مانتا تھا آخر دھاوے کا حکم دیا اور ہاتھیوں کو ڈھانے کے لیے آگے کیا۔ ہرچند فیل بان مارتے تھے وہ آگے قدم نہ بڑھاتے تھے۔ اسی میں تھے کہ جدہ شہر کی طرف سے جو سمندر کے کنارہ پر ہے بڑے بڑے سبز جانور بعض کہتے ہیں سیاہ تھے جو کبھی پہلے دیکھے نہ گئے نہ بعد میں ‘ بڑی چونچ اور پنجوں والے پرے کے پرے نمودار ہوئے۔ ایک ٹکڑی کے بعد دوسری ٹکڑی آتی تھی دو کنکریاں ان کے پنجوں میں اور ایک چونچ میں تھی۔ پھر اس لشکر میں سے جس پر پڑتی تھی خواہ انسان خواہ حیوان سر سے نیچے تک نکل جاتی تھی سب کو غارت کردیا اور قریش مکہ ادھر ادھر پہاڑوں میں چھپے یہ واقعہ آنکھ سے دیکھ رہے تھے۔ چناچہ بہت لوگ اس سورة کے نازل ہونے کے وقت اس واقعہ کے دیکھنے والے مکہ میں موجود تھے اور ان کنکریوں میں سے بعض کنکریاں بعض صحابہ کے پاس بھی تھیں۔ یہ بات کہ ابرہہ کے بعد یمن کا کون حاکم ہوا ہم تاریخ عرب میں بتلا دیں گے اور یمن عرب میں کس حصہ کا نام ہے اس کو جغرافیہ عرب میں دکھائیں گے۔ اس واقعہ کا جو قریش پر نعمت 4 ؎ اور عبرت خیز تھا خدا پاک اس سورة میں ذکر فرماتا ہے فقال الم یجعل کیدھم فی تضلیل کہ کیا اس نے ان کے داؤ کو غلط نہیں کردیا ؟ ضرور کردیا جو انہوں نے چاہا تھا اور جو ان کے دلوں میں تھا وہ حسرتیں ساتھ لے کر جہنم کو گئے۔ 1 ؎ گرجا۔ 12 2 ؎ جو کعبہ سے روکتا ہے ‘ دنیا میں مبتلائے مصائب ہوتا ہے۔ 12 منہ 3 ؎ یہ مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان وادی ہے۔ یہ قول ابن حجر کا ہے۔ 12 منہ 4 ؎ اس لیے کہ قرض کی جان و مال و آبرو محفوظ رہی اور ان مردوں کے مال ہاتھ لگے جس سے اہل مکہ مالدار ہوگئے اور اس مال سے تجارت کیا کرتے تھے جس کا ذکر سورة قریش میں آتا ہے۔ 12 منہ یہ جملہ کیف فعل کی تفسیر ہے پھر اور تفسیر کرتا ہے وارسل علیہم طیراً ابابیل اور ان پر پرندے بھیجے جوق جوق لفظ ابابیل جمع ہے جس کے مفرد میں اختلاف ہے۔ کوئی ابابلی کوئی ابول کوئی ابالہ کہتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفرد اس لفظ سے نہیں آیا اور اس کے معنی ہیں جوق جوق یا پرے کے پرے مگر لفظ ابابیل سے یہ چھوٹا جانور جس کو عرب میں ابابیل کہتے ہیں سمجھ لینا بڑی غلطی ہے یہ جانور سمندر میں سے اٹھے تھے اور عرب جانور تھے پھر ان پرندوں نے جو کچھ کیا اس کو بیان فرماتا ہے۔ ترمیہم بحجارۃ من سجیل ان پر پتھریاں پھینکتے تھے اور پتھریاں کا ہے کی تھیں ؟ پختہ فائدہ : لفظ سجیل میں جو اس جگہ وارد ہے۔ مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ (1) بعض کہتے ہیں یہ سنگ گل کا معرب ہے اور سنگ گل وہ ہے جو پزاوے میں مٹی پک کر پتھر بن جائے جس کو کھگریاجھانوہ کہتے ہیں۔ (2) بعض کہتے ہیں اصل میں سجین تھا یہاں نون لام سے بدل گیا جس میں اشارہ ہے کہ وہ پتھریاں اور کنکر کچھ معمولی کنکر نہ تھے بلکہ عالم غیب میں سے اس طبقہ کے تھے کہ جہاں ارواح کفار کو عذاب دیا جاتا ہے ان کنکریوں کی یہ تاثیر تھی کہ جس پر پڑتی تھیں پار نکل جاتی تھیں پھر وہاں کی اور چیزوں میں کیا کچھ تاثیر نہ ہوگی معاذاللہ۔ (3) بعض کہتے ہیں سجل سے مشتق ہے جس کے معنی لکھنے کے ہیں یا لکھی ہوئی چیز یا دفتر کے جس میں اشارہ ہے کہ وہ کنکریاں ازل میں ان بدبختوں کے لیے لکھی ہوئی تھیں اور یہ ان کے لیے غیب کے پروانے یا وارنٹ تھے ہر کنکری پر بخط غیب جس کو اس جہان کے لوگ پڑھ نہیں سکتے تھے لکھا ہوا تھا کہ یہ فلاں بن فلاں کے لیے ہے۔ پھر جب سیسہ کی گولی بارود کے زور سے انسان اور حیوان میں سے پار نکل جاتی ہے تو کیا عالم غیب کی گرمی جو قہرالٰہی کی بارود تھی اس کے زور سے ان کنکریوں کا اصحاب فیل میں سے پار نکل جانا کوئی محال بات ہے ؟ اس سے بڑھ بڑھ کر ہزاروں اس کی قدرت اور کمال کے کرشمے دیکھے جاتے ہیں اور پہلے دیکھے گئے اور آیندہ دیکھے جائیں گے اوپر کوئی تو ایسی گرم بھٹی قدرت کی ہے کہ جس کی چنگاریاں کبھی کبھی زمین پر گرا کرتی ہیں۔ مؤرخین حال نے بارہا ایسے واقعات نقل کئے ہیں کہ فلاں موضع میں اوپر سے ایک آتشیں گولہ پڑا جس کی ہیبت ناک آواز تھی اور گزوں زمین میں گھس گیا اور بہت کو جلا دیا پھر ٹھنڈا ہونے کے بعد جو نکالا گیا تو ایسا سخت لوہا تھا کہ بمشکل گرم ہوتا تھا وغیرذلک۔ اگر ہم ایسے ایسے واقعات یا ان سے بھی بڑھ کر حیرت ناک ان واقعات کی تفصیل لکھیں جو حال کے جرائد اور اخبارات میں درج ہیں تو ایک مجلد کتاب تیار ہوجائے اور جو ہم سے پہلے گزرے ہیں اور مؤرخوں نے چشم دید لکھے ہیں وہ بھی ملائے جائیں تو کئی جلدیں تیار ہوجائیں پھر ان سب کو غلط بتانا اور اسی دہریت ‘ سڑے بسے تراشیدہ نیچر کے اصول پر واقعات کا انکار کرنا خلاف بداہت ہے۔ سب سے بڑی بات ہے کہ قریش مکہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کے لیے ادنیٰ ادنیٰ باتوں کی تلاش میں تھے پھر اگر یہ واقعہ غلط ہوتا تو آپ اس کو انہیں اہل مکہ کے روبرو کہ جس شہر کا یہ واقعہ ہے اور جس واقعہ کے دیکھنے والے بھی موجود ہیں بیان کرتے ؟ ہرگز نہیں اور بیان کرنے سے آپ پر کیا کیا دروغ گوئی اور ابطال نبوت کے الزام قائم ہوتے۔ پھر جب ابوجہل اور ولید بن المغیرہ اور امیۃ بن خلف جیسے معاندین نے بھی بجزتسلیم کے چارہ نہ دیکھا تو اب ان سے کوئی بڑھ کر منکر پیدا ہوگیا ہے جو انکار کرتا ہے اور انکار بھی محض بےدلیل اور دلیل بھی ہے تو یہ کہ نیچر کے خلاف ہے یا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر اس وجہ سے اس کی تاویل کرے اور چیچک نکلنا بتلا وے عقلمند کی شان سے بعید ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کا انجام کار ان پرندوں کے سبب سے خدائے قہار و جبار نے کیا کیا ؟ اس کو آپ ہی بیان فرماتا ہے۔ فقال فجعلہم کعصف ماکول کہ ان کو بھس یا آخور جیسا چورا چورا کردیا۔ عصف گھاس یا اناج کے پیڑوں کے پٹھے اور پتے جوار باجرا گیہوں وغیرہ کے جب ان کو جانور کھاتا ہے تو پیچھے بچا ہوا آخور چورا چورا ہوجاتا ہے یا ماکول باعتبار مایول کے فرمایا کہ کھایا جائے گا کھانے کے لیے تیار ہے جس کو بھس کہتے ہیں یا حقیقت پر محمول ہے پھر اس کے دو معنی یا تو جو کھانے سے بچا ہوا آخور یا جو کھا کر لید کردیتے ہیں اور گدھے گھوڑے کی لید میں چورا چورا ہو ہو کر نکلتا ہے اس کو بھی عصف ماکول کہہ سکتے ہیں ہر ایک سے تشبیہ درست ہوسکتی ہے۔ غرض اس تشبیہ سے یہ ہے کہ ان کنکریوں میں سمیت بھی ایسی تھی کہ لگتے ہی جسم میں جابجا آبلے پڑجاتے تھے اور ورم کر آتا تھا اور شکل بھی بدل جاتی تھی اور چورا چورا ہوجاتا تھا۔ شاید اس بات سے اس ماول نے اس واقعہ کو چیچک نکلنے پر محمول کیا ہے یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ واقعہ ٹھیک یوں ہے کہ جس طرح ہم نے بیان کیا اور جو قرآن مجید کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان کنکریوں میں جو زہر اور قہر کی بجھی ہوئی تھیں یہ تاثیر تھی کہ جس پر پڑتی تھیں اس کے بدن پر آبلے پڑجاتے تھے اور ورم ہو کر صورت بھی بگڑ جاتی تھی چناچہ اسی بات کو امام رازی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں روی عن عکرمۃ عن ابن عباس ؓ قال لما ارسل اللہ الحجارۃ علی اصحاب الفیل لم یقع حجر علیٰ احدمنھم الالفظ جلدہ وثاربہ الجدری وھو قول سعید بن جبیر انتہٰی خوش فہم ماول نے اسی بات کو اصحاب الفیل کی مصیبت سمجھ لیا کہ بس چیچک نکلی تھی اور پرندوں نے کنکریاں کچھ نہ پھینکی تھیں چیچک نکلنے کو استعارہ کے طور پر بیان کیا ہے۔ فوائد ¦ (1) اصحاب الفیل کہا ارباب الفیل نہ فرمایا۔ اس میں نکتہ ہے وہ یہ کہ چیز کو اعلیٰ کی طرف لفظ اصحاب سے منسوب کرتے ہیں اس لیے حضرت کے دوستوں کو اصحاب محمد ﷺ کہتے ہیں نہ آپ کو ان کا۔ اس میں اشارہ ہے کہ ان احمقوں پر بہیمیت غالب تھی اور ہاتھی کی طرح سیاہ باطن و سیاہ ظاہر تھے ہاتھی سے بھی کمتر عقل رکھتے تھے۔ (2) فیل ہاتھی اس کی جمع افیال و فیلۃ ہے جمع کا صیغہ اس لیے نہیں آیا کہ گو اس وقت ان کے پاس تیرہ ہاتھی تھے مگر بڑا ہاتھی محمود تھا جو کعبہ کی طرف نہیں جاتا تھا اس لیے اسی کا اعتبار کر کے مفرد لفظ آیا۔ اور نیز یہ اسم جنس بھی ہے سب کو شامل ہے اور اس میں آیات کے فواصل کی بھی رعایت ہے۔ ولہ الحمد حمداً کثیراً ۔