105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیرِ ماجدی
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا،1۔
1۔ یعنی انہیں کس طرح ہلاک وبرباد کرڈالا۔ (آیت) ” اصحب الفیل “۔ سال عیسوی 570 یا 571 تھا، اور ولادت نبوی ﷺ میں بھی چند ہفتوں کا زمانہ باقی تھا کہ حجاز کے پڑوس میں جو حبشہ کی پر قوت مسیحی سلطنت قائم تھی اور جس کی وسعت حدود عرب تک پہنچی ہوئی تھی، اس کے گورنر علاقہ یمن ابرہمہ نے حجاز بلکہ خود خانہ کعبہ پر چڑھائی کردی، حاکم یمن یوں بھی وقت کی ایک زبردست سلطنت کا نمائندہ تھا، پھر اس کی بنوائی ہوئی مسیحی عبادت گاہ کی شدید توہین بھی کسی بےادب عرب نے کردی تھی، ابرہہ کو قدرۃ اس پر سخت غصہ آیا، اور اس نے فوج کشی پوری قوت کے ساتھ کی، اس کی فوج میں ہاتھی بھی تھے، جو عرب میں ایک بالکل نئی چیز تھے، جیسے کہ آج کل کی جنگ میں ٹینک جیپ آتشیں اژدھے وغیرہ، یہ فوج کشی ایک تاریخی واقعہ ہے، دوست دشمن سب کو مسلم، عربوں نے اس کی اہمیت اتنی محسوس کی کہ اس سال کا نام ہی عام الفیل (ہاتھیوں کا سنہ) رکھ دیا، اور اسی واقعہ سے اپنے سنہ کی ابتداء کی۔ کانوا یؤرخون فی کتبھم ودیونھم من سنۃ الفیل وفیھا ولد رسول اللہ ﷺ فلم تزل قریش والعرب بمکۃ جمیعا تؤرخ بعام الفیل (تاریخ مکہ۔ ازرقی۔ جلد اول صفحہ 96) (آیت) ” الم تر “۔ واقعہ فرط شہرت وتواتر سے مثل مشاہدہ کے تھا۔
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا ہم نے ان کا داؤں بالکل الٹ نہیں دیا ؟ ،2۔
2۔ (جو اس نے خانہ کعبہ کے ہدم وتخریب کا سوچا تھا) والی یمن اور صوبہ دار حبشہ کا سارا پر ورگرام الٹ گیا، بنابنایا کھیل بگڑ گیا، اور بجائے خانہ کعبہ کے برباد کرنے کے خود ہی مع اپنے لشکر کے برباد ہوگیا، ہوا یہ کہ یک بیک سمندر (بحر احمر) کی طرف پرندوں کا ٹڈی دل نظر آیا، جن کے پنجوں اور چونچوں میں کنکریاں تھیں، جن سپاہیوں پر وہ کنکریاں پڑتیں وہ چیچک میں مبتلا ہوجاتے، ابرہہ یہ ماجرا دیکھ پریشان ہو کر بھاگا اور یمن پہنچتے ہی پھنسیوں میں لدا ہوا دنیا سے رخصت ہوگیا۔
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیئے ،
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
وہ ان پر کھنگر کی کنکریاں پھنکتے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
سو (اللہ نے، انہیں کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح کردیا،3۔
3۔ (پامالی اور پراگندگی کے لحاظ سے) (آیت) ” سجیل “۔ سنگ گل کا معرب ہے۔ حجر وطین مختلط واصلہ فی ماقیل فارسی معرب (راغب) قال ابن عباس ؓ سجیل معناہ سنک وکل یعنی بعضہ حجر وبعضہ طین (کبیر) ھو معرب من سنک کل وعلیہ الجمھور (مدارک) قرآن مجید میں لغت قریش سے باہر کے لفظ بہت کم آتے ہیں، جو معدودے چند آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ (آیت) ” ابابیل “۔ اس کے معنی جھنڈ کے ہیں۔ قال ابو جیدۃ ابابیل جماعۃ فی تفرقۃ (کبیر) قال الزجاج جماعات من ھھنا وجماعت من ھھنا (مدارک) ائمہ لغت میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں آتا اور بعض نے اس کا واحد ابیل ابالہ یا ابیالہ یا ابول کو بتایا ہے۔ فیہ قولان والاول ھو قول الاخفش والفراء انہ لاواحد لھا (کبیر) الواحد ابیل (راغب) جمع ابالہ بکسر الھمزۃ وتشدید الباء وقیل واحدہ ابول مثل عجول (روح) سارے قصہ کا خلاصہ یہ نکلا کہ احکام الہی کی بےحرمتی کرنے والوں کو عتاب الہی سے ڈرتے رہنا چاہیے، خواہ وہ آخرت میں واقع ہو یا اسی دنیا میں۔