105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا

الم تر . رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور استفہام انکاری مفید تقریر ہے کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ ﷺ نے دیکھ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ اصحاب فیل کا واقعہ نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے آثار دیکھے تھے اور متواتر خبریں سنی تھیں تو گویا دیکھ ہی لیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ رویت سے مراد علم ہو ‘ کیا تم نے نہیں دیکھا یعنی کیا تم کو نہیں معلوم۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ دیکھ لیں کہ ان کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہی کیا جائے گا جو اصحاب فیل کے ساتھ کیا گیا۔ کیف فعل ربک . یہ تعجب آگیں استفہام ہے ‘ اسی لیے ما فعل کی جگہ کیف فعل فرمایا۔ اس قصہ کو بیان کرنے سے مقصود ہے ‘ ان امور کو یاد دلانا جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں۔ اس سے اللہ کے علم وقدرت کا کمال ‘ بیت اللہ کی عزت اور اللہ کے نبی ﷺ کا شرف معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ واقعہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی تمہید اور آپ ﷺ کی بعثت کا پیش خیمہ تھا ‘ ورنہ بقول ابو نعیم ظاہر ہے کہ اصحاب فیل عیسائی تھے اور اہل مکہ بت پرست اور بت پرستوں کے مذہب سے دین نصاریٰ بہتر ہی تھا (مکہ والوں کی حفاظت اور اصحاب فیل کی تباہی اگر نبوت سیّد المرسلین کی تمہید اور بیت اللہ کے شرف کا اظہار نہ تھا تو اور کیا تھا اور کیوں ہوا ؟ ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ واقعۂ فیل 22 / محرم کو اتوار کے دن ہوا۔ بعض علماء نے اس کو متفق علیہ قول قرار دیا ہے اور اس کے خلاف ہر قول کو وہم کہا ہے۔ اسی سال واقعۂ فیل سے تقریباً دو ماہ بعد ربیع الاوّل کے مہینہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت مبارک ہوئی۔ اکثر علماء اسلام کا یہی قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ مقاتل نے چالیس سال بعد ‘ کسی نے تیس سال بعد ‘ کسی نے ستّر سال بعد اور کلبی نے 23 سال بعد کہا ہے لیکن صحیح ترین قول اوّل ہی ہے۔ خلاصۃ السیر۔ باصحاب الفیل . اصحاب الفیل سے مراد ہیں ابرہہ ‘ شاہ یمن اور اس کے ساتھی۔ ضحاک نے کہا : آٹھ ہاتھی تھے ‘ بعض نے کہا : سب سے بڑے ہاتھی کا نام محمود تھا۔ محمود کے علاوہ بارہ ہاتھی تھے۔ الفیل کا مفرد ذکر کیا (باوجودیکہ اصحاب صیغۂ جمع ہے) کیونکہ اسی بڑے ہاتھی کی طرف سب کی نسبت کرنی مقصود ہے۔ بعض نے کہا کہ مقطع آیات کے توافق کے لیے ایسا کیا گیا۔ محمد بن اسحاق نے بروایت سعید بن جبیر و عکرمہ از ابن عباس ؓ بیان کیا اور واقدی نے بھی اسی طرح ذکر کیا کہ نجاشی شاہ حبش نے اریاط (سپہ سالار) کو یمن پر فوج کشی کے لیے بھیجا۔ اریاط نے جا کر یمن پر تسلط قائم کرلیا۔ ابرہہ بن الصباح حبشی ایک فوجی سردار تھا ‘ اس کو اریاط کی سیادت پر حسد ہوا اور اس نے بغاوت کردی۔ اس طرح حبشیوں میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ اریاط کے ساتھ اور دوسرا ابرہہ کے ساتھ ہوگیا۔ دونوں کا ٹکراؤ ہوا۔ ابرہہ نے اریاط کو قتل کردیا۔ حبشیوں نے ابرہہ کو سردار بنا لیا اور ابرہہ کا تسلط یمن پر ہوگیا ‘ پھر ابرہہ نے دیکھا کہ حج کے زمانہ میں لوگ مکہ کو جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس حٖسد میں اس نے صنعاء میں ایک گرجا بنایا اور نجاشی کو لکھا کہ میں نے صنعاء میں ایک کنیسہ بنایا ہے جس کی مثال کسی بادشاہ کے لیے نہیں بنائی گی ‘ آپ اس گرجا میں تشریف لے آئیں تاکہ میں مکہ کے حج سے لوگوں کا رخ موڑ دوں۔ یہ بات بنی کنانہ کے ایک شخص نے سن پائی اور رات کو نکل کر جا کر گرجا میں بیٹھ گیا اور موقع پا کر گرجا کے اصل قبلہ کو گندگی آلود کردیا۔ ابرہہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں جا کر کعبہ کو ڈھا دوں گا اور نجاشی کو اس واقعہ کی اطلاع بھیج دی اور درخواست کی کہ مجھے کچھ ہاتھی بھیج دیجئے۔ نجاشی نے اس کو ہاتھی بھیج دیئے ‘ جن میں ایک بہت بڑا طاقتور ہاتھی بھی تھا۔ جس کا نام محمود تھا ‘ ابرہہ مکہ کی طرف چل دیا۔ عرب نے یہ خبر سنی تو ان پر شاق گزری۔ انہوں نے ابرہہ سے مقابلہ کرنا ضروری سمجھا۔ چناچہ یمن کے راجاؤں میں سے ایک راجہ تھا جس کا نام ذونفر تھا۔ وہ لڑنے کے لیے نکلا مگر ابرہہ نے اس کو شکست دے دی اور گرفتار کرلیا قتل نہیں کیا بلکہ جکڑ دیا اور آگے بڑھا۔ قبائل خثعم کی آبادی کے قریب پہنچا تو نفیل بن خثعمی ‘ بنی خثم کو لے کر مقابلہ کے لیے نکلا ‘ دوسرے قبائل یمن بھی اس سے آکر مل گئے اور لڑائی ہوئی ‘ نفیل گرفتار کرلیا گیا۔ نفیل نے ابرہہ سے کہا : بادشاہ میں زمین عرب کے راستوں سے خوب واقف ہوں۔ ابرہہ نے راہنمائی کے لیے اس کو ساتھ لے لیا۔ طائف کی طرف سے گزرا تو مسعود بن مغیث ثقفی بنی ثقیف کے کچھ آدمیوں کو لے کر آیا اور بو لا بادشاہ ! ہم آپ کے غلام ہیں۔ ہماری طرف سے آپ کی کوئی مخالفت نہ ہوگی ‘ آپ اس مکان (کو ڈھانے) کے ارادہ سے نکلے ہیں جو مکہ میں ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ایک راہنما بھیج دیں گے۔ چناچہ انہوں نے اپنے غلام ابورغال کو راہنمائی کے لیے بھیج دیا۔ ابو رغال کی راہنمائی میں ابرہہ آگے بڑھا۔ جب مغمس میں پہنچا تو ابو رغال مرگیا۔ یہ وہی شخص ہے جس کی قبر پر پتھر مارے جاتے ہیں۔ ابرہہ نے مغمس سے ایک حبشی کو جس کا نام اسود تھا۔ اس غرض سے بھیجا کہ وہ حرم کا مال (یعنی اونٹ وغیرہ) ہنکا لائے۔ اسود نے عبدالمطلب کے دو سو اونٹ پکڑ لیے ‘ پھر ابرہہ نے بحناط حمیری کو مکہ والوں کے پاس اس غرض کے لیے بھیجا کہ سردار مکہ کو تلاش کر کے یہ پیام پہنچا دے کہ میں لڑنے کے لیے نہیں آیا ہوں بلکہ اس گھر کو ڈھانے کے لیے آیا ہوں۔ قاصد چل کر مکہ میں پہنچا اور عبدالمطلب سے ملاقات کی اور ابرہہ کا پیام ان سے کہہ دیا۔ عبدالمطلب نے کہا : ہم بھی اس سے لڑنا نہیں چاہتے۔ ہم اس گھر تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اور خلیل کا بنایا ہوا ہے۔ چناچہ اللہ کا گھر اور حرم ہے اسی لیے وہی اس کی حفاظت کرے گا۔ اگر ابرہہ کو اس گھر سے خدا نہیں روکے گا تو خدا کی قسم ! ہم میں تو اس کی قوّت نہیں ہے۔ اس کے بعد عبدالمطلب اپنے اونٹ مانگنے کے لیے ابرہہ کے فوجی کیمپ میں گئے۔ ذونفر چونکہ عبدالمطلب کا دوست تھا۔ اس لیے اس کے پاس پہنچے۔ ذونفر نے کہا : میں تو قیدی ہوں۔ انیس ایک شخص ہے جو میرا دوست ہے اور ہاتھیوں کا داروغہ ہے۔ میں تم کو اس کے پاس بھیج دوں گا۔ پھر ذونفر نے انیس کو (بلوا کر) کہا : یہ قریش کے سردار ہیں اور مکہ والے اونٹوں کے مالک ہیں۔ یہ پہاڑوں کے نیچے تو آدمیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور پہاڑوں کے اوپر جنگلی جانوروں کو بھی ان کی خوراک دیتے ہیں۔ بادشاہ کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں لیکن نہ یہ لڑنے والے ہیں ‘ نہ تمہاری مخالفت کرنے والے۔ انیس نے جا کر پیغام پہنچا دیا۔ بادشاہ نے داخلہ کی اجازت دے دی۔ عبدالمطلب قد آور اور حسین آدمی تھے۔ ابرہہ نے ان کو دیکھ کر تعظیم و تکریم کی اور خود تخت پر بیٹھنا اور ان کو نیچے بٹھانا مناسب نہ سمجھا۔ اس لیے خود بھی تخت سے اتر کر ان کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا اور ترجمان کی معرفت آنے کی غرض پوچھی۔ عبدالمطلب نے کہا : میری غرض دو سو اونٹوں کی واپسی ہے۔ ابرہہ نے کہا : جب میں نے تم کو دیکھا تھا تو مجھے تم بہت بھلے معلوم ہوئے تھے ‘ مگر اب تم میری نظر سے گرگئے۔ میں تو کعبہ ڈھانے آیا ہوں ‘ جو تمہارا بھی دین ہے اور تمہارا باپ ‘ دادا کا بھی اور تمہارے لیے شرف و عزت بھی۔ تم نے اس کے سلسلے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور دو سو اونٹ جو میں نے لے لیے ان کے متعلق مجھ سے گفتگو کر رہے ہو۔ عبدالمطلب نے کہا : ان اونٹوں کا مالک میں ہوں اور اس گھر کا مالک کوئی اور ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔ ابرہہ نے کہا : وہ مجھ سے اس کو نہیں بچا سکتا۔ ابرہہ نے اونٹ عبدالمطلب کو دے دیئے اور عبدالمطلب نے واپس آکر قریش کو واقعہ بتادیا اور حکم دیا کہ سب لوگ گھاٹیوں میں منتشر ہوجائیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنی حفاظت کرلیں تاکہ حبشی ان کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں۔ پھر خود جا کر کعبہ کے دروازہ کی زنجیر پکڑ کر کہنے لگے (ترجمہ اشعار) پروردگار ! تیرے سوا ان کے مقابلہ میں میں کسی سے امید نہیں رکھتا ‘ پروردگار اپنے حرم کو ان سے محفوظ رکھ۔ اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے ‘ اپنی بستی کو اجاڑنے سے ان کو روک دے۔ یہ اشعار بھی عبدالمطلب نے پڑھے۔ (ترجمہ) : اے اللہ ! بندہ اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے تو اپنا سامان محفوظ رکھ ‘ صلیب کے طرفداروں اور پرستاروں کے خلاف اپنے پرستاروں کی مدد کر۔ ان کی صلیب اور چال ‘ تیری تدبیر پر غالب نہ آنا چاہیے ‘ تیرے خادموں کو گرفتار کرنے کے لیے اپنے ملک کے سیّال لشکر اور ہاتھیوں کو کھینچ کر لائے ہیں ‘ انہوں نے اپنی چال کے ساتھ نادانی کی وجہ سے تیرے حرم (کو تباہ کرنے) کا ارادہ کیا ہے اور تیرے جلال کا خونہیں کیا ‘ اگر تو ان کو اور ہمارے کعبہ کو یونہی چھوڑ دینے والا ہے تو پھر جو تیری مرضی ہو وہی کر۔ یہ مناجات کر کے کعبہ کی زنجیر چھوڑ دی اور اپنی قوم کے ساتھ سرداروں کے پاس چلے گئے۔ صبح کو ابرہہ نے مغمس میں مکہ میں داخل ہونے کی تیاری کی اور لشکر کو ہاتھیوں سمیت تیار کیا۔ ایک ہاتھی تھا کہ جسامت اور قوت میں اس کی نظیر دیکھنے میں نہیں آئی ‘ کہا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ بارہ ہاتھی اور بھی تھے۔ نفیل بڑے ہاتھی کے پاس آیا اور اس کا کان پکڑ کر کہا : محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے سیدھا ادھر ہی واپس چلا جا کیونکہ تو اللہ کی حرمت والے شہر میں ہے۔ ہاتھی بیٹھ گیا پھر لوگوں نے اس کو ہرچند اٹھایا لیکن وہ نہیں اٹھا۔ لوگوں نے اس کے سر پر کدال مارے مگر وہ جب بھی نہ اٹھا۔ آخر آنکڑے اس کی آنکھوں کے نیچے چبھوئے اور ڈرا کر اٹھانا چاہا مگر وہ نہ اٹھا (یعنی اس نے قدم نہ اٹھایا) آخر اس کا رخ یمن کی طرف کردیا تو وہ فوراً اٹھ گی اور تیری سے چلنے لگا۔ پھر شام کی طرف کردیا تب بھی اس نے ایسا ہی کیا (تیزی سے چلتا رہا) پھر مشرق کی طرف اس کا رخ پھیرا تب بھی اس نے ایسا ہی کیا ‘ تیزی سے چلتا رہا) آخر میں اس کا رخ مکہ کی طرف کیا تو وہ کھڑا بھی نہ رہ سکا (بیٹھ گیا) نفیل دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا اور اللہ نے سمندر کی طرف سے ابابیلوں جیسے کچھ پرندے بھیجے۔ ہر پرندہ کے پاس تین پتھر تھے۔ دو دونوں پنجوں میں اور ایک چونچ میں پتھر ‘ چنے اور مسور کے برابر تھے۔ جب پرندے ان لوگوں پر پہنچ کر چھا گئے تو انہوں نے پتھریاں چھوڑ دیں۔ جس شخص کے پتھری لگی وہ ہلاک ہوگیا لیکن سب قوم ہلاک نہیں ہوئی۔ فوج والے نکل کر اندھا دھند بھاگے اور راستہ نہ ملنے کی وجہ سے نفیل کو تلاش کرنے لگے تاکہ وہ یمن کے راستہ پر لگا دے۔ نفیل کسی پہاڑ پر سے ان کو دیکھتا رہا۔ غرض لوگ اضطرابی حرکت کے ساتھ ہر راستہ پر گرتے پڑتے اور ہر چشمہ میں ہلاک ہوتے چل دیئے ‘ صحیح راستہ پر کوئی نہیں پڑا۔ اللہ نے ابرہہ کو ایک جسمانی روگ میں مبتلا کردیا ‘ اس کی انگلیوں کے پورے گرنے لگے اور جو پورا گرتا تھا اس سے کچ لہو اور خون بہتا تھا۔ آخر پرندہ کے چوزہ کی طرح ہو کر صنعا پہنچا۔ کچھ ساتھی بھی اس کے ساتھ پہنچ گئے۔ آخر آگے کی طرف سے جب اس کا سینہ شق ہوگیا تو مرگیا۔ واقدی نے لکھا ہے کہ نجاشی کے ہاتھی محمود نے حرم کے خلاف جرأت نہیں کی تھی ‘ وہ بچ گیا اور دوسرے ہاتھی جنہوں نے اقدام کیا تھا ‘ ان کو پتھر لگے۔ مقاتل بن سلیمان نے اصحاب فیل کے چڑھائی کرنے کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ کچھ قریشی تاجر نجاشی کے ملک میں گئے اور ساحل سمندر کے قریب پہنچ گئے اور عیسائیوں کے گرجا کے پاس اترے۔ گرجا کو وہ ہیکل کہتے تھے۔ وہاں انہوں نے آگ جلا کر کچھ (گوشت وغیرہ) بھونا۔ پھر آگ کو یونہی چھوڑ کر چل دیئے۔ ہوا تیز چل رہی تھی۔ آندھی کی وجہ سے ہیکل نے آگ پکڑ لی۔ اس کی فریاد نجاشی کے پاس پہنچی۔ گرجا جلنے کا اس کو بڑا افسوس ہوا اور غضبناک ہو کر کعبہ کو ڈھا دینے کے لیے اس نے ابرہہ کو بھیجا۔ اس زمانہ میں سعید ثقفی نابینا مکہ ہی میں تھا۔ یہ شخص گرمی کا زمانہ طائف میں اور سردی کا زمانہ مکہ میں بسر کرتا تھا۔ بڑا دانش مند بزرگ ‘ اس کی رائے سے تمام امور درست ہوجاتے تھے اور عبدالمطلب کا دوست تھا۔ عبدالمطلب نے اس سے کہا : آج تمہاری رائے کی ضرورت ہے ‘ بتاؤ کیا رائے ہے (سعید یعنی) ابومسعود نے کہا : تم مجھ کو لے کر حراء پر چڑھ جاؤ۔ پھر ابو مسعود نے عبدالمطلب کو مشورہ دیا کہ سو اونٹ لے کر ان کی گردنوں میں جوتوں کا قلادہ (نذرِ الٰہی کی علامت) ڈال کر اللہ کے نام پر حرم میں بھجوا دو ۔ شاید کوئی حبشی کسی اونٹ کو پکڑ کر ذبح کرلے اور اس گھر کا مالک غضبناک ہوجائے اور ان کو پکڑ لے۔ عبدالمطلب نے مشورہ پر عمل کیا۔ ان لوگوں نے ان اونٹوں کو پکڑ کر کسی پر لدان کیا اور کسی کو کھانے کے لیے ذبح کیا۔ عبدالمطلب اس کے بعد دعا کرنے لگے اور ابومسعود نے کہا : اس گھر کا مالک خود اس کی حفاظت کرے گا۔ تبع شاہ یمن (تبع یمن کے ہر بادشاہ کا لقب تھا) بیت اللہ کے صحن میں داخل ہو کر عمارت کو ڈھانے کا ارادہ کرچکا تھا مگر اللہ نے اس کو روک دیا اور مصیبت میں مبتلا کردیا۔ تین روز تک اس پر اندھیرا چھایا رہا۔ جب تبع نے یہ مصیبت دیکھی تو کعبہ پر مصری سفید ریشم کا غلاف چڑھایا اور تعظیم کی اور بطور نذر اونٹ کی قربانی کی۔ ادھر ابو مسعود نے سمندر کی طرف جو آنکھ اٹھائی تو اس کو کچھ محسوس ہوا۔ اس نے عبدالمطلب سے کہا : سمندر کی طرف تو دیکھو۔ عبدالمطلب نے دیکھا اور بولے مجھے تو سفید پرندے نظر آ رہے ہیں ‘ جو سمندر کے کنارے سے اٹھے ہیں۔ ابو مسعود نے کہا : ذرا نظر اٹھا کر دیکھو ان کی قرار گاہ کہاں ہے ؟ عبدالمطلب نے کہا : یہ ہمارے سروں پر چکر کاٹ رہے ہیں۔ ابومسود نے کہا : کیا تم ان کو پہچانتے ہو ؟ عبدالمطلب نے کہا : خدا کی قسم ! میں ان کو نہیں پہچانتا ‘ نہ یہ نجدی ہیں ‘ نہ تہامی ‘ نہ عربی ‘ نہ شامی۔ ابو مسعود نے کہا : کتنے ہیں ؟ عبدالمطلب نے کہا : شہید کی مکھیوں کی طرح (بےگنتی) ہیں۔ ہر ایک کی چونچ میں ٹھیکری کی طرح پتھری ہے۔ رات کی طرح آ رہے ہیں۔ ہر پرندہ کی چونچ سرخ ‘ سر سیاہ اور گردن لمبی ہے اور ایک لیڈر سب کا قائد ہے جو سب سے آگے ہے اور سب اس کے پیچھے آ رہے ہیں۔ غرض پرندے آگئے اور لشکر کی سیدھ میں سروں پر آکر رک گئے۔ جب لوگ اکٹھے ہوگئے تو پرندوں نے اپنی چونچوں سے پتھر نیچے کو گرا دیئے۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس پر اس کو گرایا گیا پھر جدھر سے آئے تھے ‘ اسی طرف لوٹ کر چلے گئے۔ ابومسعود اور عبدالمطلب صبح کو جب پہاڑ کی چوٹی سے اترے اور ایک ٹیلے پر چلے تو ان کو کسی کی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی۔ ایک اور ٹیلہ پر گئے تو وہاں سے کوئی آہٹ نہیں سنی۔ کہنے لگے : یہ لوگ رات کو نہیں سوئے ہوں گے ‘ اس لیے صبح کو سو رہے ہیں لیکن جب فوجی کیمپ کے قریب پہنچے تو سب کو مردہ پایا۔ جس شخص کے خود پر پتھر گرتا تھا ‘ خود کو پھاڑ کر دماغ میں اتر جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ہاتھیوں اور گھوڑوں کے اندر بھی گھس کر زمین پر پہنچتا اور زمین کے اندر داخل ہوجاتا تھا۔ عبدالمطلب نے انہی کا پھاوڑا لے کر زمین میں بہت گہرا گڑھا کھودا اور (ابرہہ کی فوج کے) زر و جواہر اس میں بھر دیئے اور دوسرا گڑھا اپنے ساتھی کے لیے کھود کر اس کو بھی بھر دیا اور ساتھی سے کہا : اگر تم چاہو تو میرا گڑھا لے لو ‘ چاہو اپنا لے لو اور چاہو تو دونوں لے لو۔ ابو مسعود نے کہا : تم اپنے لیے جو چاہو پسند کرلو۔ عبدالمطلب نے کہا : میں نے اپنے گڑھے میں سب سے اچھا سامان بھرنے میں کمی نہیں کی تھی ‘ مگر اب وہ تمہارا ہے۔ الحاصل دونوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے گڑھے پر بیٹھ گیا پھر عبدالمطلب نے آواز دے کر لوگوں کو واپس بلایا اور لوگوں نے واپس آکر بقیہ مال پر قبضہ کرلیا اور کل مال اٹھا بھی نہ سکے۔ اسی مال کی وجہ سے عبدالمطلب قریش کے سردار ہوگئے اور قریش نے اپنی قیادت ان کو سپرد کردی۔ ابو مسعود اور عبدالمطلب ہمیشہ اپنے ‘ اپنے گھروں میں اسی مال کے سبب خوشحال رہے اور اللہ نے اصحاب فیل کو کعبہ سے دفع کردیا۔
Ayah 105:2

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا ان کا داؤں غلط نہیں کیا؟ (گیا)

الم یجعل کیدھم . استفہام انکاری ہے (جو مفید ثبوت ہے) کید سے مراد اصحاب فیل کی وہ چال اور کوشش ہے جو کعبہ کو ڈھانے کے لیے انہوں نے کی تھی۔ فی تضلیل . ناکام ‘ بیکار ‘ باطل۔ یعنی کیا اللہ نے ان کی چال بیکار اور ناکام نہیں کردی۔
Ayah 105:3

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے

وارسل علی ھم اس کا عطف الم یجعل پر ہے کیونکہ الم یجعل کا معنی جَعَلَ ہے (اس لیے خبر کا عطف خبر پر ہوگیا) طیرا ابابیل . ابابیل ‘ طیرًا کی صفت ہے یعنی کثیر پرندے ‘ جھنڈ کے جھنڈ۔ ایک ٹکڑی دوسرے کے پیچھے آنے والی۔ عرب کہتے ہیں : جاءت الخیل ابا بیلًا۔ گھوڑے یا سوار ادھر ادھر سے آئے۔ ابو عبیدہ ؓ نے کہا : ابابیل ‘ ابالۃٌ کی جمع ہے۔ ابالۃ کا معنی ہے ‘ کسی چیز کا بڑا گٹھا۔ پرندوں کی جماعت میں ہر پرندہ دوسرے سے چسپاں تھا۔ اسی چسپیدگی کی وجہ سے ان کو ابابیل فرمایا۔ فراء نے کہا : ابابیل ایسی جمع ہے جس کا واحد اس مادہ سے نہیں آتا۔ کسائی کا قول ہے کہ ابابیل ابولٌ کی جمع ہے۔ عجاجیل ‘ عجول کی۔ بعض نے ابلٌ کی جمع قرار دی ہے۔
Ayah 105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے

ترمیھم بحجارۃ من سجیل . یہ بھی طیرًا کی صفت ہے یعنی وہ پرندے اصحاب فیل پر کنکر والے پتھر مار رہے تھے۔ سجیل : وہ مٹی جو پتھر بن جائے۔ یہ لفظ سنگ گل کے معرب ہے۔ بعض کے نزدیک سجل سے بنا ہے اور سجل کا معنی ہے ‘ بڑا ڈول۔ بعض نے اس کو السجل سے مشتق مانا ہے (رجسٹرڈ ‘ مہری) یعنی اصحاب فیل پر برسنے والے پتھر منجملہ اس عذاب کے تھے جو ان کے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان پرندوں کی چونچیں پرندوں کی طرح اور پنجے کتوں کے پنجوں کی طرح تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا : وہ پرندے سبز تھے اور چونچیں زرد تھیں۔ قتادہ ؓ نے کہا : وہ سیاہ تھے جو جھنڈ در جھنڈ ہو کر سمندر کی طرف سے آئے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے ہر پتھر پر ایک پرچہ اس شخص کے نام کا چسپاں تھا ‘ جس پر اس کو گرنا تھا۔ اللہ نے پتھر دے کر ان پرندوں کو بھیجا تھا ‘ پرندوں نے بڑی زور سے پتھر مارے ‘ جس شخص کو پتھر گرا ‘ پار نکل گیا۔ سر پر پڑا تو مقعد سے نکل گیا۔
Ayah 105:5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس

فجعلھم کعصب ماکول . اللہ نے ان کو اس بھوسہ کی طرح کردیا ‘ جس کو جانور کھاتے ہیں اور گوبر کر دیتے ہیں ‘ جوڑ جوڑ کے ٹکڑے ہوجانے کو گوبر کے منتشر اجزاء سے تشبیہ دی۔ مجاہد نے کہا : عصف کا معنی ہے گیہوں کے درخت کی پتیاں۔ قتادہ ؓ نے کہا : بھوسہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : غلاف کی طرح جو چھلکا گیہوں پر ہوتا ہے وہ عصف ہے اور ماکول سے مراد ہے جانوروں کا کھایا ہوا ‘ واللہ اعلم۔ سورۂ فیل ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ