106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 106:1

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

قریش کے مانوس کرنے کے سبب

اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت معنی میں ماقبل سورت کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اصحاب فیل کو ہلاک کیا تاکہ قریش باہم الفت کرنے لگیں یا باہم متفق ہوجائیں یا قریش امن میں ہوجائیں اور اپنے دونوں سفروں سے مانوس ہوجائیں۔ جنہوں نے دونوں سورتوں کو ایک سورت شمار کیا ہے وہ حضرت ابی بن کعب ہیں، ان کے مصحف میں دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : ہمارا ایک امام تھا جو دونوں میں کوئی فرق نہیں کرتا تھا وہ ان دونوں کو اکٹھا پڑھا کرتا تھا۔ عمرو بن میمون اودی نے کہا : ہم نے مغرب کی نماز حضرت عمر بن خطاب کے پیچھے پڑھی تو انہوں نے پہلی رکعت میں سورة التین کی تلاوت کی اور دوسری میں الم تر کیف اور لایلف قریش پڑھی۔ فراء نے کہا : یہ سورت پہلی سورت کے ساتھ ملی ہوئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے سامنے اپنی اس عظیم نعمت کا ذکر کیا جو اس نے حبشہ کے ساتھ وہ سلوک کر کے کی تھی، پھر فرمایا : ہم نے یہ اصحاب فیل کے ساتھ اس لیے کیا تاکہ قریش پر احسان ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش اپنی تجارت کے لیے نکلتے دور جاہلیت میں نہ ان پر کوئی حملہ کیا جاتا اور نہ بری نیت سے ان کے قریب ہوا جاتا۔ لوگ کہتے : وہ اللہ تعالیٰ کے گھرکے خادم ہیں یہاں تک کہ ہاتھی والا آیا تاکہ کعبہ کو گرائے، اسکے پتھر اٹھا لے جائے اور ان کے ساتھ یمن میں گھر بنائے لوگ جس کا حج کیا کریں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کردیا اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت کو یاد دلایا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ اس لیے کیا تاکہ قریش اس سفر سے مانوس ہوں، اور ان پر حملہ کرنے کی کوئی جرات نہ کرے۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔ اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے اس کا یہی معنی ہے۔ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ احمد بن شعیب، عمرو بن علی سے وہ عامر بن ابراہیم سے، جو لوگوں میں سے اچھا اور قابل اعتماد تھا، وہ خطاب سن کر جعفر بن ابی مغیرہ سے وہ اپنے باپ جعفر سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس کا معنی ہے قریش پر میرا احسان یہ ہے کہ انہیں موسم سرما اور موسم گرما میں سفر سے مانوس کردیا۔ کہا : وہ مکہ مکرمہ میں موسم سرما گزارتے اور طائف میں موسم گرما گزارا کرتے تھے۔ اس تاویل کی بنا پر آیات کے سروں پر وقف کرنا جائز ہے اگرچہ کلام مکمل نہیں جس طرح سورت کے درمیان اس کی وضاحت کریں دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ماقبل کے ساتھ متصل نہیں کیونکہ دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ ہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ پہلی سورت ختم ہوچکی ہے اور دوسری شروع ہوچکی ہے اور لام فلیعبدوا کے متعلق ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہیے کیونکہ انہیں خوراک کے حصول کے لیے موسم سرما اور موسم گرما کے سفر سے مانوس کردیا۔ خلیل نے اس طرح کہا کہ یہ متصل نہیں گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قریش کو مانوس کیا پس انہیں اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہیے، یہ کسائی اور اخفش نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا کہ لام الی کے معنی میں ہے ابن عامر نے اسے لائلاف قریش پڑھا ہے۔ یعنی یہ کلمہ ہمزہ کے ساتھ اس میں یاء کے بغیر اختلاس کا قاعدہ جاری ہوا ہے۔ ابو جعفر اور اعرج نے اسے لیلاف پڑھا ہے یعنی ہمزہ کے بغیر مقصود تخفیف تھا۔ باقی قراء نے لایلاف پڑھا ہے یاء کے ساتھ جبکہ اس سے پہلے ہمزہ ہے اس میں اشباع کا قائدہ جاری کیا ہے۔ آلفت، اولف، ایلاف ہے۔ شاعر نے کہا : المنعمین اذا النجوم تغیرت۔۔۔ والظاعنین لرحلۃ الایلاف جب ستارے متغیر ہوجاتے ہیں تو وہ انعام کرنے والے ہیں اور ایلاف کے سفر کا ارادہ کرنے والے ہیں۔ یوں باب چلایا جاتا ہے : الفتہ الفا والافا۔ ابو جعفر نے اسے لالف بھی پڑھا ہے۔ شاعر نے دونوں لفظوں کو جمع کردیا ہے : زعمتم ان اخوتکم قریش۔۔۔ لھم الف ولیس لکم الاف تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے بھائی قریش ہیں ان کے لیے الف اور تمہارے لیے ایلاف ہے۔ جوہری نے کہا : یوں جملہ ذکر کیا جاتا ہے۔ فلان قد الف ھذا الموضع یالفہ الفا، آلفہ ایاہ غیرہ۔ یوں بھی کہا جاتا ہے : الفت الموضع اولفہ ایلافا۔ اسی طرح ہے آلف الموضع اولفہ موالفۃ والافا۔ پس باب افعال اور باب مفاعلہ کی ماضی کی صورت ایک ہی طرح کی ہے۔ عکرمہ نے اسے لیالف پڑھا ہے۔ مصحف ابن مسعود میں اسی طرح ہے۔ لام امر کو فتحہ دینا یہ بھی ایک لغت ہے جسے ابن مجاہد اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے۔ عکرمہ اس آدمی پر عیب لگاتے جو لایلاف پڑھتا بعض اہل مکہ نے الاف قریش پڑھا اور ابو طالب کے قول سے استشہاد کیا جو ابو لہب کو رسول اللہ کے بارے میں تاکیدی وصیت کرتے ہیں : فلا تترکنہ ماحییت لمعظم۔۔۔ وکن رجلا ذا نجدۃ و عفاف تذود العدا عن عصبۃ ھاشمیۃ۔۔۔ الا فھم فی الناس خیر الاف جب تک تو زندہ ہے تو عظمت شان کی خاطر تو اسے نہ چھوڑ اور شرف و پاکدامنی والا آدمی بن جا، ہاشمی جماعت سے دشمنی کو دور کر ان کی محبت لوگوں میں بہترین محبت ہے۔ جہاں تک قریش کا تعلق ہے وہ بنو نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر ہیں۔ نضر کی اولاد میں سے جو بھی شخص ہے وہ قریشی ہے، بنو کنانہ اور اس سے اوپر کے افراد کو قریش نہیں کہتے۔ بعض اوقات وہ قریشی کہتے ہیں یہی قیاس ہے۔ شاعر نے کہا : بکل قریشی علیہ مھابۃ ہر قریشی پر ہیبت و جلال ہے۔ اگر تو قریش سے حی مراد لے تو تو اسے منصرف قرار دے گا اور اگر اس سے قبیلہ مراد لے تو اسے غیر منصرف قرار دے گا۔ شاعر نے کہا : وکفی قریش المعضلات و سادھا اس مصرعہ میں قریش میں قاعدہ جاری ہورہا ہے۔ قریش کا معنی اکتساب ہے تقرشوا کا معنی ہے وہ جمع ہوئے جبکہ وہ حرم کے علاوہ جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب نے انہیں حرم میں جمع کردیا یہاں تک کہ قریش نے اسے اپنا مسکن بنا لیا۔ شاعر نے کہا : ابونا قصی کان یدعی مجمعا۔۔۔ بہ جمع اللہ القبائل من فھر ہمارا باپ قسی تھا جسے مجمع کہا جاتا اس کی وجہ سے اللہ تعلای نے فہر قبائل کو جمع کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قریش، بنو فہر بن مالک بن نضر ہیں جو فہر کی اولاد نہیں وہ قریشی نہیں جبکہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے نبی کریم سے ایک روایت مروی ہے ؛ انا ولد النضر بن کنانہ لا نقفوا امنا و لا تتفی من ابینا۔ ہم نضر بن کنانہ کی الاد ہیں ہم اپنی ماؤں پر تہمت نہیں لگاتے اور ہم اپنے آباء سے نسب کی نفی نہیں کرتے۔ حضرت واثلہ بن اسقع نے کہا کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا : ان اللہ اصطفی کنانۃ من ولد اسماعیل واصطفی من بنی کنانۃ قریشا واصطفی من قریش بنی ہاشم واصطفانی من بنی ہاشم۔ اللہ تعالیٰ نے الاد اسماعیل میں سے بنو کنانہ کو چنا، بنو کنانہ میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھے چنا۔ یہ حدیث صحیح اور ثابت ہے اسے امام بخاری، امام مسلم اور دوسرے علماء نے نقل کیا ہے۔ انہیں قریش نام دینے میں کئی اقوال ہیں : 1 ۔ وہ جدا جدا ہونے کے بعد جمع ہوئے تھے اور تقرش کا معنی جمع ہونا اور ملنا ہے۔ ابو جلدی شکری نے کہا : اخوۃ قرشوا الذنوب علینا۔۔۔ فی حدیث من دھرھم و قدیم وہ ایسے بھائی ہیں جنہوں نے قریب زمانہ اور قدیم زمانہ میں بھی ہمارے خلاف گناہوں کو جمع کیا۔ 2 ۔ وہ تاجر لوگ تھے وہ اپنی کمائی سے کھاتے تھے۔ اور تقرش کا معنی کمانا ہے اس کا باب یوں چلاتے ہیں۔ قرش، یقرش، قرشا۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ مال کمائے اور جمع کرے۔ فراء نے کہا : اسی وجہ سے انہیں قریش کہا گیا۔ 3 ۔ وہ حاجیوں کی ضروریات کی جستجو کرتے اور ان کی ضرورت کو پورا کرتے۔ قریش کا معنی تفتیش کرنا ہے۔ شاعر نے کہا : ایھا الشامت المقرش عنا۔۔۔ عند عمرو فھل لہ ابقاء اے ہماری تکلیف پر خوش ہونے والے اور ہمارے بارے میں عمرو کے ہاں تفتیش کرنے والے کیا اس نے ہمیشہ رہنا ہے۔ 4 ۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ قریش کو قریش کیوں کہا گیا ؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا : سمندر میں ایک طاقتور جانور ہے جس کو قرش کہتے ہیں جو خود تو دوسروں کو کھا جاتا ہے مگر اسے نہیں کھایا جاتا، وہ خود غالب آجاتا ہے کوئی اس پر غالب نہیں آتا اور تبع کے اشعار پڑھے : و قریش ھی التی تسکن البحر۔۔۔ بھا سمیت قریش قریشا تاکل الرث و السمین ولا تت۔۔۔ رک فیھا لذی جنا حین ریشا ھکذا فی البلاد حی قریش۔۔۔ یاکلون البلدد اکلا کمیشا ولھم آخر الزمان نبی۔۔۔ یکثر القتل فیھم والخموشا قریش وہ جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے اسی کی مناسبت سے قریش کو قریش کا نام دیا گیا وہ کمزور اور موٹے کو کھا جاتا ہے اور وہ اس سمندر میں دو پروں والے کو بھی نہیں چھوڑتا ملکوں میں اسی طرح قریش قبیلہ ہے وہ ملکوں کو اس طرح تیزی سے کھا جاتا ہے ان میں آخر زمانہ میں نبی ہوگا ان میں بہت زیادہ قتل اور زخم ہوں گے۔
Ayah 106:2

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

یعنی ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب

الفت تجارتی سفر کی جاڑے اور گرمی (کے موسم) میں۔ مجاہد اور حمید نے اسے الفھم پڑھا ہے یعنی لام ساکن ہے اور یاء کے بغیر ہے ابن کثیر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت اسماء نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو الفھم پڑھتے ہوئے سنا۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے بھی یہ قرات مروی ہے۔ ابو جعفر اور ولید جو اہل شام سے تعلق رکھتے ہیں اور ابو حیوۃ نے الافھم پڑھا ہے یعنی ہمزہ میں اختلاس کا قاعدہ جاری کیا اور یاء نہیں ہے۔ ابوبکر نے عاسم سے ائلافھم دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے پہلا ہمزہ مکسور ہے اور دوسرا ساکن ہے۔ دو کلموں میں دو ہمزوں کو جمع کرنا شاذ ہے باقی قراء نے ایلافھم مد اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی پسندیدہ ہے یہ پہلے ایلاف سے بدل ہے مقصود وضاحت ہے یہ آلف کا مصدر ہے جب تو اسے الفت کرنے والا بن دے۔ آلف، الفا، جس طرح اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے یعنی وہ موسم سرما اور موسم گرما کے سفر سے مانوس ہوئے۔ فرمایا : ان پر موسم سرما اور موسم گرما کا سفر شاق نہیں، یہ قریش پر اللہ کی جانب سے احسان ہے۔ ہر وی اور دوسرے علماء نے کہا : اصحاب ایلاف چار تھے۔ ہاشم، عبد شمس، مطلب اور نوفل یہ سب بنو عبد مناف تھے۔ جہاں تک حضرت ہاشم کا تعلق ہے اس نے شام کے بادشاہ سے معاہد کیا تھا جس کی وجہ سے اس کی شام کی طرف تجارت امن میں ہوئی تھی ان کے بھائی عبد شمس تھے انہوں نے حبشہ والوں سے معاہدہ کیا تھا۔ مطلب نے یمن والوں سے معاہدہ کیا تھا اور نوفل نے فارس والوں سے معاہدہ کیا تھا۔ یولف کا معنی پناہ دینا بھی ہے انہیں بھائیوں کو پناہ دینے والے بھی کہتے۔ قریش کے تاجر ان بھائیوں کے معاہدہ کی وجہ سے مختلف شہروں کی طرف آیا جایا کرتے تو ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کیا جاتا۔ ازہری نے کہا : ایلاف اجارہ کو خفارہ سے تشبیہ دینا۔ اجارہ کا معنی مدد کرنا اور حمایت کرنا ہے اور خفارہ کا معنی امان ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : آلف یولف یہ اس وقت کہتے ہیں جب اس نے بوجھ اٹھانے والے اونٹوں کو امان دے کر مدد کی۔ حمائل، حمولہ کی جمع ہے، کہا : اس کا معنی ہے کہ قریش حرم کے رہائشی تھے ان کے لیے کوئی کھیتی اور جانور نہ تھے وہ موسم سرما اور موسم گرما میں امن سے تجارت کو جاتے تھے جبکہ ان کے اردگرد لوگوں سے مال چھین لیا جاتا تھا۔ جب کوئی آدمی ان کے سامنے رکاوٹ بنتا تو یہ کہتے : ہم اللہ کے حرم والے ہیں تو لوگ ان کا راستہ چھوڑ دیتے۔ ابو الحسین احمد بن فارس بن ذکریا نے اپنی تفسیر میں کہا سعید بن محمد، بکر بن سہیل دمیاطی سے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس کا معنی ہے کہ موسم سرما اور موسم گرما میں انہیں سفر سے مانوس کردیا۔ اس کی صورت یہ بنی کہ قریش میں سے جب کسی کو بھوک ستاتی تو وہ اور اس کے گھر والے ایک معروف جگہ کی طرف جاتے اپنے اوپر ایک خیمہ لگاتے تو وہ مرجاتے یہاں تک کہ عمرو بن عبد مناف کا زمانہ آیا وہ اپنے زمانے کا سردار تھا اس کا ایک بیٹھا تھا جس کو اسد کہتے اس کا بنی مخزوم میں ایک ہم عمر تھا جس سے اسد محبت کرنا اور اسی کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اس ساتھی نے اسد سے کہا : ہم کل اعتقاد کریں گے۔ ابن فارس نے کہا : اس روایت میں یہ ایسا لفظ ہے جس کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ یہ دال کے ساتھ ہے یا راء کے ساتھ ہے، اگر یہ راء کے ساتھ ہے تو شاید عفر سے ہو جس کا معنی مٹی ہے اگر وہ دال کے ساتھ ہو تو میں اس کا معنی نہیں جانتا جو میں گمان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اس خیمہ کی طرف جائیں گے اور ایک ایک کر کے مرجائیں گے اسد اپنی ماں کے پاس روتے ہوئے گیا اور اس کے ہم عمر ساتھی نے جو کچھ کہا تھا اس کا ذکر کیا تو اسد کی والدہ نے ان لوگوں کی طرف آٹا اور چربی بھیجی جس کی مدد سے انہوں نے چند دن گزارے پھر اس کا ساتھی آیا کہا : ہم کل اعتقاد کریں گے تو اسد اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے گیا اور اپنے ساتھی کی بات بتائی، یہ بات عمرو بن عبد مناف پر شاق گزری۔ وہ قریش کی مجلس میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، سارے قریش ان کی اطاعت کرتے تھے عمرو نے کہا : تم نے ایک ایسا کام شروع کر رکھا ہے جس کے ذریعے تم کم ہوتے جارہے ہو اور عرب بڑھتے جارہے ہیں تم بےیارومددگار ہورہے ہو جبکہ عرب غالب ہورہے ہیں، تم اللہ کے حرم والے اور حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے معزز ہو لوگ تمہارے تابع ہیں ممکن ہے یہ اعتقاد تم پر غالب آجائے۔ انہوں نے کہا : ہم تیری اتباع کریں گے، عمرو نے کہا : اس آدمی سے آغاز کرو یعنی اسد کے ہم عمر کے والد سے، اسے اعتقاد سے غنی کردو۔ تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر انہوں نے اونٹ ذبح کیا بھیڑ بکریاں ذبح کیں پھر ثرید بنایا اور لوگوں کو کھلایا تو اس کا نام ہاشم پڑگیا۔ اس کے بارے میں شاعر نے کہا : عمرو الذی ھشم الثرید لقومہ عمرو وہی ہے جس نے اپنی قوم کے لیے ثرید تیار کیا۔ پھر اس نے تمام خاندانوں کو دو تجارتی سفروں پر جمع کیا موسم سرما میں یمن کی طرف اور موسم گرما میں شام کی طرف۔ غنی نے جو نفع کمایا اسے اپنے اور فقیر کے درمیان تقسیم کیا یہاں تک کہ ان کا فقیر غنی ہوگیا۔ اسلام آیا تو وہ اس معاشرتی ادب پر تھے، عربوں میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جو مال اور عزت میں قریش سے بڑھ کر ہو اس معنی میں شاعر کا قول ہے : والخالطون فقیرھم بغنیھم۔۔۔ حتی یصیر فقیرھم کالکافی وہ اپنے فقیر کو اپنے غنی کے ساتھ ملانے والے ہیں یہاں تک کہ ان کا فقیر کفایت کرنے والے کی طرح ہوجاتا ہے۔ عرب اس طرح تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد کو اپنا رسول بنا کر بھیج دیا تو ارشاد فرمایا پس چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے ہاشم کے عمل کے واسطے سے بھوک میں کھانا کھلایا اور عربوں کے بڑھنے اور قریش کے کم ہونے کے خوف سے نجات عطا فرمائی۔ رحلۃ الشتاء والصیف۔۔ میں رحلۃ کا لفظ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے تقدیر کلام یوں گی ارتحالھم رحلۃ، یا ایلافھم اس میں عامل ہے یا ظرف ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے اگر تو اسے محل رفع میں رکھے جب کہ معنی یہ ہو ھما رحلۃ الشتاء والصیف تو یہ بھی جائز ہے۔ جبکہ پہلی تعبیر زیادہ مناسب ہے رحلۃ سے مراد سفر کرنا ہے۔ دو سفروں میں سے ایک سفر موسم سرما میں یمن کی طرف ہوتا کیونکہ یمن کا علاقہ گرم ہے اور دوسرا سفر موسم سرما میں شام کی طرف ہوتا کیونکہ وہ سرد علاقہ تھا۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے : وہ موسم سرما مکہ مکرمہ میں گزارتے تھے کیونکہ یہ علاقہ گرم تھا اور موسم سرما طائف میں گزارتے تھے کیونکہ اس کی آب و ہوا بہت اچھی تھی۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ ایک قوم کے لیے گرم علاقہ ہو جس کے ذریعہ وہ موسم سرما کی سردی کو دور کرسکے اور ایک سرد علاقہ ہو جس کے ذریعہ وہ موسم گرما کی گرمی دور کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس نعمت کا ذکر کیا۔ شاعر نے کہا : تشتی بمکۃ نعمۃ و مصیفھا بالطائف وہ آسودگی سے مکہ مکرمہ میں موسم سرما گزارتی ہے اور اس کا موسم گرما طائف میں گزرتا ہے یہاں چار مسائل ہیں : قرات وقف اور عدم وقف کی صورت میں : مسئلہ نمبر 1: قاضی ابوبکر بن عربی اور دوسرے علماء نے یہ پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان لایلف یہ ماقبل فعل کے متعلق ہے۔ اسے مابعد کے متعلق کرنا جائز نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فلیعبدوا رب ھذا البیت۔ کہا : جب یہ امر ثابت ہے کہ یہ دوسری سورت کے ساتھ متعلق ہے جبکہ نئی کلام کے ساتھ، بیان کے نئے شروع کرنے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھنے سے اس سے تعلق ختم کردیا گیا ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کلام کے مکمل ہونے سے قبل بھی قراء کے لیے وقف کرنا جائز ہے وہ مقامات جہاں قراء وقف کرتے ہیں یہ ایسی چیز نہیں جس کو انہوں نے شرعی طریقہ سے اخذ کیا بلکہ اصل میں وہ طلباء کو معانی کی تعلیم دینا چاہتے ہیں جب وہ اسے جان لیتے تو جہاں چاہیں وقف کرلیں جہاں تک سانس کے ٹوٹنے پر وقف کرنے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی اختلاف نہیں جب تجھے اس قسم کا عارضہ لاحق ہو تو ماقبل حصہ کا اعادہ نہ کر بلکہ وہاں سے ہی شروع کرلے جہاں تیری سانس ٹوٹی تھی اس بارے میں یہ میری رائے ہے انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس پر کسی حال میں کوئی دلیل نہیں لیکن میں کلام کے مکمل ہونے پر وقف پر اعتماد کرتا ہوں کیونکہ ان کے نقطہ نظر سے باہر جانا بھی مجھے ناپسند ہے۔ میں کہتا ہوں : اس کے صحیح ہونے پر دلیل نبی کریم کی قرات ہے کہ آپ الحمدللہ رب العالمین پر وقف کرتے، پھر الرحمن الرحیم، پر وقف کرتے یہ کتاب کے مقدمہ میں بات گزر چکی ہے۔ مسلمانوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ کعصف ماکول پر وقف کوئی قبیح نہیں، تو اسے کیسے قبیح کہا جاسکتا ہے جبکہ اسے پہلی رکعت میں پڑھا جاتا ہے اور بعد والی سورت کو بعد والی رکعت میں پڑھا جاتا ہے تو قرات کے قطع ہونے کے ساتھ ساتھ درمیان میں کئی ارکان بھی آجاتے ہیں کسی عالم نے اسے مکروہ نہیں جانا۔ اس میں کوئی علت نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فجعھلم کعصف ماکول۔ آیت کی انتہا ہے، اس پر قیاس یہ ہے کہ آیات کے اختتام پر وقف کرنا کوئی ممتنع نہیں خواہ کلام مکمل ہو اور غرض ختم ہو یا کلام مکمل نہ ہو اور غرض ختم نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی آیات کے سرے منظوم کلام کی زینت اور زیور ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو منظوم، منثور سے واضح نہ ہو اس میں کوئی خفا نہیں کہ منظوم کلام بہت ہی حسین ہوتی ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ فواصل، منظوم کلام کے محاسن میں سے ہوتے ہیں جس نے فواصل (آیات کے سرے) پر وقف کر کے ان کا اظہار کیا تو اس نے کلام کے محاسن کو ظاہر کیا اور وقف کو ترک کرنا ان محاسن کو مخفی کرتا ہے اور منثور کلام کو منظوم کلام کے مشابہ کرتا ہے یہ پڑھی جانے والی کلام کے حق میں خلل ڈالنا ہے۔ شتاء کا معنی و مفہوم : مسئلہ نمبر 2: امام مالک نے کہا : شتاء سے مراد نصف سال اور صیف سے مراد نصف سال ہے میں ربیعہ بن ابی عبدالرحمن اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ دیکھتا رہا کہ وہ اپنی پگڑیوں کو نہیں اتارتے تھے مگر جب ثریا طلوع ہوتی یہ بشنس کا انیسواں دن ہے یہ رومیوں یا ایرانیوں کے مہینوں کی تعداد کے مطابق پچیسواں دن ہے ثریا کے طلوع ہونے سے میری مراد ہے کہ جب ٹیکس وصول کرنے والے تکل پڑتے ہیں اور لوگ اپنے مویشوں کو اپنے اپنے چشموں کی طرف لے کر چل پڑتے ہیں اور ثریا کے طلوع ہونے سے مراد موسم گرما کا آغاز اور موسم سرما کا اختتام ہے یہ ایسا نقطہ نظر ہے جس میں ان کے ساتھیوں میں کوئی اختلاف نہیں صرف اشہب نے ان سے ایک قول یہ نقل کیا ہے : جب ھقعہ گر پڑے تو رات کم ہوجاتی ہے ثریا کے طلوع کو موسم گرما کا آغاز بنایا گیا ہے تو ضروری ہے کہ پورے سال میں اس کا حصہ چھ ماہ ہوں۔ پھر موسم گرما کے چلے جانے کے بعد موسم سرما کے چھ ماہ آجاتے ہیں۔ محمد بن حکم سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو یہ قسم اٹھاتا ہے کہ وہ فلاں آدمی سے گفتگو نہیں کرے گا یہاں تک کہ موسم سرما آجائے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس سے گفتگو نہ کرے یہاں تک کہ ہاتور کے سترہ دن گزر جائیں اگر اس نے کہا کہ وہ اس سے بات نہیں کرے گا یہاں تک کہ موسم گرما داخل ہوجائے تو وہ اس سے بات نہ کرے یہاں تک کہ بنشنس کے انیس دن گزر جائیں، کیونکہ اگر تو منازل کا حساب لگائے جیسے کہ وہ ہیں یعنی تیرہ راتیں ایک منزل کی ہیں تو تو جان لے گا کہ ہاتور کے انیس دن گزر جانے پر اس کی منازل ختم نہیں ہوتیں مگر جبکہ بشنس کے انیس دن داخل ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ زمانہ کی اقسام : مسئلہ نمبر 3: ایک قوم نے کہا زمانہ کی چار قسمیں ہیں۔ (1) موسم سرما (2) موسم بہار (3) موسم گرما (4) موسم خزاں۔ ایک قوم کا نطقہ نظر ہے وہ موسم سرما، موسم گرما، موسم قیظ اور موسم خریف (خزاں) ہے۔ امام مالک نے جو کہا وہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمانہ کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے ان کا تیسرا نہیں بنایا۔ دو زمانوں میں دو مقامات پر وقت گزارنا : مسئلہ نمبر 4: جب اللہ تعالیٰ نے قریش پر دو سفروں یعنی موسم سرما اور موسم گرما کے سفروں کے ساتھ احسان فرمایا جس طرح پہلے گزار ہے اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ ایک آدمی کا زمانوں میں دو مقامات پر وقت گزارنا جائز ہے۔ یہ زمانہ میں ان کا حال دوسرے کی بنسبت زیادہ نعمت کا باعث ہوگا، جس طرح موسم سرما میں مجلس بحری (سمندر کی طرف سے آناے والی ہوا کی جگہ) میں بیٹھنا اور موسم سرما میں مجلس قبلی (شمال کی جانب سے چلنے ووالی ہوا کی گزرگاہ) میں بیٹھنا اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے روشن دان وغیرہ بنانا اور گرمی حاصل کرنے کے لیے گدے وغیرہ استعمال کرنا۔
Ayah 106:3

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

لوگوں کو چاہئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں

پس چاہیئے کہ وہ عبادت کیا کریں اس خانہ (کعبہ) کے رب کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی عبادت کرنے اور وحدانیت کا پر چار کرنے کا حکم دیا کیونکہ اس نے انہیں دو سفر کرنے کی محبت سے نوازا۔ فعل کے اوپر فاء اس لیے داخل ہوئی ہے کیونکہ کلام میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے معنی یہ بنے گا اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں اگر تم باقی نعمتوں کی وجہ سے اس کی عبادت نہیں کرتے تو اس ایک نعمت کی وجہ سے اس کی عبادت کرو جو ظاہر نعمت ہے۔ یہاں بیت سے مراد کعبہ ہے ان کے سامنے اپنا یہ تعارف کروانا کہ وہ اس بیت کا رب ہے اس کی دو وجہیں ہیں : (1) ان کے بت تھے تو اللہ نے ان سے اپنے آپ کو ممتاز کیا۔ (2) کیونکہ بیت اللہ شریف کی وجہ سے انہیں تمام عربوں پر فضیلت عطا کی گئی تھی تو انہیں اپنا احسان جتلانے کے لیے ان کے سامنے اس کا ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے رب کعبہ کی عبادت سے مانوس ہوجائیں جس طرح وہ دونوں سفروں سے مانوس ہیں۔ عکرمہ نے کہا : قریش بصری کی طرف سفر کرنے سے مانوس تھے اور یمن کی طرف سفر کرنے سے مانوس تھے تو انہیں کہا گیا کہ وہ مکہ مکرمہ میں ٹھہریں اور اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ موسم سرما کا سفر یمن کی طرف اور موسم گرما کا سفر شام کی طرف ہوتا تھا۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

جس نے انہیں رزق دے کر فاقہ سے نجات بخشی اور امن عطا فرمایا انہیں (فتنہ) و خوف سے۔ من جوع سے مراد ہے بھوک کے بعد، حضرت ابن عباس نے کہا : یہ نعمت قریش کو حضرت ابراہیم کی دعا کیو جہ سے نصیب ہوئی آپ نے یہ دعا کی تھی : رب اجعل ھذا بلدا امنا وارزق اھلہ من الثمرات (البقرہ) اے میرے رب ! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے مکینوں کو پھلوں سے رزق عطا فرما۔ ابن زید نے کہا : عرب ایک دوسرے پر غارت گری مچاتے بعض بعض کو قید کرلیتے حرم کی وجہ سے قریش اس آفت سے محفوظ تھے۔ ارشاد باری ہے : اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء (القصص) ایک قول یہ کیا گیا ہے : موسم سرما اور موسم گرما میں ان پر سفر بڑا شاق گزرا تو اللہ تعالیٰ نے اہل حبشہ کے دلوں میں یہ دال دیا کہ وہ کھانا کشتیوں کے ذریعہ ان تک پہنچائیں تو انہوں نے اس طرح کھانا ان تک پہنچایا۔ قریش ان سے خوفزدہ ہوئے کہ وہ ان سے جنگ کرنے کے لیے آئے ہیں تو قریش اپنا دفاع کرنے کے لیے ان کی طرف نکلے تو کیا دیکھا کہ وہ ان کے لیے کھانا لائے ہیں اور ان کی خوراک کے ذریعے ان کی مدد کی۔ اہل مکہ جدہ اونٹوں اور گدھوں کو لے جاتے اور کھانا خرید لیتے یہ دو راتوں کی مسافت پر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس اطعام سے مراد یہ ہے جب انہوں نے نبی کریم کو جھٹلایا تو رسول اللہ نے ان کے حق میں بددعا کی اور یوں عرض کی : اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف۔ تو قحط شدید ہوگیا انہوں نے کہا : اے محمد ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے بیشک ہم ایمان رکھنے والے ہیں۔ رسول اللہ نے دعا کی تو یمن کے علاقے تبالہ اور جرش سر سبز و شاداب ہوگئے اور انہوں نے کھانا مکہ مکرمہ تک پہنچایا تو مکہ مکرمہ کے لوگ بھی آسودہ ہوگئے۔ ابن اعرابینے کہا : ہر وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان آڑ ہو وہ موبق ہے۔ ابن وہب نے مجاہد سے موبقا کے تحت روایت کیا ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے جسے موبق کہا جاتا ہے۔ اسی طرح نوف الہکالی نے کہا، مگر اس نے کہا : اس روایت کیا ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے جسے موبق کہا جاتا ہے۔ اسی طرح نوف الہکالی نے کہا، مگر اس نے کہا : اس کا مطلب ہے ان کے اور مومنین کے درمیان آڑ بنا دی جائے گی۔ عکرمہ نے کہا : یہ جہنم میں ایک نہر ہے جو آگ کے ساتھ بہتی ہے اس کے کناروں پر کالے خچروں کی مانند سانپ ہیں۔ جب وہ سانپ انہیں ڈسنے کے لیے چھٹیں گے تو وہ آگ میں گھس کر پناہ لیں گے۔ زید بن درہم نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے فرمایا : موبقاً جہنم میں پیپ اور خون کی ایک وادی ہے (1) ضحاک اور عطا نے کہا : جہنم میں ایک ہلاکت کی جگہ ہے۔ اسی سے کہا جاتا ہے : اوبقتہ ذنوبہ ایباقا۔ گناہوں نے اسے ہلاک کردیا۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہلاکت کی جگہ۔ جوہری نے کہا : وبق یبق وبوقا اس کا معنی ہے ہلاک ہونا۔ الموبق، الموعد کی مثل ہے۔ وعدیعد سے مفعل کے وزن پر ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وجعلنا بینھم موبقا اس میں ایک اور لغت بھی ہے : وبق یوبق وبقا اور اس میں ایک تیسری لغت بھی ہے : وبق یوبق وبقا اور اس میں ایک تیسری لغت بھی ہے : وبق یبق ماضی اور مضارع دونوں کا عین کلمہ مکسور ہے۔ او بقہ، اس نے اسے ہلاک کردیا۔ زہیر نے کہا : فراء نے کہا : ان کا باہم ملنا آخرت میں ان کے لیے ہلاکت بنایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ورا المجرمون النار اصل رأی ہے یا متحرک تھی جس کا ماقبل مفتوح تھا تو اسے الف سے بدلا، اسی وجہ سے کو فیوں کا خیال ہے کہ رأی کو یا کے ساتھ لکھا جائے۔ بعض بصریوں نے بھی ان کی متابعت کی ہے، لیکن ماہر بصری علماء نے جن میں محمد بن یزید بھی ہے وہ الف کے ساتھ لکھتے ہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے کہا، میں نے محمد بن یزید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مضیٰ ، رمیٰ اور تمام یائی حروف کو صرف الف کے ساتھ لکھنا جائز ہے۔ یاء والے اور خط میں واو والے حروف میں کوئی فرق نہیں جیسا کہ لفظ میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اگر یا والے حروف کو یاء کے ساتھ لکھنا واجب ہوتا تو وائو والے حروف کو وائو کے ساتھ لکھنا واجب ہوتا حالانکہ وہ خود ہی اپنے کلیہ کو توڑتے ہیں۔ رمی کو یاء کے ساتھ اور رماہ کو الف کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اگر علت یہ ہوتی کہ یہ یاء والے حروف سے ہے تو بھی رماء کو یاء کے ساتھ لکھنا واجب ہوتا پھر وہ ضحاً لکھتے ہیں، جو ضحوۃ کی جمع ہے اور کساً لکھتے ہیں۔ جو کسوۃ کی جمع ہے یہ دونوں وادی سے ہیں یاء سے لکھے گئے ہیں یہ وہ چیز ہے جو اصل پر ثابت نہیں ہوتی۔ فظنوا انھم مواقعوھا۔ یہاں ظن بمعنیٰ یقین اور علم ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : فقلت لھم ظنوا بالفی مدجج یعنی انہوں نے یقین کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انہوں نے یقین کیا کہ وہ گرنے والے ہیں اس میں۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ آگ کو دور سے دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں۔ اور انہوں نے گمان کیا وہ بھی انہیں پکڑ لے گی۔ حدیث میں ہے ” کافر جہنم کو دیکھے گا اور کمان کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ چسپاں ہونے والی ہے، حالانکہ وہ چالیس سال کی مسافت پر ہوگی (1) مواقعہ کا معنی ہے کسی شے کے ساتھ سختی کے ساتھ وابستہ ہوجانا۔ علقمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فظنوا انھم ملافوھا پڑھا ہے یعنی وہ اس میں جمع ہونے والے ہیں۔ الف کا معنی جمع کرنا ہے۔ ولم یجدوا عنھا مصرفا یعنی وہ نجات کی کوئی جگہ نہ پائیں گے کیونکہ وہ ہر جانب سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہوگی۔ قتبیٰ نے کہا : کوئی پھرنے کی جگہ نہ پائیں گے جس کی طرف وہ پھرجائیں بعض نے فرمایا : کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے جس کی طرف پناہ لیں۔ ان تمام الفاظ کا مفہوم ایک ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے بت اور مورتیاں آگ کو مشرکوں سے پھیرنے کی جگہ نہ پائیں گی۔ واتخذوا ایتی آیات سے مراد قرآن ہے۔ وما انذروا یعنی جو انہیں وعید سنائی گئی۔ ھزوا مزاق۔ مامصدر یہ ہے یعنی الانذار۔ بعض نے فرمایا : ما موصولہ ہے، یعنی انہوں نے قرآن اور جس وعید سے انہیں ڈرایا گیا اے مزاق بنایا۔ اس کا بیان سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ مکھن اور کھجور کے بارے میں ابوجہل کا قول ہے، اس نے کہا تھا : یہ زقوم ہے۔ بعض نے فرمایا : ان کا قرآن کے متعلق یہ کہنا ہے کہ جادو ہے، خیالات ہیں اور پہلے لوگوں کے قصے ہیں۔ اور انہوں نے نبی پاک ﷺ کو کہا : ما ھذا الا بشر مثلکم۔ یہ نہیں مگر تمہاری ممثل بشر اور انہوں نے کہا : لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف) ماذا اراد اللہ بھذا مثلا۔ (البقرہ : 26) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنھا یعنی کوئی اس سے اپنے نفس پر زیادہ ظلم کرنے والا نہیں جسے اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے نصیحت حاصل کرنے میں کوتاہی کی اور ان کو قبول کرنے سے اعراض کیا۔ ونسی ما قدمت یدہ اپنے کفر اور گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس سے توبہ نہ کی، یہاں سیان کا معنی ترک کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اسے ببھول گیا جو اس نے اپنے لیے آگے بھیجا اور جو اس نے عذاب حاصل کیا۔ ان دونوں اقوال کا معنی قریب قریب ہے۔ انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقراً یعنی ان کے کفر کے سبب ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے اور کانوں میں گرانی پیدا کردی، یعنی ہم نے روک دیا ایمان کو کہ ان کے دلوں اور کانوں میں داخل ہو۔ وان تدعھم الی الھدی۔ ھدی سے مراد ایمان ہے، یعنی اگر آپ انہیں ایمان کی طرف بلائیں : فلن یھتدوا اذا ابداً وہ پھر بھی ہدایت نہ پائیں گے۔ یہ آیت معین لوگوں کے متعلق نازل ہوئی۔ قدریہ کے قول کا اس سے رد ہوتا ہے۔ اس کا معنی سورة سبحان میں گزر چکا ہے۔ ضحاک، ربیع، شریک اور سفیان نے کہا کہ خوف سے مراد کوڑھ کا مرض ہے ان کے شہر میں کوڑھ کا مرض کسی کو لاحق نہیں ہوگا۔ اعمش نے کہا : اس کا معنی ہے کہ انہیں حبشیوں سے امن دیا جب کہ ان کے ساتھ ہاتھی بھی تھا۔ حضرت علی شیر خدا کی طرف ایک قول یہ منسوب ہے کہ اس کا معنی ہے خلافت ان میں رہے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا : سفر کی محبت نے انہیں بادشاہوں سے غنی کردیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، لفظ عام ہے۔