106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 106:1

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

چونکہ (اللہ تعالیٰ نے) قریش کو مانوس کردیا

(1) قریش کے لیے انعام و احسان خداوندی کی تذکیر و یاد دہانی : سو قریش کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص احسان اور اس کے تقاضے کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بوجہ قریش کے مانوس کردیے جانے کے، یعنی اس قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنی بےپایاں رحمت و عنایت اور حکمت بالغہ سے ان کو ان سفروں سے مانوس کردیا، اور ان کی الفت ان کے اندر رکھ دی تاکہ اس طرح یہ قسما قسم کے فائدے حاصل کریں اور منافع کمائی، الاف اور ایلاف کا اصل مفہوم انس، تعلق اور وابستگی ہے، سو اس سورة کریمہ سے قریش کو یہ یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کو پورے ملک میں جو عزت و وقار حاصل ہے اور جس کے نتیجے میں ان کو یہ غیر معمولی مفادات حاصل ہو رہے ہیں، اس میں اصلی دخل ان کی ذہانت و قابلیت کا نہیں، بلکہ اللہ کے اس گھر کے ساتھ تعلق اور وابستگی کو ہے، اس لیے ان پر یہ لازم آتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھیں، صدق دل سے اس کی عبادت و بندگی کریں، اور اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشے میں ان حقوق و فرائض کو فراموش نہ کریں، جو اس گھر اور اس کے خداوند قدوس سے متعلق ان پر عائد ہوتے ہیں۔ سو شکر نعمت حضرت واہب مطلق جل وعلا شانہ کا اس کے بندوں پر حق واجب بھی ہے اور اسی میں خود بندوں کا اپنا بھلا اور فائدہ بھی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین۔
Ayah 106:2

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

یعنی ان کو مانوس کردیا ان کے جاڑے اور گرمی کے (منافع بھرے) سفروں سے

(2) قریش کے دو عظیم الشان تجارتی سفروں کی تذکیر و یاد دہانی : سو قریش کو دو عظیم الشان تجارتی سفروں کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بوجہ اس کے ان کو مانوس کردیا جاڑے اور گرمیوں کے سفر سے، چناچہ سردیوں میں یہ لوگ جنوب عرب کے گرم علاقوں یمن کی طرف تجارتی سفر پر نکل جاتے، اور گرمیوں میں یہ لوگ شام و فلسطین وغیرہ کے شمالی عرب کے ٹھنڈے علاقوں کا رخ کرتے اور اپنے اہم محل وقوع میں آباد ہونے کے باعث یہ لوگ بحر احمر کی آبی گزرگاہ اور اس کے نشیب و فراز اور اس کے راستوں سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ تھے، اور اس وجہ سے یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں کے دوران بحر احمر کے ساتھ چلنے والی اس شاہراہ سے بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے، جو کہ ان کی تجارتی منڈیوں کو مشرق اور مغرب کو ملانے والی عظیم الشان شاہراہ تھی، اور جس کی یہ قدرتی اہمیت اور جغرافیائی حیثیت آج تک معروف مسلم ہے، اور حرم کے خادم و مجاور ہونے کی حیثیت سے ان لوگوں کو جو خصوصی مقام اور احترام حاصل ہوا تھا، اس کی بناء پر کوئی ان سے کسی طرح کی چھیڑ خانی بھی نہیں کرتا تھا، بلکہ ہر جگہ اور ہر کسی کی طرف سے ان کو اکرام و احترام ہی ملتا تھا، جس کی بناء پر انہوں نے اپنے ان مشہور سفروں سے خوب خوب فائدے اٹھائے، سو یہ خداوند قدوس کا ان پر ایک عظیم الشان احسان تھا، جو بیت اللہ کی وجہ سے ان کو نصیب ہوا تھا، مگر یہ بدبخت اپنے خالق ومالک وحدہ لاشریک کا حق پہچان کر اس کے آگے جھکنے کی بجائے اس کے اسی گھر میں کفر و شرک اور بت پرستی کے جرم عظیم کے مرتکب ہوگئے، اور خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کی بجائے انہوں نے اس گھر میں تین سو ساٹھ بت رکھ چھوڑے تھے، جن کو یہ اپنا حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے، ان کی پوجا پاٹ کرتے، ان کے نام کے نذرانے دیتے، نیازیں پیش کرتے، چڑھاوے چڑھاتے، اور طرح طرح سے شرک کا ارتکاب کرتے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کو کرنا کیا چاہیئے اور یہ کیا کر رہے ہیں۔ ان پر حق نعمت کیا واجب تھا اور یہ کیا کررہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا اکرم الاکرمین۔
Ayah 106:3

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

تو (اس کے شکر میں) ان کو چاہیے کہ یہ (صدق دل سے) بندگی کریں اس گھر کے رب کی

(3) شکر نعمت اور اس کے طریقے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور شکر نعمت کے طریقے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پس ان کو چاہیے کہ یہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے ان کو اس خصوصی مرتبہ و مقام اور ایسے عظیم الشان انعامات سے نوازا کہ حق نعمت اور شکر نعمت کا تقاضا یہی تھا اور یہی ہوتا ہے کہ انسان دل و جان سے جھک جائے اپنے خالق ومالک اور منعم حقیقی کے آگے اور اسی کی عبادت و بندگی کرے، مگر ان بےانصافوں اور بدبختوں نے اس کے برعکس یہ کیا کہ اللہ کے اسی پاکیزہ اور مقدس گھر کو طرح طرح کی شرکیات اور بت پرستی کی نجاستوں اور غلاظتوں سے ملوث اور آلودہ کردیا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کو رزق و روزی اور امن و سکون کی جن نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، ان کا حق اور ان کا تقاضا یہ تھا اور یہی ہے کہ یہ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کے لیے بجا لائیں، کہ وہی معبود برحق ہے جو ہر قسم کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے اس کے سوا کسی بھی اور کے لیے عبادت کی کوئی بھی قسم کسی بھی صورت میں بجا لانا شرک ہوگا، جو کہ ظلم عظیم ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں شکر نعمت کی تعلیم و تلقین ہے کہ شکر نعمت حضرت واہب مطلق جل وعلا شانہ کا حق بھی ہے اور اسی میں بندے کا خود اپنا بھلا بھی ہے، دنیاوی زندگی کی اس عارضی فرصت میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی، جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، اور قریش کے ان دو سفروں کا ذکر اصل میں بطور نمونہ و مثال فرمایا گیا ہے کہ یہ دونوں سفرا ان کے لیے خاص اہمیت کے حامل تھے، ورنہ اس کے عموم میں ہر آرام دہ سفر داخل ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، سو ایسے ہر سفر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور اس کی بندگی کرنی چاہیے۔ لیکن دنیا اس سے غافل ہے، الا ماشاء اللہ، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے ان کو کھانے کو دیا بھوک (کی اذیت) سے بچا کر اور ان کو امن (کی نعمت) سے نوازا خوف سے نکال کر

(4) رزق و روزی کی نعمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے ان کو کھانا دیا بھوک کی اذیت سے بچا کر، جب کہ اس سے قبل یہ لوگ بھوکوں مرتے اور دانے دانے کو ترسا کرتے تھے، نہ ان کے یہاں کچھ پیدا ہوتا تھا نہ باہر سے ان کے پاس کچھ آتا تھا، مگر اس گھر کی برتکوں اور اس گھر کے مالک کی عنایتوں اور رحمتوں و مہربانیوں سے ان کے لیے رزق کے اور ہر طرح کی خیر و برکت کے طرح طرح کے اور نت نئے دروازے کھل گئے، اور ہر طرف سے طرح طرح کی نعمتیں ان کے پاس کھچ کھچ کر آنے لگیں، سو اس گھر کے رب کی عبادت جو کہ معبود حقیقی ہے، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور دنیا وآخرت کے امن وامان کے حصول کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ ( ابن کثیر، معارف وغیرہ) اسی لیے اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کا حکم دوسرے مقام پر اس تاکید و تصریح کے ساتھ دیا گیا ( آیت، النمل 91 پ 20) سو یہ گھر جو اس قدر عظمتوں والا ہے کہ پوری روئے زمین پر دوسرا کوئی گھر نہ آج تک کبھی ایسا ہوا اور نہ قیامت تک کبھی ہوسکے گا، یہ بھی اپنی ان تمام تر عظمتوں کے باوجود کسی بھی درجے میں اور کسی بھی قسم کی عبادت کا مستحق و حق دار نہیں، بلکہ عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل کا حق دار حضرت خالق ہی ہے جل جلالہ جو کہ اس گھر کا رب ہے تو پھر کیا خیال ہے آپ کا ان نام کے مسلمانوں کے بارے میں ؟ جنہوں نے جگہ جگہ طرح طرح کے ایسے آستانے بنا رکھے، اور گدیاں سجا رکھی ہیں، جہاں طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کیا جارہا ہے، سجدے ہورہے ہیں، چکر لگائے جارہے ہیں، پھیرے مانے جاتے ہیں، غیر اللہ کی نذرو نیاز کے سلسلے جاری ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ رزق و روزی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے، اور عبادت و بندگی کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے جو رزق و روزی کا مالک ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ (5) امن کی نعمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے ان کو امن سے نوازا خوف سے نکال کر، جب کہ اس سے پہلے یہ لوگ امن و سکون کی اس نعمت بےبہا سے بالکل نا آشنا اور یکسر محروم تھے، نہ کسی کی جان محفوظ اور نہ عزت و آبرو محفوظ، نہ رات کو امن سے سونا نصیب تھا، نہ دن کو بےخوف و خطر چلنا پھرنا، ہر وقت یہی خوف سوار رہتا تھا کہ پتہ نہیں کب، کیسے اور کہاں اور کس طرح کوئی دشمن حملہ کردے سو ایسے میں اس واہب مطلق جل جلالہ نے اپنے برکتوں والے اس بیت عتیق کے سبب کس حیرت انگیز طریقے سے ان کو امن و سکون اور آرام و راحت کے ان عظیم الشان انعامات سے نوازا، جبکہ ان کے گردو پیش کے لوگ اب بھی اخذ و نہب اور لوٹ مار کر کار شکار ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، العنکبوت 67 پ 21) یعنی کیا ان لوگوں نے دیکھا انہوں نے اس اہم اور بنیادی حقیقت پر غور نہیں کیا کہ ہم ان کو امن کا گہوارہ ایک عظیم الشان حرم میں ٹھکانہ دیا، جبکہ اچک لیا جاتا ہے ان کے آس پاس کے دوسرے لوگوں کو تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں، اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے برعکس ان کو شکر خداوندی کی روش کو اپنانا اور اختیار کرنا چاہے، نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، القصص 57) یعنی کیا ہم نے ان کو ٹھکانہ نہیں دیا ایک ایسے ان کی روزی کے سامان کے طور پر، لیکن ( افسوس) کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ طرح طرح کی شرکیات اور دوسرے معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں، سو کھانے پینے کی بنیادی ضروریات کا مہیا ہونا اور امن و سلامتی کی فضا کا موجود ہونا دو ایسی اہم بنیادی نعمتیں ہیں جن پر کسی بھی معاشرے کی صحت و سلامتی کا مدار ونحصار ہوتا ہے، اور عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ ان نعمتوں پر صدق دل سے حضرت واہب مطلق جل وعلا شانہ کا شکر ادا کیا جائے، اور اسی کی عبادت و بندگی کی بجا لائے جائے اور یہ طریقہ جہاں اس کے حق بندگی کا تقاضا ہے وہیں یہ خود ان لوگوں کے لیے بھی دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں ہموار کرنے والا طریقہ ہے، کہ شکر نعمت سے حق نعمت کی ادائیگی بھی ہوتی ہے اور نعمت میں اضافہ و برکت اور اس کی حفاظت بھی، مگر افسوس کہ غفلت کے مارے انسان کا حال اس سے ہمیشہ مختلف ہی رہا کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو، رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضہ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین وکن لی واجعلنی لک بکل حال من الاحوال، آمین ثم آمین۔