عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی مَا أَحْدَثَ النِّسَائُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ کَمَا مُنِعَتْ نِسَائُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَنِسَائُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ قَالَتْ نَعَمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، یحیی، ابن سعید، عمرہ بنت عبدالرحمن، سیدہ عائشہ ؓ زوجہ نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے تو ان کو مسجدوں سے منع فرما دیتے جیسا کہ بنی سرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد جانے سے منع کردیا گیا تھا تو سیدہ ؓ نے فرمایا ہاں!
Amra, daughter of Abdul Rahmin, reported: I heard Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ . say: If the Messenger of Allah ﷺ had seen what new things the women have introduced (in their way of life) he would have definitely prevented them from going to the mosque, as the women of Bani Israil were prevented.
عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثفقی، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد، احمر اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اسی حدیث کو اس سند کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔
This hadith has been narrated by Yahya bin Said with the same chain of transmitters.
جہری نمازوں میں جب خوف ہو تو قرأت درمیانی آواز سے کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَکَّةَ فَکَانَ إِذَا صَلَّی بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَ ذَلِکَ الْمُشْرِکُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَائَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِکُونَ قِرَائَتَکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِکَ أَسْمِعْهُمْ الْقُرْآنَ وَلَا تَجْهَرْ ذَلِکَ الْجَهْرَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِکَ سَبِيلًا يَقُولُ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ
ابوجعفر، محمد بن صباح، عمرو ناقد، ہشیم، ابن صباح، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ سے اللہ تبارک وتعالی کا قول ( وَلَا تَجْ هَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) 17۔ الاسراء: 110) کی تفسیر میں روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپ کر اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے اور آپ ﷺ بلند آواز سے قرأت قرآن فرماتے تھے جب مشرکین قرآن سنتے تو وہ قرآن اور اس کے نازل کرنے والے اور اس کے لانے والے کو برا کہتے تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا اس قدر بلند آواز سے نہ پڑھیں کہ مشرکین آپ ﷺ کی تلاوت سن لیں اور نہ اتنا آہستہ پڑھیں کہ آپ ﷺ کے اصحاب بھی نہ سن سکیں بلکہ ان دونوں کے درمیان راستہ نکالیں جہراً اور پوشیدہ کے درمیان۔
Ibn Abbas reported: The word of (Allah) Great and Glorious: And utter not thy prayer loudly, nor be low in it" (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah ﷺ was hiding himself in Makkah. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Quran. And when the polytheists heard that, they reviled the Quran and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle ﷺ : Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Quran, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between these. Recite between loud and low tone.
جہری نمازوں میں جب خوف ہو تو قرأت درمیانی آواز سے کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَتْ أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَائِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن زکریا، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) بھا دعا کے بارے میں نازل ہوا ہے۔
Aisha reported that so far as these words of (Allah) Glorious and High are concerned:" And utter not thy prayer loudly, not be low in it" (xvii. 110) relate to supplication (dua).
جہری نمازوں میں جب خوف ہو تو قرأت درمیانی آواز سے کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح قَالَ و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ ح قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
قتیبہ بن سعید، حماد، ابن زید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، اس سند سے بھی یہی حدیث روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ کَانَ مِمَّا يُحَرِّکُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَکَانَ ذَلِکَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ قَالَ أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِکَ فَکَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ کَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابوبکر، جریر بن عبدالحمید، موسیٰ بن ابی عائشہ، سعید، بن جبیر، ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ ) کے بارے میں روایت ہے کہ جب جبرائیل وحی لے کر نازل ہوتے تو نبی کریم ﷺ اپنی زبان اور ہونٹ مبارک کو حرکت دیتے ہوئے دہراتے تھے اور اس میں مشکل ہوتی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ( لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ ) آپ ﷺ اپنی زبان کو یاد کرنے کی خاطر جلدی حرکت نہ دیں۔ ہمارے ذمہ ہے کہ اسے ہم آپ ﷺ کے سینہ میں جمع کردیں اور آپ اسے پڑھا دیں، فرمایا جب ہم قرآن کو آپ ﷺ پر نازل کریں تو آپ ﷺ اس کو سنیں (إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ) ہم اس کو آپ ﷺ کی زبان سے بیان کرائیں گے پس اس کے بعد جب جبرائیل آپ ﷺ کے پاس آتے تو آپ ﷺ گردن جھکا دیتے اور جب جبرائیل چلے جاتے تو آپ ﷺ اللہ کے وعدے کے مطابق قرآن پڑھتے۔
Ibn Abbas reported with regard to the words of Allah, Great and Glorious: "Move not thy tongue therewith" (Ixxv. 16) that when Gabriel (علیہ السلام) brought revelation to him (the Holy Prophet) he moved his tongue and lips (with a view to committing it to memory instantly). This was something hard for him and it was visible (from his face). Then Allah, the Exalted. revealed this: "Move not thy tongue therewith to make haste (in memorising it). Surely on us rests the collecting of it and the reciting of it" (ixxv. 16), i. e. Verily it rests with Us that We would preserve it in your heart and (enable you) to recite it. You would recite it when We would recite it and so follow its recitation." and He (Allah) said: "We revealed it, so listen to it attentively. Verily its exposition rests with Us. i. e. We would make it deliver by your tongue." So when Gabriel (علیہ السلام) came to him (to the Holy Prophet), he kept silence, and when he went away he recited as Allah had promised him.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْله لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنْ التَّنْزِيلِ شِدَّةً کَانَ يُحَرِّکُ شَفَتَيْهِ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّکُهُمَا کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّکُهُمَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّکُهُمَا کَمَا کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّکُهُمَا فَحَرَّکَ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِکَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ قَالَ فَاسْتَمِعْ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا أَقْرَأَهُ
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، موسیٰ بن ابی عائشہ ؓ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ ) کی تفسیر میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نزول وحی سے تکلیف میں پڑجاتے آپ ﷺ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے راوی کہتا ہے کہ مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ہونٹوں کو تیرے لئے اسی طرح حرکت دوں جس طرح رسول اللہ ﷺ حرکت دیتے پھر اپنے ہونٹوں کو ابن عباس ؓ نے حرکت دی تو سعید ؓ نے کہا میں تم کو اسی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح ابن عباس ؓ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے پھر ہونٹ ہلائے اللہ تعالیٰ نے آیات ذیل نازل فرمائیں (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ ِانَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ) تفسیر میں فرمایا آپ ﷺ کے سینہ میں اسے جمع کرنا کہ پھر آپ اسے قرأت کرسکیں ہمارے ذمہ ہے فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ میں فرمایا کہ کان لگا کر سنو اور خاموش رہو پھر ہم پر لازم ہے کہ آپ ﷺ سے اس کی قرأت کرا دیں پھر جب جبرائیل آپ کے پاس آتے تو آپ ﷺ کان لگا کر سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو آپ ﷺ اس کی قرأت کے مطابق قرأت فرماتے۔
Ibn Abbas (RA) reported with regard to the words:" Do not move thy tongue there with to make haste," that the Apostle of Allah ﷺ felt it hard and he moved his lips. Ibn Abbas said to me (Said bin Jubair): I move them just as the Messenger of Allah ﷺ moved them. Then said Said: I move them just as Ibn Abbas moved them, and he moved his lips. Allah, the Exalted, revealed this: "Do not move your tongue therewith to make haste. It is with Us that its collection rests and its recital" (al-Quran, ixxv. 16). He said: "Its preservation in your heart and then your recital. So when We recite it, follow its recital" He said: "Listen to it, and be silent and then it rests with Us that you recite it.". So when Gabriel (علیہ السلام) came to the Messenger of Allah ﷺ , he listened to him attentively, and when Gabriel (علیہ السلام) went away, the Apostle of Allah ﷺ recited as he ( Gabriel (علیہ السلام)) had recited it.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْجِنِّ وَمَا رَآهُمْ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَی قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَکُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالُوا مَا ذَاکَ إِلَّا مِنْ شَيْئٍ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَمَرَّ النَّفَرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ وَهُوَ بِنَخْلٍ عَامِدِينَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ فَرَجَعُوا إِلَی قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ
شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنات کے سامنے قرآن پڑھا نہ ان کو دیکھا تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی جماعت میں بازار عکاظ کا ارادہ کرکے جا رہے تھے اور شیطانوں اور آسمانی خبروں کا درمیانی واسطہ بند ہوگیا اور ان پر آگ کے شعلے برسائے جانے لگے تو شیطان اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو انہوں نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے انہوں نے کہا ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی حائل ہوگیا ہے اور ہم پر آگ کے شعلے برسائے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات پیش آگئی ہے پس پھرو تم مشرق ومغرب میں اور دیکھو کہ ہمارے اور آسمان کے درمیان کیا چیز حائل ہوگئی ہے پس وہ چلے اور مشارق ومغا رب میں پھرے پس ان میں سے کچھ جنات تہامہ کی طرف سے گزرے اور آپ ﷺ مقام نخل پر بازار عکاظ کو گئے اور اپنے اصحاب کو نماز فجر پڑھائی جب انہوں نے توجہ و غور سے قرآن کی آواز سنی تو انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہوں نے کہا اے ہماری قوم ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے اکیلے رب کے ساتھ شرک نہیں کریں گے تو اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺ پر (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ ) یعنی سورت الجن نازل فرمائی۔
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ neither recited the Quran to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah ﷺ went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of Ukaz and there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out why is it that there have been created obstructions between us and the news from the Heaven. So they went forth and traversed the easts of the earth and its wests. Some of them proceeded towards Tihama and that is a nakhl towards the bazaar of Ukaz and he (the Holy Prophet) was leading his Companions in the morning prayer. So when they heard the Quran. they listened to it attentively and said: It is this which has caused obstruction between us and news from the Heaven. They went back to their people and said: O our people, we have heard a strange Quran which directs us to the right path; so we affirm our faith in it and we would never associate anyone with our Lord. And Allah, the Exalted and Glorious, revealed to His Apostle ﷺ Muhammad ﷺ :" It has been revealed to me that a party of Jinn listened to it" (Quran, lxxii. 1).
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لَا وَلَکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوْ اغْتِيلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَائٍ مِنْ قِبَلَ حِرَائٍ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْنَاکَ فَطَلَبْنَاکَ فَلَمْ نَجِدْکَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَقَالَ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ لَکُمْ کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيکُمْ أَوْفَرَ مَا يَکُونُ لَحْمًا وَکُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِکُمْ
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داؤد، عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ ؓ سے پوچھا کیا ابن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیلۃ الجن میں تھے تو علقمہ نے کہا میں نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی لیلہ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم نے رسول اللہ ﷺ کو نہ پایا تو ہم نے آپ ﷺ کو پہاڑی وادیوں اور کھائیوں میں تلاش کیا ہم نے کہا کہ آپ ﷺ کو جن لے گئے یا کسی نے دھوکہ سے شہید کردیا بہر حال ہم نے وہ رات بد ترین رات والی قوم کی طرح گزاری جب ہم نے صبح کی تو آپ ﷺ حرا کی طرف سے تشریف لائے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو گم پایا اور آپ کو تلاش کیا اور آپ ﷺ کو نہ ڈھونڈ سکے ہم نے رات اس طرح گزاری جیسے کوئی قوم سخت بےچینی میں رات گزارتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جنات کی طرف سے بلانے والا آیا میں اس کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی فرمایا پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور ہمیں اپنے جنات کے نشانات اور آگ کے نشانات دکھائے جنات نے آپ ﷺ سے اپنے کھانے کی چیزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا ہر وہ ہڈی جس کو اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا گیا ہو تمہارے ہاتھوں میں آتے ہی وہ گوشت کے ساتھ پر ہوجائے گی اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہڈی اور مینگنی سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کا کھانا ہیں۔
Dawud reported from Amir who said: I asked Alqama if Ibn Masud was present with the Messenger of Allah ﷺ on the night of the Jinn (the night when the Holy Prophet ﷺ met them). He (Ibn Masuad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah ﷺ one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst night which people could ever spend. He (the Holy Prophet) said: There came to me an inviter on behalf of the Jinn and I went along with him and recited to them the Quran. He (the narrator) said: He then went along with us and showed us their traces and traces of their embers. They (the Jinn) asked him (the Holy Prophet) about their provision and he said: Every bone on which the name of Allah is recited is your provision. The time it will fall in your hand it would be covered with flesh, and the dung of (the camels) is fodder for your animals. The Messenger of Allah ﷺ said: Dont perform istinja with these (things) for these are the food of your brothers (Jinn).
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَکَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ
علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، داؤد اس دوسری سند سے یہی حدیث اس اضافہ کے ساتھ روایت کی گئی ہے کہ وہ جن جزیرہ کے تھے۔
This hadith has been reported by Dawud with the same chain of transmitters up to the word (s):" The traces of their embers." Shabi said: They (the Jinn) asked about their provision, and they were the Jinn of al-Jazzier, up to the end of the hadith, and the words of Shabi have been directly transmitted from the hadith of Abdullah.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، داؤد، شعبی، علقمہ، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور یہ حدیث جنات کے آثار تک ہے اس سے آگے ذکر نہیں کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdullah from the Apostle ﷺ up to the words: "The traces of the embers," but he made no mention of what followed afterward.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمْ أَکُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ مَعَهُ
یحییٰ بن یحییٰ، خالد بن عبداللہ، خالدحذاء، ابومعشر، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ میں لیلہ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش ہے کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتا۔
Abdullah (b. Masud) said: I was not with the Messenger of Allah ﷺ but I wish I were with him.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَعْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُوکَ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ آذَنَتْهُ بِهِمْ شَجَرَةٌ
سعید بن محمد جرمی، عبیداللہ بن سعید، ابواسامہ، مسعر، معن، مسرور، حضرت معن ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے مسروق سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کو جنات کے رات کے وقت قرآن سننے کی خبر کس نے دی تو انہوں نے کہا مجھے آپ کے والد ابن مسعود نے بیان کیا کہ آپ ﷺ کو جنات کی خبر ایک درخت نے دی۔
Man reported.. I heard it from my father who said: I asked Masruq who informed the Messenger of Allah ﷺ about the night when they heard the Quran. He said: Your father, Ibn Masud, narrated it to me that a tree informed him about that.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَکَانَ يُطَوِّلُ الرَّکْعَةَ الْأُولَی مِنْ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَکَذَلِکَ فِي الصُّبْحِ
محمد بن مثنی، عنزی، ابن ابی عدی، حجاج، صواف، یحییٰ ابن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ، ابی سلمہ، ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھاتے اور پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور اس کے علاوہ کوئی دو اور سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے اور کبھی ہمیں ایک آیت مبارکہ سناتے تھے اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری چھوٹی ہوتی اور اسی طرح صبح کی نماز میں۔
Abu Qatadah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer and recited in the first two rakahs of the noon and afternoon prayers Surat al-Fatiha and two (other) surahs. And he would sometimes recite loud enough for us to hear the verses. He would prolong the first rakah more than the second. And he acted similarly in the morning prayer.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ہمام، ابان بن یزید، یحییٰ بن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ایک آیت ہمیں سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورت فاتحہ پڑھی کرتے تھے۔
Abu Qatadah (RA) reported it on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ would recite in the first two rakahs of the noon and afternoon prayers the opening chapter of the Book and another surah. He would sometimes recite loud enough to make audible to us the verse and would recite in the last two rakahs Surat al-Fatiha (only).
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَائَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنْ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ الم تَنْزِيلُ وَقَالَ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، یحیی، ہشیم، منصور، ولید بن مسلم، ابوصدیق، ابوسعید، خدری سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کے اندازہ کرتے پس ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ ﷺ کے قیام کا اندازہ یہ کیا کہ جیسے الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ پڑھی جائے اور آپ ﷺ کی آخری دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ اس سے نصف کا اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس سے نصف ابوبکر ؓ نے اپنی روایت میں الم کا اندازہ نہیں ذکر کیا بلکہ تیس آیات کی مقدار کہا ہے۔
Abu Said al-Khudri reported: We used to estimate how long Allahs Messenger ﷺ stood in the noon and afternoon prayers, and we estimated that he stood in the first two rakahs of the noon prayer as long as it takes to recite Alif Lam Mim, Tanzil, i. e. as-Sajda. We estimated that he stood half that time in the last two rakahs; that he stood in the first two of the afternoon as long as he did in the last two at noon; and in the last two of the afternoon prayer about half that time.
Abu Bakr (RA) in his narration has made no mention of Alif Lam Mim, Tanzil, but said: As long as it takes to recite thirty verses.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِکَ وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ قَدْرَ قِرَائَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِکَ
شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، منصور، ولید بن مسلم، بشر، ابوصدیق، ناجی، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کی مقدار کے برابر پڑھا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں پندرہ آیات کی مقدار اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں پندرہ آیات کی مقدار کے برابر اور آخری دو رکعتوں میں اس کی آدھی مقدار۔
Abu Said al-Khudri reported: The Apostle of Allah ﷺ used to recite in every rakah of the first two rakahs of the noon prayer about thirty verses and in the last two about fifteen verses or half (of the first rakah) and in every rakah of the Asr prayer of the first two rakahs about fifteen verses and in the last two verses half (of the first ones).
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ أَهْلَ الْکُوفَةِ شَکَوْا سَعْدًا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَذَکَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا إِنِّي لَأَرْکُدُ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ فَقَالَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ أَبَا إِسْحَقَ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، عبدالملک بن عمیر، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ سید نا عمر ؓ نے حضرت سعد ؓ سے فرمایا لوگوں نے آپ کی ہر بات کی یہاں تک کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے تو انہوں نے کہا بہرحال میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر کرتا ہوں اور میں نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے کوتاہی نہیں کرتا تو فاروق اعظم ؓ نے فرمایا آپ کے بارے میں اے ابواسحاق مجھے بھی یہی گمان تھا۔
Jabir bin ahadeeth reported: The people of Kufa complained to Umar bin Khattab about Said and they made a mention of his prayer. Umar sent for him. He came to him. He (Umar) told him that the people had found fault with his prayer. He said: I lead them in prayer in accordance with the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . I make no decrease in it. I make them stand for a longer time in the first two (rakahs) and shorten it in the last two. Upon this Umar remarked: This is what I deemed of thee, O Abu Ishaq.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث اس سند سے منقول ہے۔
This hadith his been narrated by Abu al-Malik with the same chain of transmitters.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَکَوْکَ فِي کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ أَوْ ذَاکَ ظَنِّي بِکَ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ابی عون، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ سید نا عمر ؓ نے حضرت سعد ؓ سے فرمایا لوگوں نے آپ کی ہر بات کی یہاں تک کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے تو انہوں نے کہا بہر حال میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور آخری دو کو مختصر کرتا ہوں اور میں نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے کوتاہی نہیں کرتا تو فاروق اعظم ؓ نے فرمایا آپ کے بارے میں میرا بھی یہی گمان تھا۔
Jabir bin ahadeeth reported: Umar said to Sad: They complain against you in every matter, even in prayer. He (Sad) said: I prolong (standing) in the first two (rakahs) and shorten it in the last two, and I make no negligence in following the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . He (Umar) remarked: This is what is expected of you, or, that is what I deemed of you.