مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَی کَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلَّا أَنِّي کُنْتُ أَرَی أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلَّا تَشَائَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَکْرٍ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (ابوبکر صدیق کے امام نہ بنانے پر) اصرار کیا اور اس بار بار اصرار کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس بات کا خیال نہ تھا کہ آپ کے بعد لوگ اس سے محبت کریں گے جو آپ کے بعد آپ کی جگہ پر کھڑا ہوگا لیکن میرے دل میں یہ تھا کہ جو شخص آپ کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اس کو منحوس تصور کریں گے۔ تو اسی لئے میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کو امام بنانے سے معاف رکھیں تو مناسب ہوگا۔
Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , said: I tried to dissuade the Messenger of Allah ﷺ from it (i. e. from appointing Abu Bakr (RA) as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophets) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah ﷺ should leave Abu Bakr (RA) aside in this matter.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِکُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا کَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَائَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَکْرٍ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبد ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حمزہ بن عبداللہ بن عمر، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں داخل ہوئے تو فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابوبکر ؓ نرم دل آدمی ہیں جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکتے اگر آپ ﷺ ابوبکر کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں تو مناسب ہوگا۔ سیدہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے لئے سوا اس بات کے کوئی بات پیش نظر نہ تھی کہ لوگ بد شگونی لیں گے اس سے جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی جگہ کھڑا ہوگا فرماتی ہیں کہ میں نے دو یا تین مرتبہ اصرار کیا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں اور تم یوسف کے دور کی عورتوں جیسی ہو۔
Aisha reported: When the Messenger of Allah ﷺ came to my house, he said: Ask Abu Bakr (RA) to lead people in prayer. Aisha narrated: I said, Messenger of Allah, Abu Bakr (RA) is a man of tenderly feelings; as he recites the Quran, he cannot help shedding tears: so better command anyone else to lead the prayer. By Allah, there is nothing disturbing in it for me but the idea that the people may not take evil omen with regard to one who is the first to occupy the place of the Messenger of Allah ﷺ . I tried to dissuade him (the Holy Prophet) twice or thrice (from appointing my father as an Imam in prayer), but he ordered Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer and said: You women are like those (who had) surrounded Yusuf.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعْ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعْ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ مَکَانَکَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَکْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَکْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کو نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائے سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر بہت نرم دل آدمی ہیں وہ آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو کب قرآن سنا سکیں گے کاش آپ ﷺ عمر کو حکم دیتے آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر کو حکم کرو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ فرماتی ہیں میں نے حضرت حفصہ سے کہا کہ وہ آپ ﷺ کو کہیں کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے کاش آپ ﷺ عمر کو حکم دیتے تو انہوں نے آپ ﷺ کو کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم تو یوسف کے دور کی عورتوں جیسی ہو ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو میں نے کہا پس جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیماری میں تحفیف محسوس کی تو آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے اس حال میں آئے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک سے زمین میں لکیر سی پڑ رہی تھی جب آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کیا رسول اللہ ﷺ نے اشارے سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ ابوبکر ؓ کی بائیں طرف آکر بیٹھ گئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر کھڑے ہوئے اقتداء کر رہے تھے نبی کریم ﷺ کی نماز کی اور لوگ ابوبکر کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
Aisha reported:
When the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) was confined to bed, Bilal came to him to summon him to prayer. He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead the people in prayer. She (Aisha) reported: I said: Messenger of Allah, Abu! Bakr is a tenderhearted man, go when ]be would stand at your place (he would be so overwhelmed by feelings) that he would not be able to make the people hear anything (his recitation would not be audible to the followers in prayer). You should better order Umar (to lead the prayer). He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead people in- prayer. She (Aisha) said: I asked Hafsa to (convey) my impression to him (the Holy Prophet) that Abu Bakr was a tenderhearted man, so when he would stand at his place, he would not be able to make the people bear anything. He better order Umar. Hafsa conveyed this (message of Hadrat Aisha) to him (the Holy Prophet). The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: (You are behaving) as if you are the females who had gathered around Yusuf. Order Abd Bakr to lead the people in prayer. She (Aisha) reported: So Abu Bakr was ordered to lead the people in prayer. As the prayer began, the Messenger of Allah (may peace he upon him) felt some relief; he got up and moved supported by two persons and his feet dragged on earth (due to excessive weakness). Aisha reported: As he (the Holy Prophet) entered the mosque. Abu Bakr perceived his (arrival). He was about to with. draw, but the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) by the gesture (of This hand) told him to keep standing at his place. The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) came and seated himself on the left side of Abu Bakr. She (Aisha) reported: The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) was leading people in prayer sitting. Abu Bakr was following the prayer of the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) in a standing posture and the people were following the prayer of Abu Bakr.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أُجْلِسَ إِلَی جَنْبِهِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُهُمْ التَّکْبِيرَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُو بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ
منجاب بن حارث، ابن مسہر، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اس مرض میں کہ جس میں آپ ﷺ کا انتقال ہوا ابن مسہر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کو حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا اور آپ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر ؓ ان کو تکبیر سنا رہے تھے۔
Amash reported: When the Messenger of Allah ﷺ suffered from illness of which he died, and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir, the words are: The Messenger of Allah ﷺ was brought till he was seated by his (Abu Bakrs) side and the Apostle ﷺ led the people in prayer and Abu Bakr (RA) was making takbir audible to them, and in the hadith transmitted by Isa the (words are): "The Messenger of Allah ﷺ sat and led the people in prayer and Abu Bakr (RA) was by his side and he was making (takbir) audible to the people."
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَکَانَ يُصَلِّي بِهِمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَکْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ کَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَائَ أَبِي بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پس وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں جب آرام محسوس کیا تو آپ باہر تشریف لائے اس وقت لوگوں کی امامت حضرت ابوبکر فرما رہے تھے جب ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو وہیں کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا رسول اللہ ﷺ ابوبکر کے پہلو میں بیٹھ گئے سیدنا ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے اور صحابہ ابوبکر کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ ordered Abu Bakr (RA) that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. Urwa said: The Messenger of Allah ﷺ felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr (RA) was leading the people in prayer. When Abu Bakr (RA) saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah ﷺ signed him to remain where he was. The Messenger of Allah ﷺ sat opposite to Abu Bakr (RA) by his side. Abu Bakr (RA) said prayer following the prayer of the Messenger of Allah ﷺ , and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ و حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا قَالَ فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَی السِّتْرَ قَالَ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِکَ
عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، عبد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، انس بن مالک حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں ان کو نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سوموار کے دن جب تمام صحابہ صفوں میں نماز ادا کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے حجرہ کا پردہ ہٹایا پھر کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھا آپ ﷺ کا چہرہ گویا کہ قرآن کے ورق کی طرح معلوم ہو رہا تھا پھر آپ ﷺ مسکرائے اور ہم لوگ نماز ہی میں بےانتہا خوش ہوگئے نبی کریم ﷺ کے نکلنے پر اور حضرت ابوبکر ؓ اپنی ایڑیوں پر اس گمان سے پیچھے ہٹ کر صف میں ملنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے نکلنے والے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو پھر رسول اللہ ﷺ اپنے حجرہ میں چلے گئے اور پردہ گرا دیا اور اس روز رسول اللہ ﷺ نے رحلت فرمائی۔
Anas bin Malik (RA) reported, Abu Bakr (RA) led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah ﷺ of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah ﷺ drew aside the curtain of (Aishas) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophets) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah ﷺ felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr (RA) stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah ﷺ had come out for prayer. The Messenger of Allah ﷺ with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah ﷺ went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ breathed his last on that very day.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کا آخری دیدار سوموار کے دن پردہ کے اٹھانے کے وقت کیا اسی قصہ کے ساتھ باقی حدیث مبارکہ گزر چکی۔
Anas reported: The last glance that I have had of the Messenger of Allah ﷺ (before his death) was that when he on Monday drew the curtain aside. The hadith transmitted by Salih is perfect and complete.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری سے یہی حدیث ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) by another chain of transmitters.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَکْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ کَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا قَالَ فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّی مَاتَ
محمد بن مثنی، ہارون بن عبداللہ، عبدالصمد، عبدالعزیز، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تین دن تک تشریف نہ لائے اور ان دنوں میں حضرت ابوبکر ؓ جماعت کراتے رہے نبی کریم ﷺ نے پردہ کے پاس کھڑے ہو کر اس کو اٹھایا جب نبی کریم ﷺ کا چہرہ ہمارے لئے واضح ہوگیا تو ہم نے اس منظر سے زیادہ کوئی منظر نہیں دیکھا جو ہمارے نزدیک نبی ﷺ کے چہرہ اقدس سے زیادہ پسند ہو نبی کریم ﷺ نے ابوبکر ؓ کو اشارہ کیا کہ وہ نماز پڑھاتے رہیں اور نبی کریم ﷺ نے پردہ نیچے گرا دیا پھر ہم آپ ﷺ کی زیارت پر قادر نہ ہو سکے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوگیا۔
Anas reported: The Apostle of Allah ﷺ did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr (RA) stepped forward (to lead the prayer), and the Apostle of Allah ﷺ lifted the curtain. When the face of the Apostle of Allah ﷺ became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Apostle of Allah ﷺ as it appeared to us. The Apostle of Allah ﷺ with the gesture of his hand directed Abu Bakr (RA) to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah ﷺ then drew the curtain, and we could not see him till he died.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ مُرِي أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ قَالَ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عبدالملک بن عمیر، ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے اور آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کی طاقت نہ پاسکیں گے آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو یوسف کے دور کی عورتوں کی طرح ہو تو ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔
Abu Musa reported: When the Messenger of Allah ﷺ became ill and illness became serious he ordered Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer. Upon this Aisha said: Messenger of Allah, Abu Bakr (RA) is a man of tenderly feelings: when he would stand in your place (he would be so much overwhelmed -by grief that) he would not be able to lead the people in prayer. He (the Holy Prophet) said: You order Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer, and added: You are like the female companions of Yusuf. So Abu Bakr (RA) led the prayer (during this period of illness) in the life of the Messenger of Allah ﷺ .
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ امْکُثْ مَکَانَکَ فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِکَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی اسْتَوَی فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا کَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي رَأَيْتُکُمْ أَکْثَرْتُمْ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَائِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے جب نماز کا وقت ہوگیا تو مؤذن حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں فرمایا ہاں، ابوبکر نے نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ آئے تو لوگ نماز میں تھے آپ ﷺ لوگوں میں سے گزرتے ہوئے صف میں جا کر کھڑے ہوگئے لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے جب لوگوں کی تصفیق (تالیاں بجانا) زیادہ ہوگئی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور نبی ﷺ کے حکم کے مطابق اللہ کی حمد کی پھر ابوبکر پیچھے ہو کر صف میں برابر آگئے اور نبی کریم ﷺ آگے تشریف لے گئے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا اے ابوبکر جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو تم اپنی جگہ پر کیوں نہ کھڑے رہے؟ تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ ابن قحافہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے سامنے لوگوں کو نماز پڑھانا مناسب نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تم کو کثرت کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سُبْحَانَ اللَّهِ کہو جب سُبْحَانَ اللَّهِ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہوجائے گا تصفیق عورتوں کے لئے ہے۔
Sahl bin Sad al-Saidi reported: The Messenger of Allah ﷺ went to the tribe of Bani Amr bin Auf in order to bring reconciliation amongst (its members), and it was a time of prayer. The Muadhdhin came to Abu Bakr (RA) and said: Would you lead the prayer in case I recite takbir (tahrima, with which the prayer begins)? He (Abu Bakr) said: Yes. He (the narrator) said: He (Abu Bakr) started (leading) the prayer. The people were engaged in observing prayer when the Messenger of Allah ﷺ happened to come there and made his way (through the people) till he stood in a row. The people began to clap (their hands), but Abu Bakr (RA) paid no heed (to it) in prayer. When the people clapped more vigorously, he (Abu Bakr) then paid heed and saw the Messenger of Allah ﷺ there. (He was about to withdraw when) the Messenger of Allah ﷺ signed to him to keep standing at his place. Abu Bakr (RA) lifted his hands and praised Allah for what the Messenger of Allah ﷺ had commanded him and then Abu Bakr (RA) withdrew himself till he stood in the midst of the row and the Messenger of Allah ﷺ stepped forward and led the prayer. When (the prayer) was over, he (the Holy Prophet) said: O Abu Bakr, what prevented you from standing (at that place) as I ordered you to do? Abu Bakr (RA) said: It does not become the son of Abu Quhafa to lead prayer before the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said (to the people) around him: What is it that I saw you clapping so vigorously? (Behold) when anything happens in prayer, say: Subhan Allah, for when you would utter it, it would attract the attention, while clapping of hands is meant for women.
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَفِي حَدِيثِهِمَا فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَی وَرَائَهُ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم، قتیبہ، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابی حازم، سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ مالک کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی گئی ہے ان کی حدیث میں ہے کہ ابوبکر ؓ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اللہ کی تعریف کی اور پھر الٹے پاؤں لوٹ کر پیچھے صف میں آکر کھڑے ہوگئے۔
This hadith is transmitted by Sahl bin Sad in the same way as narrated by Malik, with the exception of these words: " Abu Bakr (RA) lifted his hands and praised Allah and retraced his (steps) till he stood in a row."
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّی قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَی
محمد بن عبداللہ بن بزیع، عبدالاعلی، عبیداللہ بن ابی حازم، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بنو عمرو بن عوف کے درمیان میں صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے باقی حدیث ان کی حدیث کی طرح ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ صفوں سے نکلتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہوگئے اور حضرت ابوبکر ؓ الٹے پاؤں پیچھے آگئے۔
Sahl bin Sad al-Saidi reported: The Apostle of Allah ﷺ went to Bani Amr bin Auf in order to bring about reconciliation amongst them. The rest of the hadith is the same but with (the addition of these words): "The Messenger of Allah ﷺ came and made his way through the rows till he came to the first row and Abu Bakr (RA) retraced his steps."
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوکَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَی يَدَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ کُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّی أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّی نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّی لَهُمْ فَأَدْرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَی الرَّکْعَتَيْنِ فَصَلَّی مَعَ النَّاسِ الرَّکْعَةَ الْآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِکَ الْمُسْلِمِينَ فَأَکْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا
محمد بن رافع، حسن بن علی حلوانی، عبدالرزاق، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، عباد بن زیاد، عروہ بن مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی رسول اللہ ﷺ نماز فجر سے پہلے قضائے حاجت کے لئے باہر نکلے اور میں لوٹا اٹھائے آپ ﷺ کے ساتھ ہوگیا جب رسول اللہ ﷺ میری طرف پلٹے تو میں لوٹے سے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے پھر اپنے چہرے کو دھویا پھر آپ ﷺ نے اپنی کہنیوں کو اپنے جبہ سے نکالنا چاہا تو آستین تنگ تھیں آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ جبے کے اندر داخل کیا یہاں تک کہ اپنی کہنیوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا پھر موزوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کیا پھر آپ ﷺ واپس آئے اور حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آیا یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو امام بنا لیا ہے انہوں نے ان کی نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک رکعت ملی اور آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی جب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سلام پھیرا تو رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے اس بات نے مسلمانوں کو پریشان کردیا تو انہوں نے سُبْحَانَ اللَّهِ کہنے کی کثرت کردی جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم نے اچھا کیا فرمایا تم نے ٹھیک کیا اور ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ تم نے نماز کو اس کے وقت میں ادا کیا۔
Mughira bin Shubah reported that he participated in the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ went out to answer the call of nature before the morning prayer, and I carried along with him a jar (full of water). When the Messenger of Allah ﷺ came back to me (after relieving himself). I began to pour water upon his hands out of the jar and he washed his hands three times, then washed his face three times. He then tried to tuck up the sleeves of his cloak upon his forearms but since the sleeves were tight he inserted his hands in the cloak and then brought out his forearms up to the elbow below the cloak, and then wiped over his shoes and then moved on. Mughira said: I also moved along with him till he came to the people and (he found) that they had been saying their prayer under the Imamah of Abdul Rahman bin Auf. The Messenger of Allah ﷺ could get one rakah out of two and said (this) last rakah along with the people. When Abdul Rahman bin Auf pronounced the salutation, the Messenger of Allah ﷺ got up to complete the prayer. This made the Muslims terrified and most of them began to recite the glory of the Lord. When the Apostle of Allah ﷺ finished his prayer, he turned towards them and then said: You did well, or said with a sense of joy: You did the right thing that you said prayer at the appointed hour.
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَالْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ
محمد بن رافع، حسن بن علی حلوانی، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، اسماعیل بن محمد بن سعد، حمزہ بن مغیرہ سے روایت ہے اسی طرح دوسری سند کے ساتھ بھی منقول ہے اس میں ہے کہ حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کو پیچھے کروں لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا رہنے دو۔
This hadith is narrated by Hamza bin Mughira by another chain of transmitters (but with the addition of these words): I made up my mind to hold Abdul Rahman bin Auf back, but the Messenger of Allah ﷺ said: "Leave him."
مرد کے لئے تسبیح اور عورت کے لئے تصفیق کے بیان میں جب نماز میں کچھ پیش آجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَائِ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تسبیح مردوں کے لئے اور تصفیق (تالیاں بجانا) عورتوں کے لئے ہے ابن شہاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے چند علماء کو دیکھا جو تسبیح اور اشارہ کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Glorification of Allah is for men and clapping of hands is meant for women (if something happens in prayer). Harmala added in his narration that Ibn Shihab told him: I saw some of the scholars glorifying Allah and making a gesture.
مرد کے لئے تسبیح اور عورت کے لئے تصفیق کے بیان میں جب نماز میں کچھ پیش آجائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
قتیبہ بن سعید، فضیل بن عیاض، ابوکریب، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابی صالح ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے
This hadith is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.
مرد کے لئے تسبیح اور عورت کے لئے تصفیق کے بیان میں جب نماز میں کچھ پیش آجائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِي الصَّلَاةِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام، ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث ایک اور سند سے نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اضافہ ہے کہ یہ عمل نماز میں کریں۔
This hadith is transmitted by Muhammad bin Rafi, AbuI-Razzaq. Mamar, Hammam on the authority of Abu Hurairah (RA) with the addition of (the word) "prayer".
نماز تحسین کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا فُلَانُ أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَکَ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّی کَيْفَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي کَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ
ابوکریب، محمد بن علاء ہمدانی، ابواسامہ، ولید ابن کثیر، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھائی پھر مڑے اور فرمایا اے فلاں تم نے اپنی نماز اچھی طرح ادا کیوں نہیں کی کیا نمازی کو دکھائی نہیں دیتا ہے کہ اس نے کس طرح نماز ادا کی ہے حالانکہ وہ اپنے ہی لئے نماز ادا کرتا ہے اور اللہ کی قسم میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: One day the Messenger of Allah ﷺ led the prayer. Then turning (towards his Companions) he said: O you, the man, why dont you say your prayer well? Does the observer of prayer not see how he is performing the prayer for he performs it for himself? By Allah, I see behind me as I see in front of me.
نماز تحسین کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَی عَلَيَّ رُکُوعُکُمْ وَلَا سُجُودُکُمْ إِنِّي لَأَرَاکُمْ وَرَائَ ظَهْرِي
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میرا رخ ادھر دیکھتے ہو اللہ کی قسم مجھ پر تمہارے رکوع اور تمہارے سجود پوشیدہ نہیں اور میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Do you find me seeing towards the Qibla only? By Allah, your bowing and your prostrating are not hidden from my view. Verily I see them behind my back.