Sahih Muslim 944

نماز کا بیان

944Sahih Muslim

مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ و حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا قَالَ فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَی السِّتْرَ قَالَ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِکَ

عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، عبد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، انس بن مالک حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں ان کو نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سوموار کے دن جب تمام صحابہ صفوں میں نماز ادا کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے حجرہ کا پردہ ہٹایا پھر کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھا آپ ﷺ کا چہرہ گویا کہ قرآن کے ورق کی طرح معلوم ہو رہا تھا پھر آپ ﷺ مسکرائے اور ہم لوگ نماز ہی میں بےانتہا خوش ہوگئے نبی کریم ﷺ کے نکلنے پر اور حضرت ابوبکر ؓ اپنی ایڑیوں پر اس گمان سے پیچھے ہٹ کر صف میں ملنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے نکلنے والے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو پھر رسول اللہ ﷺ اپنے حجرہ میں چلے گئے اور پردہ گرا دیا اور اس روز رسول اللہ ﷺ نے رحلت فرمائی۔

Anas bin Malik (RA) reported, Abu Bakr (RA) led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah ﷺ of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah ﷺ drew aside the curtain of (Aishas) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophets) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah ﷺ felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr (RA) stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah ﷺ had come out for prayer. The Messenger of Allah ﷺ with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah ﷺ went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ breathed his last on that very day.