نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابی شعبہ، حکم، براہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھا دیں جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیسے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعات پڑھا دیں پس آپ ﷺ نے دو سجدے کئے۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Apostle of Allah ﷺ said five rakahs of the noon prayer and when he completed the prayer, it was said to him: Has there been (commanded) an addition in prayer? He said: What is it? They said: You have said five rakahs, so he performed two prostrations.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ صَلَّی بِهِمْ خَمْسًا
ابن نمیر، ابن ادریس، حسن بن عبیداللہ، ابراہیم، علقمہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
Alqama reported: He (the Holy Prophet) had led them five rakahs in prayer.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ صَلَّی بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ کَلَّا مَا فَعَلْتُ قَالُوا بَلَی قَالَ وَکُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ فَقُلْتُ بَلَی قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ لِي وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاکَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لَا قَالُوا فَإِنَّکَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حسن بن عبیداللہ، ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ ؓ نے ظہر کی نماز کی پانچ رکعات پڑھا دیں جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابوشبل آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دیں انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اس طرح نہیں کیا لوگوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ میں ایک کونے میں تھا اور میں اس وقت تھا بھی کم سن میں نے بھی کہا کہ آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں وہ کہنے لگے اے کانے تو بھی اسی طرح کہتا ہے میں نے کہا ہاں، یہ سن کر وہ لوٹے اور پھر دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا اور پھر کہا کہ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھائیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کردیا آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا میں تمہاری طرح انسان ہوں میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو ابن نمیر کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرے۔
Ibrahim bin Suwaid-reported: Alqama led us in the noon prayer and be offered five rakahs; when the prayer was complete, the people said to him: Abu Shibl, you have offered five rakahs. He said: No, I have not done that. They said: Yes (you said five rakahs). He (the narrator) said: And I was sitting in a corner among people and I was just a boy. I (also) said: Yes, you have offered five (rakahs). He said to me: O, one-eyed, do you say the same thing? I said: Yes. Upon this he turned (his face) and performed two prostrations and then gave salutations, and then reported Abdullah as saying: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer and offered five rakahs. And as he turned away the people began to whisper amongst themselves. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? They said: Has the prayer been extended? He said: No. They said: You have in fact said five rakahs. He (the Holy Prophet) then turned his back (and faced the Qibla) and performed two prostrations and then gave salutations and further said: Verily I am a human being like you, I forget just as you forget. Ibn Numair made this addition: "When any one of you forgets, he must perform two prostrations."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْکُوفِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَذْکُرُ کَمَا تَذْکُرُونَ وَأَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ
عون بن سلام کوفی، ابوبکر نہشلی، عبدالرحمن، اسود، عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیسے؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھی اسی طرح یاد کرتا ہوں جس طرح تم یاد کرتے ہو اور میں بھی بھول جاتا ہوں جس طرح کہ تم بھول جاتے ہو پھر آپ ﷺ نے بھولنے کے دو سجدے کئے۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us five (rakahs in prayer). We said: Messenger of Allah, has the prayer been extended? He said: What is the matter? They said: You have said five (rakahs). He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I remember as you remember and I forget just as you forget. He then performed two prostrations as (compensation of) forgetfulness.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ زیادتی یا کچھ کمی کے ساتھ نماز پڑھائی راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ یہ وہم میری طرف سے ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا، کہا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو جب تم میں سے کوئی آدمی بھول جائے تو بیٹھ کردو سجدے کرے پھر رسول اللہ ﷺ قبلہ رخ ہوئے پھر دو سجدے کئے۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Messenger of Allah ﷺ said prayer and he omitted or committed (something). Ibrahim (one of the narrators of this hadith) said: It is my doubt, and it was said: Messenger of Allah, has there been any addition to the prayer? He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I forget just as you forget so when any one of you forgets, he must perform two prostrations, and he (the Holy Prophet) was sitting and then the Messenger of Allah ﷺ turned (his face towards the Qibla) and performed two prostrations.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْکَلَامِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابن نمیر، حفص، معاویہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سلام اور بات کرنے کے بعد بھولنے کے دو سجدے کئے۔
Abdullah bin Masud reported: The Apostle of Allah ﷺ performed two prostrations for forgetfulness after salutation and talking.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللَّهِ مَا جَائَ ذَاکَ إِلَّا مِنْ قِبَلِي قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ فَقَالَ لَا قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَقَالَ إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
قاسم بن زکریا، حسین بن علی، جعفی، زائدہ بن سلیمان، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے نماز میں کچھ زیادتی کی یا کمی کی ابراہیم کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم یہ شبہ مجھے ہوا حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، پھر ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے اس طرح کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ جب کسی آدمی سے نماز میں کچھ زیادتی ہو یا کمی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دو سجدے کرے پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کئے۔
Abdullah reported: We prayed along with the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) and he committed or omitted (something). Ibrahim said: By Allah, this is a misgiving of mine only. We said: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: No. We told him about what he had done. He (the Holy Prophet) said: When a man commits or omits (something in prayer), he should perform two prostrations, and he then himself performed two prostrations.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَی صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَی جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرَ فَهَابَا أَنْ يَتَکَلَّمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ قُصِرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا صَدَقَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَکْعَتَيْنِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ کَبَّرَ وَرَفَعَ قَالَ وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ وَسَلَّمَ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، عمرو، سفیان بن عیینہ، ایوب، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا پھر ایک لکڑی کی طرف آئے جو مسجد میں قبلہ رخ لگی ہوئی تھی اس پر ٹیک لگا کر غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے جماعت میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی تھے یہ دونوں حضرات اس بات سے ڈرے کہ آپ ﷺ سے بات کریں اور جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کردی گئی تو ذوالیدین کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ ﷺ بھول گئے ہیں نبی ﷺ دائیں اور بائیں طرف دیکھ کر فرمانے لگے کہ ذوالیدین کیا کہتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ سچ کہتا ہے آپ ﷺ نے صرف دو رکعات ہی پڑھائی ہیں پھر آپ ﷺ نے دو رکعات اور پڑھائیں اور سلام پھیرا پھر تکبیر کہی پھر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا راوی محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ انہوں نے کہا اور سلام پھیرا۔
Ibn Sirin reported Abu Hurairah (RA) as saying: The Messenger of Allah ﷺ led us in one of the two evening prayers, Zuhr or Asr, and gave salutations after two rakahs and going towards a piece of wood which was placed to the direction of the Qibla in the mosque, leaned on it looking as if he were angry. Abu Bakr (RA) and Umar were among the people and they were too afraid to speak to him and the people came out in haste (saying): The prayer has been shortened. But among them was a man called DhuI-Yadain who said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Apostle of Allah ﷺ looked to the right and left and said: What was DhuI-Yadain saying? They said: He is right. You (the Holy Prophet) offered but two rakahs. lie offered two (more) rakahs and gave salutation, then said takbir and prostrated and lifted (his head) and then said takbir and prostrated, then said takbir and lifted (his head). He (the narrator) says: It has been reported to me by Imran bin Husain that he said: He (their) gave salutation.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَی صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُفْيَانَ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، محمد، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی باقی حدیث سفیان کی حدیث کی طرح ہے
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in one of the evening prayers. And this hadith was narrated like one transmitted by Sufyan.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَکْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ ذَلِکَ لَمْ يَکُنْ فَقَالَ قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ الصَّلَاةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرا تو ذوالیدین کھڑے ہو کر کہنے لگے اے اللہ کے رسول کیا نماز کم کردی گئی یا آپ ﷺ بھول گئے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس میں سے کوئی بات بھی نہیں اس نے عرض کیا کہ کچھ تو ہوا ہے پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے صحابہ نے عرض کیا ہاں اے اللہ کے رسول! پھر رسول اللہ ﷺ نے باقی نماز پوری فرمائی پھر آخری قعدہ میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in the Asr prayer and gave salutation after two rakahs. Dhul-Yadain (the possessor of long arms) stood up and said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Messenger of Allah ﷺ said: Nothing like this has happened (neither the prayer has been shortened nor have I forgotten). He (Dhul-Yadain) said: Messenger of Allah, something has definitely happened. The Messenger of Allah ﷺ turned towards people and said: Is Dhul-Yadain true (in his assertion)? They said: Messenger of Allah, he is true. Then the Messenger of Allah ﷺ completed the rest of the prayer. and then performed two prostrations while he was sitting after salutation.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
حجاج بن شاعر، ہارون بن اسماعیل، خزار، علی ابن مبارک، یحیی، ابوسلمہ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز کی دو رکعات پڑھائیں پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا بنی سلیم کے ایک آدمی نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے یا آپ ﷺ بھول گئے ہیں باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزر چکی۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said two rakahs of the noon prayer and then gave salutation when a man from Bani Sulaim came to him and said: Messenger of Allah. has the prayer been shortened, or have you forgotten? -and the rest of the hadith is the same.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الرَّکْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ
اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، ابی سلمہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزر چکی۔
Abu Hurairah (RA) reported: I offered with the Apostle of Allah ﷺ the noon prayer and the Messenger of Allah ﷺ gave salutation after two rakahs. A person from Bani Sulaim stood up, and the rest of the hadith was narrated as mentioned above.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَکَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَکَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَکَرَ لَهُ صَنِيعَهُ وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَائَهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَی النَّاسِ فَقَالَ أَصَدَقَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ فَصَلَّی رَکْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر، اسماعیل بن ابراہیم، خالد، ابی قلابہ، ابی مہلب، عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی تو آپ ﷺ نے تین رکعات کے بعد سلام پھیر دیا پھر اپنے گھر تشریف لے جانے لگے تو آپ ﷺ کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی لمبے تھے اس نے کہا اے اللہ کے رسول! پھر آپ ﷺ نے جو کیا وہ آپ ﷺ کو اس نے یاد دلا دیا آپ ﷺ غصہ میں اپنی چادر کھنچتے ہوئے نکلے اور لوگوں تک پہنچ گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ سچ کہتا ہے لوگوں نے کہا کہ ہاں پھر آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
Imran bin Husain reported: The Messenger of Allah ﷺ said the afternoon prayer and gave the salutation. at the end of three rakahs and then went into his house. A man called al-Khirbaq, who had long hands, got up and went to him, and addressed him as Messenger of Allah ﷺ and mentioned to him what he had done. He came out angrily trailing his mantle, and when he came to the people he said: Is this man telling the truth? They said: Yes. He then said one rakah and then gave salutation and then performed two prostrations and then gave salutation.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَکَعَاتٍ مِنْ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّی الرَّکْعَةَ الَّتِي کَانَ تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ ثُمَّ سَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالوہاب ثقفی، خالد حذاء، قلابہ، ابی مہلب، عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے حجرہ مبارک میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول کیا نماز کم کردی گئی ہے آپ ﷺ غصہ میں نکلے اور جو رکعت چھوٹ گئی تھی وہ پڑھائی پھر سلام پھیرا دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
Imran bin Husain reported: The Messenger of Allah ﷺ said the afternoon prayer and gave the salutation. at the end of three rakahs and then went into his house. A man called al-Khirbaq, who had long arms, got up and went to him, and addressed him as Messenger of Allah ﷺ and mentioned to him what he had done. He came out angrily trailing his mantle, and when he came to the people he said: Is this man telling the truth? They said: Yes. He then said one rakah and then gave salutation and then performed two prostrations and then gave salutation.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّی مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَکَانِ جَبْهَتِهِ
زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، محمد بن مثنی، یحییٰ قطان، زہیر، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قرآن پڑھتے تھے پھر اس میں سجدہ والی سورت پڑھتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کے لئے جگہ نہیں ملتی تھی۔
Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ while reciting the Quran recited its scarab containing sajda, and he performed prostration and we also prostrated along with him (but we were so overcrowded) that some of us could not find a place for our forehead (when prostrating ourselves).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ بِنَا حَتَّی ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ حَتَّی مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَکَانًا لِيَسْجُدَ فِيهِ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قرآن پڑھتے اور سجدہ والی آیت سے گزرتے تو آپ ﷺ سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہجوم کی وجہ سے ہم میں سے کسی کو سجدہ کرنے کی جگہ نہیں ملتی تھی یہ سجدہ نماز کے علاوہ میں ہوتا تھا۔
Ibn Umar reported: Sometimes the Messenger of Allah ﷺ recited the Quran, and would pass by (recite) the verse of sajda and performed prostration and he did this along with us, but we were so crowded in his company that none of us could find a place for performing prostration. (and it was done on occasions) other than prayer.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ کَانَ مَعَهُ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصًی أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَی جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَکْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ کَافِرًا
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سورت النجم پڑھی پھر اس میں سجدہ کیا آپ ﷺ کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا سوائے ایک بوڑھے کے اس نے مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگائی اور کہا کہ مجھے یہی کافی ہے حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اس کے بعد حالت کفر ہی میں مارا گیا۔
Abdullah (b. Umar) reported: The Apostle of Allah ﷺ recited (Surat) al Najm and performed prostration during its recital and all those who were along with him also prostrated themselves except one old man who took a handful of pebbles or dust in his palm and lifted it to his forehead and said: This is sufficient for me. Abdullah said: 1 saw that he was later killed in a state of unbelief.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ الْقِرَائَةِ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ لَا قِرَائَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْئٍ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَی فَلَمْ يَسْجُدْ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل ابن جعفر، یزید بن حصیفہ، ابن قسیط، عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے پوچھا کہ کیا امام کے ساتھ قرأت کرنی چاہئے تو فرمایا کہ امام کے ساتھ قرأت نہیں کرنی چاہیے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے (إِذَا هَوَی فَلَمْ يَسْجُدْ ) پڑھی اور سجدہ نہیں کیا۔
Ata bin Yasar reported that he had asked Zaid bin Thabit about recital along with the Imam, to which he said: There should be no recital along with the Imam in anything, and alleged that he recited: "By the star when it sets" (Surah Najm) before the Messenger of Allah ﷺ and he did not prostrate himself.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَی الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ لَهُمْ إِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا
یحییٰ بن یحیی، مالک عبداللہ بن یزید مولیٰ اسود بن سفیان، ابوسلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ) پڑھی پھر سجدہ کیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا ہے۔
Abu Salama bin Abual-Rahman reported: Abu Hurairah (RA) recited before them:" When the heaven burst asunder" (al-Quran, lxxxiv. 1) and performed prostration. After completing (the prayer) he informed them that the Messenger of Allah ﷺ has prostrated himself at it (this verse).
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ هِشَامٍ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابراہیم بن موسی، عیسی، اوزاعی، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
A hadith like this has been narrated by AbuSalama on the authority of Abu Hurairah (RA) .