مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 6 · 408 hadiths · Page 14 of 21

1421Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن ابوبکر مقدامی، یحییٰ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، معتمر بن سلیمان، حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.

1422Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَی حَتَّی آبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ شَکَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ

محمد بن مثنی و محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابوحسان، عبیدہ، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب والے دن ارشاد فرمایا کہ کافروں نے ہمیں نماز وسطی سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے شعبہ راوی کو شک ہے کہ بیوت فرمایا یا بطون فرمایا۔

Ali reported: The Messenger of Allah ﷺ said: On the day (of the Battle) of Ahzab we were diverted from the middle prayer, till the sun set. May Allah fill their graves or their houses, or their stomachs with fire. The narrator is in doubt about "houses" and "stomachs".

1423Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَلَمْ يَشُکَّ

محمد بن مثنی، ابن عدی، سعید، قتادہ، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اور اس میں بغیر کسی شک کے (بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ ) فرمایا۔

This hadith has heed narrated by Qatada with the same chain of transmitters. And he said: Their houses and their graves (be filled with fire), and did not express doubt over the words, "houses" and "graves".

1424Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ يَحْيَی سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَی فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ قَالَ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، شعبہ، حکم، یحییٰ بن حزار، علی، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حکم، یحیی، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ خندق کے راستوں میں سے ایک راستہ پر تشریف فرما تھے، مشرکوں نے ہمیں نماز وسطی سے روکے رکھا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ہے اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا ان کی قبروں یا ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔

Yahya heard Ali saying that the Messenger of Allah ﷺ said on the day (of the Battle) of Ahzab, while sitting in one of the openings of the ditch: They (the enemies) have diverted us from the middle prayer till the sun set. May Allah fill their graves and their houses with fire, or their graves and stomachs with fire.

1425Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَائَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم بن صبیح، شتیر بن شکل، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب والے دن فرمایا کافروں نے ہمیں صلوہ وسطی یعنی عصر کی نماز پڑھنے سے روکے رکھا ہے اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے پھر آپ نے عشاء اور مغرب کے درمیان عصر کی نماز ادا فرمائی۔

Ali reported: The Messenger of Allah ﷺ said on the day (of the Battle) of Ahzab: They diverted us from saying the middle prayer, i. e. the Asr prayer. May Allah fill their houses and graves with fire; he then observed this prayer between the evening prayer and the night prayer.

1426Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْکُوفِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِکُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی احْمَرَّتْ الشَّمْسُ أَوْ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ قَالَ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا

عون بن سلام کوفی، محمد بن طلحہ یامی، زبید، مرہ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو عصر کی نماز سے روک دیا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مشرکوں نے ہمیں صلوہ وسطی سے روک دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔

Abdullah (b. Masud) reported that the polytheists detained the Messenger of Allah ﷺ from observing the afternoon prayer till the sun became red or it became yellow. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: They have diverted us from (offering) the middle prayer. i. e. the Asr prayer. May Allah fill their bellies and their graves with fire, or he said: May Allah stuff their bellies and their graves with fire.

1427Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَکْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا وَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک، زید بن اسلم، قعقاع، حکیم، حضرت ابویونس ؓ حضرت عائشہ ؓ کے غلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ نے حکم فرمایا کہ میں ان کے لئے قرآن لکھوں اور فرماتی ہیں کہ جب تو اس آیت پر پہنچے تو مجھے بتانا (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ) 2۔ البقرۃ: 138) تو جب میں اس آیت پر پہنچا تو آپ ؓ کو میں نے بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو اس طرح لکھو حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی ( وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ) وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت کو اسی طریقے سے سنا ہے۔

Abu Yunus, the freed slave of Aisha said: Aisha ordered me to transcribe a copy of the Quran for her and said: When you reach this verse: "Guard the prayers and the middle prayer" (ii. 238), inform me; so when I reached it, I informed her and she gave me dictation (like this): Guard the prayers and the middle prayer and the afternoon prayer, and stand up truly obedient to Allah. Aisha said: This is how I have heard from the Messenger of Allah ﷺ .

1428Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَرَأْنَاهَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ فَنَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی فَقَالَ رَجُلٌ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ هِيَ إِذَنْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَقَالَ الْبَرَائُ قَدْ أَخْبَرْتُکَ کَيْفَ نَزَلَتْ وَکَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، یحییٰ بن آدم، فضیل بن مرزوق، شقیق بن عقبہ، حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ تو ہم اس آیت کو جب تک اللہ نے چاہا اسی طرح پڑھتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ فرما دیا تو اس طرح آیت نازل ہوئی (حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی) تو ایک آدمی جو کہ حضرت شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اب نماز عصر ہی یہی نماز (نماز وسطی) ہے حضرت براء نے فرمایا کہ میں نے تجھے بتادیا ہے کہ یہ آیت کیسے نازل ہوئی اور اللہ نے اسے کیسے منسوخ فرما دیا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: This verse was revealed (in this way): "Guard the prayers and the Asr prayer." We recited it (in this very way) so long as Allah desired. Allah, then, abrogated it and it was revealed: "Guard the prayers, and the middle prayer." A person who was sitting with Shaqiq (one of the narrators in the chain of transmitters) said: Now it implies the Asr prayer. Upon this al-Bara said: I have already informed you how this (verse) was revealed and how Allah abrogated it, and Allah knows best. Imam Muslim said: Ashjai narrated it from Sufyan al-Thauri, who narrated it from al-Aswad bin Qais, who narrated it from Uqba, who narrated it from al-Bara bin Azib (RA) who said: We recited with the Prophet ﷺ (the above-mentioned verse like this, i. e. instead of Salat al- Wusta, Salat al-Asr) for a certain period. as it has been mentioned (in the above-quoted hadith).

1429Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ

اشجعی، سفیان ثوری، اسود بن قیس، شقیق بن عقبہ، حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ اس آیت کو ایک عرصہ دراز تک اسی طرح پڑھتے رہے باقی حدیث اسی طرح سے ہے جیسے گزری۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: This verse was revealed (in this way): "Guard the prayers and the Asr prayer." We recited it (in this very way) so long as Allah desired. Allah, then, abrogated it and it was revealed: "Guard the prayers, and the middle prayer." A person who was sitting with Shaqiq (one of the narrators in the chain of transmitters) said: Now it implies the Asr prayer. Upon this al-Bara said: I have already informed you how this (verse) was revealed and how Allah abrogated it, and Allah knows best. Imam Muslim said: Ashjai narrated it from Sufyan al-Thauri, who narrated it from al-Aswad bin Qais, who narrated it from Uqba, who narrated it from al-Bara bin Azib (RA) who said: We recited with the Prophet ﷺ (the above-mentioned verse like this, i.e. instead of Salat al- Wusta, Salat al-Asr) for a certain period. As it has been mentioned (in the above-quoted hadith).

1430Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ کُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّی کَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا فَنَزَلْنَا إِلَی بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ

ابوغسان، محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ غزوہ خندق والے دن قریش کے کافروں کو سب وشتم کرنے لگے اور عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم عصر کی نماز ابھی تک نہیں پڑھی اور سورج غروب ہونے کے قریب ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میں نے بھی عصر کی نماز پڑھی ہو، پھر ہم بطحان کی طرف اترے رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور ہم نے بھی وضو کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھائی پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔

Jabir bin Abdullah reported that Umar bin al-Khattab had been cursing the pagans of the Quraish on the day (of the Battle) of Khandaq (Ditch). (He came to the Holy Prophet ﷺ) and said: Messenger of Allah, by God, I could not say. the Asr prayer till the sun set. Upon this the Messenger ﷺ said: By Allah I, too, have not observed it. So we went to a valley. The Messenger of Allah ﷺ performed ablution and we too performed ablution, and then the Messenger of Allah ﷺ said the Asr prayer after the sun had set and then said the evening prayer after it.

1431Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر، اسحاق، وکیع، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، اس سند میں یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been reported by Yahya bin Abd Kathir with the same chain of transmitters.

1432Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَعَاقَبُونَ فِيکُمْ مَلَائِکَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِکَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيکُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ کَيْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَکْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے ہیں اور فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوتے ہیں پھر یہ اوپر چڑھ جاتے ہیں پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا تو فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو نماز کی حالت میں چھوڑا اور ہم ان کے پاس سے آئے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Angels take turns among you by night and by day, and they all assemble at the dawn and afternoon prayers. Those (of the angels) who spend the night among you, then, ascend, and their Lord asks them, though He is the best informed about them: How did you leave My servants? They say: We left them while they were praying and we came to them while they were praying.

1433Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْمَلَائِکَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيکُمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Angels take turns among you by night and by day, and the rest of the hadith is the same.

1434Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَقُولُا کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَی صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا

زہیر بن حرب، مروان بن معاویہ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، حضرت جریر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ بلاشبہ تم اپنے رب کو اس طرح سے دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اسے دیکھنے میں تم کسی قسم کی دقت محسوس نہیں کرتے پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج کے نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے کی نمازوں یعنی عصر اور فجر کی نمازوں کو قضاء نہ کرنا پھر حضرت جریر نے یہ آیت پڑھی (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا) 20۔ طہ: 130) سورج کے نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ بیان کرو۔

Jarir bin Abdullah is reported to have said: We were sitting with the Messenger of Allah ﷺ that he looked at the full moon and observed: You shall see your Lord as you are seeing this moon, and you will not be harmed by seeing Him. So if you can, do not let yourselves be overpowered in case of prayer observed before the rising of the sun and its setting, i. e. the Asr prayer and the morning prayer. Jarir then recited it: "Celebrate the praise of thy Lord before the rising of the sun and before its setting" (xx. 130).

1435Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّکُمْ فَتَرَوْنَهُ کَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ وَلَمْ يَقُلْ جَرِيرٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، وکیع، اس سند کے ساتھ ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تمہیں عنقریب اپنے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اپنے رب کو اسطرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو پھر آپ ﷺ نے پڑھا۔

Waki reported (this hadith) with the same chain of transmitters (that the Holy Prophet) said: You will be soon presented before your Lord, and you will see Him as you are seeing this moon, and then recited (the above-mentioned verse). But (in this hadith) no mention is made of Jarir.

1436Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ وَمِسْعَرٍ وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، ابن ابی خالد، مسعر، مختار، حضرت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں، تو اس آدمی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔

Umarah bin Ruwaiba is reported to have said on the authority of his father: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who observed prayer before the rising of the son and its setting, i. e. the dawn prayer and the afternoon prayer, would not cater the (Hell) fire. A person belonging to Basrah said to him: Did you yourself hear it from the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes. The person (from Basrah) said: I bear witness that I heard it from the Messenger of Allah ﷺ ; my ears heard it and my heart retained it.

1437Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ بِالْمَکَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ

یعقوب بن ابراہیم، یحییٰ بن ابی بکیر، شیبان، عبدالملک بن عمیر، حضرت عمارہ ؓ بن رویبہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آدمی دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی اور ان کے پاس بصرہ کا ایک آدمی تھا اس نے کہا کہ کیا آپ نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے اسی جگہ سے سنا جس سے میں سن سکتا ہوں۔

Umara bin Ruwaiba reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said: He who said prayer before the rising of the sun and its setting would not enter the fire (of Hell), and there was a man from Basrahh (sitting) beside him who said: Did you hear it from the Apostle of Allah ﷺ ? He said: Yes, I bear witness to it. The man from Basrahh said: I bear witness that I did hear from the Apostle of Allah ﷺ saying it from the place that you heard from him.

1438Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

ہداب بن خالد، ہمام بن یحیی، ابوحمزہ ضبعی، ابوبکر حضرت ابوبکر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔

Abu Bakr (RA) reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said: He who observed two prayers at two cool (hours) would enter Paradise.

1439Sahih Muslim

صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَنَسَبَا أَبَا بَکْرٍ فَقَالَا ابْنُ أَبِي مُوسَی

ابن ابی عمر، بشربن سری، ابن خراش، عمرو بن عاصم، ہمام اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by the same chain of transmitters by Hammam, and said about Abu Bakr (RA) that he was Ibn Abu Musa.

1440Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مغرب کی نماز کا بتدائی وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ

قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یریذ بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج غروب ہوتا (اور اتنا غروب ہوتا) کہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔

Salama bin al-Akwa reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say the evening prayer when the sun had set and disappeared (behind the horizon).